GPS and GMS Palosi Atozai peshawar

GPS and GMS Palosi Atozai peshawar Live for others

25/01/2026
والدین سکول کو قصوروار کیوں سمجھتے ہیں؟ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں بچہ ہمارا ہوتا ہے، مگر ذمہ داری دوسرو...
24/01/2026

والدین سکول کو قصوروار کیوں سمجھتے ہیں؟

ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں بچہ ہمارا ہوتا ہے، مگر ذمہ داری دوسروں کے کھاتے میں ڈال دی جاتی ہے۔ جیسے ہی بچہ صبح اسکول کے دروازے میں داخل ہوتا ہے، کئی والدین ذہنی طور پر خود کو فارغ سمجھ لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اب فیس ادا ہو چکی ہے، لہٰذا باقی تمام فرائض بھی ادا ہو گئے۔

اب یہ اسکول کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچے کو تعلیم بھی دے، اخلاق بھی سکھائے، تربیت بھی کرے، تمیز بھی دے، ہنر بھی دے، اور اگر ممکن ہو تو ایک مکمل “اچھا انسان” پیک کر کے شام کو واپس کر دے۔ یہ سوچ نہ صرف غلط ہے بلکہ خطرناک بھی ہے، کیونکہ یہ سوچ والدین کو اپنی اصل ذمہ داری سے بری الذمہ کر دیتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اسکول کے پاس بچے کے دن کے صرف چند گھنٹے ہوتے ہیں، اور وہ بھی ایک محدود دائرے میں، ایک طے شدہ نظام کے تحت۔ اسکول نصاب پڑھا سکتا ہے، کچھ عادات سکھا سکتا ہے، کچھ حدود متعین کر سکتا ہے، مگر وہ بچے کی پوری شخصیت نہیں بنا سکتا۔ انسان کی تعمیر کوئی ایک جگہ، ایک ادارہ یا ایک فرد نہیں کرتا، بلکہ یہ ایک مسلسل عمل ہے جس میں بچے کے اردگرد موجود ہر چیز شامل ہوتی ہے۔ بچہ جو کچھ دیکھتا ہے، جو سنتا ہے، جس ماحول میں سانس لیتا ہے، وہ سب اس کے اندر جمع ہوتا رہتا ہے۔

بچہ اصل میں گھر میں بنتا ہے۔ ماں باپ کے رویّے، ان کی گفتگو، ان کا غصہ، ان کی برداشت، ان کا سچ، ان کا جھوٹ، یہ سب لاشعوری طور پر بچے کے اندر منتقل ہوتا ہے۔ بہن بھائیوں کا لہجہ، رشتہ داروں کا انداز، گھر کا مجموعی ماحول، یہ سب بچے کی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اس کے بعد گلی محلہ آتا ہے، جہاں وہ مختلف لوگوں کو دیکھتا ہے، مختلف زبانیں سنتا ہے، مختلف رویّے سیکھتا ہے۔ بازار سے گزرتے ہوئے، ٹرانسپورٹ میں بیٹھتے ہوئے، دکانوں کے سامنے رکتے ہوئے، وہ ایسی آوازیں اور مناظر دیکھتا ہے جو اس کے ذہن پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔

پھر ہمارے دور کا سب سے طاقتور استاد آتا ہے: اسکرین۔ موبائل فون، ٹی وی، کارٹون، یوٹیوب اور سوشل میڈیا۔ یہ سب وہ عوامل ہیں جو دن کے کئی گھنٹے بچے کی سوچ، زبان، ردعمل اور رویّے کو شکل دیتے ہیں۔ ایک بچہ جب موبائل کے سامنے بیٹھتا ہے تو وہ صرف وقت ضائع نہیں کر رہا ہوتا، وہ ایک خاص قسم کی دنیا اپنے اندر اتار رہا ہوتا ہے۔ وہ دنیا جس میں چیخ ہے، جلدی ہے، ضد ہے، غصہ ہے اور غیر ضروری خواہشات ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر بچہ یہ سب کچھ چوبیس گھنٹوں میں جذب کر رہا ہے تو کیا صرف چھ گھنٹے کا اسکول اس سب کا توڑ کر سکتا ہے؟

یہاں ذرا انصاف سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ اگر گھر کا ماحول خراب ہو، گفتگو تلخ ہو، والدین خود موبائل میں گم ہوں، بچے کو وقت نہ دیا جائے، اس کے سوال نہ سنے جائیں، اس کے احساسات کو نظر انداز کیا جائے، اور پھر یہ توقع رکھی جائے کہ اسکول جا کر وہ خودبخود سدھر جائے گا، تو یہ ایک فریب ہے۔

اسکول ذمہ دار ضرور ہے، مگر وہ والدین کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ استاد بچے کو راستہ دکھا سکتا ہے، مگر اس راستے پر چلانا والدین کا کام ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ یہ بچہ اسکول کا نہیں، آپ کا ہے۔ اس کا مستقبل فیس سے نہیں بنتا، ماحول سے بنتا ہے۔ اس کی زبان، اس کی سوچ، اس کا رویّہ، اس کا اخلاق — یہ سب کچھ اس وقت بنتا ہے جب وہ اسکول سے باہر ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے ہر کمی، ہر خرابی اور ہر ناکامی کا الزام صرف اسکول پر ڈال دیں گے تو نہ بچہ سنورے گا، نہ نظام بہتر ہو گا، اور نہ ہی معاشرہ آگے بڑھے گا۔

یاد رکھئے، تعلیم اسکول دیتا ہے، مگر انسان گھر بناتا ہے۔ جب تک والدین یہ حقیقت تسلیم نہیں کریں گے، تب تک ہم اسکول کو کٹہرے میں کھڑا کرتے رہیں گے اور خود بری الذمہ بنتے رہیں گے۔ اور یہ رویّہ سب سے زیادہ نقصان اسی بچے کو پہنچاتا ہے، جس کے نام پر ہم سب ایک دوسرے پر الزام ڈال رہے ہوتے ہیں۔

چونکہ پہلا سیمسٹر کے امتحانات ختم ہو چکے تھے اور سردیوں کی چھٹیاں بھی اختتام کو پہنچ گئی تھیں، اس لیے ہم نے اپنی جماعت پ...
17/01/2026

چونکہ پہلا سیمسٹر کے امتحانات ختم ہو چکے تھے اور سردیوں کی چھٹیاں بھی اختتام کو پہنچ گئی تھیں، اس لیے ہم نے اپنی جماعت پنجم کے لیے چائے کا ایک خوبصورت پروگرام منعقد کیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کی حوصلہ افزائی اور خوشی کا اظہار کرنا تھا۔
تمام بچوں نے خوش دلی سے شرکت کی اور پروگرام سے خوب لطف اندوز ہوئے۔
یہ لمحے بچوں کے لیے یادگار بن گئے اور اُن کے چہروں پر مسکراہٹ نظر آئی۔

16/01/2026
Old kpk book
05/01/2026

Old kpk book

1. فرسٹ سمسٹر کے شاندار نتائج کے بعد بچوں کو پشاور زو کی سیر کروائی گئی۔  2. بچوں نے خوشی خوشی مختلف جانوروں کو دیکھا او...
01/01/2026

1. فرسٹ سمسٹر کے شاندار نتائج کے بعد بچوں کو پشاور زو کی سیر کروائی گئی۔
2. بچوں نے خوشی خوشی مختلف جانوروں کو دیکھا اور ان کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
3. زو میں بچوں نے شیروں، ہرنوں، پرندوں اور بندروں کو دیکھ کر خوب لطف اٹھایا۔
4. اس تعلیمی تفریحی دورے نے بچوں کی معلومات میں اضافہ کیا اور ان کے چہروں پر خوشی بکھیر دی۔
5. ٹرپ نے بچوں کو قدرت کی مخلوقات سے محبت اور حفاظت کا درس دیا۔

01/01/2026

Address

Peshawar

Telephone

+923159509311

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when GPS and GMS Palosi Atozai peshawar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share