07/09/2025
سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کانفرنس — گورنمنٹ بوائز انٹر کالج نالیاں
گورنمنٹ بوائز انٹر کالج نالیاں میں منعقد ہونے والی سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کانفرنس ایک ایسی روح پرور محفل تھی جس نے دلوں کو عشقِ رسول ﷺ سے منور کر دیا۔ علم، ادب، اور روحانیت کا حسین امتزاج لیے یہ تقریب اپنے اثرات کے اعتبار سے دیرپا نقوش چھوڑ گئی۔
محفل کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جو حافظ زین الحسن نے نہایت خوش الحانی سے کی۔ ان کے بعد طلباء نے عقیدت سے بھرپور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کیں، جو سامعین کے دلوں میں عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی کیفیت کو مزید گہرا کرتی گئیں۔
نظامت کے فرائض ڈاکٹر یوسف صاحب، لکچرار اردو، نے بڑے شائستہ اور ادبی انداز میں سرانجام دیے۔ ان کی گفتگو میں اردو زبان کی لطافت، بیان کی چاشنی اور سیرتِ نبوی ﷺ کی عظمت جھلک رہی تھی۔ انہوں نے سیرتِ سرورِ کائنات ﷺ کو اردو ادب کے تناظر میں پیش کیا، جس سے حاضرین کو نبی پاک ﷺ کے اخلاقِ حسنہ کو فکری گہرائی کے ساتھ سمجھنے کا موقع ملا۔
اس کانفرنس کے مہمان مقررین میں علم و عرفان کی ممتاز شخصیات شامل تھیں:
مفتی عبدالقدیر سلطانی صاحب جو شہرِ اولیا، ملتان سے خصوصاً اس تقریب میں شرکت کے لیے تشریف لائے۔ آپ نے اپنے خطاب میں نبی کریم ﷺ کے اوصافِ حمیدہ کو بڑے درد دل اور بصیرت کے ساتھ بیان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "سیرتِ طیبہ ﷺ ہر دور کے انسان کے لیے مشعلِ راہ ہے۔"
سید سیف الرحمن کاظمی صاحب نے اپنے پُرجوش اور بلیغ خطاب میں سیرت النبی ﷺ کو عصرِ حاضر کے تناظر میں بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر امت اپنی اصلاح چاہتی ہے تو اُسے سیرتِ رسول ﷺ کی طرف رجوع کرنا ہو گا۔ ان کا اندازِ بیان دل میں اتر جانے والا تھا، جس نے سامعین کو عمل کی دعوت دی۔
جناب اذکار صاحب نے عشقِ مصطفیٰ ﷺ میں ڈوبا ہوا خطاب پیش کیا۔ ان کی زبان سے نکلے الفاظ گویا دلوں پر نقش ہو گئے۔ انہوں نے فرمایا، "محبتِ رسول ﷺ کوئی عام جذبہ نہیں، یہ وہ چراغ ہے جو دلوں کو ظلمت سے نکال کر روشنی عطا کرتا ہے۔"
تقریب میں پی آر او ملک سرفراز صاحب، ماسٹر ملک نثار سمیت مقامی عمائدین نے بھی شرکت کی اور طلباء و اساتذہ کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے پروگرام نوجوان نسل کی فکری و روحانی تربیت کے لیے نہایت اہم ہیں۔
پرنسپل گورنمنٹ بوائز انٹر کالج نالیاں نے تمام مہمانانِ گرامی، طلباء، اساتذہ اور منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے فرمایا کہ "آج کی نوجوان نسل کو سیرتِ رسول ﷺ کی روشنی میں اپنے کردار و عمل کو سنوارنے کی ضرورت ہے۔ یہی ہمارے تمام مسائل کا اصل حل ہے۔"
محفل کا اختتام قاری غلام رسول صاحب کی پُراثر دعا پر ہوا، جس میں انہوں نے امت مسلمہ کی کامیابی، اتحاد اور ہدایت کے لیے دعائیں مانگیں۔ دعا کے الفاظ میں خشوع و خضوع ایسا تھا کہ حاضرین کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔