Pakistan Environment, Research and Development

Directions Website Contact the university

Pakistan Environment, Research and Development The purpose of this page is yo share environment related information of Pakistan.

There is no Invocation to relieve any physical ailmentکسی بھی جسمانی تکلیف کو دور کرنے کے لیے کوئی دم نہیں ہے۔اکثر لوگ س...
26/09/2026

There is no Invocation to relieve any physical ailment
کسی بھی جسمانی تکلیف کو دور کرنے کے لیے کوئی دم نہیں ہے۔
اکثر لوگ سر درد، گردے کے درد، یرقان اور بہت سی بیماریوں کے لیے دم تجویز کرتے ہیں۔ بہت سارے لوگ 🐍 اور بچھو 🦂 کے ڈسنے کے لیے بھی دم تجویز کرتے ہیں۔ اصل میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ دم اور چوف سے نہ کوئی صحت یاب ہوا ہے اور نہ ہو گا۔ جو بھی شکایت ہو سیدھا ہسپتال جائیں اور اچھے سے معالج سے رجوع کریں۔
اکثر لوگ احادیث مبارکہ کا حوالہ دیتے ہیں۔ وہ صرف دعا ہے، جو مریض کے حق میں دی جاتی ہے۔ اس سے علاج نہیں ہوتا۔ علاج کے لیے طبیب، ڈاکٹر اور حکیم جیسے علم والوں سے رابطہ کرنا ہے۔ علاج شروع ہو جائے تو پھر ساتھ خداوند تعالیٰ سے دعا بھی کی جاتی ہے، تاکہ جلد شفا ملے۔ اس سلسلے میں جامعہ بنوری کے کئی فتوات موجود ہیں، جس سے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
اس ضمن میں اپنا ایک واقع بیان کر دوں۔ میرے ایک دوست کو بچھو 🦂 نے کاٹا۔ ہم نے اسکا ہاتھ فوراً باندھ لیا۔ میں نے اسے کہا، چلو ہسپتال جاتے ہیں۔ اس نے کہا، نہیں پہلے دم کرتے ہیں۔ پھر میں نے کہا کہ مجھے اجازت دیں کہ ڈسنے والی جگہ پر بلیڈ سے کٹ لگاتا ہوں، تاکہ زہر خون کے ساتھ باہر آ جائے۔ لیکن وہ نہیں مانا۔
ہم دم والے کے پاس گئے۔ اس نے ہاتھ کھول دیا۔ اور دم کرنے لگا۔ دم کے دوران زہر ہاتھ سے ہوتا ہوا سینے اور سر تک پہنچ گیا۔
دم کے بعد وہ چلنے سے بھی قاصر رہا۔ بہت مشکل سے ہسپتال پہنچا دیا۔ ڈاکٹر موقع پر موجود تھا۔ اس نے بھی دو تین جگہ کٹ لگا دیا، لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ پھر ڈاکٹر نے ڈرپ لگایا اور درد دور کرنے کے لئے انجیکشن تجویز کی۔
کوئی پانچ گھنٹے کے بعد ہم اس قابل ہوئے کہ اس کو گھر پہنچا دیا۔ وہ تقریباً دو تین دن انتہائی تکلیف میں رہا۔
اکثر سانپ 🐍 کے ڈسنے کے بعد اگر دم کریں۔ تو مشاہدے میں آیا ہے کہ وہ ٹھیک ہو جاتا ہے۔ ایسا ہر گز نہیں ہے۔ سانپ کے اقسام ہوتے ہیں۔ سارے سانپ زہریلے نہیں ہوتے۔ اس لئے چند ایک لوگ دم کرنے سے ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ لیکن اگر سانپ زہریلا ہو اور وقت پر ہسپتال نہیں پہنچا۔ تو جتنی مرضی دم کرو۔ وہ موت سے نہیں بچ سکتا۔
بہت سارے کیسیز میں ڈاکٹر بھی نہیں بچا سکتے۔ لیکن پھر بھی وقت پر فرسٹ ایڈ دینے سے گزارا ہو جاتا ہے۔ لیکن دم سے تو بلکل بھی ٹھیک نہیں ہوتا۔
آپ اپنے آس پاس دیکھ لیں، کتنے لوگ سانپ کے ڈسنے کے بعد بچ گئے ہیں اور یہ بھی دیکھ لیں کہ کس وجہ سے بچے ہیں۔
: اگر کسی کا دم پر یقین ہے، اور اس کے خیال میں اس سے کوئی جسمانی تکلیف دور ہو سکتی ہے، یا کسی مرض کا علاج ہو سکتا ہے۔ تو وہ اپنا دم اور چوف جاری رکھ سکتے ہیں۔ لیکن اس کو اپنی ذات تک محدود رکھیں۔ دوسروں پر مت آزمائیں۔


Nafees Mohammad , University of Peshawar

26/09/2026

جو بھی دکاندار، کہہ دے کہ اگر دو مہینے سے پہلے خراب ہوا پیسے واپس، یا وہ چیز تبدیل کر دوں گا۔
ایسے دکاندار سے کبھی بھی کوئی چیز نہیں خریدنا۔ یہ جھوٹا ہوتا ہے

پاکستان میں شمسی توانائی کے فروغ سے مشترکہ بجلی نظام کی راہ ہموار روزنامہ آج، مورخہ 23 ستمبر، 2026اسلام آباد (آئی این پی...
23/09/2026

پاکستان میں شمسی توانائی کے فروغ سے مشترکہ بجلی نظام کی راہ ہموار
روزنامہ آج، مورخہ 23 ستمبر، 2026

اسلام آباد (آئی این پی) پاکستان میں گھروں کی چھتوں پر سولر پینلز اور بیٹریوں کے تیزی سے بڑھتے استعمال نے اجتماعی بجلی نظام کی راہ ہموار کر دی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس ماڈل کے تحت لاکھوں نجی ملکیت والے توانائی کے وسائل کو ایک مربوط نظام کے ذریعے چلایا جا سکتا ہے جس سے صارفین کے اخراجات کم ، بجلی کے نظام میں لچک بہتر اور مقامی سطح پر بجلی کی خرید و فروخت کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس تصور کے تحت ہر گھر کا سولر نظام اور بیٹری الگ الگ چلانے کے بجائے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے صارفین کے گروپس کو منسلک کیا جاتا ہے تا کہ اضافی بجلی کو مقامی سطحپر ذخیره ، تقسیم یا فروخت کیا جاسکے۔ بڑے پیمانے پر ان وسائل کو ورچوئل پاور پلانٹ وی پی پی کے ذریعے یکجا کیا جاسکتا ہے جو قومی گرڈ کو بجلی یا نظام میں لچک درکار ہونے پر اجتماعی طور پر رد عمل دے سکتا ہے۔ پاکستان میں تقسیم شدہ توانائی کے وسائل میں اضافے کے محمد باعث یہ ماڈل مزید اہمیت اختیار کر رہا ہے۔ پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے تجزیے کے مطابق مالی سیال 2025 میں ملک کی تقریبا 27 فیصد بجلی تقسیم شدہ سولر نظام سے حاصل ہوئی جس میں تقریبا 51 ٹیرا واٹ گھنٹے بجلی کی پیداوار شامل ہے جو بڑی حد تک گرڈ سے متعلق اعداد و شمار میں نظر نہیں آتی۔ سولر توانائی کے ساتھ بجلی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بھی بڑھ رہی ہے۔ رینیوا یہبلی فرسٹ کے مطابق کیلنڈر سال 2025 میں تھیم آئن بیٹریوں کے توانائی ذخیرہ کرنے والے نظام کی درآمدات تقریبا 4.6 گیگا واٹ گھنٹے تک پہنچ گئیں جو سالانہ بنیاد پر 220 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صارفین صرف دن کے وقت سولر بجلی پیدا کرنے کے بجائے اسے ذخیرہ کرنے اور بہتر انداز میں استعمال کرنے کی جانب بھی بڑھ رہے ہیں۔ اس صورتحال میں بنیادی معاشی سوال یہ ہے کہ مجھی سرمایہ کاری سے خریدے گئے یہ توانائی کے وسائل انفرادی گھروں کے علاوہ مجموعی طور پر مزید معاشی قدر کیسے پیدا کر سکتے ہیں۔ پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فارا یکوٹیبل ڈیولپمنٹ کی ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں اجتماعی

گرڈ کے انتظامات تکنیکی طور پر قابل عمل ہیں، تاہم دونوں علاقوں میں اس ماڈل کی معاشی صورتحال مختلف ہے۔ ماہرین کے مطابق اصل موقع اس بات میں ہے کہ مختلف مقامات پر بکھری ہوئی بجلی کی پیداوار اور ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو ایک مربوط وسیلے میں تبدیل کیا جائے ، بجائے اس کے کہ صرف مزید سولر نظام نصب کیے جائیں۔ پاور ڈویژن کے توانائی مشیر سید فیضان شاہ نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان لاکھوں انفرادی تقسیم شدہ توانائی وسائل سے ایسے مربوط نظام کی جانب بڑھ سکتا ہے جہاں گھروں کے سولر نظام ، بیٹریاں، برقی گاڑیاں اور بجلی کی طلب میں لچک رکھنے والے آلات کو ورچوئل پاور پلانٹس کے ذریعے یکجا کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح تقسیم شدہ توانائی کے وسائل ایک مشترکہ بجلی کے ذریعے کے طور پر کام کر سکتے ہیں جس سے صارفین کی پہلے سے کی گئی سرمایہ کاری سے زیادہ فائدہ حاصل ہوگا اور گھروں اور کاروباری اداروں کو بجلی کے نظام میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔

ایچ ای سی کی تحقیقی سرگرمیاں روزنامہ آج، مورخہ 23 ستمبر، 2026کچھ عرصہ قبل پاکستان کے ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) نے ملک بھ...
23/09/2026

ایچ ای سی کی تحقیقی سرگرمیاں
روزنامہ آج، مورخہ 23 ستمبر، 2026
کچھ عرصہ قبل پاکستان کے ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) نے ملک بھر کے ماہرین تعلیم کیلئے 355 قومی جرنلز ( تحقیقی رسائل) کی فہرست اور بین الاقوامی جرنلز کی درجہ بندی جاری کی، جس کا اطلاق یکم اپریل 2026 سے 31 دسمبر 2027 تک ہو گا فہرست میں شامل یہ جرنلز ماہرین تعلیم کیلئے اپنی تحقیق شائع کرنے کے ایسے ذرائع ہیں جنہیں متعدد تعلیمی فوائد جیسے ترقی ، تقرری ، مراعات تحقیقی گرانٹس میں اضافہ اور فیلوشپ کے مواقع وغیرہ کیلئے تسلیم کیا جاتا ہے۔ منظور شدہ قومی جرنلز کی موجودہ فہرست گزشتہ فہرست کے مقابلے میں HEC کی ان قابل ستائش کوششوں کی عکاسی کرتی ہے جن کے تحت جرنلز کو دو اہم پہلوؤں کی بنیاد پر شارٹ لسٹ کیا گیا ہے اول فہرست میں شامل زیادہ تر جرنلز (203) کا تعلق قومی یونیورسٹیوں سے ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ HEC نے ملک بھر کی یونیورسٹیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ اپنے تحقیقی کلچر کو مضبوط بنائیں دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فہرست میں سب سے زیادہ جرنلز یو نیورسٹی آف دی پنجاب کے ہیں، جس کے بعد یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی اور یونیورسٹی آف لاہور کا نمبر آتا ہے۔ اگر چہ اس سے یونیورسٹیوں کی سطح پر تحقیقی شراکت میں نمایاں فرق ظاہر ہوتا ہے لیکن یونیورسٹیوں نے کامیابی کے ساتھ اپنے جرنلز کو موجودہ فہرست میں شامل کروایا ہے مزید برآں ایچ ای سی نے جرنلز کے دوبارہ جائزے کیلئے اپیلیوں کا راستہ بھی کھول دیا ہے جس سے یونیورسٹیوں کے جرنلز کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے دوم گزشتہ فہرست میں 720 تحقیقی جرنلز شامل تھے، جن میں سے اکثریت کا تعلق آزاد اداروں ، کمپنیوں اور دیگر تنظیموں سے تھا۔ اس سالا بیچ ای سینے جرنلز کے جائزے کا زیادہ سخت عمل اپنایا ہے جس کا ثبوت صرف 355 جرنلز کو تسلیم کرنے کا فیصلہ ہے یہ بات قابل غور ہے کہ ایچ ای سی کو اس بار ممکنہ طور پر زیادہ درخواستیں موصول ہوئی ہوں گی ؟ اگر زیادہ جرنلز منظور کئے جاتے تو تعداد گزشتہ فہرست سے بھی زیادہ ہو سکتی تھی لیکن صرف 355 جرنلز کو فہرست میں شامل کرنا سخت جانچ پڑتال کی عکاسی کرتا ہے ایچ ای سی کی جانب سے اٹھایا گیا ایک اور دلچسپ قدم بہت سے ایسے پریڈیٹری غیر معیاری یا مشکوک تحقیقی جرنلز کا اخراج ہے جن کے پیٹر ریویو" (ماہرین کی جانچ پڑتال ) کا عمل انتہائی مشکوک تھا تا ہم ایچ ای سی مصنفین کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ صرف قومی سطح پر تسلیم شدہ جرائد میں شائع کریں، لیکن یہ جرائد کو عالمی انڈیکسنگ ڈیٹا میں ایجنسیوں جیسے اسکو پس ، ویب آف سائنس کے بین الاقوامی معیارات پر پورا اترنے کی ترغیب نہیں دیتا۔ WoS انڈیکسڈ جرنلز اعلیٰ زمروں ایکس اور ڈبلیو میں آتے ہیں، جبکہ 342 پاکستانی جرائد اس وقت نچلے وائی زمرے میں آتے ہیں، ایچ ای سی کو پیروی کرنے کیلئے ایک فریم ورک تیار کرنا چاہیے جیسا کہ اگر کسی جریدے نے معیارات کی خلاف ورزی کی ہے تو اسے بار بار ڈی لسٹ کرنا اور اسے ہٹانے کا اعلان سوشل میڈیا اور ایچ ای سی کے پورٹل پر بڑے پیمانے پر کیا جانا چاہیے ایک جریدہ کتنے سالانہ شمارے شائع کر سکتا ہے اور ہر شمارے میں شائع کئے جانیوالے مضامین کی تعداد کی حد بھی مقرر کی جانی چاہیے یہ نئے یا موجودہ جرائد کو شامل کرنے کیلئے ایپلی کیشنز کی کالوں کو روک دے گا۔ ( بشکریہ دی نیوز تلخیص محمد سہیل یوسلوئی )

High fees are making Malam Jabba less attractive to tourists. Local residents own the land, while corporate groups recei...
21/09/2026

High fees are making Malam Jabba less attractive to tourists. Local residents own the land, while corporate groups receive most of the profits.
مالم جبہ میں سیاحت کو فروغ کی بجائے حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ زمین مقامی لوگوں کی، منافع کارپوریٹ مافیا کا
سوات میں مالم جبہ کے مقام پر سیاحوں کے لئے کچھ انتظام کیا گیا ہے۔ جس میں کھانے پینے اور رہائش کے علاؤہ بچوں کے لئے کھیل کھود کا بھی بندوست شامل ہیں۔ سننے میں آیا ہے کہ مالم جبہ کی ضرف انٹری فیس دو ہزار ایک سو ہے۔ میں تقریباً 2007 میں گیا تھا تو ان دنوں فیس نہیں تھی۔ اور رات ٹھہرنے کے لئے مقامی لوگ اپنے گھروں میں خالی کمرے بہت سستی قیمت پر دیتے تھے۔ خیر ہمارا پروگرام رات کا نہیں تھا، اسلئے مجھے ان کمروں کی کوالٹی کا زیادہ معلوم نہیں۔ لیکن مالم جبّہ کے ہوٹل مالکان کے لیے یہ بات پریشان کن ضرور تھی۔
پھر سوات پر برے دن بھی ائے۔ جس میں مالم جبّہ میں موجود ہوٹل کو بھی بہت نقصان پہنچایا گیا۔ لہذا یہ بات قابل تعریف ہے کہ مالم جبہ ٹورسٹ سپاٹ کو دبارہ زندہ کیا گیا۔ اور یہاں کی رونقیں دبارہ بحال کیا گیا۔
لیکن اس رونق کی بحالی کا کچھ قیمت بھی اداکرنا ہے۔ انٹری فیس دینے کے بعد اندر جائیں ت چیئر لفٹ کا احتمام کیا گیا ہے۔ جس کی فیس ڈھائی ہزار تک ہے۔ اس طرح زیپلین، سوینگ، ٹرمپولین کی الگ الگ فیس ہے جو چار ہزار تک پہنچ جاتا ہے۔ بچوں کے لئے کچھ ہلکے پھلکے سہولیات ہیں جس میں جمپنگ کاسل، آرچری، وال کلائمبنگ، لیف فیتھ، اور ہارس رائڈنگ شامل ہیں۔ جس کی فیس پانچ سو سے کم ہے۔ ان تفریحی سازوں و سامان کی موجودگی خوش آئند ہے۔ لیکن ہمیں آپنے جیب کے علاؤہ دوسروں کے جیبوں کا بھی اندازہ کرنا چاھیئے۔ ایسا نہ ہو کہ مالم جبہ کی وجہ سے سوات کا رخ ہی نہ کریں۔ اگر یہ عام آدمی کے لئے مہنگے ہیں تو اس سے سیاحت کو نقصان ہوگا۔
جو اعتراض اٹھایا جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ سوات کا خوبصورت سیاحتی مقام مالم جبہ، جو کبھی اپنی قدرتی خوبصورتی اور سواتی مہمان نوازی کی وجہ سے ہر خاص و عام کا پسندیدہ مرکز تھا، آج عام پاکستانیوں اور خود وہاں کے مقامی باشندوں کے لیے ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔ سیاحت کے فروغ کے نام پر وہاں جو کاروباری ماڈل اپنایا گیا ہے، وہ نہ صرف مڈل کلاس سیاحوں کی جیب پر بھاری ہے بلکہ مقامی معیشت کا گلا بھی گھونٹ رہا ہے۔
سیاحت یا عام آدمی کی پہنچ سے باہر تفریح؟
مالم جبہ پہنچتے ہی ایک عام خاندان کا استقبال 2,100 روپے فی کس کی بھاری انٹری فیس سے ہوتا ہے۔ چلو، اگر کوئی یہ فیس بھر کر اندر چلا بھی جائے، تو اندر موجود سرگرمیاں جیسے چیئر لفٹ، زیپ لائن، سوئنگ اور ہارس رائڈنگ وغیرہ میں سے ہر ایک کے لیے مزید 400 سے 500 روپے فی کس الگ سے دینے پڑتے ہیں۔ اب آپ خود حساب لگائیں، ایک متوسط طبقے کا 5 افراد کا خاندان صرف چند گھنٹے مالم جبہ گھومنے کے لیے 15 سے 20 ہزار روپے کہاں سے لائے؟ نتیجہ؟ لوگ مالم جبہ جانے کے بجائے سوات کے دیگر علاقوں کا رخ کر رہے ہیں، جس سے اس خوبصورت مقام کی سیاحت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
مقامی آبادی کا معاشی قتل اور ہوم سٹیز پر پابندی
کہانی صرف مہنگے ٹکٹوں تک محدود نہیں، بلکہ اس کا ایک اور دردناک پہلو بھی ہے۔ 2015 تک مالم جبہ کے مقامی غیرت مند اور مہمان نواز لوگ اپنے گھروں کے اضافی کمرے سیاحوں کو بہت ہی مناسب قیمت پر کرائے پر دیتے تھے۔ اس سے دوہرے فائدے تھے۔ ایک تو غریب سیاح کو سستی رہائش مل جاتی تھی، دوسرا کمانے والا پیسہ کسی کارپوریٹ مافیا کے بجائے براہِ راست مقامی غریب خاندان کے چولہے کو جلانے کے کام آتا تھا۔
لیکن جب سے وہاں پر ایک بڑا لگژری ہوٹل اور ریزورٹ بنا ہے، مقامی لوگوں کے ان "ہوم سٹیز" پر مختلف بہانوں سے پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ اس کا مقصد بلکل صاف ہے۔ وہ یہ کہ لوگ صرف ہوٹل میں ٹھریں۔ تاکہ سیاح مجبوراً مہنگے ہوٹلوں میں ہزاروں روپے رات کے حساب سے کمرے لیں۔ سیاحت پر سب سے پہلے حق وہاں کے مقامی لوگوں کا ہوتا ہے۔ لیکن ہم اس چیز کی نفی کرتے ہیں۔ سڑکیں اور انفراسٹرکچر ہمارے ٹیکس کے پیسوں کا، لیکن منافع صرف چند سرمایہ داروں کی جیب میں جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج مالم جبہ کا مقامی باشندہ اس نام نہاد ترقی سے خوش نہیں ہیں۔
حکمت عملی کیا ہونی چاہیے؟ (ہماری تجاویز)
اگر ہم مالم جبہ کو واقعی ایک کامیاب اور پائیدار ٹورسٹ سپاٹ بنانا چاہتے ہیں، تو حکومتِ خیبر پختونخوا اور ٹورازم اتھارٹی کو فوری طور پر نوٹس لینا چاھیئے اور درج ذیل اقدامات پر عمل کرنا چاھیئے:
انٹری فیس اور سرگرمیوں کا پیکیج: بنیادی انٹری فیس کو فوری طور پر کم کیا جائے یا پھر اسی فیس کے اندر چیئر لفٹ یا کم از کم ایک دو سرگرمیاں شامل کی جائیں۔ انٹری فیس دو سو روپئے سے زیادہ نہ ہوں۔ فیملی کے لیے رعایتی فیملی پیکیجز متعارف کروائے جائیں۔ مثلآ اگر ایک فیملی پانچ سے زیادہ ہو تو پھر ایک فیملی کو کاؤنٹ کیا جائے، نہ کہ فیمیلی کے افراد کو۔ پیکج تنا ہو، جو وہ بہ آسانی ادا کر سکے۔
کمیونٹی بیسڈ ٹورازم کی بحالی: مقامی لوگوں پر عائد بلاجواز پابندیاں ختم کی جائیں۔ حکومت ان کے گھروں کو رجسٹرڈ کرے، انہیں ٹریننگ دے اور دوبارہ ہوم سٹیز کھولنے کی اجازت دے تاکہ ہر بجٹ کا سیاح وہاں رات گزار سکے۔
ریگولیٹری کمیٹی کا قیام: ہوٹلوں کے کرایوں اور کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی سخت نگرانی ہونی چاہیے تاکہ وہاں کسی ایک کمپنی یا فرد کی اجارہ داری نہ ہو۔
بنیادی سہولیات کی مفت فراہمی: پینے کا صاف پانی، واش رومز اور بچوں کے لیے اوپن پلے ایریاز ریزورٹ کے اندر بالکل مفت ہونے چاہئیں تاکہ جو مہنگی سرگرمیاں افورڈ نہیں کر سکتے، وہ بھی مایوس نہ لوٹیں۔
سیاحت تب ترقی کرتی ہے جب اس کا فائدہ وہاں کے چوکیدار، دکاندار، گائیڈ اور عام شہری کو پہنچے۔ جب تک ہم مقامی لوگوں کو ترقی کا حصہ نہیں بنائیں گے اور سیاحت کو عام پاکستانی کے لیے سستا نہیں کریں گے، تب تک پائیدار سیاحت کا خواب ادھورا رہے گا۔
Shah Rukh Khan, University of Peshawar

آمدنی اور اخراجات میں توازن کی ضرورت پر کالمتحریر پریشان داؤدزئی روزنامہ آج، مورخہ 21 ستمبر، 2026
21/09/2026

آمدنی اور اخراجات میں توازن کی ضرورت پر کالم
تحریر پریشان داؤدزئی
روزنامہ آج، مورخہ 21 ستمبر، 2026

Pakistan's Important Mountain Ranges and Climate Change Challenges Facing Mountain Communitiesپاکستان کے مشہور پہاڑی سلس...
20/09/2026

Pakistan's Important Mountain Ranges and Climate Change Challenges Facing Mountain Communities
پاکستان کے مشہور پہاڑی سلسلے: موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں پہاڑی لوگوں کے بڑھتے ہوئے مسائل پر ایک نظر
تحریر پروفیسر ڈاکٹر محمد نفیس, شعبہ ماحولیات، جامعہ پشاور
ماحولیات اور انسان کے لیے پہاڑ بہت اہمیت کے حامل ہے۔ سورہ النباء آیت نمبر سات میں پہاڑ کو میخ سے تشبیہ دی ہے۔ جبکہ سورہ نحل آیت نمبر پندرہ میں پہاڑ کو توازن برقرار رکھنے والا بوج کہا گیا ہے۔ میخ لوہے یا لکڑی کے اس ٹکڑے کو کہتے ہیں جو دو ٹکڑے آپس میں ملائیں اور جوڑے رکھے۔ ہم ماحولیات میں پہاڑ کی اہمیت کو دیکھ لیں تو یہ زمینی حصے کو فضائی حصے سے ملانے اور اس کو آپس میں جوڑے رہنے کا کام کرتے ہیں۔ توازن برقرار رکھنے کے لئے گلیشیر کی مثال دی جا سکتی ہے۔ پہاڑ فضاء سے برف کی شکل میں پانی کو جمع کر کے دائمی دریاؤں کو دوام بخشتا ہے۔ اگر پہاڑوں کو ہٹایا جائے تو پھر صرف بارش یا برف باری کے دوران ہی پانی دستیاب ہوگی اور پانی کے سائیکل میں روانی ختم ہو جائے گی۔ بلکہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ برف باری ہوگی ہی نہیں۔ فضاء سے پانی بارش کی صورت میں برسے گی اور جمع ہوئے بغیر بہہ کر گزر جائے گی۔ ان دو مثالوں سے پہاڑوں کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس طرح پہاڑ کئی فنکشن انجام دیتے ہوئے زمین کو سرسبز اور صحت مند رہنے میں مدد دیتے ہیں۔

پاکستان کی تقریباً پچاس فیصد علاقہ پہاڑوں پر مشتمل ہے۔ کچھ سٹڈیز کے مطابق تقریبا 61 فیصد حصہ پہاڑی ہے۔ یہ پہاڑی سلسلے ایک طرف زرخیزی اور قدرتی حسن کا باعث ہیں۔ تو دوسری طرف ماحولیاتی حساسیت میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ پہاڑ میں مختلف تہذیبوں کے لوگ آباد ہیں۔ جو کے رہن سہن، طور طریقے اور پرانے رسم ورواج کے لئے مشہور ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ ٹورزم کے لیے ان پہاڑی علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔
2010 کے عداد و شمار کے مطابق 40 میلین لوگ پہاڑوں میں رہتے تھے۔ اس وقت پاکستان کی آبادی 194.5 میلین تھی۔ اس حساب سے 20.56 فیصد آبادی پہاڑوں میں رہائش پذیر تھی۔ 2025 میں پہاڑی آبادی 52.5 میلین تک پہنچ چکی ہے۔ آبادی میں مسلسل اضافے کی وجہ سے پہاڑوں کے قدرتی ذرائع دباؤ کا شکار ہیں۔ جس کی وجہ سے ماحولیاتی مسائل میں روز بروز شدت آرہی ہے۔
پاکستان میں کل تیرا پہاڑوں سلسلے ہیں۔ ہر پہاڑی سلسلے کے اپنے خصوصیات، اہمیت اور مسائل ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے کہ ان کو الگ الگ پیش کریں۔ جس کی تفصیل نیچے درج ہے۔
قراقرم یہ پہاڑی سلسلہ کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقوں میں موجود ہے۔ یہ سلسلہ پانچ سو کلومیٹر تک لمبا ہے جس کا کچھ حصہ افغانستان اور تاجکستان تک جا پہنچتا ہے۔ اس میں بڑے بڑے گلیشئیر موجود ہیں۔ اس کے پندرہ ہزار مربع کلومیٹر حصہ پر گلیشیر پھیلے ہوئے ہیں۔ جس میں سیاچن گلیشیر اور بیافو گلیشیر قابل ذکر ہیں۔ ان گلیشیر کی لمبائی بالترتیب 76 اور 63 کلومیٹر ہے۔
اس پہاڑی سلسلے اور اس میں رہنے والوں کو کم درجہ حرارت کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ گلیشیر کا پگھلاؤ، پینے کی پانی کی کمی، صحت عامہ، غربت اور بے روزگاری بڑے بڑے مسائل ہیں۔
ہمالیہ: یہ پہاڑی سلسلہ چھ ممالک میں پھیلا ہوا ہے۔ جس میں افغانستان، پاکستان، ہندوستان، نیپال، چین، اور بھوٹان شامل ہیں۔ اس کی کل لمبائی دو ہزار چار سو تک ہے۔ یہ پہاڑی سلسلہ چار شاخوں پر مشتمل ہے۔ جو سوالیک، زیریں ہمالیہ، گریٹ ہمالیہ،اور تبتن مالیہ کے ناموں سے مشہور ہیں۔ پاکستان کے بڑے بڑے دریا اسی پہاڑ سلسلے سے نکلتے ہیں۔ اس میں دریائے سندھ، راوی، ستلج، بیاس، جلہم، چناب، شامل ہیں۔ ہمالیہ میں کل 15 ہزار تک گلیشیر ہیں۔
ہندو کش: یہ پہاڑی سلسلہ پاکستان، افغانستان اور تاجکستان کے شمال اور شمال مشرقی میں پھیلا ہوا ہے۔ اس کی کل لمبائی أٹھ سو کلومیٹر تک ہے۔ پاکستان میں یہ پہاڑی سلسلہ خیبر پختونخوا کے مشرقی حصے کو کور کرتا ہے۔ ترچ میر اس کی سب سے اونچی چوٹی ہے جو چترال میں واقع ہے۔ اس سے نکلنے والے بڑے دریاؤں میں ہلمند، آمو دریا، سیر دریا اور دریائے کابل شامل ہیں۔
کوہ سفید: یہ پہاڑی سلسلہ پاکستان کے شمال مشرقی حصے میں صوبہ خیبر پختون خواہ اور افغانستان کے باڈر پر واقع ہے۔ یہ پاکستان میں وادی پشاور اور افغانستان میں لوغر وادی بناتے ہیں۔ جو کہ بہت زیادہ زرخیز ہیں۔ دریائے کابل اس پہاڑ سلسلے کو چیرتا ہوا پہلے پاکستان سے افغانستان اور پھر افغانستان سے پاکستان میں داخل ہو کر دریائے سندھ میں شامل ہوتا ہے۔ یہ کورم وادی، خیبر ایجنسی، جلال آباد گردیز جیسے مشہور اور زرخیز علاقوں کے درمیان موجود ہے۔ کوہ سفید سے منسلک علاقہ جنگلات اور زراعت کے لئے مشہور ہے۔
سالٹ رینج یہ سلسلہ صوبہ پنجاب کے دریائے جہلم کے قریبی وادی میں ہے۔ کیوڑا، کالا باغ اور ورچہ مشہور شہر ہیں۔ یہ پہاڑی سلسلہ کوئلہ اور نمک کے لئے شہرت رکھتا ہے۔
سلیمان رینج: یہ پہاڑی سلسلہ پاکستان کے مغربی حصے میں موجود ہے۔ جو افغانستان تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ پاکستان کے تین صوبوں، خیبر پختونخوا، پنجاب اور بلوچستان کو ٹچ کر تا ہے۔ تخت سلیمان اس کی مشہور چوٹی ہے۔ جس کی اونچائی ساڈے تین ہزار میٹر تک ہے۔
کیر تھر رینج: یہ پہاڑی سلسلہ صوبہ سندھ اور بلوچستان میں واقع ہے۔ اس کا کل رقبہ تقریباً نو ہزار مربع کلومیٹر بنتا ہے۔ اس میں کیرتھر نیشنل پارک موجود ہے۔
سنٹرل بروحی رینج: یہ پہاڑی سلسلہ بلوچستان کے وسطی سطح مرتفع میں واقع ہے۔ اس کی کل لمبائی 360 کلومیٹر ہے۔ اس سے دریائے پشین، اور ژوب نکل کر دریائے مولا کا حصہ بنتے ہیں۔ یہ چلغوزہ کے جنگلات پر مشتمل ہے۔ یہ علاقہ سیاحت کے لیے بھی مشہور ہے۔ 2022 میں یہ جنگلی آگ کے لپیٹ میں بھی آیا تھا۔ جس سے بہت بڑا نقصان ہوا تھا۔
چاغی رینج: یہ سلسلہ بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ہے۔ یہ افغانستان کے ساتھ باڈر بناتا ہے۔ یہاں کا آب و ہوا خشک اور گرم ہے۔ اس لئے زیادہ تر حصہ صحرا ہے۔ مون سون بیلٹ سے باہر ہونے کی وجہ سے یہاں بارش بہت کم ہوتی ہے۔ اس لئے پانی بہت کم ہے۔
رس کوہ رینج: یہ پہاڑی سلسلے چاغی اور خاران ضلع کے درمیان ہے۔ اس کی لمبائی 230 کلومیٹر تک ہے۔ اس کا آب و ہوا بھی خشک اور گرم ہے۔ یہاں سالانہ بمشکل ایک سو میلی میٹر تک بارش ہوتی ہے۔ پاکستان نے اپنا پہلا ایٹمی تجربہ اس پہاڑ میں کیا تھا۔
مکران رینج: یہ سلسلہ بلوچستان کے ساحلی علاقے، مکران میں پھیلا ہوا ہے۔ یہ پہاڑی سلسلہ تقریباً ایک ہزار کلومیٹر لمبا ہے۔ جس میں 750 کلومیٹر پاکستان میں ہے۔ یہ علاقہ بھی خشک اور گرم ہے۔ لیکن پھر بھی بارش قدرے زیادہ ہوتی ہے۔ یہ علاقہ مینگرو جنگلات کے لئے مشہور ہے۔
بڑھتی ہوئی آبادی اور موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے پہاڑوں میں رہائش پذیر لوگوں کو مختلف قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس میں سب سے پہلے سخت موسم کے ساتھ نبردآزما ہونا ہے۔ دیکھا جائے تو شمالی پہاڑوں، جس ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش قابل ذکر ہیں۔ یہاں درجہ حرارت کم رہتا ہے۔ جس کی وجہ سے یہاں رہن سہن بہت مشکل ہوتا ہے۔ سرد موسم میں تو ایسا لگتا ہے جیسے زندگی رک سی گئی ہو۔ کچھ علاقوں میں تو درجہ حرارت اس حد تک گرتا ہے کہ وہاں۔ سے لوگ نسبتاً گرم علاقوں کی طرف ہجرت کر لیتے ہیں۔ یہ ہجرت تین ادوار پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایک سرد علاقے میں رہائش، دوسرا گرم علاقے میں رہائش اور تیسرا انکا اوپر نیچے کا سفر۔
دوسرا بڑا مسلہ صحت سے متعلق سہولت کی فقدان ہے۔ ان سے شفا خانے عموماً فاصلے پر ہوتے ہیں۔ جس تک رسائی ایک بہت بڑا مسلہ ہوتا ہے۔ دشوار راستوں اور سخت موسم کی وجہ سے اکثر بیمار کا ہسپتال پہنچانا ناممکن سا ہو جاتا ہے۔ بروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے مریض موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔
پانی کی کمی مختلف جگہوں پر مختلف ہوتا ہے۔ مثلآ شمالی علاقوں میں ہر طرف برف ہی برف رہتا ہے۔ جس سے پانی حاصل تو کر سکتے ہیں،لیکن پانی میں نمکیات کی کمی ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے اس کو صحت افزا پانی نہیں کہا جاسکتا۔ پاکستان کے وسطی علاقوں میں دیکھ لیں، جس میں سالٹ رینج اور کوہ سلیمان شامل ہیں۔ یہاں پانی کم رہتا ہے۔ اور عموماً چشموں سے پانی حاصل کرتے ہیں۔ جس میں بائیولوجیکل کنٹامینیشن کے چانسسز زیادہ ہوتے ہیں۔ اس طرح اگر بلوچستان کے پہاڑی علاقوں کو دیکھا جائے جس میں چاغی کے پہاڑی سلسلہ اور رس کوہ سلسلہ شامل ہیں۔ پانی نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔
خوراک کی اشیاء کی کمی: پہاڑوں میں مقیم لوگ اپنا خوراک پہاڑوں سے حاصل کرتے ہیں۔ جو کہ ان کے معاش کا ایک حصہ بھی ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ پہاڑوں پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ان پہاڑوں کی پراڈکشن کیپیسٹی کم ہوتی جا رہی ہے۔ جس کی وجہ سے یہ علاقے خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔
ہمیں ان پہاڑوں پر خاص توجہ دینی چاھیئے۔ اور ہر قسم کی پہاڑی سلسلے کے لیے الگ الگ پالیسی بنانی چاھیئے۔ اس کے علاوہ پہاڑوں میں رہائش کرنے والوں کو پالیسی بنانے اور اس کو لاگو کرنے کا حصہ بنانا ہوگا۔ یہاں پر موجود حیاتی تنوع کو خاص طور پر فوکس میں لانا ہوگا۔ تاکہ اس کا ممکنہ بچاؤ ہو سکے۔

Nafees Mohammad , University of Peshawar

From Bad to Worse: Pakistan's New Electricity Transmission Strategy, Benefits, Challenges, and Impacts on the Poor commu...
20/09/2026

From Bad to Worse: Pakistan's New Electricity Transmission Strategy, Benefits, Challenges, and Impacts on the Poor community

یک نہ شد دو شد: پاکستان میں بجلی کی ترسیل کی نئی
حکمت عملی: فوائد، چیلنجز اور غریب عوام پر اثرات

پروفیسر ڈاکٹر محمد نفیس، شعبہ ماحولیات، جامعہ پشاور

پس منظر: وفاقی حکومت کی جانب سے بجلی کی خریداری سے عملی طور پر باہر ہونے کے مطابق صارفین اور بجلی پیدا کرنے والوں کے درمیان براہِ راست تجارت کا نیا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ جس کے تحت وہ مختلف کمپنیوں سے براہ راست بجلی خرید سکتے ہیں۔ یہ معاملہ سننے میں تو آسان لگتا ہے، لیکن اگر غور کریں گے تو یہ اصل میں انتہائی پیچیدہ ہے۔
پاکستان کا توانائی کا شعبہ طویل عرصے سے گردشی قرضوں، مہنگی بجلی اور نااہل ترسیلی نظام کے بحران سے دوچار ہے۔ جس کا بوجھ عام صارفین پر ڈالا جا رہا ہے۔ عوام کے لیے بجلی ایک مصیبت بن گئی ہے۔ اس بحران سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت نے ایک انقلابی لیکن بحث طلب حکمت عملی کا آغاز کیا ہے۔ اس پالیسی کے تحت حکومت بجلی کی خرید و فروخت سے نکلنا چاہتا ہے۔ اور ملک میں امپلانٹڈ مارکیٹ ماڈل جس کو اختصار کے طور پر سی ٹی بی سی ایم کا نام دیا گیا ہے، متعارف کیا جا رہا ہے۔ اس ماڈل کے تحت صارفین اور بجلی پیدا کرنے والی نجی کمپنیوں کو آپس میں براہِ راست بجلی خریدنے اور بیچنے کی اجازت دی گئی ہے۔ پہلے مرحلے میں 1 میگاواٹ سے زائد بجلی استعمال کرنے والے صنعتی و بلک صارفین کو یہ حق دیا جا رہا ہے۔ بظاہر یہ ایک بہترین تجارتی ماڈل نظر آتا ہے، لیکن اس کے معاشی اور سماجی اثرات کا گہرا جائزہ لینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہمیں اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ پڑھنا ہو گا، تا کہ ہم کسی کنفیوژن کا شکار نہ ہوں۔

پاکستان میں بجلی کون پیدا کرتا ہے؟
اس وقت پاکستان میں دو قسم کے ادارے بجلی پیدا کرتے ہیں، حکومتی اور نجی کمپنیاں۔ سولر لگانے والے لوگوں سے بجلی لی جاتی تھی، لیکن وہ طریقہ سود مند ثابت نہیں ہو سکا اور میدان میں صرف یہ دو اس وقت موجود ہیں۔
اس نئی حکمت عملی کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس وقت پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کا نظام کس کے ہاتھ میں ہے۔ اکنامک سروے آف پاکستان 2025-26 کے مطابق ملک کی مجموعی انسٹالڈ کپیسٹی 49,651 میگاواٹ (MW) تک پہنچ چکی ہے۔ جس میں تقریبآ نجی شعبہ اور آئی پی پیز پاکستان کی کل بجلی کا 50 فیصد سے زائد حصہ ڈالتی ہے۔ جس کے لئے ملک میں لگ بھگ 100 سے زائد کمیشنڈ آئی پی پیز کام کر رہے ہیں۔ حکومت کے اپنے پاس زیادہ تر ہائیڈرو پاور جس میں واپڈا کے ڈیمز جیسے تربیلا، منگلا، اور نیوکلیئر پاور پلانٹس موجود ہیں۔ مجموعی پیداوار میں ہائیڈرو کا حصہ 23.4 فیصد، نیوکلیئر کا 7.1 فیصد، جبکہ ونڈ اور سولر سمیت دیگر متبادل ذرائع کا حصہ 20.3 فیصد ہے۔ جبکہ تھرمل پاور پلانٹس کو تیل، گیس اور کوئلہ سے چلتے ہیں، اب بھی 49.2 فیصد کے ساتھ سب سے بڑا ذریعہ ہے، جس میں نجی کمپنیوں کا غلبہ ہے۔ اور جس سے بجلی مہنگی ہو گئی ہے۔
جیسے اور ذکر ہوا، نیٹ میٹرنگ بھی ایک بڑا ذریعہ ہے، جو خدشات کا شکار ہو چکا ہے۔ اس سے گرڈ میں سات ہزار میگاواٹ بجلی فراہم کر رہے تھے۔ جس کو اگر درست طریقے سے منیج کیا جائے، تو یہ زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔
اب آتے ہیں چارجز کی طرف۔ اس میں سب سے پہلے نمبر پر وہیلنگ چارجز آتے ہیں۔ جس کا تفصیلی جائزہ ضروری ہے۔
دیہی علاقوں اور شہروں میں جہاں انفراسٹرکچر پہلے سے موجود ہے، وہاں نجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنے کے لیے نیپرا نے "وہیلنگ چارجز" کا باقاعدہ فریم ورک جاری کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بجلی نجی کمپنی بنائے گی، لیکن وہ سرکاری تاروں کے ذریعے صارفین تک پہنچے گی۔ نیپرا کے حالیہ فیصلے کے مطابق یہ چارجز درج ذیل ہیں۔
اوپن ایکسیس صارفین کے لیے ریٹ: عام نجی کمپنیوں سے بجلی خریدنے والے اوپن ایکسیس صارفین کے لیے وہیلنگ چارجز کا فکسڈ ٹیرف 19.17 روپے سے لے کر 32.56 روپے فی یونٹ مقرر کیا گیا ہے۔
بڈنگ صارفین کے لیے ریٹ جو حکومت کے پہلے فیز کے تحت ہونے والے اکشن/نیلامی میں حصہ لینے والے صارفین کے لیے یہ چارجز 6.23 روپے سے 19.62 روپے فی یونٹ ہوں گے۔
لائن لاسز یعنی حکومت یا نجی کمپنی کے نقصان کا معاوضہ بھی شامل ہو گا۔ بجلی ترسیل کے دوران جو ضائع ہوتی ہے، اس کا بوجھ بھی صارف اٹھائے گا۔ نیپرا نے گیارہ کلو ولٹ کی لائنوں کے لیے آٹھ فیصد اور ایک سو بتیس کلو ولٹ کی بڑی لائنوں کے لیے ایک اشاریہ پانچ فیصد کا لاس فیکٹر رکھا ہے۔
تیسرے قسم کے چارجز کو فکسڈ گرڈ چارجز کہا گیا ہے۔ جس کے تحت تمام صارفین پر 1 روپیہ فی کلوواٹ ماہانہ کے حساب سے فکسڈ چارجز عائد ہوں گے۔
ٹیکسوں کا جال اور صارفین کی الجھن
عوام کے لیے سب سے بڑا دردِ سر یہ ہے کہ بجلی کی اس براہِ راست خریداری کے باوجود ٹیکسوں اور واجبات کا جال برقرار رہے گا۔ اس سے صارفین کو دہری ادائگیاں محسوس ہوں گی۔ ایک بل نجی کمپنی کو بجلی کی اصل قیمت ادا کی جائے گی۔ جبکہ دوسرا بل یا واجبات واپڈا، ڈسکو کو وہیلنگ چارجز، جی ایس ٹی، انکم ٹیکس اور میٹر کے فکسڈ چارجز کی مد میں ادا کرنے ہوں گے۔ چونکہ حکومت اب "دکاندار" کے بجائے "ٹول پلازہ" کا کردار ادا کرے گی، اس لیے فائنل بل پر حکومتی ٹیکسوں کا بوجھ کم نہیں ہوگا۔ یعنی یہ خیال غلط ہے کہ بجلی سستی گ۔ بلکہ اس سے یہ خدشہ موجود ہے کہ عام صارفین کے لیے بجلی مزید مہنگی ہو سکتی ہے۔
غریب طبقے پر اثرات اور "ڈیتھ اسپائرل" کا خوف رہے گا۔ جس کے تحت یہ امکان موجود ہے کہ وہ بجلی خریدنے سے قاصر رہے۔ یہ اس پوری حکمت عملی کا سب سے خطرناک اور تشویشناک پہلو وہ سماجی ناہمواری ہے جو غریب عوام کے لیے مایوسی کا سبب بن سکتی ہے۔ ماہرینِ معیشت اسے "ڈیتھ اسپائرل" یعنی بجلی کے نظام کی تباہی کا چکر کہتے ہیں، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
امیروں کا سرکاری یا نجی بجلی کے استعمال سے فرار اختیار کرنا۔ مطلب یہ کہ مالدار اور متوسط طبقہ جو بھاری بل یا نجی کمپنیوں کا وہیلنگ ماڈل افورڈ کر سکتے ہیں، وہ سرکاری گرڈ سے کٹ کر نجی مارکیٹ یا سولر پر شفٹ ہو جائیں گے۔
دوسرا غریبوں پر ناقابل برداشت فکسڈ اخراجات ک بوجھ ہے۔ غریب عوام، کرائے دار اور دیہاڑی دار طبقہ جو سولر افورڈ نہیں کر سکتے، وہ مجبوراً سرکاری گرڈ پر ہی رہیں گے۔ گرڈ کو چلانے کے فکسڈ اخراجات جب صرف غریب صارفین کے بلوں پر ڈالے جائیں گے، تو ان کے لیے بجلی خریدنا برداشت سے باہر ہو جائے گی۔
تیسرا، کراس سبسڈی کا خاتمہ ہے۔ جس کے تحت یہ ایک طریقہ کار ہو سکتا تھا کہ امیروں اور صنعتوں سے زیادہ پیسے لے کر غریبوں کو سستی بجلی دی جا سکتی تھی۔ جب امیر اپنا سولر لگا کر اس سرکل سے نکل جائیں، تو حکومت کے پاس غریبوں کو سبسڈی دینے کے لیے فنڈز ہی نہیں بچے گا۔

حاصل کلام اور حکومتی ذمہ داری
پاکستان میں بجلی کی ترسیل کا یہ نیا ماڈل ملک کو جدید معاشی خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک جرات مندانہ قدم ضرور ہے، لیکن غریب دوست پالیسیوں کے بغیر یہ عوام میں شدید مایوسی اور معاشی تفریق پیدا کر سکتا ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ نجی کمپنیوں سے وصول کیے جانے والے بھاری وہیلنگ چارجز کا ایک مخصوص حصہ غریبوں کی سبسڈی کے لیے مختص کرے۔ اس کے ساتھ ہی، صوبائی اور وفاقی سطح پر غریب اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے مفت یا انتہائی آسان اقساط پر سولر پینل اسکیموں کے دائرہ کار کو شفاف طریقے سے بڑھانا ہوگا، تاکہ توانائی کی اس منصفانہ تقسیم میں غریب عوام پیچھے نہ چھٹ جائیں اور ایک نئے معاشی بحران کا شکار ہونے سے بچ سکیں۔
ایک اور حل یہ ہو سکتا ہے کہ پہلے اس نظام کو چھوٹے علاقوں میں تجرباتی طور پر چلائے، اگر کامیاب رہا، تو پھر اس کو وسعت دی جائے۔ لیکن یہ تب ہو سکتا ہے جب حکومت بشمول بجلی پیدا کرنے والے ادار اپنے آپ میں سوچ کا یہ مادہ پیدا کرے کہ ہم نے عوام کی خدمت کرنی ہے۔ اور اپنا خسارہ عوام سے وصول نہ کرے، تو یہ ممکن بھی ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا، تو کوئی شک نہیں کہ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں اور حکومت کو بہت بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا، جس سے ناقابل تلافی نقصان کا اندیشہ ہے۔

: This content is shared strictly for informational and awareness purposes, based solely on publicly available reports and media sources. It does not represent any personal opinion or endorsement of any party involved.


Address

Peshawar

Opening Hours

Saturday 08:00 - 16:00
Sunday 09:00 - 17:00

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan Environment, Research and Development posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Pakistan Environment, Research and Development:

Shortcuts

Share