21/09/2026
مجھ سے ملتے ہیں تو ملتے ہیں چرا کر آنکھیں
پھر وہ کس لئے رکھتے ھیں سجا کر آنکھیں
میں انہیں دیکھتا رہتا ھوں جہاں تک دیکھوں
ایک وہ ھیں جو دیکھے نا اٹھا کر آنکھیں
اس جگہ آج بھی بیٹھا ہوں اکیلا یارو
جس جگہ چھوڑ گئے تھے وہ ملا کر آنکھیں
مجھ سے نظریں وہ اکثر چرا لیتے ھیں فراز
میں نے کاغذ پہ بھی دیکھی ھیں بنا کر آنکھیں...!..