Voice Of Quran وائس آف قرآن

Voice Of Quran وائس آف قرآن وائس آف قرآن پیج فالو کریں شکریہ

Permanently closed.
01/08/2026

مفتی مبین الرحمٰن ایک جعلساز کردار
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی میدان خالی ہو جائے تو ہر خاص و عام اس میں کود پڑتا ہے۔ آج کل سوشل میڈیا اور چندہ مہم کے دور میں "شہرت" بہت سستا سامان بن چکی ہے۔ ایسے میں کچھ افراد ایسے بھی سامنے آتے ہیں جو مختلف علوم میں مہارت کا دعویٰ تو کرتے ہیں، مگر جب ان کے کام کو میزانِ علم و اصول پرکھا جائے تو کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔
ذیل میں چند اہم علمی اور منہجی نکات پیش ہیں جن پر غور کرنا ہر طالبِ علم اور عوام کے لیے ضروری ہے:
کوئی شخص اگر "تخصص فی الفقہ" کا دعویٰ کرے تو اس سے توقع یہ ہوتی ہے کہ وہ اصولِ فتویٰ، ترجیح، تعارض اور فتاویٰ کے آداب کا پاس رکھے گا، لیکن جب فتویٰ میں اصولوں کی صریح خلاف ورزی، بغیر تخریج کے حکم لگانا، اور دلائل کے بجائے جذبات کو بنیاد بنایا جائے تو یہ دعویٰ کمزور پڑ جاتا ہے۔ فقہ امانت ہے، اور امانت کا تقاضا یہ ہے کہ جو بات کہی جائے اس کے پیچھے دلیل اور ضابطہ ہو۔
علومِ حدیث میں مداخلت اور تحقیق کا معیار
علمِ حدیث ایک انتہائی دقیق فن ہے جس کے لیے "علم العلل" اور "علم الرجال" کی گہری معرفت شرط ہے۔ اگر کوئی شخص بغیر اس مہارت کے صرف عربی کتب سے ترجمہ لے کر اسے اپنی تحقیق کے نام سے پیش کرے، اور احادیث پر حکم لگانے میں اصولوں کو نظر انداز کرے تو یہ علمی خیانت کے زمرے میں آتا ہے۔ تحقیق کا مطلب نقل نہیں، بلکہ سند، متن، علت اور رجال کی جانچ ہے۔
علمِ کلام اور عقائد میں بحث
عقائد کا میدان تلوار سے زیادہ نازک ہے۔ یہاں ایک لفظ کا ادھر ادھر ہونا گمراہی کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ جب کوئی شخص بغیر ٹھوس علمی بنیاد کے اعتقادی مسائل میں بحث و مباحثہ کرے اور امت کے مسلّمہ اصولوں سے ہٹ کر نئے نظریات پیش کرے تو یہ "بدعتِ اعتقادی" کا دروازہ کھولتا ہے۔
اسلوبِ دعوت: شہرت بمقابلہ اخلاص
دعوت کا مقصد "اشاعتِ توحید" ہونا چاہیے، نہ کہ "اشاعتِ ذات"۔ جب دعوت کا محور شہرت، چندہ اور "حبِ جاہ" بن جائے تو پھر حق و باطل کے فرق کی بجائے ذاتی مخالفت اور فتویٰ بازی شروع ہو جاتی ہے۔
سلف کا منہج یہ تھا کہ وہ بدعت کی تردید دلیل سے کرتے تھے، شور سے نہیں۔ عملی بدعات کی اصلاح نرمی، حکمت اور احسن طریقے سے ہوتی ہے، نہ کہ الزام تراشی سے۔
علمی سرقہ اور امانت
سب سے خطرناک چیز "علمی سرقہ" ہے۔ یعنی دوسروں کی کتب سے مادہ لے کر، صرف ترجمہ کر کے اسے اپنی تحقیق کے نام سے پیش کرنا۔ یہ نہ صرف علمی بددیانتی ہے بلکہ قاری کو دھوکے میں رکھنا بھی ہے۔
*خلاصہ اور نصیحت*
علم ایک مقدس امانت ہے۔ اس میدان میں قدم رکھنے سے پہلے 3 چیزوں کا ہونا ضروری ہے:
1. جس فن میں بات کریں اس کے اصول جانیں۔
2. مقصد اللہ کی رضا اور امت کی اصلاح ہو، شہرت نہیں۔
3. مخالف کی بھی بات سنیں اور دلیل سے رد کریں، ذاتیات پر نہ جائیں۔
علم دین ایک امانت ہے۔ اس امانت میں خیانت سب سے بڑی خیانت ہے۔ جب کوئی شخص مختلف فنون میں مہارت کا دعویٰ کرے تو امت کا حق ہے کہ وہ اس کے کام کو کتاب و سنت اور سلف کے اصولوں کی روشنی میں پرکھے۔
آمدم برسر مطلب
حالیہ عرصے میں مفتی مبین الرحمٰن صاحب سوشل میڈیا اور واٹس گروپس میں مصروف عمل نظر آتے ہیں، لیکن موصوف چند علمی اور تحقیقی کمزوریوں کا شکار ہے جس کی نشان دہی ضروری ہے:
1. دعویٰ تخصص اور اصول فتویٰ سے دوری
موصوف "تخصص فی الفقہ" کے دعویدار ہیں، لیکن ان کے بعض فتاوٰی اور بیانات میں اصول فتویٰ کی صریح خلاف ورزیاں نظر آتی ہیں۔ مختلف دینی جماعتوں اور مقتدر شخصیات کے خلاف موصوف کی فتوی بازی اور ہرزہ سرائی ریکارڈ پر ہے، جس میں تثبت اور اختیاط کا پہلو بالکلیہ ترک کر دی گئی ہے، موصوف خوارج کی طرح صرف فتویٰ کی مشین گن چلاتے رہتے ہیں، یہ عمل فقہ کے مزاج کے خلاف ہے۔ فتویٰ دینا کھیل نہیں، یہ امضاء عن اللہ ہے۔
2. علوم الحدیث میں غیر فنی مداخلت
موصوف کبھی کبھار علوم الحدیث میں بھی رائے دیتے نظر آتے ہیں۔ لیکن اہلِ فن جانتے ہیں کہ وہ "علم العلل" اور "علم الرجال" کے بنیادی ضوابط سے ناواقف ہیں۔ عربی کتب کی عبارات کا صرف ترجمہ کرکے اسے اپنی تحقیق کے نام سے پیش کرتا ہے یہ علمی امانت و دیانت کے خلاف ہے۔
3. اعتقادی اور عملی بدعات کی طرف میلان
موصوف تخصص فقہ ہے اور علم فقہ سے تجاوز کرکے کبھی علوم الحدیث کبھی علم کلام اور کبھی عقائد میں جاہلانہ فتوی بازی کرتا ہے۔
4. علم کلام اور مناظرانہ اسلوب
موصوف علم کلام میں بحث و مباحثہ کے شوقین ہیں۔ لیکن اسلوب میں بے جا سختی، الزام تراشی اور دوسرے مکاتب فکر کے خلاف فتویٰ بازی کا رجحان پایا جاتا ہے۔ سلف کا طریقہ یہ نہ تھا۔ وہ دلیل سے رد کرتے تھے، شخصیت پر نہیں جاتے تھے۔
5. بعض عملی بدعات کا تردید کرتا ہے اس وجہ سے اتباع سنت کرنے والے بعض مخلص ساتھی اس کے تزویر کا شکار ہو جاتے ہیں، نوٹ کیجئے کہ موصوف بعض عملی بدعات کی تردید کو سادہ لوح متبعین سنت کو شکار کرنے کے لئے بطور آلہ استعمال کرتا ہے جبکہ اعتقادی بدعات میں ملوث ہے۔
6. شہرت، چندہ اور حب جاہ کا عنصر
موصوف کی دعوت، پوسٹس اور بیانات کا محور شہرت، نام و نمود اور چندہ اکٹھا کرنا بن گیا ہے۔ جب دعوت کا مقصد اللہ کی رضا کے بجائے "وائرل" ہونا بن جائے تو پھر اخلاص مجروح ہو جاتا ہے۔
اس لئے تمام ساتھی اس کے واٹس اور فیس بک گروپس سے فوری طور پر لفٹ ہو جائیں اور اس کے خلاف منظم تحریک شروع کریں۔
من صفحة الشيخ محمد أكمل سعيد حفظه الله تعالى.
مفتی یوسف علی الساحلی

25/06/2026
"والد صاحب کے کچھ دوست ہیں جو ہمارے گھر کا چولہا ماند ہونے نہیں دیتے"مطلب مدرسہ والے چندہ اور ہم بھکاری 😜 #ٹیکنالوجیاں
31/05/2026

"والد صاحب کے کچھ دوست ہیں جو ہمارے گھر کا چولہا ماند ہونے نہیں دیتے"
مطلب مدرسہ والے چندہ اور ہم بھکاری 😜

#ٹیکنالوجیاں

09/05/2026

میں اُن بڑی گاڑیوں، پروٹوکول، سکیورٹی عملے اور ظاہری شان و شوکت کی بات نہیں کر رہا، میرا سوال تو صرف اُن دو ننھے معصوم بچوں کے بارے میں ہے، جنہوں نے محبت، عقیدت اور سادگی کے جذبے سے طارق جمیل صاحب کے قریب جانے اور انہیں چھونے کی کوشش کی تھی۔
بچے معصوم ہوتے ہیں، ان کے دلوں میں نہ دنیاوی مفاد ہوتا ہے اور نہ کوئی بناوٹ۔ وہ جس سے محبت کرتے ہیں، بے ساختہ اُس کے قریب جانا چاہتے ہیں۔ ایسے میں اگر وہ کسی دینی شخصیت یا بزرگ سے محبت کا اظہار کریں تو ان کے ساتھ شفقت، نرمی اور مسکراہٹ کا برتاؤ ہونا چاہیے۔
اصل سوال یہی ہے کہ کیا ایک عالمِ دین، مبلغ اور عوامی شخصیت کے شایانِ شان یہ طرزِ عمل تھا کہ اُن معصوم بچوں کے جذبے کو نظر انداز کیا جائے یا سختی کا تاثر دیا جائے؟ یقیناً دین ہمیں محبت، حلم، برداشت اور شفقت کا درس دیتا ہے، خصوصاً بچوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دیتا ہے۔
اسی لیے یہ معاملہ غور طلب ہے کہ اگر اُن بچوں کے ساتھ شفقت سے پیش آیا جاتا تو یہ منظر زیادہ خوبصورت، مؤثر اور دینی اخلاق کے زیادہ قریب ہوتا۔

09/05/2026

عید الاضحیٰ کے فضائل میں مشہور یہ روایت:
بیان کی جاتی ہے باطل ہے خطباء اس کے بیان سے اجتناب کریں مَا هَذِهِ الْأَضَاحِيُّ؟، قَالَ:" سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ"، قَالُوا: فَمَا لَنَا فِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ:" بِكُلِّ شَعَرَةٍ حَسَنَةٌ"، قَالُوا: فَالصُّوفُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ:" بِكُلِّ شَعَرَةٍ مِنَ الصُّوفِ حَسَنَةٌ".
محدثینِ کرام کے نزدیک ضعیف بلکہ قابلِ استدلال نہیں، اس لیے خطباء حضرات اور اہلِ علم کو چاہیے کہ اسے بلا تحقیق بیان کرنے سے اجتناب کریں۔ دین کی بات وہی بیان کرنی چاہیے جو صحیح اور معتبر دلائل سے ثابت ہو۔
قربانی ایک عظیم عبادت اور سنتِ ابراہیمی ہے، اس کی فضیلت کے لیے صحیح نصوص موجود ہیں، لہٰذا کمزور اور غیر ثابت روایات بیان کرنے کے بجائے مستند احادیث پر اکتفا کیا جائے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح علم، درست عمل اور امانت داری کے ساتھ دین بیان کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

02/05/2026

مولانا الیاس گھمن اور 16 فروری 2012 ،،کے مناظرے سے فرار
سنیے بزبان مفتی ندیم۔۔۔۔
بعض حضرات کی جانب سے مناظرے کے حوالے سے ایسے بیانات سامنے آتے ہیں جن میں ایک دوسرے پر فرار، جھوٹ اور نامناسب طرزِ گفتگو کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل علمی و دینی حلقوں کے شایانِ شان نہیں۔ علما کرام کو چاہیے کہ اختلافی مسائل میں تہذیب، دیانت اور باہمی احترام کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں، کیونکہ جھوٹ اور غیر مہذب گفتگو کسی بھی عالمِ دین کے لیے مناسب نہیں۔

کچھ وقت پہلے شیخ القرآن علامہ محمد طیب طاہری صاحب کا ایک فیک تصویر شائع ہوا تھا تو وہ فیک تصویر سب سے زیادہ جمعیت والوں ...
22/04/2026

کچھ وقت پہلے شیخ القرآن علامہ محمد طیب طاہری صاحب کا ایک فیک تصویر شائع ہوا تھا تو وہ فیک تصویر سب سے زیادہ جمعیت والوں نے شئیر کیا تھا خیر چھوڑو وہ تو دنیا جانتی ہے کہ رئیل تصویر کس کا ہے اور فیک کس کا بنا ہے اسکی وضاحت کی ضرورت نہیں اگر میں نے بذات خود مکافات عمل کا راستہ اختیار کرکے اصل تصاویر شئیر کئے تو پھر اغیاروں کو موقع مل جائے گا وگرنہ میرے پاس اصل ڈیٹا موجود ہے اور میں قیامت کے دن سے خوفزدہ ہو اسی لیے یہ قبیح کام نہیں کرتا۔ میں حد تل وسع کوشش کرتا ہوں کہ اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر متفق ہو جاے اور ملحدین کا مقابلہ کریں ۔ اصل بات میں آتے ہیں۔ جب شیخ صاحب کا فیک تصویر شئیر کیا گیا اس ساقی جان نامی شخص نے اس پر ویڈیو بنا کر نازیبا الفاظ استعمال کیے ۔ اور جمعیت کے حضرات نے بجائے اس کا کہ مخالفت کرتے بلکہ اس کا ساتھ دیا اور پروپیگنڈوں کا حصہ بنے۔ میں نے خود اس ویڈیو کے کمنٹ دیکھ کر اندازہ لگایا کہ زیادہ تر جمعیت والوں نے کمنٹ کرکے انکا ساتھ دیا تھا اور شیخ صاحب کا ھتک کررہے تھے
اب جب بات شیخ ادریس صاحب کی آگئی اس نے جو باتیں کیں ہے تو اب جمعیت والوں کو کفففر اور اسلام یاد آگیا کوئی کہتا ہے کہ آخیری خاتمہ تمہارا برباد ہوا کسی نے کہا اب آپکے زوال کے دن آگئے ۔ تو غرض یہ ہے کہ
اگر آپ لوگ اس وقت ہمارا ساتھ دیتے تو آج یہی دن آپ لوگوں کو دیکھنے کے لیے نہیں ملے ملتا ۔ ہمارے بہت سے تنظیم والے حضرات اب بھی ساتھ دیتے ہیں کہ اختلافات اپنی جگہ لیکن ہر کتاعو بوتاعو ہر جاھل کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ آکر علماء کرام پر بھونکے بھر حال ساقی جان نامی خبیث کو آپ ہی لوگوں نے موقع دیا بھونکنے کا کم از کم شیخ صاحب کی فیک تصویر کا تردید نہیں کرسکتے تو کم از کم خود تو اس پروپیگنڈوں کا حصہ تو نہ بنتے تو ان کو پھر تنقید کا موقع ہی نہیں ملتا ۔ لیکن اسکو پتا ہے کہ یہ مولوی حضرات ایک دوسرے کے ساتھ مشت و گریبان ہے اسی لیے اس نے موقع کا فایدہ اٹھا لیا کل شیخ القرآن علامہ محمد طیب طاہری صاحب کے پیچھے تو آج شیخ ادریس صاحب اور آنے والے کل پتہ نہیں کس کے پیچھے بھونکے گا ۔ میری باتیں کڑوی ضرور ہے لیکن حقیقت ہے . اییۓ اپنے آپس میں اتفاق و اتحاد کا مظاہرہ کریں شکریہ ♥️

Address

Peshawar

Telephone

+923005999400

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Voice Of Quran وائس آف قرآن posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Voice Of Quran وائس آف قرآن:

Shortcuts

Share