Afzal Abad Education Corner

Afzal Abad Education Corner Sharing Teacher, s experiences corner

Here you will find latest education news, teaching activities, teaching art, students activities, experience sharing etc to keep in close touch for Quality

26/08/2026




گورنمنٹ ہائی سکول افضل آباد.....

رستم خورشید

اصل جشنِ میلادِ النبی ﷺ: تعلیماتِ رسول ﷺ پر عملنبی اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت یقیناً انس...
26/08/2026

اصل جشنِ میلادِ النبی ﷺ: تعلیماتِ رسول ﷺ پر عمل

نبی اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت یقیناً انسانیت کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔ آپ ﷺ کی آمد سے تاریخِ انسانی کا ایک نیا باب شروع ہوا۔ مگر اگر ہم حقیقت میں اپنے آقا و مولا حضرت محمد ﷺ سے محبت اور عشق کا دعویٰ کرتے ہیں تو ہمیں یہ سوال ضرور اپنے سامنے رکھنا ہوگا کہ کیا ہماری زندگی آپ ﷺ کی تعلیمات کا آئینہ دار ہے؟

میرے نزدیک نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات پر عمل ہی اصل جشنِ میلاد النبی ﷺ ہے۔ چراغاں، محافل، جلوس، نعتیں اور محبت کے اظہار اپنی جگہ، مگر عشقِ رسول ﷺ کا سب سے معتبر ثبوت ہمارا کردار، ہماری دیانت، ہمارا اخلاق، ہماری معاملات میں پاکیزگی اور ہماری عملی زندگی ہے۔

ایک بکھرا ہوا معاشرہ اور انقلابِ محمدی ﷺ

بعثتِ نبوی ﷺ کے وقت عرب معاشرہ جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا۔ قبائلی عصبیت، ظلم، انتقام، شراب نوشی، جوا، سود، کمزوروں کا استحصال، عورتوں کی بے توقیری، یتیموں کے حقوق کی پامالی اور طاقتور کی بالادستی جیسے بے شمار مسائل نے معاشرے کو اپنی گرفت میں لے رکھا تھا۔

ایسے ماحول میں حضرت محمد ﷺ نے محض تقریریں نہیں کیں، بلکہ اپنی ذات کو تعلیماتِ اسلام کا عملی نمونہ بنا کر ایک انقلاب برپا کیا۔

آپ ﷺ نے انسان کو انسان کی عزت سکھائی، عدل و انصاف قائم کیا، امانت و دیانت کو ایمان کا حصہ بنایا، کمزوروں کے حقوق کی حفاظت کی، عورت کو عزت اور مقام عطا کیا، یتیموں اور مسکینوں کی کفالت کا درس دیا اور حاکم و محکوم کے لیے قانون کے یکساں ہونے کا عملی تصور پیش کیا۔

چند ہی عشروں میں ایک ایسا معاشرہ وجود میں آیا جس نے پوری دنیا کی تہذیب، سیاست، اخلاق اور انسانی اقدار پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ یہ انسانی تاریخ کا ایسا عظیم انقلاب تھا جس کی مثال مشکل سے ملتی ہے۔

پھر آج ہمارا عشق کہاں ہے؟

آج ہم نبی اکرم ﷺ سے محبت کے دعوے تو بہت کرتے ہیں، مگر ذرا اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں۔

ہم صبح سے شام تک سچ کے ساتھ جھوٹ ملاتے ہیں۔ دوسروں کے حقوق پر ڈاکا ڈالتے ہیں۔ اپنے مفاد کے لیے اصول بدل لیتے ہیں۔ ملاوٹ کرتے ہیں، ناپ تول میں کمی کرتے ہیں، وعدہ خلافی کرتے ہیں، سفارش اور اقربا پروری کو معمول سمجھتے ہیں اور پھر بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہم عاشقِ رسول ﷺ ہیں۔

یہ کیسا عشق ہے جس میں محبوب کی تعلیمات کے لیے ہماری زندگی میں جگہ نہیں؟

عشق صرف زبان کا دعویٰ نہیں، کردار کا نام ہے۔

اگر نبی اکرم ﷺ نے سچائی کو اختیار کرنے کا حکم دیا ہے تو ہمارا کاروبار، ہماری ملازمت، ہماری سیاست، ہماری تعلیم اور ہماری روزمرہ گفتگو سچائی کی گواہی کیوں نہیں دیتی؟

اگر آپ ﷺ نے امانت کی حفاظت کا درس دیا تو قومی وسائل میں خیانت کیوں؟

اگر آپ ﷺ نے عدل کا حکم دیا تو طاقتور کے لیے ایک قانون اور کمزور کے لیے دوسرا قانون کیوں؟

کمزور کے ساتھ ہمارا رویہ

رسول اکرم ﷺ نے کمزوروں، یتیموں، مسکینوں، غلاموں اور بے سہارا لوگوں کے حقوق کی حفاظت فرمائی۔ آپ ﷺ نے معاشرے کے کمزور ترین فرد کو بھی عزت دی۔

مگر آج ہمارا رویہ اس کے برعکس دکھائی دیتا ہے۔ طاقتور کے سامنے ہماری زبان نرم اور کمزور کے سامنے ہمارا لہجہ سخت ہو جاتا ہے۔ غریب کی عزتِ نفس ہمارے معمولی مفاد کے مقابلے میں بے وقعت ہو جاتی ہے۔

ہم نے ان بیٹیوں کی عزت و حرمت کو بھی پامال کیا جن کے احترام اور تحفظ کا درس ہمارے نبی ﷺ نے دیا تھا۔ جب ایک معاشرہ اپنی بیٹیوں، بہنوں اور ماؤں کو تحفظ اور عزت دینے میں ناکام ہو جائے تو اسے اپنے عشقِ رسول ﷺ کے دعوے پر ضرور غور کرنا چاہیے۔

کرپشن اور عشقِ رسول ﷺ

جو شخص اپنے عہدے اور منصب کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرتا ہے، سرکاری وسائل کو اپنی ملکیت سمجھتا ہے، رشوت لیتا ہے، اقربا پروری کرتا ہے، سفارش کے ذریعے حق دار کا حق چھینتا ہے، وہ زبان سے جتنی مرتبہ بھی عشقِ رسول ﷺ کا دعویٰ کرے، اس کا کردار اس دعوے کی تردید کرتا رہے گا۔

رسول اللہ ﷺ نے امانت اور دیانت کو انسانی کردار کی بنیاد بنایا۔ منصب ہمارے لیے اعزاز نہیں بلکہ امانت اور ذمہ داری ہے۔

سرکار سے تنخواہ لینا مگر ڈیوٹی پوری نہ کرنا، عوام کے کام میں بلاوجہ رکاوٹ ڈالنا، رشوت کے بغیر جائز کام نہ کرنا، سفارش کے بغیر حق نہ دینا، وقت کی پابندی نہ کرنا، ادارے کے وسائل کو ذاتی استعمال میں لانا، یہ سب رویے عشقِ رسول ﷺ کے تقاضوں سے متصادم ہیں۔

قانون سب کے لیے

ریاست اور معاشرے کی بنیاد انصاف پر قائم ہوتی ہے۔ نبی اکرم ﷺ کی سیرت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ قانون اور انصاف کسی شخص کی دولت، خاندان، عہدے یا اثر و رسوخ کے تابع نہیں ہونا چاہیے۔

لیکن جب قانون صرف غریب کے لیے رہ جائے، طاقتور قانون سے بالاتر سمجھا جائے، بااثر افراد کے لیے راستے نکالے جائیں اور کمزور کو معمولی غلطی پر بھی سخت سزا دی جائے تو پھر ہمیں اپنے اجتماعی کردار کا احتساب کرنا چاہیے۔

انصاف کی کرسی پر بیٹھ کر بے انصافی کرنا، عشقِ رسول ﷺ نہیں بلکہ تعلیماتِ رسول ﷺ سے دوری ہے۔

سود، استحصال اور معاشی ناانصافی

اسلام نے معاشی معاملات میں عدل، پاکیزگی اور حلال کمائی کی تعلیم دی۔ سودی استحصال اور دوسروں کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھانے سے روکا گیا۔

ہمیں اپنے معاشی نظام، کاروباری معاملات اور ذاتی رویوں کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔ کہیں ہم کسی کی مجبوری سے فائدہ تو نہیں اٹھا رہے؟ کہیں ہم ناجائز منافع، ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی یا دھوکے کے ذریعے کسی کا حق تو نہیں مار رہے؟

عشقِ رسول ﷺ کا تقاضا یہ ہے کہ ہماری کمائی بھی پاک ہو اور ہمارے معاملات بھی پاکیزہ ہوں۔

میلاد کا حقیقی پیغام

میلاد النبی ﷺ ہمیں صرف خوشی منانے کا موقع نہیں دیتا، بلکہ اپنی زندگی بدلنے کا پیغام دیتا ہے۔

اگر اس ماہِ مبارک میں ہم ایک جھوٹ چھوڑ دیں، ایک حق واپس کر دیں، کسی مظلوم کا ساتھ دے دیں، کسی غریب کی مدد کر دیں، اپنے ماتحت کے ساتھ حسنِ سلوک کریں، اپنی ڈیوٹی دیانت داری سے ادا کریں، کسی کی عزتِ نفس محفوظ کر دیں، کسی کے ساتھ ناانصافی سے رک جائیں اور اپنی کمائی کو حلال بنانے کا عہد کر لیں تو شاید یہ ہمارے لیے محض چراغاں اور نعروں سے کہیں بڑا جشنِ میلاد ہو۔

ہمیں اپنے گھروں میں سیرتِ رسول ﷺ پڑھنے کے ساتھ ساتھ اس پر عمل کا ماحول پیدا کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے بچوں کو صرف نعت خوانی نہیں، سچائی بھی سکھانی ہوگی؛ صرف درود شریف نہیں، حسنِ اخلاق بھی سکھانا ہوگا؛ صرف محبت کے نعرے نہیں، امانت و دیانت کا عملی سبق بھی دینا ہوگا۔

عشقِ رسول ﷺ کا سب سے خوبصورت ثبوت

محبوب سے محبت کا سب سے بڑا ثبوت یہ نہیں کہ ہم اس کا نام کتنی مرتبہ لیتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم اس کی پسند کو اپنی پسند بنا لیتے ہیں۔

اگر ہمیں واقعی نبی اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے عشق ہے تو ہمیں اپنی زندگی میں سچائی، امانت، عدل، رحم، عفو، حسنِ اخلاق، خدمتِ خلق، احترامِ انسانیت اور حقوق العباد کو جگہ دینا ہوگی۔

ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم صرف عاشقِ رسول ﷺ کہلانا چاہتے ہیں یا واقعی عاشقِ رسول ﷺ بننا چاہتے ہیں۔

آئیے اس جشنِ میلاد پر اپنے دل سے ایک عہد کریں:

ہم جھوٹ سے بچیں گے۔
ہم خیانت سے بچیں گے۔
ہم رشوت سے بچیں گے۔
ہم سفارش اور اقربا پروری کے ذریعے کسی کا حق نہیں ماریں گے۔
ہم کمزور کو حقیر نہیں سمجھیں گے۔
ہم عورتوں، بچوں، بزرگوں اور محروم طبقات کی عزت و حفاظت کریں گے۔
ہم اپنی ذمہ داری ایمانداری سے ادا کریں گے۔
ہم قانون کو اپنے مفاد کے مطابق نہیں بلکہ انصاف کے مطابق دیکھیں گے۔
ہم اپنے معاملات میں دیانت اختیار کریں گے۔
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم نبی اکرم ﷺ کی سیرت کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانے کی کوشش کریں گے۔

کیونکہ نبی اکرم ﷺ سے محبت صرف ایک جذبہ نہیں، ایک ذمہ داری بھی ہے۔

اصل جشنِ میلاد وہ دن ہوگا جب ہمارے کردار سے سیرتِ مصطفیٰ ﷺ جھلکنے لگے گی، ہماری زبان سے سچ نکلے گا، ہمارے ہاتھ سے کسی کو تکلیف نہیں پہنچے گی، ہمارے منصب سے انصاف ہوگا، ہماری کمائی میں پاکیزگی ہوگی اور ہمارے رویے سے انسانیت کو سکون ملے گا۔

تب ہماری محفل بھی بامعنی ہوگی، ہماری نعت بھی بااثر ہوگی، ہمارا درود بھی روحانی کیفیت پیدا کرے گا اور ہمارا جشنِ میلاد بھی اپنے حقیقی مقصد سے ہمکنار ہوگا۔

عشقِ رسول ﷺ کا تقاضا نعرہ نہیں، کردار ہے۔
محبت کا ثبوت دعویٰ نہیں، عمل ہے۔
اور سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کا حقیقی جشن ہماری بدلی ہوئی زندگی ہے۔

تخریر: شوکت مالک سواتی
پرنسپل، گورنمنٹ سنیٹینیل ماڈل ہائی اسکول نمبر 3، مانسہرہ

انتہائی افسوس ناک خبر 😭😭😭   ۔ پندرہ دن سے لاپتہ پھول جیسی  بچی آیت نور کی ل اش یونیورسٹی ٹاؤن کے قریب کنویں سے برآمد.......
24/08/2026

انتہائی افسوس ناک خبر 😭😭😭
۔ پندرہ دن سے لاپتہ پھول جیسی بچی آیت نور کی ل اش یونیورسٹی ٹاؤن کے قریب کنویں سے برآمد.... مبینہ طور پر درندوں نے مبینہ ذ ی ادتی کے بعد ق ت ل کیا۔ذرائع آج نیوز ٹی وی
مزید اصل حقائق پوسٹ مارٹم کے بعد سامنے آسکیں گے ۔

...

24/08/2026

زندگی میں عزت چاہیے ہو تو.... ان باتوں پر .... لازمی عمل کریں 👇🔥

Welcome   MansehraZahid Jadoon sb... 🤲
24/08/2026

Welcome Mansehra
Zahid Jadoon sb... 🤲

On Fire 🔥
24/08/2026

On Fire 🔥

افضل آباد ایجوکیشن کارنر 👇 Afzal Abad Education Corner
23/08/2026

افضل آباد ایجوکیشن کارنر
👇 Afzal Abad Education Corner

مفتی شاہ عبدالخالق آزاد رائے پوری کل سے مانسہرہ کے 5 روزہ دورے پر تشریف لائیں گے ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ ٹرسٹ لاہور کے...
23/08/2026

مفتی شاہ عبدالخالق آزاد رائے پوری کل سے مانسہرہ کے 5 روزہ دورے پر تشریف لائیں گے
ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ ٹرسٹ لاہور کے سرپرست اور خانقاہ عالیہ رحیمیہ رائے پور کے مسند نشین حضرت مولانا مفتی شاہ عبدالخالق آزاد رائے پوری کل سے مانسہرہ کے پانچ روزہ تفصیلی دورے پر تشریف لا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق دورے کے دوران مولانا کا قیام جامع مسجد قباء، لاری اڈا مانسہرہ میں ہوگا۔ اپنے اس 5 روزہ قیام کے دوران وہ مانسہرہ ، بالاکوٹ، اوگی اور بٹگرام میں منعقد ہونے والے مختلف سیمینارز، تربیتی پروگرامز اور علمی نشستوں میں شرکت کریں گے۔
مزید برآں، مفتی شاہ عبدالخالق آزاد رائے پوری اپنے اس دورے کے دوران مانسہرہ کے مختلف علمی و ادبی حلقوں اور شخصیات سے بھی خاص خطاب کریں گے، جس میں اخلاقی و روحانی تربیت اور عصری چیلنجز کے تناظر میں قرآنی تعلیمات پر روشنی ڈالی جائے گی۔
(پریس ریلیز)

23/08/2026

Government Vs OutSourcing 😭

Management Cadder
vs School Leaders 😭

NTS vs Promotees 😭

Adhoc vs Regular 😭

PTC Hired vs DSS 😭

متحد ہو...... تو بدل ڈالو..... نظام گلشن....
منتشر ہو تو مرو.... شور مچاتے کیوں ہو

Address

Mansehra

Telephone

+923319287331

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Afzal Abad Education Corner posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share