Veggie Tales

Veggie Tales Welcome to Little Veggie Tales! 🥕🍅🥦
A fun and educational world where vegetables come to life!

Join Carrot, Tomato, Broccoli, Potato, and their friends on exciting adventures filled with kindness, teamwork, healthy habits, and valuable life lessons.

21/07/2026

08/07/2026

She Loved Him, He Lied

07/07/2026

Patience and Work Create Pure Magic

07/07/2026
26/06/2026

10 محرم عاشورا کا دن جاری ہے...

کربلا کی زمین پر سورج بلند ہو چکا ہے...

اور اب وہ وقت آ پہنچا ہے...

جس کے لیے شبِ عاشور کے سجدے کیے گئے تھے۔

صبح امام حسینؑ نے آخری مرتبہ لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی...

دلائل دیے...

نصیحت کی...

رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اپنے تعلق کا واسطہ دیا...

مگر جب باطل فیصلہ کر لے...

تو دلیلیں بھی بے اثر ہو جاتی ہیں۔

بالآخر جنگ کا آغاز ہو گیا۔

تاریخ بیان کرتی ہے کہ امام حسینؑ کے ساتھی ایک ایک کر کے میدان میں اترنے لگے۔

یہ وہ لوگ تھے...

جنہیں معلوم تھا کہ واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔

مگر پھر بھی ان کے قدم نہیں لرزے۔

مسلم بن عوسجہؓ میدان میں اترے...

شدید زخمی ہوئے...

اور شہادت کے قریب تھے۔

امام حسینؑ ان کے پاس تشریف لائے۔

انہوں نے اپنی آخری سانسوں میں بھی امامؑ کی نصرت کی وصیت کی۔

اس کے بعد حبیب بن مظاہرؓ میدان میں گئے۔

وہ عمر کے آخری حصے میں تھے...

مگر وفاداری جوان تھی۔

وہ لڑتے رہے...

یہاں تک کہ شہادت پا گئے۔

ایک ایک کر کے اصحابِ حسینؑ اپنے خون سے وفا کی داستان لکھتے گئے۔

تاریخ کے مطابق ظہر تک امام حسینؑ کے بیشتر ساتھی شہید ہو چکے تھے۔

مگر امامؑ کے چہرے پر مایوسی نہ تھی۔

کیونکہ آپؑ جانتے تھے...

کہ یہ قربانیاں ضائع نہیں جائیں گی۔

اسی دوران ظہر کا وقت آ گیا۔

میدانِ جنگ میں تلواریں چل رہی تھیں...

تیر برس رہے تھے...

مگر امام حسینؑ نے نماز کو ترک نہ کیا۔

نمازِ خوف ادا کی گئی۔

بعض اصحاب امامؑ کے سامنے ڈھال بن کر کھڑے ہو گئے...

تاکہ تیر امامؑ تک نہ پہنچ سکیں۔

اور اسی حالت میں بعض نے جامِ شہادت نوش کیا۔

یہ منظر دنیا کو بتا رہا تھا...

کہ حسینؑ کے لیے نماز صرف عبادت نہیں...

زندگی کا مقصد تھی۔

پھر اہلِ بیتؑ کی قربانیوں کا مرحلہ شروع ہوا۔

حضرت علی اکبرؑ میدان میں اترے۔

تاریخ بیان کرتی ہے کہ وہ شکل و صورت، گفتار اور کردار میں رسول اللہ ﷺ سے بہت مشابہ تھے۔

جب بھی اہلِ بیتؑ رسول اللہ ﷺ کی یاد تازہ کرنا چاہتے...

علی اکبرؑ کو دیکھ لیتے تھے۔

امام حسینؑ نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی...

اور اپنے جوان بیٹے کو میدان کی طرف روانہ کیا۔

یہ ایک باپ کا امتحان تھا...

جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

حضرت علی اکبرؑ نے بہادری سے جنگ کی...

اور بالآخر شہید ہو گئے۔

روایات میں آتا ہے کہ امام حسینؑ ان کے جسدِ مبارک تک پہنچے...

اور فرمایا:

"دنیا تمہارے بعد ویران ہو گئی۔"

اس کے بعد بنی ہاشم کے دیگر نوجوان میدان میں اترتے رہے۔

ہر شہادت کے ساتھ خیموں میں غم بڑھتا گیا...

مگر صبر بھی بڑھتا گیا۔

ادھر حضرت عباسؑ مسلسل اہلِ بیتؑ اور بچوں کی خدمت میں مصروف تھے۔

خیموں میں پیاس شدت اختیار کر چکی تھی۔

بچے پانی مانگ رہے تھے...

اور فرات اب بھی چند قدم کے فاصلے پر تھا۔

مگر دشمن کی تلواریں راستہ روکے کھڑی تھیں۔

عاشورا کا دن آگے بڑھ رہا تھا...

اور امام حسینؑ ایک ایک لاش کو اپنے ہاتھوں سے اٹھا رہے تھے۔

ایک باپ...

ایک بھائی...

ایک چچا...

ایک امام...

اور ایک قائد...

سب کردار ایک ساتھ نبھا رہے تھے۔

مگر حیرت انگیز بات یہ تھی...

کہ مصائب بڑھتے جا رہے تھے...

اور امام حسینؑ کا صبر بھی بڑھتا جا رہا تھا۔

مؤرخین لکھتے ہیں کہ جتنا وقت گزرتا گیا...

امام حسینؑ کے چہرے پر اتنا ہی زیادہ سکون اور رضا نظر آنے لگی۔

گویا وہ ہر قربانی کو اللہ کی بارگاہ میں پیش کر رہے ہوں۔

عاشورا کے اس حصے سے ہمیں ایک عظیم سبق ملتا ہے:

اصولوں پر قائم رہنے کی قیمت کبھی کبھی بہت بڑی ہوتی ہے...

مگر حق کے راستے پر دی جانے والی کوئی قربانی ضائع نہیں جاتی۔

امام حسینؑ نے دنیا کو سکھایا...

کہ جب مقصد اللہ کی رضا ہو...

تو انسان اپنے سب سے قیمتی رشتے بھی قربان کر دیتا ہے...

مگر حق کا دامن نہیں چھوڑتا۔

آج عاشورا کے دن خود سے ایک سوال پوچھیں:

اگر حق کی حفاظت کے لیے ہمیں اپنی خواہشات...

اپنے مفادات...

اور اپنی آسانیوں کی قربانی دینی پڑ جائے...

تو کیا ہم تیار ہوں گے؟

کربلا ہمیں سکھاتی ہے...

کہ حق کی فتح ہمیشہ تلوار سے نہیں...

قربانی سے ہوتی ہے۔

حوالہ جات:

• تاریخ طبری، جلد 5

• الکامل فی التاریخ، ابن اثیر، جلد 4

• البدایہ والنہایہ، امام ابن کثیر، جلد 8

• سیر اعلام النبلاء، امام ذہبی

• مقتل الحسین، ابو مخنف

• تاریخ الخلفاء، امام سیوطی







25/06/2026

آج 9 محرم الحرام ہے...

9 محرم 61 ہجری...

کربلا میں آج کا دن غیر معمولی تھا...

کیونکہ اب عاشورا صرف ایک دن دور رہ گیا تھا۔

گزشتہ دو دنوں سے پانی بند تھا...

پیاس بڑھ رہی تھی...

محاصرہ سخت ہو چکا تھا...

اور یزیدی لشکر کی تعداد مسلسل بڑھ رہی تھی۔

مگر آج ایک اور بڑی پیش رفت ہوئی۔

عمر بن سعد کو کوفہ سے سخت احکامات موصول ہوئے...

کہ حسینؑ سے فوراً بیعت لی جائے...

اور اگر وہ انکار کریں تو جنگ شروع کر دی جائے۔

اس حکم کے بعد یزیدی لشکر نے امام حسینؑ کے خیموں کی طرف پیش قدمی شروع کی۔

خیموں کے قریب نقل و حرکت بڑھ گئی...

اور ایسا محسوس ہونے لگا کہ جنگ کسی بھی وقت شروع ہو سکتی ہے۔

حضرت عباسؑ نے یہ صورتحال دیکھی...

اور امام حسینؑ کو اطلاع دی۔

امام حسینؑ نے فرمایا کہ دشمن سے پوچھو...

وہ کیا چاہتے ہیں؟

جب صورتحال واضح ہوئی تو امام حسینؑ نے ایک رات کی مہلت طلب کی۔

آپؑ نے فرمایا:

ہم اس رات اپنے رب کی عبادت کرنا چاہتے ہیں...

نماز پڑھنا چاہتے ہیں...

قرآن کی تلاوت کرنا چاہتے ہیں...

اور اللہ سے دعا کرنا چاہتے ہیں۔

بالآخر امام حسینؑ کو ایک رات کی مہلت دے دی گئی۔

یہ وہ رات تھی...

جو تاریخ میں "شبِ عاشور" کے نام سے مشہور ہوئی۔

9 محرم کے دن کی چند اہم حقیقتیں:

• عمر بن سعد کو جنگ شروع کرنے کے لیے مزید سخت احکامات موصول ہوئے۔

• یزیدی لشکر نے امام حسینؑ کے خیموں کی جانب پیش قدمی کی۔

• امام حسینؑ نے جنگ کو ایک دن مؤخر کرنے کی درخواست کی۔

• امامؑ نے عبادت، دعا اور قرآن کی تلاوت کے لیے ایک رات کی مہلت حاصل کی۔

• اصحابِ حسینؑ نے اپنی وفاداری کا اعلان کیا اور امامؑ کا ساتھ نہ چھوڑنے کا عہد دہرایا۔

اس رات امام حسینؑ نے اپنے ساتھیوں کو جمع کیا...

اور فرمایا کہ دشمن صرف مجھے چاہتا ہے...

جو جانا چاہے چلا جائے...

میں اپنی بیعت اٹھا لیتا ہوں۔

مگر تاریخ گواہ ہے...

کہ کسی نے ساتھ چھوڑنے کا فیصلہ نہیں کیا۔

ہر ایک نے وفاداری کا اعلان کیا...

اور حق کے ساتھ کھڑے رہنے کا عہد دہرایا۔

کربلا میں آج تلواریں خاموش تھیں...

مگر دلوں کے فیصلے ہو چکے تھے۔

ایک طرف دنیاوی طاقت تھی...

دوسری طرف ایمان کی طاقت۔

ایک طرف ہزاروں کا لشکر تھا...

دوسری طرف چند درجن ایسے لوگ...

جو حق کے لیے اپنی جان قربان کرنے کو تیار تھے۔

9 محرم ہمیں یہ سبق دیتا ہے:

ایمان کی اصل پہچان آسان وقت میں نہیں...

مشکل وقت میں ہوتی ہے۔

وفاداری کا امتحان خوشحالی میں نہیں...

قربانی کے وقت ہوتا ہے۔

اور جو لوگ حق کو پہچان لیتے ہیں...

وہ نتائج نہیں...

اصول دیکھتے ہیں۔

آج 9 محرم کو خود سے ایک سوال پوچھیں:

اگر حق کا ساتھ دینے کی قیمت ہمیں اپنی آسائشوں...

اپنے مفادات...

یا اپنی جان سے ادا کرنی پڑے...

تو کیا ہم پھر بھی حق کا انتخاب کریں گے؟

کربلا ہمیں سکھاتی ہے...

کہ سچائی کی حفاظت کبھی کبھی قربانی مانگتی ہے...

مگر یہی قربانی تاریخ کا رخ بدل دیتی ہے۔

حوالہ جات:

• تاریخ طبری، جلد 5

• الکامل فی التاریخ، ابن اثیر، جلد 4

• البدایہ والنہایہ، امام ابن کثیر، جلد 8

• اخبار الطوال، دینوری

• مقتل الحسین، ابو مخنف





24/06/2026

آج 8 محرم الحرام ہے...

8 محرم 61 ہجری...

کربلا میں آج پیاس کا تیسرا دن تھا...

فرات کا پانی بند کیے ہوئے ایک دن گزر چکا تھا...

اور اب اس فیصلے کے اثرات خیموں کے اندر واضح محسوس ہونے لگے تھے۔

ننھے بچے پانی مانگتے تھے...

مائیں انہیں تسلی دیتی تھیں...

مگر خیموں میں پانی کے مشکیزے تقریباً خالی ہو چکے تھے۔

ادھر یزیدی لشکر کی تعداد مسلسل بڑھ رہی تھی۔

کوفہ سے مزید دستے کربلا پہنچ رہے تھے...

اور امام حسینؑ کے گرد محاصرہ پہلے سے زیادہ سخت کیا جا رہا تھا۔

اب صورتحال یہ تھی کہ کربلا کی سرزمین پر آنے اور جانے والے راستوں پر بھی کڑی نگرانی رکھی جا رہی تھی۔

امام حسینؑ کے حامیوں کو آپؑ تک پہنچنے سے روکا جا رہا تھا...

تاکہ حق کی آواز مزید تنہا ہو جائے۔

اسی دوران امام حسینؑ اپنے ساتھیوں اور اہلِ بیتؑ کو مسلسل صبر، استقامت اور اللہ پر توکل کی تلقین فرما رہے تھے۔

آپؑ جانتے تھے کہ آزمائش اپنے عروج کی طرف بڑھ رہی ہے...

مگر آپؑ کے لہجے میں اضطراب نہیں...

بلکہ یقین اور سکون تھا۔

8 محرم کے دن کی چند اہم حقیقتیں:

• فرات کا محاصرہ بدستور جاری رہا اور پانی تک رسائی ممکن نہ بن سکی۔

• خیموں میں پانی کی شدید قلت محسوس ہونے لگی۔

• یزیدی لشکر کی تعداد میں مزید اضافہ ہوا۔

• امام حسینؑ کے حامیوں کے لیے کربلا پہنچنا مزید مشکل بنا دیا گیا۔

• عاشورا کے قریب آنے کے ساتھ ساتھ دونوں جانب حالات زیادہ واضح ہوتے گئے۔

کربلا میں آج بھی تلواریں نہیں چلیں...

مگر ظلم کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا تھا۔

ایک طرف طاقت تھی...

دوسری طرف اصول۔

ایک طرف ہزاروں کا لشکر تھا...

دوسری طرف چند درجن وفادار جانثار۔

مگر تاریخ نے بعد میں ثابت کیا...

کہ فتح ہمیشہ تعداد کی نہیں...

سچائی کی ہوتی ہے۔

8 محرم ہمیں یہ سبق دیتا ہے:

مشکلات جب بڑھنے لگیں...

وسائل کم ہونے لگیں...

اور لوگ ساتھ چھوڑنے لگیں...

تب انسان کے اصل کردار کا امتحان شروع ہوتا ہے۔

امام حسینؑ اور ان کے ساتھیوں نے دنیا کو دکھا دیا...

کہ حق پر قائم رہنے کے لیے صرف طاقت نہیں...

یقین کی ضرورت ہوتی ہے۔

آج 8 محرم کو خود سے ایک سوال پوچھیں:

اگر زندگی میں حالات ہمارے خلاف ہو جائیں...

وسائل ختم ہو جائیں...

اور مددگار کم رہ جائیں...

تو کیا ہمارا اللہ پر یقین باقی رہے گا؟

کربلا ہمیں سکھاتی ہے...

کہ امید حالات سے نہیں...

اللہ سے وابستہ ہوتی ہے۔

حوالہ جات:

• تاریخ طبری، جلد 5

• الکامل فی التاریخ، ابن اثیر، جلد 4

• البدایہ والنہایہ، امام ابن کثیر، جلد 8

• مقتل الحسین، ابو مخنف

• الارشاد، شیخ مفید





Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Veggie Tales posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Veggie Tales:

Shortcuts

Share