31/05/2026
"خوشی کی گونج میں بجھتا ایک چراغ"
مظفرآباد کی فضاؤں میں شادی بیاہ کی خوشیوں کے نام پر برسوں سے ایک ایسا المیہ دہرایا جا رہا ہے جسے بعض لوگ رسم، بعض تفریح اور بعض اپنی مردانگی کا اظہار سمجھتے ہیں۔ ہوائی فائرنگ کی گونج میں شاید انہیں اپنی طاقت کا احساس ہوتا ہو، مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ بندوق سے نکلنے والی گولی خوشی اور غم میں تمیز نہیں کرتی۔ وہ جب لوٹتی ہے تو کسی ماں کی گود اجاڑ دیتی ہے، کسی باپ کی امید چھین لیتی ہے اور کسی گھر کا چراغ ہمیشہ کے لیے بجھا دیتی ہے۔
گزشتہ روز ننھے حیدر علی کی المناک موت بھی اسی بے حسی، اسی جہالت اور اسی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ بنی۔ ایک معصوم بچہ، جس کی آنکھوں میں زندگی کے بے شمار خواب تھے، ایک ایسی گولی کا نشانہ بن گیا جو کسی کی نام نہاد خوشی کے اظہار کے لیے چلائی گئی تھی۔ اس کے ننھے وجود سے بہنے والا خون صرف ایک حادثہ نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی بے حسی پر ایک دردناک سوالیہ نشان ہے۔
افسوس یہ ہے کہ ایسی ہر موت کے بعد ہم اپنے ضمیر کا محاسبہ کرنے کے بجائے ایک جملے کے پیچھے پناہ لے لیتے ہیں: "تقدیر میں ایسا ہی لکھا تھا۔" حالانکہ تقدیر کے نام پر انسانی کوتاہی، لاپروائی اور جرم کو چھپایا نہیں جا سکتا۔ جو گولی کسی انسان نے چلائی، جس نے ایک معصوم جان لے لی، وہ محض حادثہ نہیں بلکہ ایک سنگین جرم اور ایک ناحق قتل ہے۔
حیدر علی کی جدائی کا دکھ شاید الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے والدین کے دلوں پر جو قیامت گزری ہے، اس کا اندازہ صرف وہی کر سکتے ہیں جنہوں نے اپنے جگر کے ٹکڑے کو اپنے ہاتھوں سے رخصت کیا ہو۔ اللہ تعالیٰ اس ننھے فرشتے کی مغفرت فرمائے، اسے اپنی رحمتوں کے سائے میں جگہ عطا کرے، اور اس کے والدین و اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل، حوصلہ اور اجرِ عظیم نصیب فرمائے۔ آمین۔
اور کاش کہ اس خونِ ناحق کی سرخی ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑ سکے۔ کاش کہ خوشی کے نام پر موت بانٹنے والوں کو احساس ہو کہ ان کی ایک لمحے کی نمائش، ایک بے مقصد فائر، کسی خاندان کی پوری زندگی ویران کر سکتا ہے۔ جب تک ہم ایسی خطرناک روش کو سماجی برائی اور قابلِ مذمت جرم سمجھ کر ترک نہیں کرتے، تب تک حیدر علی جیسے معصوم بچوں کی قربانیاں ہمارے اجتماعی ضمیر پر ایک دائمی بوجھ بنی رہیں گی۔
اعجاز احمد