14/05/2026
عنوان: چھٹیاں مسئلہ نہیں چھٹیاں تو حل ہیں! اکثر سنا جاتا ہے کہ "تین ماہ کی چھٹیاں ہو گئیں اب بچوں کا وقت کیسے گزرے گا؟" یا "بچے پڑھائی بھول جائیں گے۔" یا اب بچے سارا دن فون استعمال کریں گے" وغیرہ .
بطور ایک #تعلیمی سربراہ میں اس سوچ سے تھوڑا مختلف رخ رکھتی ہوں۔ میرا ماننا ہے کہ 22 مئی سے 22 اگست تک کا یہ وقت مسئلہ نہیں بلکہ ان بہت سے مسائل کا حل ہے جو ہم سال بھر #نصابی بوجھ کی وجہ سے حل نہیں کر پاتے۔
یہ وہ 90 دن ہیں جہاں تعلیم "کتاب" سے نکل کر "عمل" میں ڈھلتی ہے۔ یہ صرف کیلنڈر کی تاریخیں نہیں ہیں یہ ہمارے بچوں کی زندگی کے وہ قیمتی 2160 گھنٹے ہیں جو یا تو انہیں نکھار دیں گے یا انہیں سکرین کا غلام بنا دیں گے۔
بطور ایک تعلیمی سربراہ میں اس خاموشی کو محسوس کر رہی ہوں جو سکول کی گھنٹی بند ہونے سے پیدا ہوتی ہے۔ لیکن یہ خاموشی ہمارے مقصد کو روک نہیں سکتی ہرگزنہیں!
میرا ہم سب سے ایک سوال ہے:
ہم #پرنسپلز، #اساتذہ اور #والدین کب تک ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالتے رہیں گے؟ اگر میں ایک پرنسپل ہوں تو میرا کام صرف نوٹس نکالنا چھٹیوں کے کام اور امتحانات کو چیک کرنا نہیں ھے بلکہ اس خلا کو پر کرنے کی #حکمت عملی دینا ہے۔ جو اگلے تین ماہ ہمارے بچوں اور اساتذہ کے درمیان پیدا ہونے والا ھے ۔
اگر آپ والدین ہیں تو آپ کو یہ سمجھنا ھے کہ آپ کا گھر اب ایک #تجربہ #گاہ (Lab) ہے جہاں بچے نے اخلاق سیکھنے ہیں اسکا کردار بننا ھے اس نے لوگوں کے ساتھ تعلقات بنانا رشتے بنانا اور نبھانا سیکھنا ھے۔
اور اگر آپ #سوشل #میڈیا پر اثر و رسوخ رکھتے ہیں، تو آپ کی ایک ویڈیو کسی بچے کو تعمیری کام پر لگا سکتی ہے یا اسے فضولیت میں غرق کر سکتی ہے۔ اب آپ مواد تحریر کرتے وقت یا ویڈیو بناتے وقت وویورشپ کا خیال کرتے ہیں یا اس کو اپنی اخلاقی ذمہ داری سمجھتے ہوٸے مفید اور معلوماتی کانٹینٹ بناتے ہیں یہ آپکا عمل ھے
میں اپنے ادارے کی حد تک تو ایک لائحہ عمل تیار کر چکی ہوں، لیکن میری فکر اس پوری نسل کے لیے ہے جو ان حالات میں گھروں میں محصور ہوگی۔ آئیے! اس گیپ کو ختم کریں جو سکول اور گھر کے درمیان حائل ہے۔
تعلیم چھٹیوں کی محتاج نہیں ہوتی اور #تربیت کبھی چھٹی پر نہیں جاتی۔
آئیے اس وقفے کو ایک ' #ٹریننگ #کیمپ' کی نظر سے دیکھتے ہیں:
1. فاصلوں کا حل (والدین اور بچہ)
سال بھر کی بھاگ دوڑ میں والدین اور بچوں کے درمیان جو مکالمہ (Communication) ختم ہو جاتا ہے یہ چھٹیاں اسے بحال کرنے کا حل ہیں۔
اصول: گھر میں تین وقت ایک جگہ بیٹھ کر سب کھانا کھاٸیں گےاور کم ازکم ایک کھیل کھیلیں گے دس سے پندرہ منٹ ہر بچے کو انفرادی توجہ ملے گی۔بجٹ کو دیکھتے ہوٸے والدین بچوں کے ساتھ ایک چھوٹی سی آوٹنگ کا پروگرام رکھ سکتے ہیں ۔
2. تربیت کا حل (کردار سازی)
جو اخلاقیات ہم کلاس روم میں صرف لکھواتے ہیں گھر ان کی تجربہ گاہ ہے۔
آئیڈیا: بچے کو گھر کے بجٹ، سودا سلف کی خریداری اور رشتوں کے احترام میں عملی طور پر شامل کریں۔ اسے " #ذمہ #داری" دے کر اس کا اعتماد بحال کریں۔اسے گھر کے بزرگوں کی مدد اور دیکھ بھال کا عادی بناٸیں ۔پرندوں اور جانوروں سے دیکھ بھال سے اس سے اندر ذمہ داری ہمدردی اور محبت کا جذبہ پروان چڑھے گا۔
3. جدید مہارتوں کا حل (Skills)
ہمارا روایتی نظامِ تعلیم ہنر سکھانے میں پیچھے رہ جاتا ہے۔ یہ چھٹیاں اس کمی کو پورا کرنے کا بہترین حل ہیں۔
مشورہ: بچوں کو آرٹ، کوڈنگ، #پبلک #سپیکنگ AI #پرامپٹ #انجینٸرنگ ,کوکنگ , گھریلو ذمہ داریاں یا کوئی بھی جسمانی کھیل سکھائیں انہیں" #صارف" (Consumer) سے " #تخلیق کار" (Creator) بنائیں۔
مذہب سے وابستگی مضبوط کرنا : عید قربان کے موقع پہ قربانی کرنا اور غریب و نادار طبقے کو مکمل ذمہ داری سے گوشت پہنچانا ان میں شکر گزاری اور ہمدری کے جذبات پیدا کرے گا ۔پنجگانہ نماز ,تلاوت قرآن ,مختصر سورتیں و دعاٸیں حفظ کروانا نیز غسل و وضو کے فراٸض جیسے امور سمجھاٸے جاسکتے ہیں
میرا پیغام بطور سربراہِ ادارہ:
میں اپنے اساتذہ اور والدین کو ایک نیا #وژن دینا چاہتی ہوں: ان چھٹیوں کو "گزارنا" نہیں ہے، بلکہ ان کو "استعمال" کرنا ہے۔ ہم نے مل کر اس گیپ کو ختم کرنا ہے جو ایک ادارے اور گھر کے درمیان ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا #انفلوئنسرز سے بھی میری یہی گزارش ہے کہ وہ 'چھٹیوں کے مسائل' پر بات کرنے کے بجائے 'چھٹیوں کے حل' پر مواد بنائیں۔کیوں کہ چھٹیاں دینا یا نہ دینا ہمارے ہاتھ میں نہیں لیکن انکو بامقصد بنانا مکمل ہمارے اختیار میں ھے۔
آئیے ایک اصول طے کریں: 22 اگست کو جب ہمارا بچہ سکول واپس آئے، تو وہ صرف اگلی کلاس کا طالب علم نہ ہو، بلکہ ایک بہتر انسان، ایک ذمہ دار بیٹا/بیٹی اور ایک پُراعتماد شخصیت بن کر لوٹے۔
آپ کے خیال میں وہ کون سا ایک 'مسئلہ' ہے جو ان چھٹیوں میں 'حل' کیا جا سکتا ہے؟ کمنٹس میں ضرور بتائیے۔
ڈاکٹر گلشن زہرا