04/02/2023
گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج برائے خواتین میانوالی قریشیاں کا فخر : محمد زاہد آپ نے ثابت کر دیا کہ میرا انتخاب بہت بہترین تھا ۔۔۔۔کلاس 4 کی بھرتی ۔۔بے پناہ پریشر ، سفارشیں اور مختلف حوالے۔۔۔۔ ظاہر ہے ملازمت کے حصول کے لئے سب ممکنہ کوشیشں کر رہے تھے ۔۔۔۔میرے کالج میں بھی 2 سیٹس تھیں جس پر مجھے 2 لوگ بھرتی کرنے تھے۔ ۔۔ اگرچہ مطلوبہ تعلیمی قابلیت اور تجربے کے واضح ثبوتوں کی فراہمی و پڑتال بمتعلق ملازمت ھذا اور نمائندہ سلیکشن کمیٹی کے روبرو بہترین انٹرویو ہی یقیننا اس کے چناو کا باعث بنے لیکن فائلز کی پڑتال پر مجھے محمد زاہد کی فائل میں الیکڑیشن کے ڈپلومے کا سرٹیفکیٹ نظر آیا ۔۔۔مجھے فورا کالج کے وہ تمام بگاڑ یاد آئے جو کسی الیکٹریشن کے منتظر تھے اور میری دلی خواہش تھی کہ تمام بند پنکھے ،ناکارہ پولز لائٹس ،غیر معیاری وائرنگ ، جلے ہوئے واٹر پمپس اور دم توڑتے ہوئے UPS سمیت تمام اشیاء جو بجلی سے چلتی ہیں وہ اپنی بہتر کارکردگی دیکھا سکیں ۔۔۔۔پس اسوقت دل و دماغ میں یہ نام رک گیا ۔۔۔۔۔اور آج یہ بات کرنے کا مقصد یہ یے کہ وہی محمد زاہد ( ملازم کالج ھذا ) کالج گیٹ پر ڈیوٹی کر رہا تھا چھٹی کے وقت والدین بیٹیوں کو لینے آئے اور اسی دوران کسی صاحب کے پیسے گیٹ پر گر گئے رقم بھی کوئی اتنی کم نہیں تھی ان پیسوں پر زاہد کی نظر پڑی اس نے وہ پیسے اٹھا کر امانتا اپنی جیب میں رکھ لئے۔۔۔۔۔۔بقول زاہد کے کہ اسوقت اسکی جیب میں 10 روپے بھی اپنے نہ تھے اور میں یہ سوچ رہا تھا کہ گھر واپسی کا کرایہ کہاں سے آئے گا مگر تربیت بول رہی تھی کہ ان پیسوں پر حق اس کے مالک کا ہے۔۔۔۔۔اسی اثنا ایک پریشان حال شخص اپنے کھوئے ہوئے پیسوں کی تلاش میں کالج گیٹ تک آگیا اور گویا ہوا کہ بجلی کے بل کے 30000 روپے گھر سے لایا تھا کہیں گر گئے ہیں ۔۔۔۔اور ہمارے اس ایماندار شخص نے وہ 30000 روپے اس کے اصل حقدار کو لوٹا کر ثابت کر دیا کہ میرا انتخاب اس ادارے کے لئے غلط نہیں تھا ۔۔۔شاباش محمد زاہد ۔۔۔۔اللہ آپ کو اپنے خزانوں سے نوازے اور دنیا و آخرت کی بھلائی عطا کرئے آمین