28/07/2023
اک رات کا مہمان بیبی زہرا سلام اللہ علیھا کا لال 💔
راوی لکھتا ہے کہ جب عاشور کی رات آئی نہ امام حسین علیہ السلام نے حجت تمام کی اور اپنے تمام ساتھیوں سے کہا کہ جس کو بھی جانا ہے چلا جائے میں حسین۴ علی و زہرا کا لال اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں جب کوئی بھی نہ اٹھا تو امام حسین علیہ السلام نے دسترخوان کے وقت جان بوجھ کر دِیا بجھا دیا کہ ہو سکتا ہے کوئی جانا چاہتا ہو مگر شرمساری کے باعث نا جا سکتا ہو
مگر جیسے ہی دِیا جلایا اور دیکھا ہے سب ہی موجود تھے تب امام حسین علیہ السلام نے ایک جملہ فرمایا کہ نانا جتنے وفادار ساتھی حسین۴ کو ملے اتنے اگر آپ کو ملے ہوتے تو آج حسین۴ پر یہ وقت نہ آتا
خیر عاشور کا سورج طلوع ہوا اور امام حسین علیہ السلام کے ساتھیوں کی قربانیاں شروع ہو گئیں حضرت جَون ہوں کہ حضرت زہیر ابن قین یا حضرت حبیب ابن مظاہر ہوں کہ حضرت حر علیھم السلام...
ہر رفقاء کا جنازہ اٹھایا امام ع نے لیکن تاریخ لکھتی کہ دو جنازے بہت ہی بھاری اٹھائے ایک حضرت عباس علیہ السلام کا کیونکہ بھائی بھائیوں کی قمر کا زور ہوتے ہیں یہاں پر امام نے فرمایا عباس میری قمر ٹوٹ گئی...
دوسرا جنازہ حضرت علی اکبر علیہ السلام کا جنازہ,جوان بیٹا اور بوڑھا باپ,اور دوسرا یہ کہ حضرت علی اکبر رسول خدا کے شبیہ تھے امام حسین علیہ السلام نے رسول خدا کے جانے کے بعد حضرت علی اکبر کو دعائوں میں مانگا تھا کہ اے پروردگار ایک بیٹا ایسا عطا کر جو نانا کی شبیہ ہو...
حضرت علی اکبر کے جنازے پر امام حسین علیہ السلام نے فرمایا "بیٹا میری بینائی چلی گئی"
خیر سارا دن لاشے اٹھانے کے بعد بھی حسین علیہ السلام کا سربسجود ہونا اور یہ کہنا کہ خدا میں تیری رِضا میں راضی تو بس مجھ سے راضی ہو جا...🙌
پھر آتی ہے عصرِ عاشور وہ قیامت خیز گھڑی جب لاکھوں کلمہ گو مل کر اسلام کے نام پر اسلام کے ہی محافظ کو قتل کرنے چلے اور بالآخر یزید ملعون کے حکم پر تین دن سے بوکھے پیاسے کو شہید کردیا
یہ مسلمانوں کے رسول کے نواسے کی کہانی تھی جس نے دین کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کردیا🙌🙏