Punjab University Confessions

Punjab University Confessions Students confessions of Punjab University Lahore

14/05/2026

“After a difficulty, Allah will soon grant relief.”

— Al Qur’an [65:7]
Jumma Mubarak

جامعہ پنجاب کی فضاؤں میں عید الاضحیٰ کی آمد کی دستک ہوتے ہی ایک عجیب سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ کوریڈورز جو قہقہوں سے ...
14/05/2026

جامعہ پنجاب کی فضاؤں میں عید الاضحیٰ کی آمد کی دستک ہوتے ہی ایک عجیب سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ کوریڈورز جو قہقہوں سے گونجتے تھے، اور وہ لان جہاں علم و دانش کی محفلیں سجتی تھیں، اچانک ایک خاموش اداسی کی چادر اوڑھ لیتے ہیں۔
جامعہ پنجاب: مسافروں کی واپسی اور اداس راہیں
جامعہ پنجاب محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں، بلکہ ایک چھوٹا سا شہر ہے جو پورے پاکستان سے آئے ہوئے "علم کے مسافروں" سے آباد رہتا ہے۔ یہاں کی اصل رونق عمارتوں کی سفیدی میں نہیں، بلکہ ان قدموں کی چاپ میں ہے جو علی الصبح ہاسٹلز سے لائبریریوں اور ڈیپارٹمنٹس کی طرف بڑھتے ہیں۔
رونقوں کا رختِ سفر
جیسے ہی عید کی چھٹیوں کا اعلان ہوتا ہے، ہاسٹلز کے کمروں کو تالے لگنے لگتے ہیں۔ کوئی بائیک پر اپنا سامان باندھ رہا ہوتا ہے تو کوئی بس ٹرمینل کی طرف بھاگ رہا ہوتا ہے۔ وہ طالب علم جن کے دم قدم سے کشمیر روڈ اور کپڑے والی مارکیٹ میں میلے کا سماں ہوتا تھا، اپنے گھروں کی ممتا اور عید کی خوشیوں کی کھنچاوٹ میں پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتے۔
ویرانی کا حسن اور دکھ
ان مسافروں کے جاتے ہی جامعہ کا رنگ بدل جاتا ہے:
خاموشی کا راج: فیکلٹی آف آرٹس کے لان اور کینٹین کی کرسیاں اکیلی رہ جاتی ہیں۔
شجر و حجر کا انتظار: وہ گھنے درخت، جن کے سائے تلے بیٹھ کر مستقبل کے خواب بنے جاتے تھے، اب صرف ہواؤں سے سرگوشیاں کرتے ہیں۔
ویران راہیں: جامعہ کی خوبصورتی ان دیواروں میں نہیں، ان نوجوانوں کے چہروں میں ہے جو اسے زندگی بخشتے ہیں۔ جب یہ "زندہ رنگ" اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں، تو جامعہ کسی ایسی کتاب کی طرح لگتی ہے جس کا سرورق تو موجود ہو مگر صفحات خالی ہوں۔
ایک عارضی جدائی
عید کے یہ چند دن جامعہ کے در و دیوار کے لیے ایک کڑا امتحان ہوتے ہیں۔ لیکن یہ ویرانی اس بات کا اعتراف ہے کہ جامعہ کی اصل شناخت اس کے مسافر ہی ہیں۔ یہ مسافر جب عید کی خوشیاں سمیٹ کر واپس آئیں گے، تو جامعہ کا چہرہ ایک بار پھر تمتما اٹھے گا اور اس کی ویرانی دوبارہ زندگی کے شور میں بدل جائے گی۔
سچ تو یہ ہے کہ جامعہ کی اینٹوں میں نہیں، ان مسافروں کے جذبوں میں وہ جادو ہے جو اسے پنجاب کی سب سے خوبصورت درسگاہ بناتا ہے۔

جامعہ پنجاب ❤️

13/05/2026

فَاذْكُرُونِي أَذْكُرُكُمْ❤️
پس تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد کروں گا❤️

*"ایس ٹی سی ہال: وہ دریچہ جہاں خواب لفظ بن کر اُڑان بھرتے ہیں"* *اے شاپنگ سنٹر کے پہلو میں ایستادہ ایس ٹی سی ہال!*  *اے ...
13/05/2026

*"ایس ٹی سی ہال: وہ دریچہ جہاں خواب لفظ بن کر اُڑان بھرتے ہیں"*

*اے شاپنگ سنٹر کے پہلو میں ایستادہ ایس ٹی سی ہال!*
*اے پنجاب یونیورسٹی کے سینے میں دھڑکتے خیال کے مسکن!*
تُو فقط ہال نہیں، تُو تو وہ کارگہ ہے جہاں خاموش ہونٹوں کو گفتار ملتی ہے، اور لرزتے ہاتھوں کو قلم کی شمشیر عطا ہوتی ہے۔

یہ وہ مقام ہے جہاں استاد کی بصیرت اور شاگرد کی بصارت ہم آغوش ہوتی ہیں۔ جہاں کرسیاں فقط بیٹھنے کے لیے نہیں، یہ تو وہ منبر ہیں جہاں سے نئی صدی کے خطیب جنم لیتے ہیں۔ تیرے مائیک سے نکلنے والی آواز فقط گونج نہیں، یہ وہ للکار ہے جو سوئے ہوئے ضمیروں کو بیدار کر دیتی ہے۔

*اے مکالمے کے محراب!*
تیرے در و دیوار نے کتنے ہی لکنت زدہ لہجوں کو فصاحت بخشی۔ تیرے اسٹیج کی تمکنت نے کتنے ہی کانپتے قدموں کو استقامت دی۔ یہاں تقریری مقابلہ فقط مقابلہ نہیں ہوتا، یہ تو خودی کی تعمیر کا پہلا زینہ ہوتا ہے۔ یہاں بحث و مباحثہ فقط جیت ہار نہیں، یہ تو فکر کی آبیاری ہے۔

یاد ہے وہ شامیں جب شاپنگ سنٹر کی رونق ماند پڑ جاتی، اور تیرے اندر چراغاں ہوتا؟ پاکستان بھر سے آئے ہوئے عظیم اساتذہ اور طلباء یہاں ٹھہرائے جاتے۔جب چائے کے کپ اور کتابوں کے گٹھے ایک میز پر رکھے جاتے، اور پھر لفظوں کی جنگ چھڑ جاتی۔ کوئی اقبال کو آواز دیتا، کوئی فیض کو پکارتا، کوئی جوش سے گرجتا اور دیواریں تالیاں بجا کر داد دیتیں۔ یہ داد تاریخ کے سینے میں انمٹ نقوش چھوڑتی ۔

*اے تربیت گاہِ سخن!*
تُو نے کتنے ہی گم نام طالب علموں کو صاحبِ طرز مقرر بنایا۔ تُو نے کتنے ہی دہقانی لہجوں کو ایوانوں میں گونجنے کے قابل بنایا۔ تیرے سائے میں پلنے والے آج پارلیمان میں بولتے ہیں، عدالتوں میں گرجتے ہیں، اور ٹی وی سکرینوں پر دلیل کے چراغ جلاتے ہیں۔

یہاں استاد فقط پڑھاتا نہیں، وہ سنتا بھی ہے۔ یہاں شاگرد فقط سنتا نہیں، وہ بولتا بھی ہے۔ یہ وہ واحد کمرہ ہے جہاں استاد اور شاگرد کا فرق مٹ جاتا ہے، اور رہ جاتی ہے فقط... سوچ کی ندرت ،خیال کی حرمت۔

جب کوئی نووارد پہلی بار تیرے دروازے سے داخل ہوتا ہے، تو اس کی آنکھ میں خوف ہوتا ہے اور ہاتھ میں پرچی۔ مگر جب وہ باہر نکلتا ہے، تو اس کی آنکھ میں عقابی چمک ہوتی ہے اور لہجے میں گھن گرج۔ تُو نے اسے کیا سے کیا بنا دیا... قطرے سے قلزم بنا دیا۔

*اے ایس ٹی سی ہال!*
*تُو ہال نہیں، تُو تو پنجاب یونیورسٹی کا حجرہ ہے۔*
*تُو نے ہمیں الفاظ دیے، ہمیں آواز دی، ہمیں حوصلہ دیا۔*
*تیرے بغیر یونیورسٹی کی ڈگری گونگی ہے، اور تعلیم ادھوری۔*

اور جب ہم زندگی کے بڑے ایوانوں میں کھڑے ہوتے ہیں، مائیک ہمارے سامنے ہوتا ہے اور ہزار آنکھیں ہم پر جمی ہوتی ہیں، تب ہم نہیں گھبراتے۔ کیوں کہ ہمیں یاد ہوتا ہے کہ ہم نے بولنا کہاں سیکھا تھا...
*ہاں، اسی شاپنگ سنٹر کے پہلو میں، اسی ایس ٹی سی ہال میں۔*

*سو اے سخن کے مدرسے!*
*سلام تیرے اسٹیج پر۔*
*سلام تیری کرسیوں پر۔*
*سلام اس پہلی تالی پر جو کسی سہمے ہوئے طالب علم کے لیے بجائی گئی تھی۔*

*تُو رہے گا... جب تک ایک بھی ذہن سوال اٹھانے کی جرأت رکھتا ہے۔*
*تُو امر ہے... کیوں کہ تُو فقط ہال نہیں، تُو تو فکر کی آزادی کا استعارہ ہے۔*

*اور ہم... ہم تیرے مقرر، تیرے مقروض ہیں۔*
*آخری تقریر تک۔ آخری سانس تک۔*

🖊️ Riaz Afaq

“Put your trust in Allah if you are believers.”— Al Qur’aan [5:23] ❤️
12/05/2026

“Put your trust in Allah if you are believers.”

— Al Qur’aan [5:23] ❤️

*پنجاب یونیورسٹی لاہور مین کیفےٹیریا*  *کچھ چائے کی پیالیاں... کچھ عمر کی کہانیاں* *تحریر* ریاض آفاق پنجاب یونیورسٹی کا ...
10/05/2026

*پنجاب یونیورسٹی لاہور مین کیفےٹیریا*
*کچھ چائے کی پیالیاں... کچھ عمر کی کہانیاں*
*تحریر* ریاض آفاق
پنجاب یونیورسٹی کا مین کیفےٹیریا... یہ فقط اینٹ اور سیمنٹ کا احاطہ نہیں، یہ خوابوں کی آماج گاہ ہے۔ یہاں دیواروں پر لگی گھڑی وقت نہیں بتاتی، یہ وقت کو قید کر لیتی ہے۔ یہاں کرسیاں تھکن اتارنے کے لیے نہیں، زندگی بانٹنے کے لیے رکھی گئی ہیں۔

یاد ہے وہ پہلا دن؟
جب نئے نئے داخل ہوئے تھے۔ ہاتھ میں فائلیں، آنکھوں میں خوف، دل میں سوال۔ اور پھر کسی سینئر نے مسکرا کر کہا تھا: "آ جا یار، چائے پی۔ یہاں سب سے پہلے چائے پلائی جاتی ہے، ڈر بعد میں نکلتا ہے۔" بس وہ پہلی چائے... وہ پہلا گھونٹ، اجنبیت کو آشنا کر گیا۔

یہ کیفےٹیریا... یہ ہماری پارلیمنٹ تھا۔
یہاں بغیر ووٹ کے لیڈر منتخب ہوتے تھے۔ وہی جو سب کی چائے کا بل دے دے۔ یہاں بغیر وزارت کے وزیرِ خزانہ بنتے تھے۔ وہی جس کی جیب میں آخری دس کا نوٹ ہو اور وہ بھی یاروں پر قربان کر دے۔ یہاں قراردادِ مقاصد پاس ہوتی تھیں: "کل سے پڑھائی شروع"، اور اگلے دن ہی کالعدم قرار دے دی جاتی۔

یہاں کی چائے... اے خدا!
یہ چائے نہیں تھی، یہ مرہم تھی۔
امتحان سے پہلی رات کی نیند اڑانے والی چائے۔
محبت میں ناکامی کے بعد ہمدردی سے پلائی جانے والی چائے۔
اسائنمنٹ جمع کرانے کے بعد جشن والی چائے۔
اور گھر سے پیسے دیر سے آنے پر "ادھار" والی چائے۔
ہر گھونٹ کے ساتھ ایک نیا قصہ جنم لیتا تھا۔

اور وہ سموسے... وہ پکوڑے... وہ بن کباب...
فائیو سٹار ہوٹل کے مینیو بھی اس ذائقے کے سامنے ہیچ تھے۔ کیونکہ ان میں گھی نہیں، خلوص تلا ہوا تھا۔ ان پر چٹنی نہیں، دوستی لگی ہوئی تھی۔ یہاں "بھوک" نہیں لگتی تھی، "یاری" لگتی تھی۔ اس لیے کھانا پیٹ میں نہیں، دل میں اترتا تھا۔

کیفےٹیریا کے کونے... ہر کونا ایک ریاست تھا۔
وہ کھڑکی والی میز... جہاں عاشق بیٹھتے تھے۔ کتاب کھلی ہوتی، نظریں دور لان میں چلتی کسی چادر پر جمی ہوتیں۔
وہ درمیان والی بڑی میز... جہاں سیاست دان بیٹھتے۔ ہاتھ میں اخبار، زبان پر تبصرہ، اور دل میں وزیرِ اعظم بننے کا خواب۔
وہ کاؤنٹر کے پاس والے اسٹول... جہاں تنہا لوگ بیٹھتے۔ چائے کا کپ اور سگریٹ کی ڈبیا... اور ہزار ان کہی باتیں۔

یہاں استاد اور شاگرد کا حجاب گر جاتا تھا۔
ڈاکٹر صاحب خود آ کر کہتے: "پُترو، کیہڑے نوٹ چل رہے نیں؟" اور ہم ان سے نمبر بڑھوانے کی عرضی چائے کی پیالی میں ڈبو کر پیش کر دیتے۔ یہاں ڈگریوں کا غرور چائے کی بھاپ میں اڑ جاتا تھا۔

پھر وہ شامیں... جب سورج کیمپس کی پرانی عمارتوں کے پیچھے چھپ جاتا اور کیفےٹیریا کے بلب جل اٹھتے۔ تب لگتا جیسے یہ کیفے نہیں، کسی جہاز کا عرشہ ہے اور ہم سب مسافر ہیں۔ منزل کی فکر نہیں، سفر کا نشہ ہے۔

اور پھر... الوداع کا موسم آیا۔
آخری چائے۔ آخری سموسہ۔ آخری قہقہہ۔
کینٹین والے چاچے نے بل لیتے ہوئے ہاتھ کپکپاتے ہوئے کہا: "پُتر، کامیاب ہو کے مڑ کے آنویں۔ تیری چائے ادھار رہ گئی اے۔"
اس دن پتا چلا کہ حساب کتاب صرف پیسوں کا نہیں ہوتا، محبتوں کا بھی ہوتا ہے۔

آج برسوں بعد...
بڑی بڑی کانفرنسوں میں، مہنگی کافی پیتے ہوئے، جب بل ہزاروں میں آتا ہے تو دل سے آواز آتی ہے:
"کاش وہ پچاس روپے والی چائے مل جائے۔"
"کاش وہ یار مل جائیں جو کہتے تھے: رہنے دے یار، آج بل میں دوں گا۔"

کیونکہ پنجاب یونیورسٹی کا مین کیفےٹیریا، کیفے نہیں تھا...
*وہ ہماری ماں کی گود تھا۔*
*وہ ہماری جوانی کا مزار تھا۔*
*وہ ہماری بھوک کا نہیں، یاری کا لنگر تھا۔*

جو وہاں بیٹھا نہیں، وہ یونیورسٹی سے پڑھ کر تو گیا،
مگر *جی کر نہیں گیا۔*

کیونکہ لیکچر ہمیں ڈگری دیتے تھے...
*مگر زندگی... زندگی کیفےٹیریا سکھاتا تھا۔*

*پنجاب یونیورسٹی لاہور... نیو کیمپس میں گزرے ماہ و سال* *تحریر*ریاض آفاق *یہ فقط اینٹ گارے کی عمارتیں نہیں تھیں، یہ میری...
09/05/2026

*پنجاب یونیورسٹی لاہور... نیو کیمپس میں گزرے ماہ و سال*
*تحریر*ریاض آفاق

*یہ فقط اینٹ گارے کی عمارتیں نہیں تھیں، یہ میری عمر کی سب سے حسین فصل تھی۔*
*نیو کیمپس... فقط نام نہیں، وہ میرے وجود کا پتا تھا۔*

*جب پہلی بار کینال روڈ سے داخل ہوا، تو شجر سایہ فگن تھے جیسے ماں کی دعائیں۔*
*سڑکیں خاموش تھیں، مگر ہر موڑ پر زندگی بولتی تھی۔*
*ہاسٹل کا کمرہ... چار دیواری نہیں، چار یاروں کی جنت تھا۔*
*رات کے دو بجے چائے کے کپ پر جو فلسفے گھڑے، وہ ارسطو بھی نہ گھڑ سکا۔*

*آئی ای آر کے لان میں بیٹھ کر جو خواب بنے، وہ آج بھی آنکھوں میں زندہ ہیں۔*
*مین لائبریری کی بنچوں، کرسیوں اور سیڑھیوں پر جو کتابیں رٹیں، وہ توقع کے مطابق نمبر تو نہ دے سکیں، مگر نظر دے گئیں۔*
*فیصل آڈیٹوریم کی تالیاں... وہ حوصلہ تھیں، وہ اعلان تھیں کہ "تو کر سکتا ہے"۔*

*یاد ہے وہ بارش؟*
*جب سارا کیمپس دھل کر نکھر گیا تھا، اور ہم لڑکے ننگے پاؤں بھاگے تھے۔*
*تب پتا چلا: ڈگریاں کاغذ پر ملتی ہیں، زندگی مٹی پر۔*
*وہ لڑکی جس نے بس اسٹاپ پر پہلی بار مسکرا کر دیکھا تھا...*
*اس کی مسکان اب بھی نیو کیمپس کی نہر والی چکنی سڑک پر کندہ ہے۔*
*ہم مل نہ سکے، مگر وہ لمحہ،وہ عکس امر ہو گیا۔*
*نیو کیمپس کی خاموشیاں ،بچھڑتے لمحوں کی اداسیاں ، ندی کنارے پہ جدا ہونا۔۔۔ سب امر ہو گیا۔*
*امتحان کی راتیں... خوف اور دعا کا عجیب امتزاج۔*
*دیواروں نے سنی تھیں وہ سسکیاں جو گھر فون پر چھپا لی تھیں۔*
*میس کا کھانا، احتجاج، پھر وہی کھانا... کیونکہ جیب اجازت نہ دیتی تھی۔*
*مگر اسی میس کی دال میں جو اپنائیت تھی، وہ فائیو اسٹار میں کہاں؟*

*پھر ایک دن... الوداع کا بینر لگا۔*
*سب نے تصویریں بنائیں، مگر کوئی مسکرا نہ سکا۔*
*گیٹ سے نکلتے ہوئے پلٹ کر دیکھا، تو درخت روتے لگے۔*
*سڑکیں پکارتی لگیں: "رُک جا، ابھی تو تجھے جینا سکھایا ہے"۔*

*آج برسوں بعد...*
*جب کینال کے پانی میں اپنا عکس دیکھتا ہوں، تو ایک لڑکا نظر آتا ہے۔*
*ہاتھ میں کتاب، آنکھ میں خواب، دل میں دنیا۔*
*وہ لڑکا میں ہی تھا... نیو کیمپس نے تراشا تھا۔*

*اے پنجاب یونیورسٹی!*
*تُو نے صرف ڈگری نہیں دی، تُو نے مجھے "میں" دیا۔*
*تُو نے بتایا کہ ناکامی کے بعد اٹھنا کیا ہوتا ہے۔*
*تُو نے سکھایا کہ دوست بھائی ہوتے ہیں، اور استاد روحانی باپ۔*

*سنو لوگو!*
*جو نیو کیمپس میں جیا نہیں، وہ ادھورا جیا ہے۔*
*کیونکہ وہاں کی ہوا میں علم ہے، مٹی میں تہذیب ہے، اور شاموں میں انقلاب ہے۔*

*وہ ماہ و سال گزر گئے...*
*مگر دل کے ہاسٹل میں آج بھی وہی کمرہ الاٹ ہے۔*
*کھڑکی سے آج بھی لان نظر آتا ہے۔*
*اور وہاں آج بھی ایک لڑکا بیٹھا ہے... خواب بن رہا ہے۔*

*یہی ہے میرا نیو کیمپس... میری پہلی محبت، میرا آخری نوحہ۔*

08/05/2026

للّهُـمَّ أَعِـنِّي عَلـى ذِكْـرِكَ وَشُكْـرِك ، وَحُسْـنِ عِبـادَتِـك

Allāhumma ‘a`innī `alā dhikrika, wa shukrika, wa ḥusni `ibādatik.

“O Allah, help me to remember You, to give You thanks, and to perform Your worship in the best manner.”
Jumma Mubarak 🩷🤲

اے حرفِ تسلی تیرے مشکور ہیں لیکنیہ "خیر ہے" کہنے سے بہت آگے کا دُکھ ہےPunjab University ❣️
07/05/2026

اے حرفِ تسلی تیرے مشکور ہیں لیکن
یہ "خیر ہے" کہنے سے بہت آگے کا دُکھ ہے

Punjab University ❣️

06/05/2026

“And We shall make things easy for you.”

— Al Qur’an [87:8]

Address

Punjab University New Campus Lahore
Lahore
54000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Punjab University Confessions posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share