Voice Of Quran وائس آف قرآن

Voice Of Quran وائس آف قرآن وائس آف قرآن پیج فالو کریں شکریہ

Permanently closed.
دورۂ تفسیر القرآن الکریم قرآنِ مجید محض تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ ہدایت، رہنمائی اور زندگی گزارنے کا مکمل دستور ہے۔اسی مقص...
16/01/2026

دورۂ تفسیر القرآن الکریم
قرآنِ مجید محض تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ ہدایت، رہنمائی اور زندگی گزارنے کا مکمل دستور ہے۔
اسی مقصد کے تحت ایک بابرکت اور جامع دورۂ تفسیر القرآن الکریم کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس میں قرآنِ پاک کو آسان، عام فہم اور دل میں اترنے والے انداز میں پڑھایا جائے گا۔
اس دورۂ تفسیر میں کیا سیکھایا جائے گا؟
ہر آیت کا سادہ اور واضح مفہوم
مشکل الفاظ اور قرآنی اصطلاحات کی آسان تشریح
آیات کے شانِ نزول اور پس منظر کی وضاحت
قرآن ہمیں کیا پیغام دیتا ہے؟
فرد، خاندان اور معاشرے کے لیے قرآنی رہنمائی
ہماری روزمرہ زندگی میں قرآن کو کیسے نافذ کیا جائے؟
موجودہ دور کے مسائل کا حل قرآن کی روشنی میں
خدماتِ درس:
مولانا عبدُاللہ عابد سرکانی صاحب
مدت:
یکم شعبان سے 25 رمضان المبارک تک
مقام:
مدرسہ تعلیم القرآن والسنہ
مدینہ کالونی، کچکول آباد، پشاور
یہ دورہ کن کے لیے ہے؟
یہ دورۂ تفسیر
طلبہ و طالبات کے لیے
کاروباری و ملازمت پیشہ افراد کے لیے
گھریلو خواتین کے لیے
اور ہر اس شخص کے لیے جو قرآن کو واقعی سمجھنا، اس پر عمل کرنا اور اپنی زندگی کو قرآن کے مطابق ڈھالنا چاہتا ہے۔
آئیے!
قرآن کو سمجھنے، دل سے جوڑنے اور اپنی زندگی کا رہنما بنانے کے لیے اس بابرکت درسِ قرآن میں ضرور شرکت کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا
فرمائے۔ آمین

دورہ تفسیر القرآن الکریم جس میں قرآن کو آسان اور سمجھ میں آنے والے انداز میں پڑھایا جائے گا۔✔ آیت کا مطلب✔ مشکل لفظوں کی...
08/01/2026

دورہ تفسیر القرآن الکریم
جس میں قرآن کو آسان اور سمجھ میں آنے والے انداز میں پڑھایا جائے گا۔
✔ آیت کا مطلب
✔ مشکل لفظوں کی وضاحت
✔ قرآن ہمیں کیا سکھاتا ہے؟
✔ ہماری زندگی میں قرآن کیسے آئے؟
خدمات درس:
مولانا عبدُاللہ عابد سرکانی صاحب
یکم شعبان سے 25 رمضان تک مدرسہ تعلیم القرآن والسنہ مدینہ کالونی کچکول آباد پشاور
ہر اس شخص کے لیے جو قرآن کو واقعی سمجھنا چاہتا ہے

اگر اپ کا کسی بڑے بندے کے ساتھ سیلفی لینے کا شوق نہیں کیمرے کے آنکھ میں آنے کا شوق نہیں سٹیج پر چڑھنے کا شوق نہیں زندہ ب...
04/01/2026

اگر اپ کا کسی بڑے بندے کے ساتھ سیلفی لینے کا شوق نہیں کیمرے کے آنکھ میں آنے کا شوق نہیں سٹیج پر چڑھنے کا شوق نہیں زندہ باد مردہ باد کا شوق نہیں اپنی اپ کی کامیابی مستقبل کا سوچ بچوں کا سوچ شریعت کی فکر عبادت میں اخلاص وقت کی پابندی جھوٹ سے پرہیز فراڈ سے دشمنی اپنے اپ کو رب العالمین کے سامنے جواب دہ سمجھتے ہے محبت دشمنی تنقید اختلاف صرف الله تعالی کےلۓ کرتے ہیں تو یقین کیجئے اپ ایک ہیرا ہے ہیرا صحت مند اور کامیاب ترین انسان ہے اپ اپنی اپ کی قدر ہے ان صفات میں اور بھی نکھار پیدا کریں چغلی چمچہ گیری حسد سے دور رہۓ زندگی بہت ہی خوب صورت اور پرسکون ہوگی تین چیزوں پر اپنا پکا یقین رکھ لیں رزق کا وعدہ رب العالمین کے پاس ہے اپ سے ایک نوالہ کوئی نہیں چھین سکتا ۔۔۔۔۔
عزت اور ذلت الله تعالی دیتا ہے کسی سے خوف کھانے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔
موت کا وقت مقرر اور اٹل ہے کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں لہذا رزق کےلئے چمچہ گیری عزت کےلئے کسی خصئے تولنا ڈر کے خوف سے راستہ نہ چھوڑنا یہ صفات اپ کو کمزور نہیں اپ میںنکھار پیدا کرتا ہے مضبوط بناتا ہے قدم اٹھالیجئے۔۔۔۔
منقول

کہنے لگا : بخاری کب پیدا ہوئے؟عرض کیا : 194ھکہا : نبی کریم ﷺ کب فوت ہوئے؟عرض کیا : 11 ھکہا : تو کیا ممکن ہے کہ بخاری اتن...
01/01/2026

کہنے لگا : بخاری کب پیدا ہوئے؟
عرض کیا : 194ھ
کہا : نبی کریم ﷺ کب فوت ہوئے؟
عرض کیا : 11 ھ
کہا : تو کیا ممکن ہے کہ بخاری اتنے عرصے بعد پیدا ہوں اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کو جمع کر لیں؟
عرض کیا : مشاری العفاسی کو جانتے ہو آپ؟
کہا : ان کا بخاری سے بھلا کیا تعلق؟
عرض کیا: جو پوچھا ہے اس کا جواب دیجئے ۔
کہا: جانتا ہوں اور سن بھی چکا ہوں
عرض کیا: آخری بار کب سنا تھا آپ نے؟
کہا : کچھ دن ہوتے ہیں۔
عرض کیا : اچھا، یعنی 1438ھ سن 2017 کو سنا؟
کہا : جی ہاں
عرض کیا : کیا آپ کو معلوم کہ مشاری نے قرآن اپنے استاد سے سیکھا ہے، انہوں نے اپنے استاد سے اور انہوں نے اپنے استاد سے، حتی کہ یہ سلسلہ نبی کریم ﷺ تک جاپہنچتا ہے؟
کہا : جی ایسا ہی ہے۔
پوچھا کہ مشاری اور نبی کریم ﷺ کے درمیان کتنے انسانوں کا واسطہ ہوگا؟
کہا : ہزاروں انسانوں کا واسطہ تو ہوگا۔
عرض کیا : نہ میاں، مشاری سے لے کر رسول اللہ ﷺ محض 29 انسانوں کا فرق بنتا ہے۔
کہا : ہیں جی؟ وہ بھلا کیسے؟
عرض کیا : دیکھئے، ہجرت کے بعد سے اب تلک 1438 سال گزرے ہیں، اسے 29 پر تقسیم کیجئے تو 50 جواب آئے گا اور ایک شخص کی اوسط عمر پچاس تصور کر لیجئے، یعنی یہ 29 واسطے آپ کو بہت بڑے لگتے ہیں، تو سوچئے کہ بخاری اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان کتنے واسطے ہوں گے؟
کہا: لیکن پھر بھی 200 سال کی مدت کچھ کم تو نہیں ہے
عرض کیا : حضور صحیح البخاری میں ایسی روایات بھی ہیں، جن میں امام بخاری اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان محض تین واسطے ہیں، اب صحابہ کا واسطہ سائیڈ پہ رکھئے تو محض ایک واسطہ بچے گا؟ یہ تو ہوا امام بخاری کا قصہ، دوسرے یہ کہ صحیح بخاری کی تمام روایات، امام بخاری سے پہلے آنے والے ائمہ حدیث کی کی کتابوں میں بھی بیان ہوچکی ہیں، ذرا سوچئے کہ ان میں اور رسول اللہ ﷺ میں کتنا فاصلہ ہوگا؟
کہا : تو کیا بخاری سے پہلے بھی کچھ کتب احادیث موجود تھیں؟
عرض کیا : جانی، عدم علم ہی تو مسئلہ ہے آپ کا، امام بخاری سے پہلے تقریبا 25 کتب حدیث لکھی جاچکی تھیں، مثلا : ہمام بن منبہ، ابن جریج، معمر بن راشد، ابن ابی عروبہ، سفیان ثوری، لیث بن سعد، مالک بن انس وغیرہ نے لکھ رکھی تھیں۔
کہا : تو پھر یہ تمام اعتراضات صرف بخاری پر ہی کیوں کئے جاتے ہیں؟
عرض کیا : بخاری پر اعتراض اس لئے کئے جاتے ہیں، کہ امام بخاری نے صرف صحیح احادیث جمع کی ہیں، جب صحیح احادیث ہی کو مشکوک بنا دیا جائے گا تو دوسری کتابوں میں تشکیک پیدا کرنا مزید آسان ہوجاوے گا ۔
کہنے لگا : یار سنت تو بجا، مگر اعتراض امام بخاری کی جمع کردہ روایات پر ہے۔
عرض کیا : تو پھر صرف امام بخاری پر ہی اعتراض کیوں؟ پہلوں پر کیوں نہیں؟ ان کو مسئلہ سنت ہی سے ہے، مگر واردات بخاری کے نام پہ ڈالتے ہیں، حالاں کہ بخاری نے تو محض سنت کو جمع کیا ہے، اپنی جانب سے سنت ایجاد تو نہیں کی، سنئے ! میں اگر آپ سے کہوں کہ آپ کا ناک عجیب بے ڈھنگا سا ہے، مجھے اچھا نہیں لگتا، تو کیا یہ اعتراض ناک پر ہوگا یا کہ خالق ناک پر؟ اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ جب آپ بخاری پر طعن کرتے ہیں، تو بخاری پر نہیں، بخاری میں موجود اقوال و افعال رسول ﷺ پر کرتے ہیں ۔
کہا : تو پھر حدیث کو حجت ماننے کا فائدہ بھلا کیا ہوا کہ احادیث پر تو شبہات موجود ہیں۔
عرض کیا: اگر یہ استدلال درست مان لیا جاوے تو قرآن کی بعض آیات کو قرآن سے ہٹا دینا چاہئے کہ ان کے معنی کی تعیین میں شبہات کار فرما ہیں؟
کہا : نہیں نہیں، قرآن تو نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے ۔
عرض کیا : یہی چیز قاعدہ حدیث پر رکھ لیجئے کہ جو حدیث نبی کریم ﷺ سے ثابت ہو اسے ہم قبول کرتے ہیں، جیسے قرآن کی ایک آیت کا معنی نہ سمجھ آنے پر آپ کوشش کر کے اس کا معنی سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، اسی طرح احادیث کا معاملہ بھی ہے، جب ان کا معنی و مفہوم سمجھ نہ آئے تو سمجھنے کی کوشش کیجئے، نہ کہ اعتراض کیجئے ۔
کہا : تو سنت میں تشکیک پھیلانے اور صرف قرآن کے تمسک کی دعوت کے مقاصد کیا ہیں؟
عرض کیا : گہرے مقاصد ہیں، جب آپ سنت کو ٹھکرا دیتے ہیں تو قرآن کو سمجھنا ممکن نہیں رہتا، مثلا : قرآن کی آیت ہے :
لَّذِينَ آمَنُواْ وَلَمْ يَلْبِسُواْ إِيمَانَهُم بِظُلْمٍ أُوْلَـئِكَ لَهُمُ الأَمْنُ وَهُم مُّهْتَدُونَ
جو ایماندار اپنے ایمان کو ظلم کا چوغہ نہیں پہناتے، وہ امن میں ہیں اور ہدایت یافتہ ہیں۔
تو کیا ہر وہ شخص جو ظلم کرے گا جہنم میں جائے گا؟ تو پھر جنت میں کون جائے گا؟ تو تکفیری سوچ کو غلط کہنے کا کیا جواز ہے آپ کے پاس؟ ہاں، اس آیت کا معنی رسول اللہ ﷺ نے واضح کیا ہے، دوسری آیت پڑھ کر کہ ظلم سے مراد شرک ہے۔
اسی طرح کی بیسیوں آیات ہیں، جن کا معنی بغیر حدیث کے سمجھ میں آجانا ممکن ہی نہیں ہے، تو عجیب ہے کہ آپ لوگ قرآن رسول اللہ ﷺ سے لیتے ہیں، مگر قرآن کا معنی ومفہوم رسول اللہ ﷺ سے نہیں لیتے ہیں، کیا رسول اللہ ﷺ نے محض قرآن بیان کیا اور دیگر تمام عمر چپ کر کے بیٹھے رہے؟ کیا صحابہ نے قرآن کے حوالے سے رسول اللہ ﷺ سے کوئی سوال نہیں کئے؟ عقل کہاں چھوڑ آئے میاں

Address

Peshawar

Telephone

+923005999400

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Voice Of Quran وائس آف قرآن posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Voice Of Quran وائس آف قرآن:

Share