Dr. Mirza Abdul Qayyum

Call Directions Contact the university

Dr. Mirza Abdul Qayyum Entomologist, Life Scientist, Peace Ambassador, Community worker minor crops (sarson, toria, canola, raya and pulses i.e. Phil/M. Sc.

The Muhammad Nawaz Shareef University of Agriculture (MNSUA), Multan is located at Old Shujaabad Road, Chungi No. 21, Sui Gas Road, Multan, in the very fertile and productive area of Southern Punjab, Pakistan which is famous for the production of export quality mango and cotton. Environmental conditions of this area are suitable for growing various major crops (wheat, cotton, sugarcane, rice, maize, sunflower, fodder crops, etc.) gram, lentil, mung bean, mash bean, etc.), horticultural crops (mango, citrus, guava, date-palm, pomegranate, falsa, ber, banana, strawberry, grapes, and different vegetables)
mnsua
Agricultural potential and specific ecological conditions of the Southern Punjab led to the establishment of a full-fledge Agricultural University in Multan. The Chief Minister of Punjab was kind enough to start the Muhammad Nawaz Shareef University of Agriculture in Multan. The University started its academic activities during 2012 at Agricultural Farm, Old Shujaabad Road, Multan through an interim arrangement of Bahauddin Zakariya University, Multan. The laboratory facilities for conducting practical classes are available at the Soil and Water Testing Laboratory, Mango Research Institute (MRI), Plant Breeding and Genetics Laboratory at Cotton Research Station (CRS), Pesticide Analysis Laboratories and Faculty of Agricultural Science & Technology, BZU Multan. Since the inception of 2014, the University has been functioning independently.The highly qualified faculty (Ph.D., M. (Hons.)) is currently being recruited to cater well the MNSUA students faculty. Initially the University has been made functional with the following departments:
Department of Soil and Environmental Sciences
Department of Food Science and Technology
Department of Agronomy
Department of Plant Pathology
Department of Agri. Entomology
Department of Forestry and Rangeland Management
Department of Plant Breeding and Genetics
Department of Horticulture
Department of Agricultural Extension
A piece of land comprising 180 acres is allocated at Mouza Rangeelpur, Old Shujaabad Road for the construction of permanent University faculties and departments. In addition, a piece of land measuring 50 acres at Mouza Makhdoom Rashid has been allocated for innovation and commercialization of products for farmers, and 500 acres land at JalalpurPirwala for agricultural experimental farms and Veterinary Faculty. The emphasis would be on healthy and viable seed production, improving soil health for sustainable crop production, development of improved varieties of crops along with improvement of cultural practices, cropping system, weed control, insect toxicology, insecticide resistance, integrated pest management strategies, drip irrigation system, tunnel farming, agro-forestry, pre- and post-harvest technologies of crops and fruits. However, in future allied faculties such as Faculty of Social Sciences, Faculty of Agricultural Engineering, Faculty of Animal Sciences, and Faculty of Sciences will be included.

عالمی سیاست کی منڈی اور مائیکرو ریاستوں کا کردار: ایک تلخ تجزیہدنیا کے 195 تسلیم شدہ ممالک میں تقریباً 50 ایسی چھوٹی ریا...
26/09/2026

عالمی سیاست کی منڈی اور مائیکرو ریاستوں کا کردار: ایک تلخ تجزیہ
دنیا کے 195 تسلیم شدہ ممالک میں تقریباً 50 ایسی چھوٹی ریاستیں (Micro-states) شامل ہیں جن کا رقبہ یا آبادی کسی بڑے شہر کے محلے سے زیادہ نہیں۔ ان کے پاس نہ روایتی فوج ہے، نہ بڑی معیشت، اور نہ ہی صنعتی انفراسٹرکچر؛ اس کے باوجود وہ اقوام متحدہ میں بڑی طاقتوں کے برابر ایک خود مختار ووٹ کا اختیار رکھتے ہیں۔
یہ ریاستیں عموماً تین خطوں میں بکھری ہوئی ہیں:
* کیریبین جزائر: سینٹ کٹس، ڈومینیکا، اینٹیگوا و باربوڈا، سینٹ لوشیا اور گریناڈا وغیرہ۔
* بحر الکاہل کے ممالک: ناورو، تووالو، پالاؤ، مارشل آئی لینڈز اور مائیکرونیشیا۔
* یورپی چھوٹی ریاستیں: ویٹیکن سٹی، موناکو، سان مارینو، انڈورا اور لِختنشٹائن۔
ان ریاستوں کا معاشی اور سفارتی ماڈل
دوسری جنگِ عظیم کے بعد بین الاقوامی قانون کے تحت سرحدوں کے احترام نے ان خطوں کے وجود کو محفوظ بنایا۔ بڑی طاقتوں کے لیے ان پر قبضہ کرنا مہنگا اور ان کے ساتھ لین دین رکھنا سستا ثابت ہوا، جس کی بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں:
* ٹیکس ہیونز: کیمن آئی لینڈز اور برمودا جیسی جگہیں دنیا کے کھربوں ڈالرز کے مالیاتی سرمائے اور بڑی کمپنیوں کے لیے ٹیکس سے بچاؤ کی پناہ گاہیں ہیں۔
* سیاحت اور ویزا فری پاسپورٹس: سینٹ کٹس اور اینٹیگوا جیسے ممالک سرمایہ کاری کے عوض اپنی شہریت اور پاسپورٹ فروخت کر کے بھاری زرمبادلہ کماتے ہیں۔
* پرچم کی فروخت (Flags of Convenience): دنیا کے تجارتی بحری جہاز پاناما، لائبیریا یا مارشل آئی لینڈز کا جھنڈا فیس کے عوض حاصل کرتے ہیں تاکہ سخت قوانین اور بھاری ٹیکسوں سے بچ سکیں۔
* اقوام متحدہ میں ووٹ کی اہمیت: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہر ملک کی ووٹنگ پاور یکساں ہے۔ لہٰذا چین، تائیوان تنازع ہو یا اسرائیل اور فلسطین کا معاملہ، بڑی طاقتیں سڑکوں، اسٹیڈیمز اور چند ملین ڈالر کی امداد کے بدلے ان جزائر کی سفارتی حمایت باآسانی حاصل کر لیتی ہیں۔
مقامی سیاست کے لیے ایک سبق
یہ ریاستیں بقا کا یہ سودا اپنے محدود وسائل کے باوجود قومی مفاد میں کرتی ہیں؛ حاصل شدہ رقوم ان کے شہریوں کے بنیادی انفراسٹرکچر، صحت اور تعلیم پر خرچ ہوتی ہیں۔
اس کے برعکس، پاکستان جیسے ممالک میں پیدا کی جانے والی مصنوعی سیاسی جماعتیں یا غیر نمائندہ گروہ قومی مفاد کے بجائے صرف ذاتی مراعات، اقتدار کی بارگیننگ اور جوڑ توڑ کے لیے اپنا ووٹ اور بیانیہ استعمال کرتے ہیں۔ 25 کروڑ آبادی کا ملک ہونے کے باوجود جب پالیسیاں عوامی فلاح کے بجائے بیرونی قرضوں اور مخصوص طبقات کی بقا کے گرد گھومتی ہیں، تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ حقیقت میں خود مختار وہ چھوٹی ریاستیں ہیں جو اپنے محدود وسائل کو حکمت سے بیچتی ہیں، یا وہ بڑا ملک جو بے پناہ وسائل کے باوجود معاشی محتاجی کا شکار ہے۔

26/09/2026
تقریباً 5,500 سال قبل، فراعین کے دور سے بھی پہلے، مصر کے صحرا میں 18 سے 21 سال کے ایک نوجوان کو دفن کیا گیا۔ صحرا کی شدی...
24/09/2026

تقریباً 5,500 سال قبل، فراعین کے دور سے بھی پہلے، مصر کے صحرا میں 18 سے 21 سال کے ایک نوجوان کو دفن کیا گیا۔ صحرا کی شدید گرم اور خشک ریت نے بغیر کسی مصنوعی مسالے کے اس کے جسم کو قدرتی طور پر محفوظ رکھا، یہاں تک کہ اس کے سرخی مائل بال بھی سلامت رہے۔ 1896ء میں دریافت ہونے والی یہ لاش آج برٹش میوزیم میں "گبیلین مین" کے نام سے محفوظ ہے۔
سال 2012ء میں ہونے والے ایک جدید سی ٹی اسکین نے اس کی موت کا لرزہ خیز راز فاش کیا۔ ماہرین کے مطابق اس کی موت کسی بیماری سے نہیں ہوئی، بلکہ اس کی پیٹھ پر پیچھے سے خنجر کا گہرا وار کیا گیا تھا، جس نے پسلی کو توڑتے ہوئے پھیپھڑے کو چھید دیا تھا۔
بعد ازاں 2018ء میں انفراریڈ اسکین کے ذریعے اس کے بازو پر جنگلی بیل اور بھیڑ کے ٹیٹو بھی دریافت ہوئے، جو علامتی ٹیٹوز کی تاریخ کے قدیم ترین ثبوتوں میں شمار ہوتے ہیں۔ گبیلین مین کی یہ لاش نہ صرف قبل از تاریخ کے انسان کے فن اور رہن سہن کی گواہ ہے، بلکہ یہ بھی بتاتی ہے کہ تشدد، غداری اور دشمنی جیسے جذبات ہزاروں سال پہلے بھی انسان کے ساتھ ویسے ہی جڑے تھے۔

How white sugar is made in sugar mills?
23/09/2026

How white sugar is made in sugar mills?

Enjoy the videos and music you love, upload original content, and share it all with friends, family, and the world on YouTube.

پنجابی کا بَکسُوا، انگریزی کی سیفٹی پِن — ہم سب کی عزتوں کا رکھوالابندۂ ناچیز نے لفظِ بکسوا کو بکسوے ہی کی شکل میں لکھنے...
20/09/2026

پنجابی کا بَکسُوا، انگریزی کی سیفٹی پِن — ہم سب کی عزتوں کا رکھوالا

بندۂ ناچیز نے لفظِ بکسوا کو بکسوے ہی کی شکل میں لکھنے کی ایک ’’موجدانہ‘‘ سی کوشش کی ہے۔

مشہور ضرب المثل ہے کہ ’’ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔‘‘ لگتا ہے کسی زمانے میں کسی سیانے کا بھی کسی خطرناک صورتِ حال سے ضرور پالا پڑا ہوگا۔ بٹن کے دھاگے نے بے وفائی کی ہوگی یا پتلون کی زپ کے دانت ٹوٹے ہوں گے، سو اُس نے آس پاس پڑی کوئی نوکیلی چیز یا لوہے کی باریک تار موڑ کر اپنی لاچاری کو چارہ گری میں بدلنے کا تجربہ کیا ہوگا، اور اسی تجربے کے نتیجے میں بکسوا صاحب معرضِ وجود میں آئے ہوں گے۔

بظاہر تو بکسوا ایک نحیف اور معمولی سی شے ہے، مگر کڑے وقت میں اپنی اہمیت ضرور جتاتا اور اپنی وفا خوب نباہتا ہے۔ کبھی بٹن کا قائم مقام بن جاتا ہے، کبھی زپ کا عارضی علاج، تو کبھی ساڑھی کے پلو کا ٹانکا۔ لہٰذا یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ ہم سب کی عزتوں کا رکھوالا اور برے وقت کا سچا ساتھی ہے۔

خصوصاً خواتین کے پرس میں تو یہ ہر وقت موجود رہتا ہے۔ خواتین بھی اس سے ایک آدھ نہیں، بلکہ کئی کام لے لیتی ہیں۔ پرس یا بیگ کی زپ خراب ہو جائے، یا زیور کی ہُک ٹوٹ جائے، بکسوا صاحب فوراً خدمت میں حاضر!

شوہروں کی طرح بیچارہ بکسوا بھی خواتین کے قابو ہی میں رہتا ہے۔😄 البتہ اسے جب زیادہ تنگ کیا جائے تو یہ دندی بھی وڈ لیتا ہے، یعنی چبھ جاتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اپنے اس مخلص اور وفاشعار دوست کے ساتھ ذرا پیار اور احتیاط سے پیش آیا کریں۔ 🥰

محمد نعیم الرحمٰن کی وال سے

19/09/2026

پاکستانی خواتین کا ازلی مسئلہ اب جدید ٹیکنالوجی میں آئیڈیا فارم میں،
Ideas taking birth for a Long awaited issue of Pakistani women

The future of Mobile lost Humans
15/09/2026

The future of Mobile lost Humans

Nyd de videoer og den musik, du holder af, upload originalt indhold, og del det hele med venner, familie og verden på YouTube.

روایت ہے کہ جب چنگیز خان نے نیشاپور کو خون میں نہلا دیا اور شہر کو خاک میں ملا دیا، تو اپنی ہولناک فوج کے ساتھ ہمدان کی ...
15/09/2026

روایت ہے کہ جب چنگیز خان نے نیشاپور کو خون میں نہلا دیا اور شہر کو خاک میں ملا دیا، تو اپنی ہولناک فوج کے ساتھ ہمدان کی طرف روانہ ہوا۔

ہمدان کے لوگ خوف سے لرز رہے تھے۔ ہر چہرے پر دہشت تھی اور ہر دل میں موت کا اندیشہ۔

چنگیز خان نے حکم دیا کہ شہر کے تمام لوگوں کو ایک وسیع میدان میں جمع کیا جائے۔ دیکھتے ہی دیکھتے میدان انسانوں سے بھر گیا، مگر ایسی خاموشی چھائی ہوئی تھی جیسے وقت بھی تھم گیا ہو۔

چنگیز خان نے بلند آواز میں کہا:

"میں نے سنا ہے کہ ہمدان کے لوگ بڑے عقل مند، دانا اور سمجھ دار ہوتے ہیں۔ تمہاری دانائی مشہور ہے۔ کہا جاتا ہے: ‘ہمہ دانی و ہیچ ندانی’—یعنی سب کچھ جانتے ہو، مگر حقیقت میں کچھ نہیں جانتے۔"

پھر اس نے اعلان کیا:

"میں تم سے ایک سوال پوچھوں گا۔ اگر جواب درست ہوا تو تم سب کو امان دی جائے گی، لیکن اگر جواب غلط ہوا تو یہی میدان تمہاری قبریں بن جائے گا۔ آج تمہاری زندگی اور موت کا فیصلہ اسی سوال کے جواب سے ہوگا۔"

میدان پر موت جیسی خاموشی چھا گئی۔

چنگیز خان نے سب پر نظریں دوڑائیں اور گرج کر پوچھا:

"کیا میں خدا کی طرف سے آیا ہوں، یا اپنی مرضی سے؟"

کسی میں جواب دینے کی ہمت نہ تھی۔ علماء، دانشور اور بزرگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ یہ محض ایک فلسفیانہ سوال نہیں تھا؛ پورے شہر کی زندگی اور موت کا مسئلہ تھا۔

اچانک ہجوم میں سے ایک سادہ سا چرواہا آگے بڑھا۔

وہ نہ کوئی بڑا عالم تھا، نہ دانشور، مگر اس کی آنکھوں میں بصیرت اور دل میں سچائی تھی۔

چنگیز خان نے اسے دیکھا اور کہا:

"اگر جواب سنوں گا تو تجھ ہی سے سنوں گا۔"

چرواہے نے بے خوف ہو کر چنگیز خان کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا:

"نہ تم خدا کی طرف سے آئے ہو،
نہ اپنی مرضی سے آئے ہو۔
تمہیں تو ہمارے اپنے اعمال یہاں تک لے کر آئے ہیں۔

جب ہم نے عقل مندوں کو نظرانداز کیا،
اہلِ علم کو خاموش کر دیا،
اور جاہلوں، خوشامدیوں اور نااہلوں کو عزت، اختیار اور قیادت سونپ دی،
تو پھر تم جیسے ظالم کا آنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔

تم ہماری نادانی، ہماری ناانصافی اور ہماری بصیرت سے محروم قیادت کا نتیجہ ہو۔"

میدان میں ایک بار پھر گہری خاموشی چھا گئی۔

چنگیز خان خاموش کھڑا رہا۔ روایت کے مطابق، شاید اس جواب کی سچائی اس کے دل تک اتر گئی تھی۔ اور پھر اس نے لوگوں کو چھوڑ دیا۔ کسی کا خون نہ بہایا۔

اس داستان کا اصل سبق شاید چنگیز خان نہیں، بلکہ قوموں کا اپنا کردار ہے۔

ظالم ہمیشہ آسمان سے نہیں اترتے؛ بعض اوقات قومیں اپنی غلطیوں، خاموشی اور اجتماعی کوتاہیوں کے ذریعے خود ان کے لیے راستہ بناتی ہیں۔

جب قومیں عقل مندوں کو نظرانداز کریں، اہلِ علم کی آواز دبا دیں، اور جاہلوں، خوشامدیوں اور نااہلوں کو عزت، اختیار اور قیادت دے دیں، تو پھر ظالم حکمران اچانک پیدا نہیں ہوتے—

وہ دراصل معاشرے کی اپنی غلط ترجیحات سے پیدا کیے جاتے ہیں۔

قوموں کی تباہی صرف ظالموں سے نہیں ہوتی؛
بعض اوقات ظالموں کو اختیار دینے والی اجتماعی خاموشی بھی تباہی کی ذمہ دار ہوتی ہے

Address

Multan
60000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00

Telephone

+92619201541

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Mirza Abdul Qayyum posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Dr. Mirza Abdul Qayyum:

Shortcuts

Share