11/05/2026
*ایک کیمپس اور صرف دو بسیں — جامعہ بلوچستان سب کیمپس مستونگ کے طلبہ کے سفری مسائل*
جامعہ بلوچستان سب کیمپس مستونگ کا قیام 2017 میں عمل میں آیا، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اُس دن سے لے کر آج تک اس کیمپس کے لیے بسوں کی تعداد صرف 2 تک محدود ہے۔ جبکہ اس وقت کیمپس میں طلبہ کی تعداد 900 سے زائد ہو چکی ہے۔ ایسے میں صرف دو بسیں پورے کیمپس کے طلبہ کی سفری ضروریات کیسے پوری کر سکتی ہیں؟
بدقسمتی سے یہ کیمپس مختلف مسائل کا شکار بنتا جا رہا ہے۔ نہ تو مین کیمپس ان مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرتا نظر آتا ہے، اور نہ ہی علاقے کے نمائندے اس اہم تعلیمی ادارے کے مسائل پر خاطر خواہ توجہ دے رہے ہیں۔
آج چھٹی کے دوران بنائی گئی ویڈیو کلپ میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ طلبہ بس میں جگہ نہ ملنے کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ طلبہ روزانہ کوئٹہ سے مستونگ اور مستونگ سے کوئٹہ انتہائی بھیڑ اور تکلیف دہ حالات میں سفر کرنے پر مجبور ہیں، جو کسی اذیت سے کم نہیں۔ یہی صورتحال دوسری بس میں بھی موجود ہے جو طالبات اور اسٹاف کے لیے مختص ہے۔
ہم متعلقہ حکام سے مؤدبانہ اپیل کرتے ہیں کہ جامعہ بلوچستان سب کیمپس مستونگ کے لیے بسوں کی تعداد 2 سے بڑھا کر کم از کم 4 بڑی بسیں کی جائیں تاکہ طلبہ کو محفوظ، باعزت اور آسان سفری سہولیات میسر آ سکیں اور وہ بغیر مشکلات کے اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔ تعلیم حاصل کرنا ہر طالب علم کا حق ہے، اور بہتر سفری سہولیات اس حق کا اہم حصہ ہیں۔