Guru Nanak University Nankana Sb

Guru Nanak University Nankana Sb It's a non political welfare project for the welfare of people of Nankana Sb. Please support this ca

یہ پیج بابا گرونانک یونیورسٹی کو مریدکے سے ننکانہ صاحب لانے اور عوام کو متحرک کرنے کے لیے بنایا گیا ہے

28/12/2024

یہ دنیا کے مختلف ممالک کے بہترین کہاوتیں ہیں:
(1) : "جو اپنے پڑوسی کے گھر کو ہلاتا ہے، اس کا اپنا گھر گرجاتا ہے" (سوئس کہاوت)

(2) : "اگر کوئی شخص پیٹ بھر کر کھا لے تو اسے روٹی کا ذائقہ محسوس نہیں ہوتا" (اسکاٹ لینڈ کہاوت)

(3) : "اگر تم مسکرانا نہیں جانتے تو دکان نہ کھولو" (چینی کہاوت)

(4) : "اچھی شکل سب سے مضبوط سفارش ہے" (انگلش کہاوت)

(5) : "نیکی کرنا احسان فراموش کے ساتھ ایسا ہے جیسے سمندر میں عطر ڈالنا" (پولینڈ کہاوت)

(6) : "اگر تم کسی قوم کی ترقی دیکھنا چاہتے ہو تو اس کی عورتوں کو دیکھو" (فرانسیسی کہاوت)

(7) : "ہم اکثر چیزوں کو ان کی حقیقت سے مختلف دیکھتے ہیں کیونکہ ہم صرف عنوان پڑھنے پر اکتفا کرتے ہیں" (امریکی کہاوت)

(8) : "دوسروں کی غلطیاں ہمیشہ ہماری غلطیوں سے زیادہ واضح ہوتی ہیں" (روسی کہاوت)

(9) : "تمہاری قناعت تمہاری نصف خوشی ہے" (اطالوی کہاوت)

(10) : "ہر انسان اپنی تقدیر خود بناتا ہے" (انگلش کہاوت)

(11) : "اپنے دماغ کو علم سے لیس کرو، بہتر ہے کہ جسم کو زیورات سے سجاؤ" (چینی کہاوت)

(12) : "خود پسندی "ج ہ ل ت" کی پیداوار ہے" (اسپین کہاوت)

(13) : "وہ محبت جو تحفوں پر انحصار کرے، ہمیشہ بھوکی رہتی ہے" (انگلش کہاوت)

(14) : "اس عورت سے ہوشیار رہو جو اپنی فضیلت کے بارے میں بات کرتی ہے اور اس مرد سے جو اپنی دیانت داری کے بارے میں بات کرتا ہے" (فرانسیسی کہاوت)

(15) : "اپنی بیوی کو محبت دو اور اپنی ماں کو اپنا راز بتاؤ" (آئرلینڈ کہاوت)

(16) : "پانچ سال تک اپنے بچے کو شہزادہ بناؤ، دس سال تک غلام کی طرح اور اس کے بعد دوست بن جاؤ" (ہندی کہاوت)

(17) : "انسان ہونا آسان ہے، مگر مرد بننا مشکل ہے" (روسی کہاوت)

(18) : "میرے خاندان نے مجھے بولنا سکھایا، اور لوگوں نے مجھے خاموش رہنا سکھایا" (چیکوسلوواک کہاوت)

(19) : "جو لوگوں کو علم کی نظر سے دیکھتا ہے ان سے نفرت کرتا ہے؛ اور جو انہیں حقیقت کی نظر سے دیکھتا ہے انہیں معاف کرتا ہے" (اطالوی کہاوت)

(20) : "غصہ ایک تیز ہوا ہے جو عقل کے چراغ کو بجھا دیتا ہے" (امریکی کہاوت)

(21) : "جو لوگ دیتے ہیں انہیں اپنے دینے کی بات نہیں کرنی چاہیے، جبکہ جو لوگ لیتے ہیں انہیں اس کا ذکر کرنا چاہیے" (پرتگالی کہاوت)

(22) : "بڑا درخت زیادہ سایہ دیتا ہے مگر کم پھل دیتا ہے" (اطالوی کہاوت)

(23) : "اپنی فکر کو پھٹی ہوئی جیب میں ڈال دو" (چینی کہاوت)

(24) : "زیادہ کھا لینا بھوک سے زیادہ نقصان دہ ہے" (جرمن کہاوت)

(25) : "ہر دن بوئے، ہر دن کھاؤ" (مصری کہاوت)

(26) : "اے انسان، موت کو نہ بھولو کیونکہ یہ تمہیں نہیں بھولے گی" (ترکی کہاوت)

(27) : "انتقام کی لذت ایک لمحے کی ہے، مگر معافی کا سکون ہمیشہ کے لئے رہتا ہے" (اسپین کہاوت)

(28) : "محبت اور خوشبو کو چھپایا نہیں جا سکتا" (چینی کہاوت)

(29) : "جس کی جیب خالی ہو، اسے اپنی زبان کو میٹھا بنانا چاہیے" (ملائیشیائی کہاوت)

(30) : "پانی کے چھوٹے قطرے بھی ندی بنا سکتے ہیں" (جاپانی کہاوت)

(31) : "اللہ پرندوں کو رزق دیتا ہے مگر انہیں اسے پانے کے لیے پرواز کرنا پڑتا ہے" (ہالینڈ کہاوت)

(32) : "محبت تب تک باقی رہتی ہے جب تک پیسہ ہوتا ہے" (فرانسیسی کہاوت)

(33) : "جو اپنے دوست کو قرض دیتا ہے، وہ دونوں کو کھو دیتا ہے" (فرانسیسی کہاوت)

(34) : "جو کوئی خوبصورت عورت سے شادی کرتا ہے اسے دو آنکھوں سے زیادہ کی ضرورت ہوتی ہے" (انگلش کہاوت)

(35) : "جس کی پشت پر تنکا ہوتا ہے، وہ ہمیشہ آگ سے ڈرتا ہے" (فرانسیسی کہاوت)

(36) : "جس نے منزل تک پہنچنے کا عزم کر لیا، اس نے ہر رکاوٹ کو معمولی سمجھا" (فرانسیسی کہاوت)

(37) : "جو خود کو بھیڑ سمجھتا ہے، بھیڑیا اسے کھا جائے گا" (فرانسیسی کہاوت)

18/07/2024

ذرائع ابلاغ کا سربراہ بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو بادشاہ نے برسبیل تذکرہ پوچھا آپ کا محکمہ کیا کام کرتا ہے؟"
اس پر سربراہ گھبرا گیا بولا !
" شاہ عالم جان کی امان پاؤں تو عرض کروں-"
شاہ نے امان دے دی تو وہ بولا !
" عالی جاہ! ہمارے دو کام ہیں، ایک یہ کہ بادشاہ کو حقیقت حال کی خبر نہ ہونے پائے-
دوسرے یہ کہ عوام میں یہ گمان پیدا کیا جائے کہ انھیں صورت حال سے با خبر رکھا جا رہا ہے-"
بادشاہ کی سمجھ میں بات نہ آئی، بولا
" بات ہمارے پلے نہیں پڑی-"
اس پر سربراہ کی باچھیں کھل گئیں- بولا
" عالی جاہ! یہی ہمارا کام ہے کہ بات کہہ دی جائے لیکن پلے نہ پڑے-
عالی جاہ! ہم پر اعتماد کیجیے-
ہم ٹیکنیکل ایکسپرٹ ہیں-
کام خوش اسلوبی سے سر انجام دیں گے-
صرف یہ فرما دیجئے کہ مقصود کیا ہے-"
بادشاہ نے جواب دیا:
"ہم چاہتے ہیں کہ شہزادے کے دل میں بادشاہ بننے کی آرزو پیدا ہو جائے-"
سربراہ یہ سن کر گھبرا گیا، بولا
" شاہ عالم! یہ تو ایک خطرناک بات ہو گی-
اس کے علاوہ یہ طریق کار پرانا ہے-
جدید طریقہ یہ ہے کہ عوام پر زور مطالبہ کریں کہ شہزادہ گدی سنبھال لے -
ان کے اس پر زور مطالبے سے مجبور ہو کر شہزادہ تخت نشینی پر رضا مند ہو جائے-"
" آپ عوام کو رضا مند کیسے کریں گے؟" شاہ نے پوچھا-
" عالی جاہ!" سربراہ بولا "عوام رضا مند ہوں نہ ہوں- ہم بار بار اعلان کریں گے کہ عوام کا یہ مطالبہ ہے-
اس بات کو اتنی بار دہرائیں گے کہ عوام سمجھنے لگیں گے کہ واقعی یہ ہمارا مطالبہ ہے اور یہ گمان کہ شہزادے نے ان کی خواہشات پر سر تسلیم خم کر دیا ہے، ان کے لئے کتنی تسکین کا باعث ہوگا-"
از ممتاز مفتی، کتاب: روغنی پتلے، عنوان: ایک تھا بادشاہ، صفحہ نمبر 155

23/06/2024

پروشیا کے بادشاہ فریڈک دی گریٹ نے ایک مرتبہ فوج کے ایک چھوٹے افسر کو امتیازی نشان عطا کیا تو اس نے بادشاہ کو مخاطب کرکے کہا۔ "جہاں پناہ امیں خود کو اس کا حقدار نہیں سمجھتا، یہ تمغہ میں صرف میدان جنگ میں ہی وصول کر سکتا
ہوں۔"

فوجی افسر کو یہ توقع تھی کہ بادشاہ اس کے جواب سے خوش ہو کر مزید انعام و اکرام سے نوازے گا یا کم از کم تحسین کے کلمات تو ضرور کہے گا لیکن توقع کے بر خلاف بادشاہ نے کہا۔ "عجیب احمق آدمی ہو، کیا تمہاری خاطر میں جنگ چھیڑ دوں؟"

22/06/2024

رنگ باز لاہوری---
شہنشاہ اکبر اور شاہ جہاں کے دور میں لاہور نیل کی دنیا کی سب سے بڑی منڈی تھا۔ شہنشاہ اکبر نے لاہور کے قلعے سے ذرا فاصلے پر ہندوستان میں نیل کی پہلی منڈی قائم کی.
یہ منڈی اکبر کے نام پر اکبری منڈی اور اس سے ملحق علاقہ رنگ محل کہلایا. لاہور کے مضافاتی علاقے موجودہ ساہیوال میں میلوں نیل کے پودے تھے. اسی نسبت سے اسے آج بھی نیلی بار کہتے ہیں.
لوگ نیل کے پودوں کا عرق نکالتے، بڑی بڑی کڑاہیوں میں ڈال کر پکاتے، اس کا پاؤڈر اور ڈلیاں بنائی جاتی تھیں. پھر ٹوکریوں اور بوریوں میں بھر کر اکبری منڈی پہنچ کر بکتیں.
پھر یہ وہاں سے بمبئی اور کولکتہ کے فرانسیسی اور اطالوی تاجر انہیں خرید لیتے، بحری جہازوں میں بھر کر یہ نیل اٹلی کے ساحلی شہر جنیوا پہنچ جاتی. جنوا نامی شہر فرانسیسی شہر نیم، کے قریب تھا. نیم شہر ڈی نیم بھی کہلاتا ہے جہاں ہزاروں کھڈیاں لگی تھیں، ان پر موٹا سوتی کپڑا بُنا جاتا تھا جو سرج کہلاتا تھا. کپڑا بن کر پھر جنوا پہنچتا جہاں گورے اس پر لاہوری نیل کا رنگ چڑھاتے، کپڑا نیلا ہو جاتا تھا. پھر یہ کپڑا درزیوں کے پاس پہنچتا، درزی اس سے مزدوروں، مستریوں اور فیکٹری ورکرز کے لیے پتلونیں سیتے. وہ پتلونیں بعد ازاں جنوا شہر کی وجہ سے جینز کہلانے لگیں.
جینز پتلونیں دنیا بھر مشہور ہو گئیں. ڈی نیم شہر کے تاجروں نے جوش حسد میں اپنے کپڑے کو بھی ڈی نیم کہنا شروع کر دیا. ڈی نیم آہستہ آہستہ ’’ڈینم‘‘ بن گیا. جبکہ جینز اور ڈینم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اکٹھے ہو کر ڈینم جینز بن گئے۔
جینز کے تین عناصر تھے. ڈی نیم کا کپڑا، لاہور کا نیل اور جنوا کے درزی. مغلوں کے دور میں اگر لاہور کا نیل نہ ہوتا تو جینز نہ بن سکتی تھی. اگر بنتی بھی تو کم از کم نیلی نہ ہوتی. جینز کا نیلا پن لاہور کی بدولت تھا. آج بھی انگریزی کی پرانی ڈکشنریوں میں نیل کا نام لاہوری ملے گا. گورے اس زمانے میں نیل کو لاہوری کہتے تھے. یہ رنگ بعد ازاں انڈیا کی مناسبت سے انڈیگو بن گیا. فرانسیسی، اطالوی، پرتگالی اور ڈچ نیل خریدنے کے لئے ہندوستان آتے تھے. برطانوی افیون پینے کے لئے آے تھے مگر پھر پورا ہندوستان ہتھیا لیا. لیکن یہ ںیت بعد کی باتیں ہیں. ابھی اس دور کی بات ہے جب نیل لاہور کی سب سے بڑی تجارت تھا. تب یہ پاک و ہند میں لاہوری یا انڈیگو کہلاتا تھ۔ یہ ہزاروں میل کا زمینی اور سمندری فاصلہ طے کر کے جنوا پہنچتا، جینز کا حصہ بن کر ساری دنیا میں پھیل جاتا تھا۔ پھر لاہور کے نیل کو نظر لگ گئی۔ مغلوں نے نیل پر ٹیکس لگا دیا تو یورپ نے مصنوعی رنگ ایجاد کر لئے، ایسٹ انڈیا کمپنی نے فرانسیسیوں اطالویوں اور پرتگالیوں کو مار بھگایا. یوں نیل کی صنعت زوال پذیر ہو گئی۔ نیل لاہوری نہ رہا مگر لاہور کے شہری آج بھی رنگ باز ہیں. لاہوریوں کو یہ خطاب ممبئی اور کولکتہ کے تاجروں نے دیا تھا۔ ہندوستان میں اس وقت فارسی زبان رائج تھی. فارسی میں کسی بھی پیشے سے وابستہ لوگوں کو باز کہا جاتا تھا. پتنگ بنانے والے پتنگ باز، کبوتر پالنے والوں کو کبوتر باز. اور اس مناسبت سے رنگ بیچنے والے رنگ باز ہو گئے۔ چنانچہ کولکتہ اور ممبئی کے تاجر نیل کی صنعت سے وابستہ لاہوریوں کو ’’رنگ باز‘‘ کہنے لگے. اس زمانے میں کیونکہ لاہور کی زیادہ تر آبادی نیل کی صنعت سے وابستہ تھی چنانچہ پورا لاہور رنگ باز ہو گیا. یہ رنگ بازی آج بھی لاہوری مزاج میں زندہ ہے-----

اسلام آباد کا پرانا نام راج شاہی تھا  اسلام آباد میں 85 دیہات شامل تھے جو اسلام آباد کی تعمیر سے متاثر ہوئے۔ جن میں تقری...
04/09/2021

اسلام آباد کا پرانا نام راج شاہی تھا
اسلام آباد میں 85 دیہات شامل تھے جو اسلام آباد کی تعمیر سے متاثر ہوئے۔ جن میں تقریباً 50 ہزار افراد آباد تھے۔
شکر پڑیاں بھی ان میں سے ایک گاؤں تھا یہاں دو سو سے زائد گھر تھے جو بالکل اس جگہ پر تھے جہاں آج لوک ورثہ موجود ہے۔ لوک ورثہ کے پیچھے پہاڑی پر اس گاؤں کے آثار آج بھی جنگل میں بکھرے پڑے ہیں۔
85 دیہات کی 45 ہزار ایکٹر زمین جب سی ڈی اے نے حاصل کی تو متاثرین میں اس وقت 16 کروڑ روپے تقسیم کیے گئے جبکہ انہیں ملتان، ساہیوال، وہاڑی، جھنگ اور سندھ کے گدو بیراج میں کاشت کے لیے 90 ہزار ایکڑ زمین بھی الاٹ کی گئی جس کے لیے 36 ہزار پرمٹ جاری کیے گئے۔
ان میں جو بڑے گاؤں تھے ان میں *کٹاریاں* بھی شامل تھا
جو موجودہ شاہراہ ِ دستور اور وزارت خارجہ کی جگہ آباد تھا۔
شکر پڑیاں لوک ورثہ کی جگہ،
بیسٹ ویسٹرن ہوٹل کے عقب میں *سنبل کورک*
مری روڈ پر سی ڈی اے فارم ہاؤسز کی جگہ *گھج ریوٹ*،
جی سکس میں *بیچو*
ای سیون میں *ڈھوک جیون*
ایف سکس میں *بانیاں*
جناح سپر میں *روپڑاں*
جی 10 میں *ٹھٹھہ گوجراں*
آئی ایٹ میں *سنبل جاوہ نڑالہ اور نڑالہ کلاں*
ایچ ایٹ میں *جابو*
زیرو پوائنٹ میں *پتن*
میریٹ ہوٹل کی جگہ *پہالاں*
ایچ ٹین میں *بھیگا سیداں*
کنونشن سینٹر کی جگہ *بھانگڑی*
آبپارہ کی جگہ *باغ کلاں*
اسی طرح راول ڈیم کی جگہ *راول، پھگڑیل، شکراہ، کماگری، کھڑ پن اور مچھریالاں* نامی گاؤں بستے تھے۔
فیصل مسجد کی جگہ *ٹیمبا* اور اس کے پیچھے پہاڑی پر *کلنجر* نام کی بستی تھی۔
شکر پڑیاں میں گکھڑوں کی *بگیال* شاخ کے لوگ آباد تھے جنہیں ملک بوگا کی اولاد بتایا جاتا ہے۔ گکھڑوں نے پوٹھوہار پر ساڑھے سات سو سال حکمرانی کی ہے۔
راولپنڈی کے گزٹیئر 1884 کے مطابق ضلع راولپنڈی کے 109 دیہات کے مالک گوجر اور 62 گکھڑوں کی ملکیت تھے۔🇵🇰🇵🇰🇵🇰

پنجاب کا تاریخی پس منظرپنجاب انسانی آبادی کے لحاظ سے دُنیا کا نہایت ھی قدیم خطہ ھے۔ یہاں پر لاکھوں سال پہلے قدیم پتھر کے...
07/06/2021

پنجاب کا تاریخی پس منظر

پنجاب انسانی آبادی کے لحاظ سے دُنیا کا نہایت ھی قدیم خطہ ھے۔ یہاں پر لاکھوں سال پہلے قدیم پتھر کے زمانے کا انسان آباد تھا جو جنگلی زندگی بسر کرتا تھا اور پتھر کے اوزاروں سے شکار کھیلتا تھا۔ پنجاب میں تاریخی دور کا آغاز آریاؤں کی آمد کے بعد سے ھوا۔

آریاؤں نے پنجاب میں قیام کے دوران کتاب ’’رگ وید‘‘ تصنیف کی۔ اس میں پنجاب کو ’’سپت سندھو‘‘ لکھا گیا ھے۔ سپت کے معنی سات اور سندھو کے معنی دریا کے ھیں۔ ان سات دریاؤں میں سے چھہ دریا ستلج ' بیاس ' راوی ' چناب ' جہلم ' سندھ ھیں۔ جبکہ ساتویں دریا کے بارے میں اختلافِ رائے پایا جاتا ھے۔ بعض کے خیال میں دریائے سرسوتی ھے۔ جبکہ کچھ دریائے کابل کو شامل کرتے ھیں۔

’’سپت سندھو‘‘ کے بعد اس کا نام ’’پنج ند‘‘ مشہور ھوا جس کے معنی پانچ ندیاں یا پانچ دریا ھیں۔ یہ پانچ دریا شندر یعنی ستلج ' ویباس یعنی بیاس ' ایراوتی یعنی راوی ' چندربھاگ یعنی چناب اور وتست یعنی جہلم ھیں۔

پنجاب "پنجند" کا فارسی ترجمہ ھے۔ "پنجند" کا لفظ مہا بھارت اور ما بعد لٹریچر میں بھی مستعمل ھے۔ آج کل "پنجند" اس مقام کو کہتے ھیں جہاں پنجاب کے پانچ دریا ملتے ھیں۔

پنجاب کے بعض علاقوں کے لیے آریہ وات ' بہلیک یا بہیگ کا نام بھی تاریخ میں استعمال ھوا ھے۔ بہلیک یا وھیک پنجاب کا ایک قدیم قبیلہ تھا۔ قبیلوں کے اعتبار سے پنجاب کے بعض مخصوص خطوں کا نام مدر دیس ' مدر قبیلہ کی نسبت سے بھی رھا۔

کورووں اور پانڈووں کی لڑائیوں کے زمرے میں پنجاب کا نام "پنجال" میں بھی ملتا ھے۔ یونانیوں کے عہد میں اس کو ’’پنیٹا پوٹامیہ‘‘ بھی کہا جاتا رھا یعنی پانچ دریاؤں کی سرزمین۔ اس کے بعد اسے ’’ٹکی دیس‘‘ کہا جاتا رھا۔

مشہور چینی سیاح ھیون سانگ کی ساتویں صدی عیسوی میں ھندوستان آمد کے وقت پنجاب کا یہی نام رائج تھا۔ بعض سنسکرتی ماخذوں میں پنجاب کے لیے "پنج امبو" کا لفظ بھی استعمال ھوا ھے۔

"پنج امبو" کے معنی بھی پانچ پانیوں کی سرزمین ھیں۔ مغل بادشاہ اکبر کے عہد میں پہلی بار اس سرزمین کو پنجاب کے نام سے موسوم کیا گیا۔ پنجاب کے مذکورہ تمام قدیم نام صفحۂ ھستی سے معدوم ھو گئے اور اس کا نیا فارسی نام "پنجاب" ھی آج تک زندہ وپائندہ ھے۔

پنج کے معنی پانچ ' آب کے معنی پانی۔ یعنی پانچ پانیوں کی سرزمین۔ عمومی طور پر یہ پانچ دریا ستلج ' بیاس ' راوی ' چناب اور جہلم لیے جاتے ھیں۔ لیکن بیاس کو دریا کے بجائے ایک معاون دریا یا نالہ بھی کہا جاتا ھے اور پنجاب کے پانچ دریا ستلج ' راوی ' چناب ' جہلم اور سندھ لیے جاتے ھیں۔ پنجاب کا یہ دریائی نظام دنیا کا پانچواں عظیم ترین دریائی نظام ھے جو یہاں کے لوگوں کے لیے ایک بیش بہا قدرتی عطیہ ھے۔

خوشحالی کے سبب جو انسان یہاں پیدا ھوا وہ یہیں کا ھو کر رہ گیا۔ خوشحالی کے چرچے سُن کر جو غیر ملکی حملہ آور ' تاجر ' مبلغ اور دوسرے لوگ یہاں آئے وہ بھی یہیں کے ھو کے رہ گئے۔ ان میں دراوڑ ' آریہ ' ایرانی ' چینی ' منگول ' مغل اور عربی شامل ھیں۔ وہ یہاں کا رھن سہن سیکھ گئے۔ پنجاب میں تہذیب وتمدن کا تنوع ان ھی لوگوں کی وجہ سے ھے۔

پنجاب کی سواں تہذیب دنیا کی قدیم ترین تہذیب خیال کی جاتی ھے۔ وادی سواں کے اردگرد کے علاقوں میں انسان کثیر تعداد میں رھتے تھے۔ ان کے زیر استعمال پتھر کے اوزار جگہ جگہ ملے ھیں۔ دریائے سواں دریائے سندھ کا معاون دریا ھے اور راولپنڈی کے قریب بہتا ھے۔ وادیٔ سواں راولپنڈی ' اٹک ' جہلم ' ھزارہ ' سرگودھا اور خوشاب کے اضلاع پر مشتمل ھے۔

سواں صنعت کے پتھریلے اوزاروں میں سب سے زیادہ قابلِ ذکر ’’ٹوکا‘‘ ھے۔ اس قسم کے اوزار دنیا میں اور کہیں بھی نہیں ملے۔ رفتہ رفتہ سواں کی صنعت بھی تبدیل ھوتی گئی۔ پہلے یہ لوگ غاروں رھتے تھے۔ گھاس پھوس اور شاید تنکوں کے خیمے بھی بنائے۔ جانوروں کا شکار کرنے کے بعد ان کی کھالیں لباس کے طور پر استعمال کرتے تھے اور خوراک کا انحصار قدرت پر تھا یعنی نباتات اور حیوانات ھی ان کی خوراک تھی۔

پھر رفتہ رفتہ وہ انسان زراعت سے واقف ھوتا گیا۔ "جدید حجری" دور میں اس نے رگڑائی کے ذریعے پتھر کے متفرق حصوں کو جوڑ کر اوزار بنانے سیکھ لیے۔ اس دور میں لوگ باقاعدہ مکانات بنا کر چھوٹی چھوٹی بستیوں کی شکل میں آباد ھو گئے تھے اور آبادی کا خاصا بڑا حصہ مکمل خانہ بدوشی چھوڑ کر نیم آباد ھو چکا تھا۔ بارش زیادہ ھوتی تھی اور وسیع جنگلات موجود تھے۔

جدید حجری دور کے بعد ’’ابتدائی ھڑپائی‘‘ دور کا آغاز ھوتا ھے۔ اس کا زمانہ چار ھزار سال ق۔م سے لے کر 2370 سال ق۔م مقرر کیا گیا ھے۔ اس دور میں شہری معاشرے کا آغاز ھو گیا ۔ انسان خانہ بدوشی کی زندگی ترک کر کے اجتماعی آبادیوں میں رھائش پذیر ھو گئے تھے۔ انہوں نے پودے اُگانے اور گھروں میں جانور پالنے بھی شروع کر دئیے۔

Address

Nankana Sahib
39000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Guru Nanak University Nankana Sb posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share