Rahimia Institute of Quranic Sciences-Official

Rahimia Institute of Quranic Sciences-Official Rahimia Institute of Quranic Sciences strives to foster collectivism and instil unity of thought among responsible youth of the country.

The Rahimia Institute is an educational organization that aims to create a society based upon the Quran's universal principles of peace, justice and prosperity for all people. With its five campuses in Karachi, Sukkhur, Rawalpindi, Multan and Lahore, Rahimia Institute is rapidly preparing conscientious, intelligent, socially-aware human resource educated to take on the challenge of country’s devel

opment. Rahimia Institute considers the youth of this country an asset which must be valued and groomed to accept the responsibility of this society. The Institute manages to do this by proactively engaging the youngsters of this country through various seminars, discussion forums, Friday congregations and numerous other activities. The primary objective of all these activities is to instill among Pakistani youth the significance of systematically understanding the Quranic principles of a worthy society. For more information visit http://www.rahimia.org/about-us

09/08/2026

فسادِ ثمود سے استعمارِ جدید تک: دینی شعور کی مزاحمتی جدوجہد اور عصرِ حاضر کے تقاضے
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 23؍صفرالمظفر ۱۴۴۸ھ / 07؍ اگست 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی:
وَكَانَ فِي الْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ۔ (27 – النمل: 48)
ترجمہ:۔ ”اور اس شہر میں نو آدمی ایسے تھے، جو زمین میں فساد کرتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے“۔

🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ اجتماعیت‘ انسانی سماج کے لیے ناگزیر نیز قرآن حکیم کا انسانی سماج کی دنیا اور آخرت میں کامیابی کے لیے ایک مربوط نظامِ حیات
✔️ تعلق مع اللہ کی اساس پر انسانی سماج کے لیے صالح نظام کی ضرورت اور اہمیت
✔️ امام شاہ ولی اللہؒ کے نزدیک دین اسلام کے دو بڑے مقاصد: تہذیبِ نفس اور انسانی سوسائٹی کی سیاست
✔️ تہذیبِ اخلاق اور نظام المدینہ کے تناظر میں انسانی معاملات اور تعلقات کو درست خطوط پر نظام استوار کرنا ضروری
✔️ نظام کی حقیقت و ماہیت نیز سیاست کا مفہوم دائرہ کار؛ ریاستی نظام کی صحت اور مرض کی حالت کا جائزہ
✔️ سیاسةُ الفرس، سیاسةُ الجسم، سیاسةُ النفس اور سیاسةُ المنزل کے تناظر میں سیاست کے بنیادی مقصد و ہدف کی وضاحت
✔️ سیاسةُ المدینہ؛ مملکت کے نظام اور سیاست سے بحث کرنا‘ قرآنِ حکیم کا اہم ترین موضوع
✔️ خطبے کی مرکزی آیت میں قومِ ثمود (اصحابِ حِجر) کے قومی نظام کے فساد اور اس کے نتیجے میں نازل ہونے والے عذاب کی وجوہات
✔️ قرآنی اصطلاح ’مدینہ‘ کی توضیح و تشریح؛ مستقل تہذیب وتمدن اور سیاسی و معاشی شناخت رکھنے والی ریاست
✔️ قومِ ثمود کی نو بڑی مؤثر شخصیات اور ان کا فسادی کردار
✔️ قرآنی اصطلاحات کی تشریح؛ ’رھط‘ کا مفہوم اور حضرت سندھیؒ کی تشریح کی روشنی میں ’الارض‘سے مراد‘ ریاست و مملکت
✔️ قومِ ثمود کی لیڈر شپ کے قائم کردہ معاشی و سیاسی نظام کی خرابیاں
✔️ سسٹم چلانے والی قوتوں کا مکر و فریب اور انسانیت دشمنی کے فسادی کردار کا اگلا شاخسانہ؛ (نعوذباللہ) حضرت صالحؑ کے قتل کا منصوبہ
✔️ حضورؐ کو درپیش قومی چیلنجز اور حضرت صالحؑ کو درپیش قومی چیلنجز میں مماثلت
✔️ تیسرا بڑا فساد؛ قومِ ثمود کا پہاڑ سے اونٹنی پیدا کرنے کا مطالبہ
✔️ اونٹنی‘ دراصل ریاستی جرائم، مظالم اور قوم کے گناہوں کی تہہ در تہہ (compact) کی مجسم شکل میں قومِ ثمود پر اللہ کا عذاب بن کر ظاہر ہوئی
✔️ آج حضرت صالحؑ کی اونٹنی کی طرح کرپٹو کرنسی اور آرٹیفیشل انٹیلجنس‘ قوم کے وسائل کھا رہی ہے
✔️ معجزے کا مطالبہ، اس کے ظاہر ہونے کے بعد بھی کفر اور انکار پر قائم رہنا‘ معجزے کو فنا کرنے کے درپے اور عذابِ الہی میں گرفتار
✔️ اونٹنی کو قتل کرنے کے نتیجے میں پتھروں اور لینڈ سلائیڈنگ کا درد ناک عذاب
✔️ قران حکیم اور نبوی تعلیمات کا موضوع مملکت کا سیاسی نظام نیز دور کے سیاسی معاملات پر عقل و شعور کا حصول دینِ اسلام کا ایمانی تقاضا
✔️ قصص القرآن سے حاصل کردہ عبرت کے تناظر میں ’اصلاح فی الارض‘ اور ’فساد فی الارض‘ کی وضاحت سے مقصود موجود نظام پر بحث
✔️ نظام کی وضاحت نیز ہر نظام اپنے بنانے والی قوتوں کے فکر و نظریے کا عملی اظہار ہوتا ہے
✔️ مسلمان ایک فرد سے لے کر بین الاقوامی دائرے کا نظام‘ ملتِ مصطفویہ کے بیانیے کی اساس پر قائم کرتا ہے
✔️ بالائی نظام‘ ذیلی نظاموں پر اثر انداز ہوتا ہے جیسے انسانی جسم کا مرکزی نظام اور اس کے ذیلی نظام
✔️ رسول اللہؐ نے مسلمانوں کو ایک جسم (ریاستی تمدّن کی شناخت) کی مانند قرار دیا ہے
✔️ امام شاہ ولی اللہؒ نے مختلف ملتوں کی اساس پر چاروں ارتفاقات کے چاروں دائروں کے نظام پر گفتگو کی ہے
✔️ ملتِ حنیفیہ کی اساس پر رسول اللہؐ کے چاروں ارتفاقات سے متعلق جامع احکامات اور عملی کردار
✔️ دین اسلام کے غلبے کے دور میں ملت حنیفیہ (قرآن و سنت) کی اساس پر ایک ہزار سال تک خیر پر مبنی ارتفاقاتِ اربعہ کا نظام قائم رہا
✔️ اجتماعی معاملات میں غور و فکر اور تدبیر کے خیر ہونے کی تین اساسیات: انسانی معروفات، صدقات، اصلاح بین الناس نیز اس کے متضاد شرّ کی تین بنیادیں
✔️ گزشتہ تین سو سال سے خیر کے بجائے فساد اور شرّ کی بنیاد پر غلامی کا بیوروکریٹک اور عدالتی نظام مسلط
✔️ صالح معیاری نظام کے چار رہنما اصول؛ آزادی، عدل، امن اور معاشی خوشحالی
✔️ نظام کی خرابی لیکن آئین کے درست ہونے کے داخلی تضاد کا جائزہ
✔️ درست نظام کے چار خط و خال نیز اغیار کے غلامانہ تعلیمی نظام، غیر ملکی زبان اور توہم پرستی مقننہ و عدلیہ وانتظامیہ کے فرد اور نظام پر اثرات
✔️ نئے انتظامی یونٹس (ضلعوں اور صوبوں) کی تشکیل جغرافیائی، سماجی اور فطری اصولوں کی بنیاد پراختیارات و ذمہ داریوں کا واضح تعین ضروری ہے
✔️ نئے نظام کے قیام کے لیے اپنے سکول آف تھاٹ کی اساس پر نظریات و افکار کی منظم تعلیم و تربیت ضروری ہے
✔️ حقیقت پسندی کی اساس پر collapse نظام کا شعوری جائزہ اور نئے نظام کے قیام کے لیے ملتِ مصطفویہ کے سکول آف تھاٹ کی اساس پر نظریات و افکار کی منظم تعلیم و تربیت ضروری ہے

بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔

منجانب: رحیمیہ میڈیا

08/08/2026

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُروسِ حکمت

درس : 24
(پہلا مقالہ: مبحثِ خامس فصل؛ 14)
ریاست کے لئے عسکری حکمتِ عملی کی اہمیت: جنگی و جاسوسی نظام اور اعلیٰ قیادت کے اوصاف و ذمہ داریاں
مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة
بتاریخ : 29؍ نومبر 2023ء / 14؍ جمادی الاولیٰ 1445ھ
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
✔️ ریاست کے دفاع کے لیے عسکری حکمت عملی کی اہمیت
✔️ اس فصل میں جہاد کے امور اور امیر العساکر کے اوصاف کا بیان
✔️ ’حجة اللہ البالغہ‘ میں جہاد اور عسکری قوت کی ضرورت واہمیت اور چھ اصولوں کا ذکر
✔️ فصل کے آغاز میں اصولِ حرب کا بیان
✔️ 1۔ ریاست کی بقا، فوجی قوت اور جان و مال کی حفاظت کے لیے ہر ممکن حد تک جنگ سے بچنا
✔️ 2۔ جنگ لڑنے کی صورت میں سپہ سالار کو جنگ کے مقاصد واہداف کو پیشِ نظر رکھنا
✔️ ممکنہ جنگی مقاصد و اہداف کی فہرست
✔️ ہر جنگ کے علیحدہ علیحدہ آداب نیز محض مال کے حصول کے لیے انسانی جانوں کو فنا کے گھاٹ نہیں اتارنا چاہیے!
✔️ 3۔ جنگی سازوسامان اور بہادر فوج کی تیاری
✔️ 4۔ دشمن کے مکرو فریب کی جان کاری کے لیے جاسوسی کا نظام
✔️ 5۔ منظم لشکر کے ساتھ جنگ لڑنا
✔️ عین معرکہ کے وقت کے جنگ کے دس اصول اور سالارِ اعظم کی ذمہ داریاں
✔️ فتح اور جنگ جیتنے کے بعد کے حکمران کے کرنے کے کام

بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔

منجانب: رحیمیہ میڈیا

07/08/2026

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُروسِ حکمت

درس : 23
(پہلا مقالہ: مبحثِ خامس فصل؛ 13)
شہریاریت: ریاست میں امن و امان قائم رکھنے کا ارتفاقی نظام، فساد کے اسباب اور شہریار کی ذمہ داریاں
مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة
بتاریخ : 15؍ نومبر 2023ء / 30؍ ربیع الثانی 1445ھ
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
✔️ سابقہ درس کا خلاصہ اور دوسری حاجت؛ شہریاریت (امن و امان قائم رکھنے کا ارتفاقی نظام)
✔️ شہریار کی اصطلاح کی وضاحت
✔️ ریاست میں فساد برپا کرنے کے ممکنہ سات اسباب؛
✔️ ۱) مذہبی و دینی حوالے سے سوسائٹی میں انتشار و افتراق پیدا کرنا
✔️ ’’تفریق الکلمة فی الدین‘‘ کی توضیح و تشریح
✔️ ’’تفریق الکلمة فی الدین‘‘ کا لازمی نتیجہ باطل پرستی اور اس کا علاج
✔️ ۲) سوسائٹی کو نقصان پہنچانے اور فساد مچانے کی خفیہ کاروائیاں؛ جادو، زہر اور عیّار
✔️ خفیہ فساد پھیلانے کی چوتھی و پانچویں شکل؛ مفتی ماجن اور جھگڑا پیدا کرنے والا دشمنوں کا جاسوس
✔️ ۳) ڈاکہ زنی، چوری، غصب کی صورت میں مالی فساد اور لوٹ کھسوٹ
✔️ ۴) انسانی جان کا قتل اور اسے نقصان پہچانا
✔️ ۵) انسانی عزت و آبرو سے کھیلنا
✔️ ۶) سوسائٹی میں فساد مچانے کے لیے دوسروں کو ابھارنا
✔️ ۷) تغییرِ خلق اللہ کے قبیح عمل کا ارتکاب
✔️ حجة اللہ کی عبارت سے وجوہِ فساد کی مزید وضاحت
✔️ ہر سوسائٹی میں ارتفاقِ ثانی اور ارتفاقِ ثالث کے تقاضے پورا کرنا لازمی و ضروری
✔️ شہر سے مناسب تمدّن و رہن سہن اختیار کرنا
✔️ شہر و ریاست کے لیے نقصان دہ پیشوں کو اختیار کرنا
✔️ سوسائٹی کے فساد و خرابی کے دو بڑے سبب
✔️ فساد کے خاتمے کے لیے شہریار کی ذمہ داریاں:
✔️ الف) جرم کی نوعیت پر گہری نظر رکھنا
✔️ ب) شہریوں کے ساتھ اولاد جیسا سلوک کرنا
✔️ ج) شہریت کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھنا
✔️ بارہ سو سالہ دورِ اسلام میں شہریاریت کا نظام قائم رہا

بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
منجانب: رحیمیہ میڈیا

06/08/2026

قرآن حکیم کی حقیقت افروز تعلیمات کی روشنی میں نفسانی، معاشرتی اور سیاسی توہمات کے خلاف شعوری بیداری کی ضرورت

خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ

بتاریخ: 16؍ صفر المظفّر 1448ھ /31؍ جولائی 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس

خطبے کی راہ نما قرآنی آیات
اِنْ هِیَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍؕ-اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُۚ-وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰى(23) اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَنّٰى٘(24) فَلِلّٰهِ الْاٰخِرَةُ وَ الْاُوْلٰى۠(25)
سورۃ النجم:53 (23-25)
ترجمہ: یہ تو صِرف نام ہی نام ہیں جو تُم نے اور تمہارے باپ دادا نے گھڑ لیے ہیں، جِن پر خُدا نے کوئی سَنَد بھی نہیں اُتاری، وہ محض وہم اور اپنی خواہش کی پَیروی کرتے ہیں، حالانکہ اُن کے پاس اُن کے ربّ کے ہاں سے ہدایت آ چکی ہے۔ پِھر کیا انسان کو وُہی مِل جاتا ہے جس کی تمنّا کرتا ہے؟ پس آخرت اور دنیا اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔

۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
✔ انبیائے کرامؑ کی تعلیمات بطور حقیقت شناسی کا پیغام
✔ حضرت آدمؑ کی مخلوقات پر برتری کی وجہ: کائناتی حقائق کا عِلم
✔ کائنات کی مرکزی حقیقت کا ادراک اور عقیدہ توحید کی اہمیت
✔ حقائق اور ہدایت کی بنیاد پر انبیائے کرامؑ کی تعلیمات اور ان کے مقابل وساوس و توہّمات کا بے بنیاد نظام
✔ خطبے میں مذکور آیت کی روشنی میں ’ہوائے نفس‘ کی وضاحت
✔ ’ہدایت‘ کی حقیقت اور اس کا تاریخی تسلسل
✔ جاہلیت کے حامل معاشرے کا توہمات کے ساتھ لازم و ملزوم تعلق
✔ ملکی سیاسی مسائل کے حل کی بابت مقتدرہ کی سیاسی توہمات پر مبنی غیر شعوری تجویز کا تجزیہ
✔ ماہِ صفر المظفّر میں موجود معاشرتی توہمات کا تحلیل و تجزیہ
✔ سیاسی توہمات پر مبنی استحصالی کاروبار کے ظالمانہ نظام کا جال
✔ ملکی استحصالی نظام کی تباہ کاریاں اور اس کو تحفظ فراہم کرنے والی مقتدرہ کے غلط رویے
✔ پُر فریب نعروں کی جھنکار میں ظالمانہ نظام کی اسّی سالہ تاریخ کا تجزیہ
✔ حقیقت پسندی پر مبنی شعوری فکر اور جدوجہد کی ضرورت و اہمیت

05/08/2026

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُروسِ حکمت

درس : 22
(پہلا مقالہ: مبحثِ خامس فصل؛ 12)
اسلام کا عدالتی ارتفاق: قضا کی خصوصیات، آداب اور قواعدِ کلیہ کا مطالعہ
مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة
بتاریخ : 08؍ نومبر 2023ء / 23؍ ربیع الثانی 1445ھ
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
✔️ ارتفاقِ ثالث کے ہر شعبے کی تفصیلات کا الگ فصل میں بیان
✔️ ارتفاقِ قضاء (اسلام کے عدالتی نظام) کے اہم امور
✔️ جج (قاضی) کی دس اہم صفات
✔️ منصبِ قضاء اور عدالت کی خصوصیات، آداب اور تقاضے
✔️ مدّعی کے دعویٰ اور مدّعا علیہ کے جوابِ دعویٰ میں تین تین امور کو پیشِ نظر رکھنا ضروری
✔️ ۱) دعویٰ اور جوابِ دعویٰ کی اصل حقیقت اور فریقین کا ارارہ معلوم کرکے نزاعِ حقیقی کا تعیّن ضروری
✔️ ۲) قضیے کی حقیقی نوعیت تک رسائی حاصل کرنا ضروری
✔️ وقوعے کے قرائن و شواہد اور گواہی میں اختلاف کی صورت میں گواہوں کا تزکیہ ضروری
✔️ ۳) قضیے کی پوری تحقیق کے بعد دلائل پر غور و فکر اور قضاء و فیصلہ
✔️ حجة اللہ البالغہ اور بدورِ بازغہ کی روشنی میں عدالتی نظام کے پانچ قواعدِ کلیہ
✔️ پہلا قاعدہ: تاوان بھرنے والا ہی نفع و فائدہ اٹھائے گا
✔️ دوسرا قاعدہ: قضیے میں فریقین کی طے کردہ شرائط یا عدمِ شرائط کی صورت میں فیصلے کی نوعیت
✔️ تیسرا قاعدہ: معاملے میں فریقین کے نفع کی رعایت اور لازم شدہ حق کی ادائیگی ضروری
✔️ چوتھا قاعدہ: عقد اور معاملے میں فساد پیدا ہونے کی صورت میں فریقین پر زیادتی کیے بغیر اسے ختم کرنا ضروری
✔️ پانچواں قاعدہ: اقرار، شہادت اور دعویٰ کی تشریح میں عرف اور غالب ظن کا اعتبار

بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔

منجانب: رحیمیہ میڈیا

04/08/2026

اغیار کے آلہ کار نظامِ زوال کا شاخسانہ: مسئلۂ کشمیر؛
قرآنی تعلیمات کی روشنی میں قارونی اور بوجہلی کردار کا مطالعہ

خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 16؍صفرالمظفر ۱۴۴۸ھ / 31؍ جولائی 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ:
آیاتِ قرآنی:
1۔ اِنَّمَا اَنۡتَ مُنۡذِرٌ وَّ لِکُلِّ قَوۡمٍ ہَادٍ (13 -رعد:7)
ترجمہ : ”تیرا کام تو ڈر سنا دینا ہے اور ہر قوم کے لیے ہوا ہے راہ بتانے والا“ ۔
2۔ اِنَّ قَارُوۡنَ کَانَ مِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰی فَبَغٰی عَلَیۡہِمۡ ۪ (28 -قصص:76)
ترجمہ : ”قارون جو تھا سو موسیٰ کی قوم سے پھر شرارت کرنے لگا ان پر“۔
حدیثِ نبویﷺ:
وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْصِنِي. فَقَالَ:”خُذِ الْأَمْرَ بِالتَّدْبِيرِ، فَإِنْ رَأَيْتَ فِي عَاقِبَتِهِ خَيْرًا فَأَمْضِهِ، وَإِنْ خِفْتَ غَيًّا فَأَمْسِكْ“. رَوَاهُ فِي"شَرْحِ السُّنَّةِ".
ترجمہ: انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کیا: آپ مجھے وصیت فرمائیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”معاملے پر غور و فکر کر، اگر تو اس کے انجام میں خیر و بھلائی دیکھے تو اسے کر گزر اور اگر تجھے گمراہی کا اندیشہ لگے تو اسے مت کر “۔ (مشکوٰۃ المصابیح :5057)
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ قرآن کے ذریعے کچھ اقوام کامیاب اور کچھ اس کی ہدایات کو پسِ پشت ڈال کر گمراہ
✔️ قرآنِ حکیم کا بنیادی موضوع‘ اقوامِ عالم نیز گزشتہ انبیاء کی تعلیمات فرد، خاندان اور قوم کی ترقی اور کامیابی کے لیے تھیں
✔️ تورات اور قرآن کی تعلیمات اور حضرت موسیٰؑ و حضورؐ کی جدوجہد کا دائرہ کار
✔️ خطبے میں تلاوت کی گئی دو آیات کی روشنی میں قومی و بین الاقوامی نظام کے خط و خال اور تشکیل
✔️ آپؐ کا ہدف؛ قومی تعصبات سے بالاتر تعلیم و تربیت، جماعت کی تیاری اور قومی اساسیات
✔️ زوال کا سبب؛ قومی مفادات کے اجتماعی نظام سے بغاوت اور اغیار کی آلہ کاری
✔️ خطبے کی مرکزی آیت میں بنی اسرائیل کی قومی شناخت توڑنے والے قارون کا منفی اور باغیانہ کردار کا ذکر
✔️ باغی کی وضاحت کے تناظر میں قارون کی قومی بغاوت، حضرت موسیٰؑ کی توہین اور تعلیمات کے انکار کی سزا کا تفصیلی جائزہ
✔️ قارون کی طرح مکہ و طائف کے سرداروں کا حضورؐ سے حسد و بغض، قومی بغاوت کا ارتکاب، ابوطالب سے شکایت اور آپؐ کی بشارت
✔️ کلمۂ طیبہ؛ قومی و بین الاقوامی ترقی کا مکمل عنوان نیز آپؐ کے قومی ترقی اور انسانیت دوستی کے بین الاقوامی پروگرام پر قریش کا اظہارِ تشویش
✔️ عرب اور اقوامِ عالم کے مفادات کا شعور اور آپؐ کے سگے رشتے داروں کی قومی بغاوت، توہین پر مبنی رویے اور انسانیت دوست اور قومی و بین الاقوامی ترقی کی تعلیمات کا انکار
✔️ نبوی شعور اور قرآنی تعلیمات کی اساس پر عربوں و ترکوں کی ہزار سالہ حکومت میں ہر قوم کے مفادات کی حفاظت
✔️ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ کی حیدرآباد دکن کے غیر مسلم راجہ کی دلجوئی اور علاؤ الدین خلجی سے مال کی واپسی
✔️ تجارت کے نام پر یورپین بھیڑیوں کی وسائل کی لوٹ مار اور عرب مسلم تاجروں کا دیانت پر مبنی کاروبار
✔️ مغل حکمرانوں کا ایسٹ انڈیا کمپنی کو بلا تعصب تجارت کی اجازت لیکن ان کی بغاوت و غداری
✔️ پورپین بھیڑیوں کے مدد گار اور معاون غدّار اور قوم سے بغاوت کرنے والے قارون صفت عناصر
✔️ خطہ کشمیر جنت نظیر میں حضرت میر سید علی ہمدانیؒ کی صحبت سے اسلام کی اشاعت، ریاستی شناخت اور قومی طاقت پیدا ہوئی
✔️ 1846ء میں معاہدہ امرتسر میں ڈوگرہ راجہ گلاب سنگھ کا 16 لاکھ نانک شاہی کے عوض انگریز سے کشمیر کی خرید اری اور کشمیری عوام کا اذیت ناک و الم ناک دور کا آغاز
✔️ مسئلہ کشمیر کی اصل حقیقت اور الجھاؤ کی بنیادی وجہ
✔️ خطبے کی مرکزی حدیث کے تناظر میں امورِ حکمرانی میں مشاورت و تدبیر کی اہمیت نیز مسئلہ کشمیر کے تاریخی حقائق پرکھنے اور سمجھنے کے لیے تدبیر کی دعوتِ فکر
✔️ انگریز کا ڈیوائیڈ اور رول کی اساس پر ہندو مسلم سکھ دراڑ کا اوچھا ہتھکنڈا اور آزادی کے نام پر متحدہ ہندوستان کی ظالمانہ تقسیم
✔️ نیشنلزم اور مکمل آزادی (تدبیر) کے علی الرغم‘ ’’غَيًّا‘‘ (گہری کھائی) کی اساس پر تقسیمِ ہند اور عرب خطوں کی بندر بانٹ نیز غدار اور قارون صفت باغی قیادت کا تسلط
✔️ ’’غَيًّا‘‘ کی اساس پر ہندوستان کی ریاستوں کی تقسیم کا فارمولہ اور کشمیر کی تباہی و بربادی کا آغاز
✔️ خطہ کشمیر کا الجھاؤ؛ شملہ معاہدہ کی اساس پر کشمیر زیرِ تصفیہ علاقہ، استصوابِ رائے کے لیے بارہ سیٹوں کا الجھاؤ، ایکشن کمیٹی کا احتجاج اور حکومتی تشدد
✔️ ریاستی مشینری اور کشمیر کے اسٹیک ہولڈر کو عقل و شعور اور تدبیر کی دعوت
بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔

منجانب: رحیمیہ میڈیا

31/07/2026

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُروسِ حکمت

درس : 21
(پہلا مقالہ: مبحثِ خامس فصل؛ 11)
ارتفاقِ ثالث: ریاست کی تشکیل، بنیادی ضروریات اور حکمرانِ کامل کے اوصاف
مُدرِّس : ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة
بتاریخ : 27؍ ستمبر 2023ء / 10؍ ربیع الاول 1445ھ
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
✔️ سابقہ درس کا خلاصہ: ارتفاقِ ثانی کی سطح پر پانچ حکمتوں کا اجمالی جائزہ
✔️ ارتفاقِ ثالث کی ضرورت و اہمیت
✔️ حجة اللہ البالغہ کی روشنی میں ارتفاقِ ثالث کی مباحث کا سرسری جائزہ
✔️ بدورِ بازغہ میں حکمت کے اصول پر ارتفاقِ ثالث کی تفہیم و تشریح
✔️ ریاست؛ زراعت، تجارت و صنعت سے وابسطہ افراد کے پیشہ وارانہ تعلقات کے درمیان مربوط لاسلکی نظام
✔️ ریاست کے تشخّص اور وحدت کی حفاظت ضروری
✔️ ریاست کا درست نظام استوار کرنے کے لیے حکمران کی ضرورت و اہمیت
✔️ حکمران شخصِ واحد کا نام نہیں! نیز ریاستی نظام کی دو اہم خصوصیات
✔️ ریاست کی پانچ بنیادی حاجات و ضروریات اور اہم شعبہ جات
✔️ ریاست کی پہلی ضرورت: جمہور انسانوں کا تسلیم شدہ عدل و انصاف پر مبنی آئین و قانون
✔️ سنتِ عادلہ کی حفاظت اور عمل درآمد کرانے کے لیے عدلیہ کا شعبہ
✔️ ریاست کی دوسری ضرورت: فسادی اعمال اور بداخلاقیاں ختم کرنے لیے شہریاریت (داخلی سیکورٹی)
✔️ ریاست کی تیسری ضرورت: بیرونی خطرات سے نمٹنے اور دفاع کے لیے جہاد (عسکری فورسز) کا شعبہ
✔️ ریاست کی چوتھی ضرورت: ریاستی اداروں کی سربراہی (نقیب و متولی) کا شعبہ
✔️ ریاست کی پانچویں ضرورت: شہری نظم و نسق اور عمدہ اخلاق پیدا کرنے کے لیے مُبلِّغین و واعظین
✔️ ریاستی سطح پر مُعلِّم و مُبلِّغِ دین کی بنیادی ذمہ داریاں
✔️ ریاستِ تامّہ کے لیے امامِ حق کی ضرورت اور اس کا اطلاق
✔️ مُدُنِ ناقصہ کے لیے تسلیم شدہ طریقہ کار، ہر شعبے کا سربراہ اور پارلیمنٹ کی ضرورت
✔️ لوگوں کا ایک آئین و قانون پر متفق ہونے کا بنیادی سبب
✔️ ریاست کا سربراہ مقرر کرنے کی شرائط کی رعایت ضروری
✔️ ناقص و کامل ریاست، خلافت، خلیفہ اور خلیفہ اعظم کی اصطلاحات
✔️ حکمران اور سربراہ کی شرائط؛ اخلاقِ فاضلہ کا حامل ہو
✔️ عوام کے دلوں میں باوقار، عزت دار اور رعب و دبدبہ ہو
✔️ رعب اور دبدبے کے بغیر حکمرانی قائم نہیں ہوسکتی!
✔️ جاہ و مرتبت حاصل کرنے کا طریقہ کار
✔️ کامل حکمران کے لیے چند ضروری امور

بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔

منجانب: رحیمیہ میڈیا

29/07/2026

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُروسِ حکمت

درس : 20
(پہلا مقالہ: مبحثِ رابع فصل؛ 9، 10)
حکمتِ تعامُلیہ اور حکمتِ تعاوُنیہ: ارتفاقِ ثانی کی روشنی میں معاشی معاہدات اور تعاون باہمی کا ولی اللہی فلسفہ
مُدرِّس : ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة
بتاریخ : 20؍ ستمبر 2023ء / 03؍ ربیع الاول 1445ھ
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
✔️ حکمتِ تعامُلیہ؛ تبادلۂ اَشیاء اور تبرُّع کی حقیقت
✔️ حجة اللہ البالغہ کی روشنی میں حکمتِ تعامُلیہ کے تین دائرے؛ مُبادَلات، مُعاوَنات اور اَکساب
✔️ محبت و الفت‘ انسانوں میں تعاونِ باہمی اور تعلقات جال کی مانند ہیں
✔️ تبرُّع کی چند صورتیں
✔️ مُبادَلہ و مُعامَلہ کی سات صورتیں؛ بَیع، اِجارہ، ھِبہ، اِعارہ، دَین، سَلَم اور قرض
✔️ دَین کی تعریف نیز قرض اور دَین کا جوہری فرق
✔️ دَین کی دو صورتیں؛ سَلَم اور قرض
✔️ جس معاملے میں سود یا جوے کی شکل موجود ہو، وہ ناجائز ہے
✔️ مُعامَلات و مُبادَلات کے دو بنیادی مقاصد اور پانچ اساسی اصول
✔️ 1) مبیع و ثمن یا اجرت و منفعت میں جہالت اور دھوکہ دہی سے اجتناب
✔️ 2) باہمی رضا مندی سے فریقین کا ایجاب و قبول
✔️ 3) مجلسِ عقد میں فریقین کو معاملے پر غور و فکر کرنے کی کھلی چھوٹ جیسے؛ خیارِ مجلس، خیارِ عیب اور خیارِ شرط
✔️ 4) اجارے میں مدت مقرر کرنا اور سَلَم میں اوصاف کا متعین کرنا ضروری
✔️ 5) عاقِدَین عقل مند اور معاملات کا فہم رکھتے ہوں
✔️ معاملات میں کتابت، گواہ مقرر کرنے اور رھن رکھنے کی وجوہات اور ضرورت و اہمیت
✔️ باہمی مُعامَلات میں قِمار (جوئے) اور ربوا (سود) کی ممانعت و حرمت کی بنیادی وجہ
✔️ رشوت کی ممانعت
✔️ نقصان دہ پیشوں اور اور حکمرانوں سے متعلق ”حجة اللہ البالغہ“ کی اہم عبارت کی وضاحت
✔️ ۱) پیشوں کا تعین، مِلکِیّت کی تحدید اور تبادلۂ دولت کے لیے شہری حکومت کا قیام لازمی
✔️ ۲) زرعی معیشت میں صنعت کاروں اور انتظامیہ کا حجم بڑھنا اور زراعت کے عمل کو چھوڑ دینا‘ تباہی کا باعث
✔️ ۳) نقصان دہ پیشوں کو روکنا اور سوسائٹی کے لیے مفید پیشوں کو رواج دینا‘ ریاست کے ذمہ داری
✔️ ۴) ریاست و مملکت کی خرابی و بربادی کا بڑا سبب: ضروری ارتفاقات ترک کرنا اور تعیّش پسندی کے امور کو فروغ دینا
✔️ ۵) عیش پرست حکمرانوں کے تسلّط سے ریاست کے تباہ و برباد ہونے پر تمام عرب و عجم کے مُدبِّرین کا اِتّفاق
✔️ ۶) حکمرانوں کی شہوات و خواہشات پورا کرنے کے لیے پیشوں میں فساد کا منظر نامہ
✔️ ۷) حقیقی پیشوں (زراعت، صنعت اور تجارت) کو مہمل چھوڑنا اور حکمرانوں کا ان پر بھاری ٹیکس لگانا‘ سوسائٹی کے لیے بہت بڑا نقصان
۸) دیمک کی طرح پھیلے ہوئے اس مرض کے خاتمے کے لیے حضور ﷺ کے ریاستی اِقدامات
✔️ فصل ۱۰؛ حکمتِ تعاوُنیہ (ارتفاقِ ثانی کی سطح پر باہمی تعاون کی حکمت) کی حقیقت اور ضرورت و اہمیت
✔️ باہمی تعاوُن کے چند شعبے؛ مُزارَعت، مُضارَبت، وکالت، کفالت اور شرکت کا جائزہ

بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔

منجانب: رحیمیہ میڈیا

29/07/2026

”اَکْل بِالبَاطِل“ کے استحصالی نظام اور اس کے معاشرے پر تباہ کن اثرات کے شعوری جائزہ کی دعوتِ فکر

خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ

بتاریخ : 9؍ صفر المظفّر 1448ھ / 24؍ جولائی 2026ء
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس
خطبے کی راہ نما قرآنی آیات
یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّا اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ- وَ لَا تَقْتُلُوْا اَنْفُسَكُمْ- اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا(29) وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْهِ نَارًا- وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا(30)
سورۃ النساء 4: (29-30)
ترجمہ : اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ مگر یہ کہ آپس کی خوشی سے تجارت ہو، اور آپس میں کسی کو قتل نہ کرو۔ بے شک اللہ تم پر مہربان ہے۔ اور جو شخص تعدّی (سرکشی) اور ظلم سے یہ کام کرے گا تو ہم اسے آگ میں ڈالیں گے، اور یہ اللہ پر آسان ہے۔

۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
0:00 آغاز
1:04 انسانیت کے لیے تسخیرِ کائنات کا الٰہی نظام
✔ معیشت میں تعاونِ باہمی اور تبادلہ اشیاء کا نظام
✔ خطبے میں مذکور مرکزی آیت کی وضاحت
✔ ’’اکل بالباطل‘‘ کا مفہوم
✔ حدیثِ نبویﷺ کی روشنی میں ’’بِرّ‘‘ کی وضاحت
✔ ’’اِثم‘‘ کا مفہوم
✔ منصبِ قضا اور اِفتاء کا دائرہ کار اور بنیادی ذمہ داریاں
✔ رزقِ حلال اور دینِ اسلام میں نیکی کا نظام
✔ مالِ حرام سے صدقہ دینے کا حُکم
✔ موجودہ معاشرے میں ٹیکسز کا ’’لاقانونی“ ظالمانہ نظام
✔ ملکی عدمِ استحکام کی اہم وجہ: قومی معیشت سے محروم نظام
✔ موجودہ معاشرہ میں ’’اکل بالباطل‘‘ کے وسیع تر نظام کی سفاکیّت
✔ بالواسطہ ٹیکسز اور بِھیک کے فروغ پر مبنی قومی معاشی نظام کی زبوں حالی
✔ ’اکل بالباطل‘ پر مبنی منظم نظام کے معاشرے پر گہرے منفی اثرات
✔ ’’اکل بالباطل‘‘ پر قائم موجودہ فرسودہ سیاسی نظام کی تباہ کاریاں
✔ موجودہ فرسودہ معاشی نظام کے شعوری تجزیہ کی ضرورت

بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔

منجانب: رحیمیہ میڈیا

27/07/2026

شعور بخش علم کی بحالی کی ناگزیریت: مسلم امہ کے زوال میں کتمانِ علم کی نجکارانہ اور زر اندوزانہ وارداتوں کا جائزہ

خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 09؍صفر المظفر 1448ھ / 24؍ جولائی 2026ء
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ:
آیتِ قرآنی:
اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکۡتُمُوۡنَ مَا اَنۡزَلَ اللّٰہُ مِنَ الۡکِتٰبِ وَ یَشۡتَرُوۡنَ بِہٖ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ۙ اُولٰٓئِکَ مَا یَاۡکُلُوۡنَ فِیۡ بُطُوۡنِہِمۡ اِلَّا النَّارَ وَ لَا یُکَلِّمُہُمُ اللّٰہُ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ وَ لَا یُزَکِّیۡہِمۡ ۚۖوَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ.
(2 -البقرہ:174)
ترجمہ : ”بیشک جو لوگ چھپاتے ہیں جو کچھ نازل کی اللہ نے کتاب اور لیتے ہیں اس پر تھوڑا سا مول، وہ نہیں بھرتے اپنے پیٹ میں مگر آگ، اور نہ بات کرے گا ان سے اللہ قیامت کے دن اور نہ پاک کرے گا ان کو اور ان کے لیے ہے عذاب دردناک“۔
حدیثِ نبویﷺ:
”مَن كتمَ علمًا ألجمَهُ اللَّهُ يومَ القيامةِ بلجامٍ من نارٍ “.
(كنز العمال :10/ 217)
ترجمہ: ”جس نے علم چھپایا تو اللہ قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائے گا“.
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ کتاب مقدس‘ انسانیت کی ہدایت اور ترقی کا ذریعہ
✔️ انبیائے کرامؑ کا ہدف‘ انسانوں کو تعلیم یافتہ بنانا
✔️ حقیقی علم کی تعریف نیز علمِ الٰہیات کی عظمت و جامعیت
✔️ حصولِ علم کے تین ذرائع؛ عقل، نقل اور کشف
✔️ علمی ذرائع سے ملّتیں اور شرائع و مناہج بننے کا عمل
✔️ قرآن حکیم‘ وحی الہی کے علوم کا جامع ترین ایڈیشن
✔️ حقیقی اور قابلِ عمل علم جو انسانی زندگی کے تمام مراحل میں فائدہ مند ہو
✔️ علمِ نبوت؛ اقترابات و ارتفاقات کا جامع ترین علم
✔️ انبیاءؑ تعلیم و تربیت پر اجر کا مطالبہ نہیں کرتے
✔️ حصولِ علم‘ ہر انسان کا بنیادی حق و فریضہ نیز اس کی ادائیگی ہر مسلمان کی بنیادی ذمہ داری
✔️ مسلم دورِ عروج کے ہزار سال میں تعلیم اور صحت‘ ریاست کی ذمہ داری
✔️ زوال پذیر اقوام کا بنیادی مرض‘ کتمانِ علم اور تعلیم کا معاوضہ طلب کرنا
✔️ وسائل پر قبضے کی ہوس، لالچ اور بھوک کے مرض میں مبتلا اقوام و ممالک
✔️ یورپی اقوام کا مسلمانوں کے علوم اور ریسرچ کو دنیا سے چھپانا
✔️ گزشتہ تین سو سال سے علومِ انبیاءؑ اور کتبِ الہیہ کے احکامات کے کتمان کی روش
✔️ قرآن و حدیث کی روشنی میں کتمانِ علم کی سخت وعید اور سزائیں
✔️ سرمایہ و محنت کی اساس پر سرمایہ داری اور سوشلزم کو شرعی دلائل سے ثابت کرنے کا غلط فہمی پر مبنی بیانیے کا جائزہ
✔️ حقیقی علم کے کتمان اور انسانیت دشمن علم کے فروغ کا عصری جائزہ
✔️ 1857ء کے بعد علماءِ حق کا خطے کے حقیقی علوم کو محفوظ کرنا
✔️ سرکاری تعلیمی اداروں کی نجکاری، علم بیچنے کا کاروبار اور عوام کی عطیہ کردہ زمینوں پر قائم اسکول و کالجز کو ٹھیکے پر دینے کے علم دشمن عمل کا جائزہ
✔️ پرائیویٹ اسکولوں کے نام پر اساتذہ اور والدین کا استحصال اور کتمانِ علم
✔️ مدارس کا رسمی نصاب‘ سماجیات، سیاسیات اور معاشیات سے خالی
✔️ کتمان علم کی بڑی بھیانک مثال‘ سرمایہ داری کو اسلام کے سانچے میں ڈھالنا
✔️ آزاد ممالک میں مقامی طریقہ ہائے علاج کا فروغ اور سرمایہ دار ممالک میں جبری پابندی
✔️ ادویات پر ریسرچ کے حقیقی نتائج کو چھپانے کا عمل
✔️ حقیقی علم کے کتمان کی مجرمانہ روش اور تعلیم و صحت کے قومی نظام کی عصری ناگزیریت

بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔

منجانب: رحیمیہ میڈیا

Address

Rahimia House, 33-A, Queens Road
Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rahimia Institute of Quranic Sciences-Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Rahimia Institute of Quranic Sciences-Official:

Shortcuts

Share