Rahimia Institute of Quranic Sciences-Official

Call Directions Website Contact the university

Rahimia Institute of Quranic Sciences-Official Rahimia Institute of Quranic Sciences strives to foster collectivism and instil unity of thought among responsible youth of the country.

The Rahimia Institute is an educational organization that aims to create a society based upon the Quran's universal principles of peace, justice and prosperity for all people. With its five campuses in Karachi, Sukkhur, Rawalpindi, Multan and Lahore, Rahimia Institute is rapidly preparing conscientious, intelligent, socially-aware human resource educated to take on the challenge of country’s development. Rahimia Institute considers the youth of this country an asset which must be valued and groomed to accept the responsibility of this society. The Institute manages to do this by proactively engaging the youngsters of this country through various seminars, discussion forums, Friday congregations and numerous other activities. The primary objective of all these activities is to instill among Pakistani youth the significance of systematically understanding the Quranic principles of a worthy society. For more information visit http://www.rahimia.org/about-us

13/10/2026

عصرِ حاضر کے فکری و معاشی بحران کے تناظر میں آن لائن مذہبی سطحیت و جذباتیت کا جائزہ اور صحبتِ صالحہ کے ذریعے اجتماعی تربیت کی اہمیت*

خطبہ جمعۃ المبارک
حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن حفظہ اللہ

بتاریخ: 26؍ ربیع الثانی 1448ھ /9؍ اکتوبر 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور، ملتان کیمپس

خطبے کی راہ نما قرآنی آیت
وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَ لَا تَعْدُ عَیْنٰكَ عَنْهُمْۚ تُرِیْدُ زِیْنَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاۚ وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًاٝ (28)
سورۃ الکھف:18 (28)
ترجمہ: تو ان لوگوں کی صحبت میں رہ جو صبح اور شام اپنے رب کو پکارتے ہیں، اسی کی رضامندی چاہتے ہیں، اور تو اپنی آنکھوں کو ان سے نہ ہٹا، کہ تو دنیا کی زندگی کی زینت تلاش کرنے لگ جائے، اور اس شخص کا کہنا نہ مان جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا، اور اپنی خواہش کے تابع ہو گیا ہے، اور اس کا معاملہ حد سے گزرا ہوا ہے۔

۔۔۔۔خطبے کے چند مرکزی نکات۔۔۔۔ 👇
✔ دینِ اسلام کی جامعیت اور رہبانیت کا ردّ
✔ عملی حقائق سے عاری مروّجہ دینی مباحث اور نوجوانوں کی کنفیوژن
✔ دینِ اسلام میں معاشرتی معاملات کی اہمیت اور ان پر راہ نمائی کا نظام
✔ دینی مباحث میں معاشرتی موضوعات سے پہلو تہی کے نقصانات
✔ مُلکِ عزیز کے تلخ حالات کی بنیادی وجہ: کالونیل نظام کا تسلسل
✔ ورلڈ بنک کی حالیہ جاری کردہ معاشی رپورٹ (میناپ) کا تنقیدی تجزیہ
✔ انسانی فطرت اور دینِ اسلام میں اجتماع کی اہمیت اور اجتماعی نظام کی خرابی کے تباہ کن اثرات
✔ اجتماعی نظام کی درستگی کے لیے صحیح فِکر، اجتماعیت اور تاریخی تسلسل کی اہمیت
✔ دینی موضوعات پر آن لائن کورس اور لیکچر دینے والے ’بُقراطوں‘ کا شعوری جائزہ
✔ دینی تعلیم و تربیت کے لیے دینی اجتماع کی ضرورت
✔ کاروباری بنیادوں پر موجود دینی آن لائن کورسوں کے نوجوانوں پر خطرناک اثرات
✔ صحابہؓ کا مقامِ صحابیت اور دینِ اسلام میں دینی اجتماع اور صحبتِ صالح کی قدر و قیمت
✔ آن لائن ’سکالروں‘ کا غیر سماجی دینی موضوعات کے ذریعے نوجوانوں کو متأثر کرنے کا رجحان
✔ حضرت عمرِ فاروقؓ کا حدیث کے ثبوت میں حدّ درجہ احتیاط کا رویّہ اور ہمارے لیے راہ نمائی
✔ باشعور قیادت کی پہچان کے لیے تنقیدی رویہ اپنانے کی ضرورت
✔ اُسوہ حسنہﷺ کی روشنی میں فِکری تشکیل اور تربیت کے لیے دینی اجتماع کی ضرورت کا جائزہ
✔ مذہبی لبادے میں خواہش پرست راہ نماؤں کے شعوری جانچ پرکھ کا طریقہ کار
✔ تاریخی تسلسل کے ذریعے حقائق کی آگہی اور متوازن رویوں کے اختیار کرنے کی ضرورت و اہمیت

11/10/2026

نظمِ کائنات کے تناظر میں نظمِ معاشرت کے اجتماعی اصولوں کی اہمیت اور ریاستی و عالمی تناظر میں ان سے انحراف کے نتائج کا جائزہ
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 26؍ ربیع الثانی 1448ھ / 09؍ اکتوبر 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی
سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(1) یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ(2) كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ(3) اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ(4). (61–صف:1 تا 4)
ترجمہ : ” اللہ کی پاکی بولتا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں اور وہی ہے زبردست حکمت والا، اے ایمان والو! کیوں کہتے ہو منہ سے جو نہیں کرتے۔ بڑی بیزاری کی بات ہے اللہ کے یہاں کہ کہو وہ چیز جو نہ کرو، اللہ چاہتا ہے ان لوگوں کو جو لڑتے
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ کل انسانیت کی فلاح و بہبود کا نسخۂ حیات‘ اجتماعیت کی ضرورت و اہمیت
✔️ میدانِ حشر میں کل انسانیت؛ فرد سے لے کر بین الاقوامی سطح کی ذمہ داریوں کے حساب کی بنیاد پر جزا و سزا
✔️ معاشرے اور اجتماعیت کی بنیاد‘ باہمی معاہدات کی پاسداری اور اپنی آزاد مرضی سے ذمہ داریاں قبول کرنا
✔️ معاہدات کی خلاف ورزی‘ اجتماعی نظم کے لیے انتہائی خطرناک اور انسانیت سے راہِ فرار اختیار کرنا ہے
✔️ انسانی زندگی میں قول اور فعل کی اہمیت نیز احکاماتِ الہیہ کے مطابق اور ذمہ داری کی ادائیگی کے ساتھ کنٹرول گفتگو کرنا‘ قرآنی تعلیم ہے
✔️ خطبے کی مرکزی آیات کے پسِ منظر میں سماجی تشکیل کے لیے قول و فعل کی یکسانیت کی ضرورت و اہمیت
✔️ ریاستِ مدینہ میں منافقین جماعت کا ظہور‘ غزوہ بدر میں ریاستِ مکہ کی شکست کے بعد ہوا
✔️ تسبیح و تحمید کی حقیقت: کائنات کی تمام مخلوقات کا اپنی مخصوص فطری اور طے شدہ ذمہ داریوں کو بغیر کسی انحراف کے مکمل طور پر پورا کرنا
✔️ عرشی و فرشی مخلوقات کی طے شدہ ذمہ داریوں کے تناظر میں تسبیح و تحمید کی مزید وضاحت
✔️ ’’العزیز‘‘ اور ’’الحکیم‘‘ کی وضاحت اور ان دو اوصاف کے تناظر میں تمام مخلوقات پر اللہ تعالٰی کی قولی اور عملی حاکمیت
✔️ عمل کے لیے منظم ترتیب اور حکمت لازمی و ضروری نیز قرآن میں قانونِ الہی کے بعد اسمِ الہی کے ذکر کرنے کا گہرا راز
✔️ ایمان کا مفہوم: اللہ تعالٰی کو عزیز اور حکیم تسلیم کرتے ہوئے اپنے قول و فعل کو اللہ کے احکامات کے تابع کر دینا
✔️ دنیا میں نبی اکرم ﷺاور آپؐ کی جماعتِ صحابہؓ‘ اللہ کے ’’عزیز‘‘ اور ’’حکیم‘‘ ہونے کا مظہر ہیں
✔️ انسان کا امتحان اور آیت ’’لم تقولون ما لا تفعلون‘‘ کے تناظر میں جماعتی زندگی کا فساد‘ قول اور فعل میں تضاد کا نتیجہ ہے
✔️ اس آیت کا پسِ منظر، غزوہ احد میں آپؐ کی حکمتِ عملی اور نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے نتائج اور قول و فعل میں تضاد پر اللہ کی تنبیہ و توبیخ
✔️ دشمن کا مقابلہ کرنے والی منظم، بنیانِ مرصوص اور معیاری ایمان‘ قول و عمل میں یکسانیت والی جماعت‘ اللہ کو بہت ہی محبوب
✔️ نظامِ شمسی اور گردشی نظام کے تناظر میں نظم و ضبط، ذمہ داری اور اجتماعیت کی اہمیت
✔️ ایک فرد کا اپنی ذمہ داری سے انحراف کا خمیازہ‘ پوری اجتماعیت بھگتی ہے
✔️ یورپین اقوام کا ریاستی نظام میں نفاق اور جھوٹ پر مبنی قول و عمل کے تضاد اور منافقانہ معاہدوں کی اساس پر قائم قومی و عالمی نظام کی تین سو سالہ تاریخ اور عصری المیے کا جائزہ
✔️ قول و عمل کے تضاد پر غضبِ الٰہی اور سزا؛ قومی شناخت تباہ اور سیاسی و اقتصادی غلامی
✔️ انسانی سماج کے تجزیے کا قرآنی اسلوب اور قول و عمل کے تضاد کا شکار جماعتوں، ریاستوں اور عالمی قوانین کا جائزہ
✔️ حضورؐ نے ایک ماں کو اپنے بچے سے بھی جھوٹا وعدہ کرنے سے منع کیا
✔️ آج کے عالمی، ریاستی اور جماعتی منافقت کے دور میں ایمانی تقاضے کے مطابق ذمہ دارانہ طرز عمل اپنانے کی اہمیت

بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
منجانب: رحیمیہ میڈیا

11/10/2026

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُروسِ حکمت

درس : 38
(دوسرا مقالہ: مبحثِ دوم، فصل؛ 9، 10)
جبلی معرفتِ الٰہی ، محبت و تعظیم ، تذلل اور عبادت کا فطری فلسفہ اور نماز کی حقیقت
مُدرِّس : ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة
بتاریخ : 29؍ مئی 2024ء /20؍ ذی قعدہ 1445ھ
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
✔️ سابقہ فصول کا خلاصہ اور زیرِ مطالعہ فصل (9) میں جبلی معرفتِ الٰہی کے اثرات و نتائج کا بیان
✔️ بنیادی قاعدہ: انسان اپنی ’مُنعِم‘ و’مُحسِن‘ ذات سے فطری و طبعی طور پر محبت رکھتا ہے
✔️ عبادت کی فلسفہ؛ انسان کا دو پہلؤوں سے اپنے رب کی صحیح معرفت حاصل کرنا اور اس کے نتیجے کے طور پر عبادت بجا لانا
✔️ عقلی دلیل: انسان بلکہ جانور بھی فطری طور پر اپنے مُنعِم مُتکفِّل (ضروریات و سہولیات فراہم کرنے والے) سے محبت کرتے ہیں
✔️ پہلی مشاہداتی مثال: شکاری نعمتیں بہا کر شکار کو مانوس کرتا ہے
✔️ دوسری مثال میں انسانی فطرت کی بنیادی خصوصیت ’وفاداری‘ سے مزید وضاحت
✔️ ذاتِ باری تعالیٰ سے محبت کا اعلی درجہ؛ حالتِ الہی کا طاری ہونا اور اس کے رنگ میں رنگنا
✔️ محبتِ الہی کی حالت پیدا کیے بغیر محض عقلی و برہانی طور پر محبت ناکافی ہے
✔️ محض عقل کی اساس پر محبتِ خداوندی کے نقصانات: سیدھے راستے سے ہٹنا اور فطرت مسخ کر دینا
✔️ دورِ غلامی کا المیہ اور ولی اللہی فکر و عمل کی امتیازی حیثیت خصوصیت
✔️ انسانی فطرت: انسان ’محبت کی حالت‘ پر پیدا ہوا ہے، محض محبت کی علمی صورت پر نہیں!
✔️ امام شاہ رفیع الدینؒ کے رسالہ؛ ’اسرار المحبة‘ میں محبت پر لاجواب گفتگو
✔️ انسان اپنے ہم جنس (حیوانات) سے احوال طاری ہونے میں موافقت رکھتا ہے
✔️ علمی احاطہ اور حالت طاری ہونے میں بڑا فرق ہے
✔️ انسان پر خاص حالت طاری ہونے سے قلب و جوارح میں عجیب ربط و تعلق کی وضاحت
✔️ پہلی مثال: جانور میں تیہ اور غرور سے گردن کا اکڑنا اور عاجزی و انقیاد کے وقت گردن کا جھک جانا
✔️ دوسری مثال میں انسان کے غصے و غضب کی حالت سے وضاحت
✔️ انسانی کی شہوت آمیز محبت کی حالت کی مثال
✔️ انسان کی تعظیم آمیز محبت کی حالت: تذلل اختیار کرنا، رخسار خاک آلود کرنا اور اپنی پیشانی کو مٹی پر رگڑنا
✔️ عبادت کی حقیقت و فلسفہ
✔️ عمومی مشاہدہ: تمام انسانوں کا اپنے احوال اور معبود کے مختلف ہونے کے باوجود عبادات پر اتفاق
✔️ جب کوئی اپنی حاجت ولیِ نعمت کے سامنے پیش کرتا ہے یا اس کی نعمتیں یاد کرتا ہے تو وہ اضطراراً عبادت و تذلل کی طرف لپکتا ہے اور طبعی طور پر عبادات کی ممکنہ صورتیں ایجاد کر لیتا ہے
✔️ عبادت کی ممکنہ عملی صورتیں
✔️ انسان کا ’محبت بالتعظیم‘ کی جبلی حالت کے اظہار کے لیے خود بخود مناسب اعمال و افعال کی طرف میلان اختیار کرنا
✔️ عبادتِ الہی‘ انسان کا فطری عمل
✔️ عبادت کے دو پہلو: (اوّل) دل میں اللہ کی انتہاء درجے کی عظمت و محبت کا بندھ جانا
✔️ عبادت کا دوسرا پہلو: ہر قسم کی حاجات اور ضرورتوں کے لیے اللہ کے سامنے گِڑگِڑانا
✔️ شرک و کفر کا تعلق بھی ان دو دائروں سے ہے
✔️ فصل (10) میں معاشروں میں مروج اور انسانی طبیعتوں میں راسخ‘ عبادات کی سات مشہور قسمیں
✔️ عبادت کی پہلی قسم، نماز کا فلسفہ: افعال اور ھیئات (طریقے)، ایمانی کیفیت اور اطاعت و تعظیم کے حالت میں تلازم، ظاہری و باطنی حالت اور ان کا باہمی تعلق
✔️ عبادات و نماز میں عاجزی کے ممکنہ تین پہلو
✔️ بہترین اور معیاری نماز، اوقات کی حکمت اور قبولیت کی شرائط

بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔

منجانب: رحیمیہ میڈیا

08/10/2026

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُروسِ حکمت

درس : 37
(دوسرا مقالہ: مبحثِ دوم، فصل؛ 8)
فطرتِ انسانی کی راہ میں حائل حجاباتِ ثلاثہ: حقیقت، اثرات اور انسداد کی تدابیر کا مطالعہ
مُدرِّس : ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة
بتاریخ : 22؍ مئی 2024ء /13؍ ذی قعدہ 1445ھ
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
✔️ پچھلی فصل میں کمالِ نوعِ انسان کی اساسیات: ایمان و احسان کی وضاحت
✔️ فصل (8) میں فطرتِ انسانی کی راہ میں حائل حجاباتِ ثلاثہ کی وضاحت
✔️ انسان کی وجدانی حالت (اصلِ فطرت) کی راہ میں حائل تین حجابات: حجابِ طبیعت، حجابِ رسم (دنیا) اور اللہ کے بارے میں جہالت (بدفہمی و عدم آگہی)
✔️ 1) حجابِ طبع اور اس کی حقیقت (کسی کی ملامت کی پراوہ کیے بغیر طبعی تقاضوں اور لذّات کا اسیر‘ اپنی اصل فطرت سے غفلت برتتا ہے) نیز طبعی حجاب کا قیدی‘ نہ کسی رسم کا پابند اور نہ کسی حکمِ شریعت کی پرواہ کرتا ہے
✔️ حجابِ طبع کے فطرت پر غالب آنے کے عجیب اثرات؛ دماغ کی قوتوں کی تابعداری، دل کا اس کی طرف جھک جانا اور ہر عمل میں طبعی اثرات کا غالب آ جانا
✔️ طبیعت کے حجاب کے غالب ہونے کا مطلب: بدن کی تمام علمی اور عملی قوتوں کا طبیعت کے تقاضوں کو پورا کرنے میں منہمک ہو جانا
✔️ 2) حجابِ رسم اور اس کی حقیقت (انسان کا دیانةً دل کی گہرائی سے قوم کے ماحول، رہن سہن، رائج اور مانوس طور طریقے اور عادات و تعلقات کے سوا ہر چیز سے منہ موڑ لینا)
✔️ رسم کے غلبے اور پابندی کی وجہ سے انسان کا بارہا مرتبہ طبعی تقاضوں کی خلاف ورزی کرنا اور رسم کو طبیعت پر ترجیح دینا
✔️ 3) اللہ کے بارے میں جہالت (سوءِ معرفت) اور اس کی حقیقت (ذات باری تعالٰی کے اصل ادراک میں کوتاہی اور شرک و تشبیہ کی شکلوں کو اختیار کرنا)
✔️ حجابِ سوءِ معرفت کی چند صورتیں اور خرابی کی عقلی وجہ
✔️ حجابات‘ صرف انہی تین کلیات میں کیوں بند ہیں؟ تین پہلوؤں کی روشنی میں جائزہ
✔️ ان تین رکاوٹوں کو توڑنے کی تدبیریں اور طریقۂ کار
✔️ (1) حجابِ طبع کو توڑنے کی تدبیر؛ اعتدال کے ساتھ روزہ، کم بولنا، شب بیداری، توجہ کو منتشر کرنے والی رنگین چیزوں کو کم دیکھنا، افواہوں اور بے چینی پیدا کرنے والی باتوں پر کان نہ دھرنا
✔️ (2) حجابِ رسم کو توڑنے کی تدبیر؛ عبادات کے لیے مناسب اور صالح ماحول میں اخلاص و للہیت پیدا کرنا، فاسد رسم کو چھوڑ دینا اور رسمِ صالح کو اختیار کرنا
✔️ انبیاءؑ اچھی رسم اور صالح نظام قائم کرنے کے لیے مبعوث ہوتے ہیں
✔️ (3) حجابِ سوء معرفت کو توڑنے کی تدبیر؛ عقول و اَذہان اور خیالات کی صفائی و ستھرائی، کثرت سے اللہ کا ذکر اور اس کی پابندی اختیار کرنا، قرآن کی تلاوت اور وعظ و نصیحت کی باتیں سننا (استفادہ نشستیں) اور اللہ کی آیات پر غور و فکر (مراقبہ)

بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
منجانب: رحیمیہ میڈیا

06/10/2026

د ریاست مدینې په بنیاد د انسانیت لپارہ د عدل د اصولو پېژندنه او معروضی جائزہ
وینا وال: حضرت مولانا مفتی محمد مختار حسن
تاریخ :19؍ ربیع الثانی 1448ھ / 02؍ اکتوبر 2026ء
ځائ: اداره رحيميه علومِ قرآنيه (ټرسټ) لاہور پېښور کيمپس

د رحیمیہ یوټیوب چینل سبسکرایب کړئ، او د تازه معلوماتو او خبرتیاو لپاره فیسبوک پاڼه فالو کړئ.
له خوا: رحیمیہ میډیا

05/10/2026

ایمان کی حقیقت، نفاق کے تاریخی مظاہر ؛ نفاق زدہ ریاستی و معاشی نظام کے تعلیم اور صحت پر تباہ کن اثرات اور حضرت رائے پوری رابع کی رہنمائی
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 19؍ ربیع الثانی 1448ھ / 02؍ اکتوبر 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیتِ قرآنی و حدیثِ نبویﷺ:
"وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ" (2 –البقرہ:8)
ترجمہ : ”اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اللہ پر اور دن قیامت پر اور وہ ہرگز مومن نہیں “ ۔
حدیثِ نبویﷺ:
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْإِيمَانُ مَعْرِفَةٌ بِالْقَلْبِ، وَقَوْلٌ بِاللِّسَانِ، وَعَمَلٌ بِالْأَرْكَانِ۔
ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان دل کی معرفت، زبان سے اقرار اور اعضائے بدن سے عمل کا نام ہے‘‘ (سنن ابن ماجہ: 65)
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
✔️ قرآنی تعلیمات پر صدقِ دل سے ایمان لانا‘ دنیا و آخرت میں کامیابی کا ضامن
✔️ حدیث: الْإِيمَانُ مَعْرِفَةٌ بِالْقَلْبِ (الحدیث) میں ایمان کی حقیقت اور ایمانِ مُفصَّل کی روشنی میں ایمانی تقاضوں کی وضاحت
✔️ آخرت کے دن پر ایمان کے تناظر میں یومِ آخرت (عقیم) کی حقیقت و معنویت اور وجہ تسمیہ
✔️ یومِ حشر: تمام انسانوں کے ہر ہر لمحے کے اعمال کا ٹھیک ٹھیک حساب و کتاب کا دن
✔️ کائنات کی تقدیرِ خیر و شرّ (نظام) کی حقیقت اور اس پر ایمان لانے سے مقصود‘ معرفتِ باری تعالیٰ
✔️ اظہار ما فی الضمیر کے مطابق معرفتِ خداوندی کا زبان سے اقرار (قَوْلٌ بِاللِّسَانِ)
✔️ الہی احکامات اور نبوی ہدایات پر ایمانی تقاضے کے مطابق عمل کرنا (عَمَلٌ بِالْأَرْكَانِ)
✔️ سورة البقرہ کی ابتدائی آیات میں دو جماعتوں کا ذکر، ایمان لانے والوں کی تعریف اور اگلی دو آیتوں میں ایمان کی ضد کفر کی حقیقت پھر اگلی تیرہ آیات میں تیسرے گروہ منافقین کی تفصیلی وضاحت
✔️ مکی دور اور غزوہ بدر سے قبل مدنی دور میں پکے مومن اور کافر موجود تھے مگر منافق نہیں تھے
✔️ یہود کے بڑے عالم حضرت عبداللہ بن سلامؓ کے ایمان لانے پر یہود کی متعصبانہ روش کی وضاحت
✔️ مدینہ منورہ کی تاریخ اور سماجی و ریاستی ساخت کی روشنی میں منافقت کے بارے میں آیاتِ قرآنی کی تشریح
✔️ مدینہ کی قومی طاقت؛ اوس و خزرج پر یہودیوں کے علمی و تجارتی رعب کی حقیقت اور ان دونوں قبائل میں دعوتِ اسلام کے پھیلاؤ کا اصل سبب
✔️ بدر کے بعد مدینہ کا منظر نامہ یکسر تبدیل‘ میثاقِ مدینہ، ایمانی جماعت کا رعب و دبدبہ اور ریاستِ مدینہ کی ظاہری سیادت و قیادت نبی اکرمؐ کے سپرد
✔️ یہود کی ریشہ دوانیاں؛ شکوک و شبہات پیدا کرکے مسلمانوں کو اسلام سے ہٹانا یا نفاق کے مرض میں مبتلا کرنا
✔️ خطبے میں تلاوت کی گئی آیت کا معنی و مفہوم: بظاہر ایمان لانے کا دعویٰ لیکن دھوکہ دہی کا عمل
✔️ اوس و خزرج کے سچے ایمان والوں اور یہود سے ذاتی و کاروبای فوائد اٹھانے کے حصول کے لیے منافقین بظاہر ایمان لائے
✔️ حدیث کی روشنی میں نفاق کی دو قسموں؛ ۱) نفاقِ اعتقادی، ۲) نفاقِ عملی کی حقیقت اور انجامِ کار
✔️ نفاقِ عملی کی چار علامات؛ کذب بیانی، خیانت، معاہدہ شکنی اور قانون شکنی
✔️ ان آیات میں منافقین کی ریاستِ مدینہ، جماعتِ صحابہؓ اور نبی اکرمﷺ سے نفاق کی حقیقت، اثرات اور نتائج کا مکمل تجزیہ
✔️ خطبے کی مرکزی آیت کی روشنی میں سرمایہ دارانہ غلبے کے پچھلے تین سو سالوں میں بین الاقوامی منافقت کا غلبہ، جوع الارض اور فساد فی الارض کا سامراجی کردار اور اس کے ایشیائی اقوام پر اثرات اور عصری جائزہ
✔️ برعظیم پاک و ہند کے دورِ زوال میں منافقانہ روش کا افراد سے بڑھ کر جماعتوں، ریاستوں اور نظاموں کے اندر سرایت کر جانے کا عبرت ناک جائزہ
✔️ دارالسلام کا حقیقی مفہوم اور دارالاسلام کے دارالمنافقت بن جانے کے عمل کا جائزہ نیز امام شاہ ولی اللہ دہلوی کے نزدیک ریاست کا ایک شخصی وجود
✔️ پچھلے سوسال میں سامراجی جماعتوں سے معرضِ وجود میں آنے والی بظاہر اسلامی ریاستوں میں نفاقِ عملی کی چار علامات اور بنیادی ریاستی حقوق‘ تعلیم و صحت کی پامالی اور ملکی وسائل کی لوٹ کھسوٹ کے منافقانہ رویوں کی اساس پر دارالاسلام کے بیانیے کا جائزہ
✔️ حضرت مولانا شاہ سعید احمد رائے پوریؒ کے خطابات و دروس میں عمومی طور پر نفاق والی آیات پر گفتگو کی بنیادی وجہ اور پیغامِ فکر و عمل
✔️ رسول اللہﷺ کا منافق جماعتوں کو سخت سزا دینے کا عمل نیز تما م صحابہ کرامؓ‘ رسول اللہ کی زندگی میں ہی نفاق سے مکمل طور پاک تھے
✔️ منافقانہ سماج، جماعتیں اور ریاستوں کی پہچان پیدا کرنا‘ آج کے دور کا تقاضا

بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔

منجانب: رحیمیہ میڈیا

30/09/2026

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُروسِ حکمت

درس : 35
(دوسرا مقالہ: مبحثِ اول، فصل؛ 5، 6)
آیاتِ الٰہیہ کا آفاقی نظام: معانی، اثرات و اقسام اور ایمان بالقدر کی حقیقت، حکمت اور حصولِ تقربِ الٰہی کے ذرائع
مُدرِّس : ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة
بتاریخ : 24؍ اپریل 2024ء /15؍ شوال المکرم 1445ھ
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
✔️ دوسرے مقالے میں حصولِ قربِ الٰہی کے امور کی وضاحت نیز پچھلی چار فصلوں کا خلاصہ
✔️ فصل پانچ کا عنوان؛ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں (آیات اللہ) کی اہمیت اور ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے قرب کا حصول نیز آیت کا معنی و مفہوم
✔️ قرآنِ حکیم سے ’آیت‘ کے معنی و مفہوم کی مزید وضاحت
✔️ آیاتُ اللہ کا مفہوم، انسانی طبائع اور اَذہان و عقول پر ان کے تین اثرات؛ حیرت، توجہ الی الجبروت اور دلوں میں ذکرِ الہی کی کیفیت کا پیدا ہونا
✔️ آیات اللہ کی تین اقسام (سماویہ، ارضیہ، نَفَسیہ)
✔️ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں پوشیدہ حکمت؛ مقامِ جبروت کی طرف متوجہ ہونا یا آیات کے ملاحظے سے طبیعت میں انقہار کا پیدا ہونا
✔️ آیات اللہ کا ثمرہ و فائدہ: حادثہ پیش آنے پر طبیعتِ انسانی میں‘ تیقُّظ، تحیُّر اور تفکُّر پیدا ہونا‘ جس کے نتیجے میں حالتِ الہی سے تقرُّبِ بارگاہ الہی کا حصول
✔️ آیاتِ الٰہیہ (جیسے سورج گرہن) کے ظہور سے تقربِ الہی کے حصول کے مُنکرین اور جھگڑنے والوں پر شاہ صاحبؒ کا اظہارِ تعجب اور ان کے احمقانہ تصوّر کا دلائل سے ردّ
✔️ اللہ کی نشانیوں میں غور وفکر کرنے کے نتیجے میں طبیعت میں حالتِ الہی پیدا ہونا‘ خوشخبری اور بڑی غنیمت اور اِعراض کی صورت میں ہلاکت و تباہی
✔️ فصل چھ کا عنوان؛ اِثباتِ ایمان بالقدر (حصولِ قربِ الہی کے لیے تقدیر پر ایمان کے ثبوت کے دلائل)
✔️ تقدیر ایک برحق امر ہے، جس پر تمام آسمانی اَدیان، ملتیں اور مذاہب کا اتفاق ہے
✔️ ملت کی تعریف اور اقسام (نجامین، طبیعین اور حنیفیین) کی وضاحت
✔️ دنیا کے تمام مذاہب (مادی و غیر مادی) اور اَدیان‘ تقدیر کو مانتے ہیں
✔️ ’حجة اللہ البالغہ‘ کی عبارت سے ’ایمان بالقدر‘ کی حقیقت، اہمیت و عظمت کی مزید توضیح
✔️ مشرکین اور تمام کافر تقدیر (تدبیرِوحدانی) کے منکر ہیں
✔️ اللہ کا انسانوں کو ان کے ’علمِ نَسَمِی‘ کے مطابق ’تقدیر پر ایمان‘ کی ہدایت کرنا
✔️ ’ برہان و دلیل‘ کے ذریعے ’ایمان بالقدر‘ پر مطمئن ہونے کا پہلو
✔️ تقدیر اور جزا و سزا (قانونِ مجازات) کے درمیان ٹکراؤ ماننے اور اس پر حیرت زدہ ہونے والوں کے فرسودہ تصور کا ردّ
✔️ عالمِ مثال سے شناسائی رکھنے والا‘ تقدیر کی حقیقت سے باخوبی واقف
✔️ وحدتِ رحمٰن کے اندر چھپا راز اور لوحِ محفوظ میں مکمل تقدیر موجود ہے

بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
منجانب: رحیمیہ میڈیا

27/09/2026

ظلم اور جبر کے خلاف تربیت یافتہ خدا پرست جماعت (رِبِّیُّون) کی منظم جدوجہد کا تاریخی تسلسل اور عصری چیلنجز
خطبۂ جمعۃ المبارک
خطاب : حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
بتاریخ : 12؍ ربیع الثانی 1448ھ / 25؍ ستمبر 2026ء
بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
خطبے کی رہنما آیاتِ قرآنی:
وَ كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَ-مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌ-فَمَا وَ هَنُوْا لِمَا اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْا-وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ(146) وَ مَا كَانَ قَوْلَهُمْ اِلَّا اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِیْ اَمْرِنَا وَ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ(147)
(3 –آل عمران:146، 147)
ترجمہ : ” اور بہت نبی ہیں جن کے ساتھ ہو کر لڑے ہیں بہت خدا کے طالب پھر نہ ہارے ہیں کچھ تکلیف پہنچنے سے اللہ کی راہ میں اور نہ سست ہوئے ہیں اور نہ دب گئے ہیں اور اللہ محبت کرتا ہے ثابت قدم رہنے والوں سے۔ اور کچھ نہیں بولے مگر یہی کہا کہ اے رب ہمارے بخش ہمارے گناہ اور جو ہم سے زیادتی ہوئی ہمارے کام میں اور ثابت رکھ قدم ہمارے اور مدد دے ہم کو قوم کفار پر “ ۔
🔸 خطبۂ جمعہ: نکات
1:39 سماجی معاہدات اور قوم کی ترقی کے لیے سچی لیڈر شپ کی ضرورت و اہمیت
4:23 گذشتہ جمعہ کے مضامین کا خلاصہ؛ سابقہ اقوام کے اجتماعی جرائم، غلط قیادت کا تسلط: مہلت کے بعد اللہ کی گرفت
6:56 شدید مخالفت اور اذیت کے باوجود حضرت نوحؑ کی صبر و استقامت کے ساتھ قانون شکن اور گمراہ قوم کی ہدایت کے لیے ساڑھے نو سو سال تک دعوت و تبلیغ
10:58 عاد و ثمود اور قومِ موسیٰؑ پر اترنے والے عذاب کی شکلیں اور بنیادی وجوہات
15:05 ظالم قوموں پر عذاب کی دوشکلیں نیز حضرت موسیٰؑ کے دور میں پہلی بار تربیت یافتہ جماعت نے منظم قوت کے ساتھ فلسطین و بیت المقدس کی آزادی کے لیے قومِ عمالقہ کے خلاف جہاد و قتال کیا
19:08 بنی اسرائیل کی کنعان سے مصر ہجرت کے بعد حضرت یوسفؑ کی قیادت میں ان کی تمدنی اور شہری تربیت کا باقاعدہ آغاز ہوا
22:48 خطبے میں تلاوت کی گئی آیت میں ’رِبِّیُّون‘(دس دس ہزار افراد پر مشتمل منظم اور تربیت یافتہ جماعتیں) اور ظالم طاقتوں کے خلاف ان کے جماعتی کردار کی توضیح و تشریح
25:12 غزوۂ احد کے موقع پر نازل ہونے والی آیتِ مبارکہ (آلِ عمران: 146) کا پسِ منظر
29:43 چار انبیاءؑ کی جدوجہد کا شعوری تسلسل، حضرت موسیٰؑ کی جدوجہد سے خدا پرست جماعت (رِبِّیُّون) کا ظالم و جابر قومِ عمالقہ کے خلاف منظم کردار
35:09 نبوت کا نیا رنگ؛ جماعت کی بنیاد پر قومی اور بین الاقوامی انقلاب برپا کرنے والے دو اولو العزم انبیاءؑ
36:52 ’رِبِّیُّون‘ کا معنی و مفہوم نیز حضرت موسیٰؑ کی قومی جدوجہد سے نبی اکرمؐ تک ظلم اور جبر کے خلاف تربیت یافتہ خدا پرست جماعتوں (رِبِّیُّون) کی منظم جدوجہد کا تاریخی تسلسل
41:01 غزوۂ احد کے موقع پر جماعتِ صحابہؓ کو ’رِبِّیُّون‘ کی اساس پر اجتماعی کردار ادا کرنے کی دعوت
45:37 نبی کی تربیت یافتہ ربیّ جماعت‘ مصائب و مشکلات کے وقت اور دشمن کے آگے وہن (ذہنی شکست) اختیار نہیں کرتی
47:59 مسلمانوں میں ’وَہن‘ سے سامراجی غلبے تک: ذہنی کمزوری، وسائل پر قبضہ اور سامراج کا تسلط نیز ان کے مدمقابل‘ اپنے وسائل کی حفاظت کرنے والے ’رِبِّیُّون‘
51:38 ربّی جماعت کی پہلی خصوصیت: وَہن (ذہنی شکست اور دشمن کا خوف) اختیار نہیں کرتی
54:44 دوسری اور تیسری خصوصیت: ضعف (جسمانی کمزوری) اور استکانت (ٹوٹ کر بکھرنے) سے اجتناب
57:17 ’ضعف‘ اور ’استکانت‘ اختیار نہ کرنے کے تناظر میں حضرت شاہ عبدالرحیم دہلویؒ کی امام شاہ ولی اللہؒ کو کی گئی نصیحت اور مولانا سندھیؒ کے کانگریس کے نام خط کی تفصیلات
1:00:04 ان تین خصوصیات پر جماؤ اختیار کرنے والے ’صابرین‘ سے اللہ محبت کرتا ہے نیز صبر و استقامت کی تین صورتیں
1:03:46 اگلی آیت میں نبوی مشن کی حامل منظم جماعت کی وہن، ضعف اور مسکنت کا مقابلہ کرنے کے لیے توبہ ، ڈسپلن اور استقامت کی دعا
1:07:34 عصری تقاضا اور آیت کی پکار: غلبۂ دینِ محمد ﷺ کے لیے تین صفات کی حامل’ربیّون‘ صفت اجتماعیت کا قیام اور ظلم و جبر کے خلاف منظم قومی کردار ادا کرنے کی ضرورت و اہمیت

بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔
منجانب: رحیمیہ میڈیا

25/09/2026

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُروسِ حکمت

درس : 34
(دوسرا مقالہ: مبحثِ اول، فصل؛ 4)
اللہ تعالیٰ کے الاَسماءُ الحُسنٰی: معنی، مفہوم اور کائنات کی تخلیق و تدبیر میں ان کے کار فرما نظام کا مطالعہ
مُدرِّس : ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة
بتاریخ : 17؍ اپریل 2024ء /08؍ شوال المکرم 1445ھ
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
✔️ دوسرے مقالے کی پہلی تین فصلوں کا خلاصہ اور چوتھی فصل سے ربط و تعلق
✔️ صفاتِ باری تعالی اور الاَسماء الحسنیٰ میں بنیادی فرق کی وضاحت
✔️ الاَسماء الحسنیٰ کی تشریح و توضیح
✔️ ’’هُوَ اللّٰهُ الَّذِيْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ‘‘ اسمِ ذات؛ لفظ اللہ کی شرح
✔️ ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ‘‘ (تخلیقی سرگرمیوں اور فیصلوں کے نفاذ میں اللہ کا کوئی شریک نہیں)
✔️ نظامِ کائنات بنانے اور چلانے میں اللہ کا کوئی شریک نہیں!
✔️ ’’الرحمن الرحیم‘‘ (نظامِ کائنات میں شفقت و مہربانی کے ساتھ تمام مخلوقات کو ہر ہر چیز عطا کرنے والی ذات)
✔️ ’’الملك‘‘ (شہنشاہ مطلق) کی وضاحت
✔️ ’’القُدُّوس‘‘ کا معنی و مفہوم
✔️ ’’السّلام‘‘ کا مطلب
✔️ ’’الُمؤمِن‘‘ ، ’’المُھیمن‘‘ (ہلاکت خیزی، گھبراہٹ اور خوف سے مامون و محفوظ بنانے والی ذات)
✔️ ’’العزیز‘‘، ’’الجبّار‘‘، ’’المُتکبّر‘‘ کا مطلب و مفہوم
✔️ ’’الخالق‘‘، ’’البارئ‘‘، ’’المُصوِّر‘‘ اسماء حسنیٰ کا تعلق دائرۂ تخلیق و تصویر سے ہے
✔️ ’’الغفّار‘‘ ، ’’القھّار‘‘ کی وضاحت
✔️ ’’الوھّاب‘‘، ’’الرّزّاق‘‘، ’’الفتّاح‘‘ (دنیا و آخرت میں ہر خیر و بھلائی کا فیضان و ھبہ کرنے والی ذات)
✔️ ’’العلیم‘‘ (کائنات کے مربوط نظام کا کوئی گوشہ ذات باری تعالیٰ سے مخفی نہیں)
✔️ ’’القابض‘‘، ’’الباسط‘‘، ’’الخافض‘‘ اور ’’الرّافع‘‘، ’’المُعِزّ‘‘، ’’المُذِلّ‘‘ ایک دوسرے کے متضاد اوصاف و اسماء
✔️ ’’السّمیع‘‘ ، ’’البصیر‘‘ کا مطلب و مفہوم
✔️ ’’الحَکَم‘‘ ، ’’العَدَل‘‘ کا معنی
✔️ ’’اللّطیف‘‘ کبھی ’رحیم‘ اور کبھی ’علیم‘ کے معنی کے لیے آتا ہے
✔️ ’’الخبیر‘‘ کی وسعت میں ’علیم‘ سے زیادہ باریک بینی اور مبالغہ ہے
✔️ ’’الحلیم‘‘ (غلطیوں و کوتاہیوں پر درگزر کرنے والا)
✔️ ’’العظیم‘‘ ، ’’الغفور‘‘ ، ’’الشّکور‘‘ کی توضیح و تشریح
✔️ ’’العلیّ‘‘ ، ’’الکبیر‘‘ عظیم القدر کے معنی میں، ’’الحفیظ‘‘ (حافظ)، ’’المُقیت‘‘ (رزّاق)، ’’الحسیب‘‘ (کافی)، ’’الجلیل‘‘ (بزرگ)، ’’الکریم‘‘ (سخی)
✔️ ’’الرّقیب‘‘ (اپنے بندوں کی نگرانی کرنے والا)، ’’المُجیب‘‘ (حاجت روا)، ’’الواسع‘‘
✔️ ’’الحکیم‘‘ (حکمت کی اساس پر نظام کائنات کے افعال سرا نجام دینے والی ذات )، ’’الودود‘‘ (اطاعت گزاروں سے مُحبّین والا معاملہ کرنے والا)
✔️ ’’المَجید‘‘ (شرفِ بزرگی میں بلند تر ذات)، ’’الباعث‘‘ (مرنے کے بعد دوبارہ اٹھانے والا)، ’’الشَّھید‘‘ (حاضر، عالم اور ناظر)
✔️ ’’الحق‘‘ (ثابت اور موجود ذات) ، ’’الوکیل‘‘ (بندوں کے امور کی نگرانی کرنے والا)
✔️ ’’القویّ‘‘ ، ’’المتین‘‘ (ایسا طاقتور جس کے فیصلے کو کوئی ٹالنے والا اور اس کے حکم کو کوئی ردّ کرنے والا نہیں)
✔️ ’’الولیّ‘‘ کبھی ’’الودود‘‘ کے معنی میں اور کبھی ’’الوکیل‘‘ کے معنی کے لیے آتا ہے
✔️ ’’الحمید‘‘ (تمام عیوب اور آفات سے بلند تر ذاتِ قدوس)، ’’المُحصی‘‘ (پوری مخلوقات کے جملہ افعال و اعمال کو محفوظ بنانے والی ذات)
✔️ ’’المُبدئ‘‘ ، ’’المُعید‘‘ اور ’’المُحیی‘‘ ، ’’المُمیت‘‘ (موت و حیات پیدا کرنے والا)
✔️ ’’الحیّ‘‘ (زندہ) ، ’’القیّوم‘‘ (آسمان و زمین کو قائم و دائم رکھنے والا)
✔️ ’’الواجد‘‘ (سخی)، ’’الماجد‘‘ (معزز)، ’’الواحد‘‘ (اکیلا)، ’’الصّمد‘‘ (سردار)، ’’القادر‘‘ ، ’’المُقتَدر‘‘ (ہر شے پر گرفت رکھنے والا)
✔️ ’’المُقدِّم‘‘ ، ’’المُؤخِّر‘‘ ، ’’الاوّل‘‘ ، ’’الآخر‘‘ ، ’’الظّاھر‘‘ ، ’’الباطن‘‘ کا مطلب
✔️ ’’الوالی‘‘ (بادشاہ)، ’’المُتعالی‘‘ (مقدّس)، ’’البرّ‘‘ (بندوں پر احسان کرنے والا)، ’’التّواب‘‘ (ہر رجوع کرنے والے پر رحم کرنے اور اسے قرب عطا کرنے والی ذات)
✔️ ’’المُنتقِم‘‘ (انتقام اور درگرز کرنے والا)، ’’الرّؤف‘‘ (مہربان)، ’’مالک المُلک‘‘ ، ’’ذوالجلال والاکرم‘‘ ، ’’المُقسِط‘‘ (عدل و انصاف کرنے والا)
✔️ ’’الجامع‘‘ (حشر کے دن سب کو اکٹھا کرنے والا)، ’’الغنی‘‘ (آسمانوں و زمین کے خزانوں کا مالک)
✔️ ’’المُغنی‘‘ ، ’’المانع‘‘ ، ’’الضّارّ‘‘ ، ’’النّافع‘‘ کا معنی و مطلب
✔️ ’’النّور‘‘ ، ’’الھادی‘‘ (بندوں کو حق کی ہدایت و رہنمائی کرنے والی ذات)، ’’البدیع‘‘ کے دو معنی
✔️ ’’الباقی‘‘ (ہمیشہ رکھنے والا)، ’’الرّشید‘‘ (اپنے افعال و اوامر میں رشد و حکمت والی ذات) ، ’’الصُّبور‘‘ (بردبار)
✔️ احادیث سے ثابت شدہ تمام اسماء حسنیٰ کا نظامِ کائنات میں جاری افعال و اوامرِ الہی کے تناظر میں جامع تعارف
✔️ انبیاء علیھم السلام کا قائم کردہ نظام‘ اسماء و صفات الہی کا مظہر ہوتا ہے

بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔

منجانب: رحیمیہ میڈیا

25/09/2026

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُروسِ حکمت

درس : 33
(دوسرا مقالہ: مبحثِ اول، فصل؛ 3)
باری تعالیٰ کی صفاتِ سبعہ اور مؤمن کے مطلوبہ تصورات
مُدرِّس : ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری
مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة
بتاریخ : 28؍ فروری 2024ء /17؍ شعبان المعظم 1445ھ
بمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور
۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇
0:00 آغاز درس
0:17 تیسری فصل میں اللہ تعالیٰ کی سات صفات کی شرح و تفصیل کا بیان
1:33 ذاتِ باری تعالیٰ کی صفاتِ کاملہ کا مطالعہ اور شرح سمجھنے کے لیے مؤمن کے مطلوبہ چار تصورات
6:13 ’اللمحات‘ کی عبارت سے صفاتِ باری تعالیٰ کی تفہیم و تشریح کا بنیادی ضابطہ
12:54 اہم علمی بحث؛ مُقیّد جزئی اور ناقص مفہوم کلیّ کے علاوہ نسمہ مکمل طور پر علم کا احاطہ نہیں کر سکتا!
18:18 نسمۂ انسانی کے لیے معرفتِ خداوندی اور اس کی یکتائی کے اظہار کا واحد طریقۂ کار
24:32 ۱) حیات و جماد کی تعریف کی روشنی میں صفت ’’الحیّ‘‘ کی تشریح و توضیح
33:31 ۲) صفت ’’العلیم‘‘ کی شرح
39:25 ۳،۴) صفت ’’السمع و البصر‘‘ کی وضاحت؛ بغیر ذرائع و آلات کے مُبصَرات و مَسموعات کا انکشافِ تامّ
43:30 ۵) صفت ’’الارادة‘‘ کی توضیح و تشریح
44:30 خیال کا پہلا مرحلہ‘ ھاجس اور اس کی تعریف
46:42 خیالات کے مجموعے کا نام‘ عزم و ارادہ نیز ارادۂ الہی کا مطلب و مفہوم
50:23 ’حجة اللہ البالغہ‘ میں ارادۂ مُتجدِّدہ کی بحث کی طرف اشارہ نیز فلاسفہ و معتزلہ کی فرسودہ علمی بحث کا ردّ
55:51 ۶) صفت ’’القدرة‘‘ کی شرح، قادر؛ کام کرنے یا نہ کرنے کا مکمل اختیار اور قدرت کا حصول
1:00:26 ۷) صفت ’’الکلام‘‘ کی (وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ الآیة) کی روشنی میں وضاحت
1:06:23 صفاتِ باری تعالیٰ غایات (نتائج) کے اعتبار سے ثابت ہیں نہ کہ مبادی (آلات و ذرائع) کے پہلو سے
1:06:50 مُتکلِّمین کے ہاں ’’کلامِ نفسی‘‘ کی بحث کا درست مطلب
1:07:57 مقامِ جبروت کی سات صفاتِ ذاتیہ کی نسمۂ انسانی کے تناظر میں شرح و تفصیل اور اگلی فصل میں ’الاسماء الحسنیٰ‘ پر بحث

بروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔

منجانب: رحیمیہ میڈیا

Address

Rahimia House, 33-A, Queens Road
Lahore
54000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rahimia Institute of Quranic Sciences-Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Rahimia Institute of Quranic Sciences-Official:

Shortcuts

Share