دعوت اسلامی کی تبلیغی خدمات

سرپرست دعوت اسلامی خلیفہ مفتی اعظم ہند مفتی عبدالحلیم صاحب ناگپور انڈیا  انتقال فرما گئے ہیںانا للہ وانا الیہ راجعوناللہ...
24/04/2021

سرپرست دعوت اسلامی خلیفہ مفتی اعظم ہند مفتی عبدالحلیم صاحب ناگپور انڈیا انتقال فرما گئے ہیں
انا للہ وانا الیہ راجعون
اللہ تعالیٰ مفتی صاحب کی دینی خدمات قبول فرمائے اور ان کی آخرت اچھی کرے
تمام عاشقان رسول ایصالِ ثواب کے تحفے پیش کریں

افسوس ناک خبردعوت اسلامی کے شعبے مدرسۃ المدینہ آن لائن کا فری میں لاکھوں روپے کا ایڈمیشن سوفٹویر بنانے والے اور  ابھی تک...
13/12/2020

افسوس ناک خبر
دعوت اسلامی کے شعبے مدرسۃ المدینہ آن لائن کا فری میں لاکھوں روپے کا ایڈمیشن سوفٹویر بنانے والے اور ابھی تک اسکو چلانے والے کاشف سعیدعطاری (UK) کا رضائے الہی سے آج انتقال ہوگیا ہے ۔
تمام اسلامی بھائی انکے لئے خاص دعائے مغفرت فرمائیں۔
زیادہ سے زیادہ ایصال ثواب کی مدنی التجاء ہے
اللہ پاک انکے اس عمل کے صدقے انکی حتمی بخشش و مغفرت فرمائے ۔

13/10/2020

اگر کل امام احمد رضا اندر بیٹھ کر نہ لکھتے اور احتجاج ہی کرتے تو آج ہم جانتے بھی نہ ہوتے کہ عشق مصطفٰی کیا ہے۔
احتجاج، یا سیاست بری چیز نہیں، لیکن سب ہی کو سیاست یا احتجاج پر لگانا یا ایسا کرنے کا مطالبہ کرنا یہ فکر رضا کے منافی ہے۔
فکر رضا یہی ہے کہ دشمن کے مقابلے کے لیے ہر قسم کے دستے تیار کرو اور ہر چال کو تدبیر سے ناکام کرو۔ جو اندر بیٹھ کر خاموشی سے کام ہو سکتا ہے وہ شاہراہوں پر آنے سے ممکن نہیں اور جو کام احتجاج سے ممکن ہے وہ اندر بیٹھ کر ممکن نہیں اس لئے کوئی محاذ کسی وقت خالی نہیں کیا جاتا۔ یہ جنگ کا اصول ہے۔ عشق رسول کا تقاضا یہی ہوتا ہے کہ حسان بن ثابت شعر سے جواب دے، ابو ہریرہ رسول کے فرمان یاد کرے، خالد بن ولید جہاد کرے اور سلمان فارسی فاتحہ کا فارسی میں ترجمہ کرے، کوئی عبرانی اور سریانی سیکھ کر علمی جواب دے اور عمر بن خطاب ہیبت طاری کرنے والا ہو تو ابوبکر تحمل و بردباری سے معاملات حل کرنے والا ہو، عثمان بن عفان برداشت کرنے والا ہو تو عمر تلوار نکالنے والا بھی ہو، قرآن یاد کرنے، اس کی تفسیر کرنے کے لیے عبد اللہ ابن مسعود ہو تو درس حدیث دینے والا ابوہریرہ بھی ہو، بحری بیڑا تیار کرنے والے امیر معاویہ ہوں تو، چین، مالا بار، مالدیپ، انڈونیشیا میں تبلیغ کرنے والے بھی ہوں، بیت المقدس میں غلام تب ہی سوار اور خلیفہ باگ پکڑے داخل ہو سکتا ہے جب سب الگ الگ محاذ پر عشق رسول کا عملی مظاہرہ کر رہے ہوں اور دشمن کے لیے ہر محاذ پر تیار بیٹھے ہوں۔

احتجاج کے لیے باہر نکلنے والے پیر جماعت علی شاہ ایک کام کر رہے تھے تو اندر بیٹھے احمد رضا فتاوی رضویہ ترتیب دے رہے تھے، اسی وقت احمد رضا کے خلیفہ سید سلمان اشرف بہاری سر سید کے علی گڑھ یونیورسٹی میں اور ان کے مرید باصفا پروفیسر حاکم علی لاہور کے کالج میں علمی تعلیمی سطح پر کام کر رہے تھے، ان کے چاہنے والے نبی بخش حلوائی پنجابی میں منظوم ترجمہ قرآن کر رہے تھے تو مراد آباد میں خلیفہ نعیم الدین مراد آبادی عرفان کا خزانہ خزائن عرفان لکھ رہے تھے تو اعلی حضرت کے ظفر الدین بہار میں علم توقیت کو زندہ رکھے ہوئے تھے۔ سفیر اسلام خلیفہ اعلی حضرت شاہ عبد العلیم صدیقی اس وقت جنوبی افریقا کے ساحل پر اسلام کی حقانیت پر جارج برنارڈ شا سے علمی مباحثہ اور دنیا بھر کے تبلیغی دورے کر رہے تھے۔ آپ کے صاحبزادے اور پہلے سجادہ نشین 1898 میں قادیانی کے خلاف الصارم الربانی لکھ رہے تھے تو بند کمرے میں فقہ حنفی کے مسائل کا دائرۃ المعارف بہار شریعت، امجد علی اعظمی مرتب کر رہے تھے، اعلی حضرت کے خلیفہ نعیم الدین مراد آبادی، شردھانند کے شر کا مقابلہ بھی کر رہے تھے اور سیاسی و صحافتی محاذ پر بھی ڈٹے ہوئے تھے۔ ماہنامہ السواد اعظم میں ہندوؤں، پادریوں، اور قادیانیوں کو جواب دینے کے ساتھ ساتھ تحریک پاکستان اور دو قومی نظریے کا پرچار بھی کیا جا رہا تھا، 1946 میں تحریک پاکستان کے حق میں ہونے والی عظیم الشان کانفرس جو ہندؤں کے مقدس شہر بنارس میں ہوئی اس کے روح رواں بھی خلفائے اعلی حضرت تھے۔

خلیفہ اعلی حضرت برہان الحق جبل پوری مسلم لیگ کی حمایت میں جلسے کر رہے تھے اور دیدار علی شاہ تقابل ادیان کے تناظر میں تفسیر قرآن کر رہے تھے۔ عبد الستار خان نیازی طلبہ مسلم لیگ کا حصہ تھے تو گدی نشین مسلم لیگ کے حمایتی، مسجد شہید گنج کا معاملہ ہو یا مسلمانوں کو دوبارہ ہندو بنانے کی ہندو تحریک ہو، گائے کی قربانی کا مسئلہ ہو یا جبری نس بندی ہر معاملے میں خلفائے اعلی حضرت اور خاندان اعلی حضرت کے افراد احتجاج کرتے اور کچھ اندر بیٹھ کر علمی جواب دیتے۔ یہی ہوتا آیا ہے اور یہی ہوتا رہے گا تب ہی مقابلہ کیا جا سکے گا۔

اس لئے آپ کے طریقے کے مطابق اگر کوئی احتجاج نہیں کررہا تو وہ کسی دوسرے محاذ پر آپ کا سہارا بنا ہوا ہے۔ مسلک کا غدار صرف وہ ہے جو فکر رضا سے پھر گیا ہو جو مسلک کا وفادار ہو وہ اپنوں کو للکارتا نہیں۔

عبید رضا، پنڈی گھیب
25 صفر المظفر 1440ھ (4 نومبر 2018ء)

03/09/2020

دعوت اسلامی کا بانی کون!
کچھ علما کے بارے دعوا کیا جاتا ہے کہ وہ دعوت اسلامی کے بانی ہیں۔
واحد بانی ہیں جو تنظیم بنا کر ہمیشہ کے لیے روپوش ہو گئے! حد ہے ویسے، نورانی میاں کا بھی بیان چھیانوے والا سن لیں، جس میں دعوت اسلامی پر غیر سیاسی ہونے پر تنقید فرما رہے ہیں۔ وہ لوگ کم از کم ایسی کسی تنظیم کے بانی نہیں تھے، ورنہ اس کا تبلیغی نصاب لکھ کر دیتے، کام کرتے۔ ۔ ۔ اس کا نام بھی اسوقت یہ نہیں رکھا گیا نہ ہی ایک امیر بنایا گیا۔ کراچی میں نام کچھ اور امیر کوئی اور طے ہوا لاہور میں پہنچ کر کچھ اور ہو گیا۔ سچ ہے کامیابی کے سو باپ ہوتے ہیں ناکامی یتیم۔۔ محض ایک تبلیغی جماعت کے لیے اجلاس بلانے اور اس کا سربراہ م بن کر کام کرنے میں فرق ہے۔ کبھی کسی تنظیم کے بانیاں اس طرح لاتعلق نہیں ہوئے۔ جس طرح ہمارے اکابر رہے۔ اور اب بھی خیر سے ہمارے اکابر کا دعوت اسلامی جیسی تنظیموں سے متعلق جو رویہ ہے وہ سامنے ہے۔ علما اور پیر صاحبان کی اکثریت کو لگتا ہے کہ یہ تنظیمیں زیادہ مقبول نہیں ہونی چاہئیں۔ بہت عرصہ دعوت اسلامی کے ساتھ رہا ہوں۔ سنی تحریک کے ساتھ رہا۔ بہت اچھی طرح اندازہ ہے کہ ہمارے اہلسنت کےزوال کی زمہ داری بہرحال علما پر ہے۔ جو فضائل سے زرا ایک قدم آگے بڑھنے کو تیار نہیں۔ دعوت اسلامی والے بھی اب جا کر ان کاموں تک پہنچے ہیں جب پوری دو نسلوں پر کام کر لیا، اور جو ان کی ہر بات سن اور سمجھ سکتے ہیں۔ اب دعوت اسلامی سوائے سیاست کے ہر شعبے میں قدم رکھ رہی ہے اور کامیاب ہو رہی ہے۔

10/03/2019

Address

Pindi Gheb

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when دعوت اسلامی کی تبلیغی خدمات posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share