Indus College Chakri Rd

Indus College Chakri Rd Welcome To Indus College Chakri Campus
(1)

F.A (Information Technology)🌐 Learn Today, Lead Tomorrow!Admissions for F.A (Information Technology) Session 2026 are no...
14/07/2026

F.A (Information Technology)

🌐 Learn Today, Lead Tomorrow!

Admissions for F.A (Information Technology) Session 2026 are now open at Indus College of Science & Commerce.

Build a strong foundation in Information Technology, digital skills, communication, and computer applications for today's technology-driven world.

📍 Boys Campus: Al-Hajj Khalid Plaza, Opp. Friend CNG, Chakri Road, Rawalpindi
📍 Girls Campus: Near Buraq Marquee, Banni Stop, Chakri Road, Rawalpindi

📞 051-5126686 | 0303-5549000

I.Com (Commerce)📊 Start Your Journey in Business & Finance!Admissions for I.Com Session 2026 are now open at Indus Colle...
14/07/2026

I.Com (Commerce)

📊 Start Your Journey in Business & Finance!

Admissions for I.Com Session 2026 are now open at Indus College of Science & Commerce.

Develop practical knowledge in Accounting, Business Studies, Economics, and Finance to prepare for successful careers in Commerce, Banking, and Business Management.

📍 Boys Campus: Al-Hajj Khalid Plaza, Opp. Friend CNG, Chakri Road, Rawalpindi
📍 Girls Campus: Near Buraq Marquee, Banni Stop, Chakri Road, Rawalpindi

📞 051-5126686 | 0303-5549000

ICS (Computer Science)💻 Turn Your Passion into a Tech Career!Admissions for ICS Session 2026 are now open at Indus Colle...
14/07/2026

ICS (Computer Science)

💻 Turn Your Passion into a Tech Career!

Admissions for ICS Session 2026 are now open at Indus College of Science & Commerce.

Learn Programming, Computer Science, and IT skills in modern computer labs and prepare for careers in Software Engineering, AI, Cyber Security, Data Science, and more.

📍 Boys Campus: Al-Hajj Khalid Plaza, Opp. Friend CNG, Chakri Road, Rawalpindi
📍 Girls Campus: Near Buraq Marquee, Banni Stop, Chakri Road, Rawalpindi

📞 051-5126686 | 0303-5549000

F.Sc Pre-Engineering⚙️ Build the Future with Engineering!Admissions for F.Sc Pre-Engineering Session 2026 are now open a...
14/07/2026

F.Sc Pre-Engineering

⚙️ Build the Future with Engineering!

Admissions for F.Sc Pre-Engineering Session 2026 are now open at Indus College of Science & Commerce.

Gain strong concepts in Mathematics, Physics, and Chemistry with practical learning to prepare for Engineering, Architecture, and Technology programs.

📍 Boys Campus: Al-Hajj Khalid Plaza, Opp. Friend CNG, Chakri Road, Rawalpindi
📍 Girls Campus: Near Buraq Marquee, Banni Stop, Chakri Road, Rawalpindi

📞 051-5126686 | 0303-5549000

F.Sc Pre-Medical🩺 Shape Your Future in Medicine!Admissions for F.Sc Pre-Medical Session 2026 are now open at Indus Colle...
14/07/2026

F.Sc Pre-Medical

🩺 Shape Your Future in Medicine!

Admissions for F.Sc Pre-Medical Session 2026 are now open at Indus College of Science & Commerce.

Study with experienced faculty, perform practicals in modern science laboratories, and prepare for a successful career in MBBS, BDS, Pharmacy, DPT, Nursing, Biotechnology, and other medical fields.

📍 Boys Campus: Al-Hajj Khalid Plaza, Opp. Friend CNG, Chakri Road, Rawalpindi
📍 Girls Campus: Near Buraq Marquee, Banni Stop, Chakri Road, Rawalpindi

📞 051-5126686 | 0303-5549000

13/07/2026

نظام حیدر آباد کے محل کی ٹوٹی ہوئی اینٹ
نسیم احمد باجوہ

نہ صرف یہ اینٹ ٹوٹی ہوئی تھی بلکہ اس کا دل بھی بہت دکھی اور ٹوٹا ہوا تھا۔ نام تھا مشتاق احمد خان۔ 1947ء میں جب نظام حیدرآباد نے اُنہیں پاکستان میں اپنا سفیر مقرر کیا تو ان دونوں کو علم نہ تھا کہ جو نازک مگر بے حد اہم سفارتی فریضہ اُن کے ذمہ لگایا جا رہا ہے‘ وہ اسے خوش اسلوبی سے ادا کر پائیں گے یا نہیں۔ 13 ستمبر 1948ء کو حیدرآباد کی آزاد ریاست کی خواہش کو بھارتی افواج کے جارحانہ حملے نے اپنے بے رحم بوٹوں تلے کچل ڈالا۔ بے گناہ اور غیر مسلح افراد کا جس بڑے پیمانے پر قتل عام کیا گیا اُس کی تفصیل لکھنے کی نہ مجھ میں ہمت ہے اور نہ آپ میں پڑھنے کی تاب۔ مشتاق صاحب یہ عظیم صدمہ اپنی آنکھوں سے دیکھنے سے تو بچ گئے مگر ہزاروں میل کا فاصلہ طے کر کے جو تفصیلات ان تک پہنچیں وہ اُنہیں خون کے آنسو رُلا دینے کیلئے کافی تھیں۔ ستم بالائے ستم کہ جب مشتاق صاحب کو سفارتی عہدہ دینے والی مملکت کا وجود ہی ختم ہو گیا اور نظام کی دی ہوئی رقم‘ جو پاکستان کو ہدیہ کی گئی تھی‘ حکومت پاکستان کے حوالے کر کے وہ خود بالکل تہی دست ہو چکے تھے۔ حکومت پاکستان (خصوصاً گورنر جنرل ملک غلام محمد) نے بکمال مہربانی محکمہ ریلوے میں انہیں ملازمت دلوا دی۔
میں اُنہیں 29 فروری 1992ء کو‘ ماڈل ٹائون ڈی بلاک لاہور میں ان کے گھر میں ملا۔ یہ ہماری واحد ملاقات تھی۔ 34 سال پہلے ہونے والی اس ملاقات کی تاریخ ہر گز یاد نہ رہتی مگر یہ اُس کتاب (زوالِ حیدرآباد کی اَن کہی داستان) پر لکھی ہوئی تھی جو مشتاق صاحب نے 1985ء میں لکھی اور پھر اپنے خرچ پر چھپوائی ۔ اُنہوں نے یہ کتاب اس مضمون نگار کو بطور تحفہ دی۔ اس وقت مشتاق صاحب کی عمر 75 برس یا اس سے زائد تھی۔ نحیف ونزار‘ نہ آنکھوں میں چمک اور نہ آواز میں کھنک۔ چھڑی کے سہارے چلتے تھے۔ شریفانہ چہرہ‘ جس میں گزرے 45 برسوں میں اُٹھائی جانے والی صعوبتوں کی پرچھائیاں تھیں۔ تعلیم یافتہ‘ مہذب‘ متین اور نوابی وضع قطع کی شخصیت۔ ملاقات کیلئے بیٹھک میں آئے تو شیروانی میں ملبوس‘ جس کے سب بٹن بند تھے۔ حیدر آبادی پاجامہ اور دیسی جوتی۔ نہ سگریٹ اور نہ حقہ۔ بڑی محبت سے چائے پلائی‘ پلیٹ میں دو چار بسکٹ۔ کمرے میں سادہ فرنیچر۔ قالین کی جگہ دری بچھی ہوئی تھی۔ جب چائے تیار ہو گئی تو بیگم صاحبہ نے دروازے پر دستک دی اور مشتاق صاحب کو ٹرے تھما دی۔
مشتاق احمد خان نے 303 صفحات کی جو کتاب لکھی‘ اس میں 50 صفحات بے حد مفید ضمیموں‘ سرکاری دستاویزات اور خط و کتاب کی نقول پر مشتمل ہیں۔ میں نے جب ان سے ریاستِ حیدرآباد کے کفن میں آخری کیل ٹھونکنے والے کردار (سید قاسم رضوی) سے فروری 1958ء میں لاہور میں اپنے ہاسٹل میں ایک غیر خوشگوار ملاقات کا ذکر کیا تو وہ کچھ دیر خاموشی سے میری طرف دیکھتے رہے اور پھر سر جھکا لیا۔ اس ملاقات کا ماحول اتنا سوگوار تھا کہ لگتا تھا کہ وہ اپنی دکھ بھری‘ خاک و خون سے لتھڑی داستان بیان کرتے کرتے رو پڑیں گے۔ میں نے سوچا کہ اپنے میزبان کی توجہ بھٹکائوں کہ شاید وہ سنبھل جائیں۔ میں نے پوچھا کہ نواب صاحب یہ بتائیے گا کہ یہ جو ''ایل ایدرُوس‘‘ نامی شخص تھا‘ وہ کون تھا؟ ان کا چہرہ کھِل اُٹھا اور کہنے لگے: آپ پہلے شخص ہیں جس نے مجھ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا۔ پھر انہوں نے بتایا کہ اس شخص کا اصل نام سیّد احمد تھا‘ وہ ایک عام فوجی افسر تھا مگر درباری سازشوں کا ماہر ہونے کی وجہ سے میجر جنرل اور حیدرآبادی فوج کا کمانڈر بنا دیا گیا اور پھر اپنے لیے یہ مضحکہ خیز نام بطور خطاب چن لیا۔ کوئی نہیں جانتا کہ اس کے کیا معانی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نظام حیدرآباد کو گمراہ کرنے والے چار افراد؍ ادارے تھے۔ (1) حکومتِ پاکستان کے ارباب بست وکشاد (2) حیدر آباد میں انگریز حکومت کے ایجنٹ سر والٹر مانکٹون(Walter Monckton) (3)حیدرآبادی فوج کا کمانڈر (ایل ایدرُوس)‘ جس نے نظام کو یقین دلایا تھا کہ اُس کی کمان میں فوج ممکنہ بھارتی حملے کا کامیابی سے دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے‘ اور یہ دعویٰ بھارتی حملے کے 48 گھنٹوں کے اندر ہی دھول میں مل گیا۔ (4) رضا کار تحریک کا بانی قاسم رضوی۔ البتہ اس کے رضا کار بڑی بہادری سے لڑے اور اپنی استطاعت سے بڑھ کر مزاحمت کرتے کرتے شہید ہو گئے مگر وہ اسلحہ اور تعداد میں اپنے سے کئی گنا بڑی فوج کا مقابلہ نہ کر سکتے تھے۔ ال ایدروس اور قاسم رضوی ہی ہزاروں بہادر سپاہیوں اور رضاکاروں کو موت کے گھاٹ اتار دینے کے ذمہ دار ہیں۔
میرا اگلا سوال ایک پُراسرار کردار کے بارے میں تھا۔ اُس کا نام سڈنی پائول تھا۔ اگست 1947ء میں حیدرآباد جب بدترین گرداب میں پھنس گیا تو وہ کرائے کا سپاہی (Mercenary) بن کر حیدرآباد کو اسلحہ پہنچانے لگا اور بڑی رقوم بھی۔ وہ دنیا بھر سے گولہ بارود جہاز میں بھر کر کراچی لاتا جہاں اس کا آپریشنل بیس تھا‘ پھر وہاں بڑی باقاعدگی سے جہاز حیدرآباد آتے جاتے۔ بھارتی حکومت کو اس کی سرگرمیوں کا بہت بعد میں پتا چلا۔ نواب صاحب نے قدرے خفیہ انداز میں کہا کہ آپ کو یہ ماننے میں دشواری ہوگی مگر سچ کہتا ہوں کہ جب پاکستانی فوج میں اعلیٰ عہدوں پر فائز حیدرآبادی افسروں کو حیدرآباد پر بھارتی حملے کی خبر ملی تو وہ چھٹیاں لے کر حیدرآباد پہنچ گئے اور رضا کارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کیں۔ نواب صاحب کو ان مجاہدین میں سے صرف ایک کا نام یاد تھا اور وہ تھے سکندر علی بیگ۔ نواب صاحب نے پھر گفتگو روک کر تمام شہدا کے لیے دعائے مغفرت کی۔ نظام کی دم توڑتی حکومت نے سڈنی پائول کے علاوہ ایک ممتاز پاکستانی کاروباری شخصیت (یوسف ہارون) سے بھی رجوع کیا۔ نواب صاحب کی کتاب کے صفحہ 190 کے مطابق یوسف ہارون کو اُنہوں نے ایک خفیہ پرواز سے حیدرآباد بھجوایا اور اپنے مختصر قیام کے دوران انہوں نے نظام سے خصوصی پروازوں کے ذریعے ضروری سامان بھیجنے کا معاہدہ کیا۔ وقت کی قلت کی وجہ سے کوئی قانونی معاہدہ نہ ہو سکا۔ نواب صاحب کو پنسل سے لکھی ایک یادداشت بھیجی گئی اور انہیں معاہدے کی تکمیل پر پانچ لاکھ پائونڈ کی پہلی قسط ادا کرنا تھی۔ انگلینڈ میں موجود جائیدادوں‘ ان سے نظام کے متعلق خدشات‘ حکومت پاکستان کو ٹرسٹ بنانے کی تجویز اور پھر ٹرسٹ میں نظام حیدرآباد کو ہی شامل نہ کرنا‘ یہ سب باتیں بھی گفتگو کا حصہ رہیں۔
کشمیر میں ریفرنڈم پر سمجھوتا ہو جانے کا مرحلہ آیا تو حیدرآباد کے مسئلے پر اختلاف نے سارا معاملہ بگاڑ دیا۔ قائداعظم نے حیدرآباد میں استصوابِ رائے کی تجویز کو سختی سے مسترد کر دیا۔ 25 سال بعد‘ 27 نومبر 1972ء کو لنڈی کوتل میں بھٹو صاحب نے بطور صدر‘ قبائلی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ اُنہیں بھارت کے وزیر داخلہ (سردار ولبھ بھائی پٹیل) نے بتایا کہ 1947ء میں بھارت نے پاکستان کو پیشکش کی تھی کہ وہ کشمیر لے لے اور اس کے بدلے حیدرآباد اور جونا گڑھ کی ریاستیں بھارت کو دینے پر آمادہ ہو جائے مگر یہ مطالبہ تسلیم نہیں کیا گیا۔
نظام (میر عثمان) نے اپنے ولی عہد (اعظم جاہ) کو ان کی نااہلی کی وجہ سے وراثت سے محروم کرکے اور اپنے پوتے مکرم جاہ (جو اس وقت کیمبرج یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے) اپنا وارث نامزد کر دیا۔ وہ اپنے دادا کے مقرر کردہ ٹرسٹوں کی نگرانی کرنے کے بجائے آسٹریلیا میں ایک وسیع و عریض فارم لے کر وہاں زراعت کرنے لگا اور قدیم بادشاہت سے ٹریکٹر چلانے کا طویل فاصلہ حوادثِ زمانہ سے مجبور ہو کر اس نے بہت جلد طے کر لیا۔ اسے ہی انقلاب کہتے ہیں۔ یہ وہ آخری الفاظ تھے‘ جن پر ہماری ملاقات ختم ہوئی۔

11/07/2026

مارکیٹنگ محض دروازے تک لاتی ہے۔
مستظہر اقبال

وطن عزیز میں یوں تو کاروبار کرنا آسان نہیں مگر پھر بھی جو سر پھرے کاروبار میں آ ہی جاتے ہیں وہ زیادہ تر صرف دیکھا دیکھی، بغیر کسی منصوبہ بندی کے، ترجیحات کے تعین کے بغیر کودے ہوتے ہیں، خال خال جنہوں نےمنصوبہ بندی کی بھی ہوتی ہے مکمل طورپر کاربند نہیں رہ پاتے۔ ایک بڑامعمہ یہ ہے کہ اگر ایک عام سلیم الفطرت شخص بنیادی مسائل صرف ایک نظر میں دیکھ پاتا ہے تو مالک ان مسائل کو سارا دن وہاں بیٹھ کر کیوں نہیں دیکھ پاتا۔ بہت افسوس ہوتا ہے کہ کسی نے لاکھوں کی سرمایہ کاری کی ہے، لاکھوں میں تنخواہیں اور روزانہ کےخرچ ادا کر رہا ہے، کم از کم ہزاروں میں مارکیٹنگ پر بھی خرچ کررہا ہے مگر اس کے حواری اور ملازمین تمام سرمائے اور محنت کاسوا ستیاناس کردیتے ہیں۔
بہت سی ہڈ بیتیاں یہاں لکھی جاسکتی ہیں لیکن صرف ایک، جوبطور خاص اس تحریر کا محرک ہے یہاں عرض ہے: کہ گھر کے قریب میں ایک نیا ہوٹل کھلا ہے اور پچھلے دو ماہ سے مختلف ایپس کی فیڈ میں اس کے کھانے،ماحول اور بچوں کی دلچسپیوں کے سامان بارےتعریفی ویڈیوز بھی آرہی ہیں، جو کہ آخر کار دو عدد بچوں اور زوجہ سمیت دو دن قبل ہمیں مجبور کر پائیں کہ کم از جا کر دیکھیں توسہی کہ کہیں واقعی کھانے اور آوٹنگ کا اچھامقام حاصل نہ ہو گیا ہو۔ یہ شام کا ڈنر کے آغاز کاوقت ہے، کہیں دور بارش ہوئی ہے جس کی وجہ سے موسم اچھا ہے۔ داخلے پر صرف کک صاحب چکن کے ساتھ دکھائی دئیے جنہیں باقاعدہ استفسارکیاکہ ہم کہاں بیٹھ سکتے ہیں،اشارا پا کرتھوڑا آگے ہوئے توایک ویٹر نما کو بلر نما کے ساتھ محو گفتگو پایا،ہمارے پوچھنے پر ہی سلام دعا ہوئی ورنہ وہ گاہک سے زیادہ اہم کسی بات چیت میں مصروف تھے،ہمیں ایسی جگہ بیٹھنے کو کہا گیا کہ جہاں تازہ ہوا اور خوبصورت موسم کے اثرات نہ پہنچ پائیں کہ غلطی سےہم پوری فیملی کھانے کے لیے چلے گئے تھے۔خیر آغاز ہوتا ہے لالا کے تخاطب سے،یہ ایسابھی برا نہیں ہے مگر کوئی جاننے والا کہے تو، مگرویٹر کی طرف سےبہت عجیب لگا؛ پوچھا کوئی مینیو ہے؟ مینیو آگیا، لیکن ویٹر کو کوئی کام نہ ہوتے ہوئے بھی جلدی میں ہے،دس سیکنڈ بھی رک کر بات سننے بتانے سےقاصر ہے، پوچھایہاں کی کڑاہی کیسی ہے؟ کہنے لگا’’ ٹھیک ہی ہوگی میں نے تو کبھی کھائی نہیں ہےــ‘‘ کیوں بھئی ایسا کیا ہو گیا؟ کہا’’میں دو تین دن ہوئے ہیں آیا ہوں‘‘ پوچھا جو باربی کیو کا پلیٹرہے(کہ جس کی ویڈیو دراصل وہاں تک لے گئی تھی) مل سکتا ہے، جواب آیا نہیں وہ نہیں ہے۔ اور یہ ڈیٹا بھی کم از کم تین سے چار آنیوں جانیوں میں اکٹھا ہو سکا۔
خیر اب چلے جو گئے تھے کیا کرتے ؟اکیلے ہوتے تو چھوڑآتے کہ کھانے کے اتنے بھی شوقین نہیں ہیں؛ صرٖف کڑاہی اور تکے کا آرڈر دے دیا کہ وہ موجود تھے، اسی اثنا میں صرف ایک عدد صاف گلاس چاہیے تھا ، بلر نما سے گزارش کی کہ دھلوا کرگلاس بھجوا دیں، لیکن اللہ نظر سے بچائے؛ پانچ، دس منٹ تک گلاس نہیں آپایا، دوبارہ عرض کی تو ویٹر نما کو شایداس نے پھر سے گزارش کر کے چارلوگوں کو ایک اکلوتا گلاس فراہم کروایا۔ سوچا یہاں کھانا تو مشکل ہو جائے گا لہذا گزارش کی کہ ہمارا کھانا پیک کر دیں گھر جا کر کھا لیں گے، لیکن بلر نما میں کچھ نہ کچھ اچھائی موجود تھی، اس نے ہم سے کہا کہ ناراض ہو کر نہ جائیں، یہیں بیٹھیں (ویٹرنما جن الفاظ میں بلر نما سےہمارے میں بات کر رہا تھا وہ سن تو لیے لیکن خواہش تھی کہ ان سنے ہی رہیں) ۔ خیر کڑاہی اور تکہ آگئے خدا خدا کر کے، روٹیاں اکٹھی ہی چھ، سات رکھ دیں کہ گرم ہوں یا ٹھنڈی، خود ذمہ دارہیں، کڑاہی کو صحیح سے بھونا نہیں گیا تھا کہ گوشت کی خوشبو کچھ باقی تھی اور تکہ قدرے بہتر تھا لیکن بالکل خشک تھا کہ تیل چھڑکنے میں جانے انجانے میں کمی برتی گئی تھی۔اسی اثنا میں ویڈیو میں دیکھے گئے مالک، بلر نما سے حساب لیتے دکھائی دئیے،سوچا جاتے ہوئے برادرانہ طور پراپنی سمجھ کے مطابق کچھ گزارشات پیش کر دوں گا کہ آخر کار جان، مال اوروقت لگا رہے ہیں، افسوس ہوگا کہ اگر نکموں اور نااہلوں کی وجہ سے کسی کا لاکھوں کا کاروبارڈوب جائے۔ یہاں بہت سی جزیات اور احساسات لکھے نہیں جاسکے لیکن ایک بات حاصل احساس کو کچھ اور واضح کرے گی کہ بڑا بچہ جوصرف سات سال کا ہے، اس نے کہا میں ایسے ہوٹل (جہاں برتن ایسے ویسے ہوں)میں کھانا نہیں کھاتا، اورپھرمنتوں اور کوششوں کے باوجود اس بچے نے کوئی چیز چکھی ہی نہیں (بچے کی طرف سے بہت سی خودساختہ وجوہات بھی شامل کی گئی تھیں، لیکن جہاں سے ’ناں‘ شروع ہوئی وہ وقت پہ صاف گلاس نہ ملنا تھا)۔ ویٹر نما بل لے آیا ہے کہ بھائی جلدی کرو کھانا ختم کرو اور نکلو۔ خیر اٹھےاور چل پڑے؛ مالک سو، دوسو کے حساب میں مگن ہے(آوازیں سن کر پتا چل رہا تھا کہ کہاں کہاں خرچ کیے)ان کی مصروفیت دیکھ کر ہم بھی بل ادا کرکے چل دئیے اور جان بوجھ کرایک روپیہ بھی ٹپ ادا نہیں کی؛ مالک نے جلدی میں ہی سہی، ہمیں تھینک یوضرور کہا جو پورے وزٹ کی واحد اچھی بات تھی۔ سوچا ہم نے کپڑے بھی اچھے پہنے ہیں، ہوٹل کی پرائسنگ بھی ٹھیک ہے پھر ایسا احساس کیوں ہواکہ ہم نےسراسر وقت اور پیسے ضائع کیے ہیں،کیایہاں آ کر سب کو ایسا ہی محسوس ہوتا ہے؟ کیا سب ہی اس طرح دوبارہ نہ جانے کا عزم کرتے ہیں؟ کیااتنی سرمایہ کاری کے بعدبھی یہ صرف ایک عام چائے کا ڈھابہ رہ جائے گا؟ کیا مالک اس کی ناکامی کا سہرا ماحول، علاقے اور ملکی معیشت کے سر ہی باندھے گا؟ یا پھر مسئلے کو مسئلہ سمجھ کرکوئی درستی کی کوشش بھی کرے گا؟
احباب!مارکیٹنگ ایک ایسی سڑک ہے جو گاہک کو آپ کی دکان کے دروازے تک لا سکتی ہے، مگر دروازے کے پار جو کچھ ہے، وہ فیصلہ کرتا ہے کہ گاہک دوبارہ آئے گا یا نہیں۔پچھلے چند برسوں میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ نے کاروبار کرنے کا انداز یکسر بدل دیا ہے۔ سوشل میڈیا بوسٹنگ اور انفلوئنسرزکے ذریعے کسی بھی پروڈکٹ کو چند دنوں میں مشہور کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب گاہک مارکیٹنگ کے نتیجے میں پیسے خرچ کر کے پروڈکٹ یا سروس خریدتا ہے۔
اشتہار دیکھ کر خریداری کے فیصلے کے نتیجے میں اگر حقیقت کچھ اور نکلے تو گاہک کے ذہن میں صرف مایوسی نہیں بلکہ غصہ بھی جنم لیتا ہے، کیونکہ اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔ یہی غصہ آگے چل کر برانڈ یا کاروبار کے خلاف سب سے بڑا ہتھیار بن جاتا ہے۔سوشل میڈیا دودھاری تلوار ہے: جیسے یہ کاروبار کو بڑھانے میں مددکر سکتا ہے ویسے ہی تباہی بھی اس کے لیے بالکل مشکل نہیں ہے۔جیسےکاروبار کو یہ پلیٹ فارم میسر ہے ویسے ہی گاہک کی بھی دسترس میں ہے، ایک منفی تجربہ ،لکھی گئی چند سطروں یا چند سیکنڈز کی ویڈیو کی صورت میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے۔ ایک ستارہ ریٹنگ، ایک تنقیدی کمنٹ، یا ایک وائرل ویڈیو کسی کاروبار کی برسوں کی محنت پر پانی پھیر سکتی ہے۔
سمجھ دار مارکیٹنگ کو محض ایک ذریعہ بناتے ہیں جو گاہک کو ان کی معیاری پراڈکٹ سے متعارف کرائے۔جوافراد یا ادارے مارکیٹنگ کوہر مسئلے کا حل سمجھ کر پروڈکٹ کی خامیوں کو نظر انداز کرتے رہتے ہیں، وہ سونے کے انڈے دینے والی مرغی کو ذبح کرنے والی مثال کی طرح صرف عارضی منافع کما لیتے ہیں، مگر دیرپا نقصان اٹھاتے ہیں۔ مارکیٹنگ دروازہ کھول سکتی ہے، مگر گاہک کو مستقل مکین بنانے کے لیے پروڈکٹ اور سروس میں جان ہونا ضروری ہے۔

سفارش اور شفاعتامیر حمزہاللہ کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام جب عراق سے ہجرت کر کے فلسطین کی جانب چلے تو آپ علیہ السلا...
10/07/2026

سفارش اور شفاعت
امیر حمزہ

اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام جب عراق سے ہجرت کر کے فلسطین کی جانب چلے تو آپ علیہ السلام کے ہمراہ آپ کی زوجہ محترمہ حضرت سارہ اور بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام بھی تھے۔ فلسطین پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام کو بھی نبوت سے سرفراز فرمایا؛ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت لوط علیہ السلام کو سدوم کے لوگوں کی جانب بھیجا تاکہ وہاں کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی جائے۔ حضرت لوط حضرت ابراہیم علیہما السلام کی نگرانی میں اپنے فرائضِ نبوت انجام دے رہے تھے۔ یہ قوم بُت پرستانہ عقائد کیساتھ ساتھ اخلاقی طور پر بھی نہایت پستی کا شکار تھی اور ہم جنس پرست تھی۔ جب یہ بار بار سمجھانے پر بھی باز نہ آئے اور حضرت لوط علیہ السلام کی جان کے درپے ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو سزا دینے کیلئے فرشتے بھیجے۔ وہ فرشتے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ اپنے آنے کے مقصد سے انہیں آگاہ کر سکیں اور انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بشارت بھی سنائیں۔ جب وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس انسانی شکل میں پہنچے تو انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو سلام کیا۔ جناب ابراہیم علیہ السلام نے جوابی سلام کیا۔ اب حضرت ابراہیم علیہ السلام اٹھے اور کچھ دیر بعد بھنا ہوا ثابت بچھڑا لا کر مہمانوں کے سامنے رکھ دیا۔ یہ اعلیٰ ترین مہمان نوازی تھی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پوچھے بغیر بھنا ہوا بچھڑا مہمانوں کے سامنے رکھ دیا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس گائیوں اور بھیڑ بکریوں کا ریوڑ تھا۔ شام کا شہر حلب‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کچھ عرصہ یہاں بھی گزارا ہے۔ یہاں آپ کا ٹھکانہ ایسے ٹیلے پر تھا جہاں تجارتی قافلے گزرتے ہوئے کچھ دیر ٹھہرتے تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام ان قافلے والوں کی ضیافت کرتے اور انہیں خوب دودھ پلاتے‘ جس کی وجہ سے اس شہر کا نام 'حلب‘ پڑ گیا۔ عربی میں حلب کا معنی دودھ ہے۔
فرشتوں نے جب اپنے ہاتھ بھنے ہوئے بچھڑے کی جانب نہیں بڑھائے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام پریشان ہو گئے کہ یہ اجنبی مسافر کھانا کیوں نہیں کھا رہے۔ انہیں خوف محسوس ہوا کہ ان کے ارادے کچھ اچھے نہیں لگتے۔ فرشتے یہ پریشانی بھانپ کر عرض گزار ہوئے کہ ہم اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں اور آپ علیہ السلام کو ایک بیٹے‘ حضرت اسحاق علیہ السلام کی خوشخبری دینے آئے ہیں۔ مزید خوشخبری یہ ہے کہ آپ کو ایک پوتا بھی ملے گا جس کا نام یعقوب ہوگا (اور یہ دونوں نبی ہوں گے)۔ اس سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دل کی گھبراہٹ ختم ہو گئی کہ یہ تو فرشتے ہیں اور خوشخبری لے کر آئے ہیں۔ پھر انہوں نے بتایا کہ وہ سدوم کی بدکار قوم کو عذاب سے دو چار کرنے آئے ہیں۔ اس خبر سے حضرت ابراہیم علیہ السلام پریشان ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اپنے حبیبﷺ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے رویے سے متعلق اس طرح آگاہ فرمایا: ''وہ (ابراہیم علیہ السلام) لوط کی قوم کے بارے میں ہم سے بحث (جھگڑا) کرنے لگ گیا‘‘ (ہود: 74)۔ لوگو! ذرا غور کرو۔ اللہ کے فرشتوں سے بحث یا جھگڑا دراصل اللہ تعالیٰ کے آگے یہ التجا‘ یہ سفارش ہے کہ اس گنہگار قوم کو مزید مہلت ملنی چاہیے تاکہ یہ عذاب سے بچ جائیں‘ ہدایت پر آ جائیں اور جہنم کا ایندھن نہ بنیں۔ اگلی ہی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی تین صفات کا تذکرہ کیا کہ ابراہیم علیہ السلام ''حلیم‘‘ یعنی بے پناہ حوصلے والے تھے‘ یعنی ان کا جھگڑا فرشتوں کے ساتھ تھا کہ ابھی مزید حوصلے سے کام لیا جائے‘ اس قوم کو مزید برداشت کیا جائے۔ دوسری صفت ''اَوَّاہٌ‘‘ ہے یعنی انتہائی نرم دل۔ کسی پر تکلیف کو دیکھ اور سن کر اللہ کی جناب میں گریہ و زاری کرنے والے۔ تیسری صفت ''مُنیب‘‘ ہے کہ بار بار اللہ کی بارگاہ میں (نئے نئے الفاظ اور انداز سے) رجوع (اور درگزر کی درخواست) کرنے والے تھے۔ اے وارثانِ منبرِ مصطفی! ہم ذرا اپنا حوصلہ اور برداشت دیکھیں کہ کلمہ پڑھنے والوں پر بھی کس طرح فتوے لگاتے ہیں۔ زبان کس قدر دراز کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا نام نہاد مبلغین کی مغلظات سے بھرا پڑا ہے۔ آئیے اب بنو اسرائیل کی جانب مبعوث آخری رسول حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور بنو اسماعیل سے ختم المرسلین‘ رحمتِ دو عالم حضرت محمد کریمﷺ کے حوصلوں اور برداشت کے بے کنار سمندر کی موجیں ملاحظہ کرتے ہیں۔
سورۃ المائدہ کے آخر پر اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کا نقشہ کھینچا ہے۔ تمام انسانیت موجود ہے‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اُمت کا مقدمہ زیر سماعت ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے مخاطب ہوتے ہیں: ''اے مریم کے بیٹے عیسیٰ! کیا آپ نے اپنی امت کو اس کام پر لگایا تھا کہ اللہ کو چھوڑ کر مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لو؟‘‘۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس طرح اپنی صفائی پیش کریں گے: میرے لیے تو ایسی بات لائق ہی نہیں‘ میں تو ان لوگوں کو ہمیشہ توحید کی دعوت دیتا رہا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی گواہی کے بعد جب امت کے لوگوں پر فردِ جرم عائد ہونے لگے گی کہ جنہوں نے حضرت عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا قرار دیا تھا‘ تب عیسیٰ علیہ السلام اپنی اُمت کے گمراہ اور گنہگار لوگوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کریں گے اور بارگاہِ الٰہی میں عرض گزار ہوں گے: ''اے اللہ کریم! آپ اگر ان کو سزا دیں تو یہ بندے تو آپ ہی کے ہیں اور اگر آپ ان کو معاف فرما دیں تو آپ غالب بھی ہیں اور حکمت والے بھی‘‘۔ (المائدہ: 118)
قارئین کرام! ختم المرسلینﷺ تو تمام اولادِ آدم کے سردار ہیں۔ تمام جہانوں کے باسیوں کیلئے سراسر رحمت ہیں۔ حضرت ابوذر غفاریؓ بتاتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نے (درج بالا) آیت پڑھنا شروع کی تو فجر تک آپﷺ یہی آیت تلاوت فرماتے رہے‘‘ (سنن نسائی‘ سندہٗ حسن)۔ مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت میں مزید اضافہ یوں ہے کہ حضرت ابوذر غفاریؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضورﷺ سے رات بھر تلاوت کے بارے میں پوچھا تو آپﷺ نے فرمایا ''اس آیت کو میں نے بار بار پڑھا۔ اللہ تعالیٰ سے شفاعت کی درخواست کی۔ اللہ تعالیٰ نے میری درخواست قبول فرما لی لہٰذا میری امت میں سے ہر وہ شخص‘ جو اللہ کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہیں بنائے گا‘ اس کو میری شفاعت فائدہ دے گی‘‘۔ صحیح بخاری اور حدیث کی دیگر کتب میں ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: قیامت کا دن ہوگا‘ ساری انسانیت ایک میدان میں جمع ہو گی‘ سورج انتہائی قریب ہو گا‘ لوگ اپنے اپنے پسینوں میں شرابور ہوں گے‘ گھبراہٹ کی وجہ سے پریشان حال ہوں گے‘ آخرکار آپس میں کہیں گے: آئو! اپنے باپ آدم علیہ السلام کے پاس چلیں کہ وہ ہماری سفارش کریں کہ اس دن کی سختی اور گھبراہٹ سے ہماری جان چھوٹ جائے۔ وہ آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے تو وہ اپنے عذر کی بنا پر معذرت کرتے ہوئے انکار کر دیں گے‘ اسی طرح لوگ باری باری حضرت ابراہیم‘ حضرت موسیٰ‘ حضرت عیسیٰ علیہم السلام کے پاس جائیں گے اور پھر حضرت محمد کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوں گے۔ فرمایا: جب لوگ میرے پاس آئیں گے تو میں اللہ کی بارگاہ میں (مقامِ شفاعت) پر سجدے میں چلا جائوں گیا۔ اللہ تعالیٰ کی ایسی حمد بیان کروں گا کہ اس سے پہلے کبھی نہ کی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ راضی ہو کر خطاب فرمائیں گے: میرے حبیب! سر اٹھائیے‘ آج جو مانگو گے عطا ہوگا۔ جو سفارش کرو گے قبول ہوگی۔
قارئین کرام! لوگوں کا حق مارنے والے‘ قتل کرنے والے‘ فساد اور دہشتگردی سے بے گناہوں کو شہید کرنے والے‘ زمین غصب کرنے والے جب تک اہلِ حق کو ان کا حق نہ دے لیں‘ تب تک ان کی جان نہیں چھوٹے گی۔ آئیے ملک کے اندر برداشت کا کلچر پیدا کریں‘ مکالمے کی بات کریں‘ ایک دوسرے پر فتوے نہ لگائیں‘ سب مسلمانوں کو دعائوں میں شامل کریں۔ وہ جو ہم سب کے امن کیلئے جانیں قربان کر رہے ہیں‘ ان شہدا اور وارثانِ شہدا کو بھی اپنی دعائوں میں یاد رکھیں۔ پاک وطن شاد آباد رہے۔

تعلیمی بجٹ کہاں خرچ ہو رہا ہے؟شاہد صدیقیآج کی دنیا میں کسی بھی ملک کی اصل طاقت اس کے قدرتی وسائل یا عسکری قوت کے بجائے ...
08/07/2026

تعلیمی بجٹ کہاں خرچ ہو رہا ہے؟
شاہد صدیقی

آج کی دنیا میں کسی بھی ملک کی اصل طاقت اس کے قدرتی وسائل یا عسکری قوت کے بجائے اس کے انسانی وسائل سے متعین ہوتی ہے‘ اور انسانی وسائل کی تعمیر کا سب سے مؤثر ذریعہ تعلیم ہے۔ جدید معیشت‘ سائنسی تحقیق‘ ٹیکنالوجی‘ اختراع‘ سماجی ہم آہنگی اور جمہوری استحکام سب کا انحصار ایک مضبوط تعلیمی نظام پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک تعلیم کو خرچ نہیں بلکہ مستقبل میں سرمایہ کاری تصور کرتے ہیں۔ ہر سال کا وفاقی بجٹ پاکستان میں تعلیم پر کم سرمایہ کاری کی وہی پرانی بحث دوبارہ چھیڑ دیتا ہے۔ اس سال کا بجٹ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ تعلیم پر سرکاری اخراجات‘ جو پہلے ہی جی ڈی پی کے محض 0.8 فیصد کے برابر تھے‘ مزید کم ہو کر پاکستان کی تاریخ کی سب سے نچلی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ یہ بات ہر اس شخص کے لیے تشویش کا باعث ہونی چاہیے جو یہ سمجھتا ہے کہ تعلیم معاشی ترقی‘ سماجی نقل و حرکت اور جمہوری ارتقا کی بنیاد ہے۔
مگر ناکافی فنڈنگ صرف آدھی کہانی ہے۔ اتنا ہی اہم یہ ہے کہ محدود وسائل کہاں خرچ کیے جا رہے ہیں۔ ایسے ملک میں جہاں مالی وسائل کمیاب ہیں‘ ہر روپے کی اپنی ایک opportunity cost ہوتی ہے؛ چنانچہ اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان تعلیم پر کافی خرچ کرتا ہے یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ جو تھوڑا بہت خرچ ہوتا ہے وہ ملک کی سب سے فوری تعلیمی ضروریات پر لگایا جا رہا ہے یا نہیں؟ پاکستان کو غیر معمولی آبادیاتی چیلنج درپیش ہے۔پاکستان کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ دنیا کی نوجوان ترین آبادیوں میں سے ایک کے حامل اس ملک میں ہر سال لاکھوں مزید بچوں کو سکولوں تک رسائی درکار ہوتی ہے۔تازہ ترین پاکستان اکنامک سروے (2025-26ء) کے مطابق حکومت کا دعویٰ بھی یہی ہے کہ تعلیم کے تقریباً ہر مرحلے پر داخلوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اگر یہ دونوں رجحانات درست مان لیے جائیں تو ملک کے سرکاری سکولوں کے نظام کو تیزی سے پھیلنا چاہیے تھا۔ لیکن سرکاری اعداد و شمار اس کے بالکل برعکس صورتحال بیان کرتے ہیں۔ 2020-21ء اور 2024-25ء کے درمیان پرائمری سکولوں کی تعداد 180217 سے کم ہو کر 154964 رہ گئی‘ یعنی صرف چار برسوں میں 25 ہزار سے زائد سکول کم ہو گئے۔ مڈل سکولوں کی تعداد بھی 47182 سے کم ہو کر 43931 رہ گئی جبکہ سیکنڈری تعلیمی اداروں کی مجموعی تعداد 2756 ہزار سے گھٹ کر 2683 ہزار رہ گئی۔ اعداد وشمار میں یہ تضاد ایک بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے کہ اگر زیادہ بچے سکول میں داخل ہو رہے ہیں اور سکولوں کی تعداد سکڑ رہی ہے‘ تو یہ اضافی طلبہ کہاں جا رہے ہیں؟ اس کا ایک ہی منطقی جواب ہو سکتا ہے کہ انہیں دستیاب سکولوں میں ٹھونسا جا رہا ہے‘ جس کے نتیجے میں کلاس رومز میں ہجوم‘ طلبہ اور اساتذہ کے تناسب میں اضافہ‘ اساتذہ پر بڑھتا دباؤ اور تعلیمی معیار میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ یوں ہمارا سکڑتا ہوا سکول نیٹ ورک نظامِ تعلیم کو مضبوط بنانے کے بجائے نئے چیلنجز کو جنم دے رہا ہے۔ بدقسمتی سے باقی ماندہ سکولوں کی حالت بھی تشویشناک ہے۔ تعلیمی معیار صرف اساتذہ اور نصابی کتب پر منحصر نہیں ہوتا بلکہ اس ماحول پر بھی منحصر ہوتا ہے جس میں بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ تعلیم اداروں میں میسر سہولتیں تعلیمی عمل پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ پاکستان کے سرکاری سکولوں میں میسر سہولتوں کا جائزہ لیا جائے تو مایوس کن صورتحال سامنے آتی ہے۔ اکثر سرکاری سکولوں میں بجلی‘ پینے کا صاف پانی‘ بیت الخلا اور حفاظتی چار دیواری کوئی اضافی سہولتیں نہیں بلکہ بچوں کی صحت‘ تحفظ اور وقار کیلئے بنیادی ضروریات ہیں۔ پاکستان اکنامک سروے کے مطابق صرف 65 فیصد سرکاری سکولوں میں بجلی‘ 76 فیصد میں صاف پینے کے پانی کی سہولت‘ 77 فیصد میں بیت الخلا اور 75 فیصد میں چار دیواری موجود ہے۔ پرائمری سکولوں میں صورتحال اور بھی زیادہ خراب ہے جہاں صرف 59فیصد سکولوں میں بجلی میسر ہے۔ صوبائی تفاوت اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ پنجاب نے ان سہولتوں کی فراہمی میں کافی پیشرفت کی ہے جبکہ بلوچستان جیسے صوبے کو بجلی‘ پینے کے پانی اور سکولوں کی محفوظ عمارتوں کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ ان حقائق کو حکومت کی ترقیاتی ترجیحات کا تعین کرنا چاہیے تھا۔ ایک ایسے ملک کو‘ جسے سکول جانے کی عمر کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کا سامنا ہے‘ سب سے پہلے اپنے سرکاری سکولوں کے نیٹ ورک کو وسعت دینے‘ موجودہ سکولوں کو اَپ گریڈ کرنے اور یہ یقینی بنانے میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے کہ ہر بچہ ایک محفوظ اور فعال تعلیمی ماحول میں تعلیم حاصل کرے۔
لیکن پاکستان کا تازہ ترین بجٹ (2026-27ء) مختلف ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے 12 جون کو قومی اسمبلی میں اپنی بجٹ تقریر میں اعلان کیا کہ وفاقی بجٹ 2026-27ء میں دانش سکولوں کے لیے تقریباً 22 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اسی طرح حکومت وزیراعظم لیپ ٹاپ سکیم کی مالی معاونت بھی جاری رکھے ہوئے ہے‘ جس کے تحت ایک لاکھ لیپ ٹاپس منظور کیے گئے ہیں۔ اپریل 2026ء تک 156 سرکاری اعلیٰ تعلیمی اداروں (ایچ ای آئیز) کے طلبہ میں 74427 لیپ ٹاپس تقسیم کیے جا چکے تھے۔ اس سکیم کی مجموعی منظور شدہ لاگت 16801 ارب روپے ہے‘ جبکہ رواں پی ایس ڈی پی میں اس کے تسلسل کیلئے 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یہاں اس بات کو واضح کرنا ضروری ہے کہ سوال یہ نہیں کہ دانش سکولوں یا وزیراعظم لیپ ٹاپ سکیم کی تعلیمی افادیت ہے یا نہیں‘ اصل معاملہ ترجیحات کا ہے۔ ایسے ملک میں جہاں بچوں کی مطلق اکثریت عام سرکاری سکولوں میں پڑھتی ہے‘ جہاں داخلوں میں اضافے کے باوجود سکولوں کا نیٹ ورک سکڑ رہا ہے‘ اور جہاں ہزاروں سکول اب بھی بجلی‘ پینے کے پانی‘ بیت الخلا اور چار دیواری سے محروم ہیں‘ کیا ان منصوبوں کو سرکاری نظامِ تعلیم کو مضبوط بنانے پر ترجیح ملنی چاہیے؟ سرکاری بجٹ بالآخر ترجیحات کا اعلامیہ ہوتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ایک منصوبے کو دیا گیا ہر روپیہ دوسرے کے لیے دستیاب نہیں رہتا۔ دانش سکولوں کے لیے مختص تقریباً 22 ارب روپے اور وزیراعظم لیپ ٹاپ سکیم میں مسلسل سرمایہ کاری کے بجائے‘ یہ رقم نئے سرکاری سکولوں کی تعمیر‘ ہجوم میں کمی اور ہزاروں موجودہ سکولوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں لگائی جا سکتی تھی۔ اس طرح کی سرمایہ کاری طلبہ کی ایک نسبتاً مختصر تعداد کو فائدہ پہنچانے کے بجائے عام سکولوں کے لاکھوں بچوں کے تعلیمی ماحول کو بہتر بنا سکتی تھی۔
یہ بات یقینی ہے کہ پاکستان کا تعلیمی بحران محض ناکافی فنڈنگ کا بحران نہیں بلکہ یہ اتنا ہی غلط ترجیحات کا بحران بھی ہے۔ تعلیم پر سرمایہ کاری بڑھانا بلاشبہ ضروری ہے‘ مگر محض اخراجات میں اضافہ کوئی مؤثر تبدیلی نہیں لا سکتا جب تک وسائل اکثریت کی ضروریات کے مطابق مختص نہ کیے جائیں۔ ہر تعلیمی بجٹ کا پہلا حق ان عام سرکاری سکولوں کا ہونا چاہیے جہاں لاکھوں پاکستانی بچے زیرِ تعلیم ہیں۔ جب تک ہر بچے کو قریبی سکول تک رسائی‘ مناسب کلاس رومز‘ بجلی‘ صاف پینے کا پانی‘ فعال بیت الخلا اور محفوظ چار دیواری میسر نہیں آ جاتی‘ پاکستان فلیگ شپ منصوبوں کو مضبوط سرکاری نظامِ تعلیم کا متبادل سمجھنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کا مستقبل اس بات سے طے نہیں ہو گا کہ وہ کتنے لیپ ٹاپ تقسیم کرتا ہے یا کتنے فلیگ شپ سکول بناتا ہے‘ بلکہ اس بات سے طے ہو گا کہ وہ ہر سرکاری سکول میں ہر بچے کو کس معیار کی تعلیم فراہم کرتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ تعلیم پر کچھ مزید رقم مختص کر دی جائے‘ بلکہ یہ ہے کہ کیا ریاست واقعی تعلیم کو قومی ترجیح سمجھتی ہے؟ جب تک سرکاری تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے‘ اس کے بنیادی ڈھانچے‘ اساتذہ‘ تدریسی وسائل اور معیارِ تعلیم میں سنجیدہ سرمایہ کاری نہیں کی جاتی‘ تعلیمی بحران مزید گہرا ہوتا جائے گا۔

ناجائز رزق سے پلی ہوئی اولادمحمد اظہار الحقکوئی نہ مانے تو اس کی مرضی! کوئی مان لے تو اس کا اپنا فائدہ ہے!! مالِ حرام سے...
07/07/2026

ناجائز رزق سے پلی ہوئی اولاد
محمد اظہار الحق

کوئی نہ مانے تو اس کی مرضی! کوئی مان لے تو اس کا اپنا فائدہ ہے!! مالِ حرام سے پرورش پانے والی اولاد کبھی بھی نیک نامی کا سبب نہیں بن سکتی۔ پروردگار چاہے تو کسی کو استثنا عطا کر دے! مگر صدیوں کا تجربہ یہی بتاتا ہے۔
دو گناہ ایسے ہیں جن کی سزا‘ اکثر و بیشتر‘ دنیا میں بھی ملتی ہے۔ پہلا والدین کی نافرمانی!! میرے پرانے دوست پروفیسر راجہ یعقوب راوی ہیں کہ ان کے قصبے میں‘ جو کوہستانِ نمک کے قصبوں میں ایک قصبہ ہے‘ ایک بدبخت نے بیچ بازار‘ اپنے والد پر ہاتھ اٹھایا۔ وہاں ایک بوڑھا‘ بہت بوڑھا‘ شخص بیٹھا دیکھ رہا تھا۔ حیرت سے اس کی زبان گنگ ہو گئی۔ اس لیے نہیں کہ اس نے بیٹے کو والد پر ہاتھ اٹھاتے دیکھا۔ بلکہ اس لیے کہ اسے ایک واقعہ یاد آ گیا جو اُس نے اوائل شباب میں دیکھا تھا اور اس کی یادداشت پر ایک ڈراؤنے خواب کی طرح نقش تھا۔ اس نے بتایا کہ یہی جگہ تھی۔ بالکل یہی! اُس وقت بازار تھا نہ دکانیں۔ بس کھیت ہی کھیت تھے۔ مگر جگہ یہی تھی! یہیں پر اُس شخص نے‘ جس پر اس کے بیٹے نے ہاتھ اٹھایا‘ اپنے باپ کو مارا تھا۔ حکایت ہے کہ ایک اور بدبخت نے بیٹے کو پرانا‘ بدبودار کمبل دیا کہ جا کر دادا کو دے آؤ۔ بیٹے نے قینچی سے کمبل کا ایک حصہ کاٹ کر اپنے پاس رکھ لیا۔ باپ نے وجہ پوچھی تو بیٹے نے کہا: کل جب آپ بوڑھے ہوں گے تو آپ کو بھی یہی دوں گا۔ اپنے اردگرد دیکھیے۔ بڑی عمر کے لوگوں سے پوچھئے۔ جنہوں نے والدین کی خدمت کی‘ ان کی اولاد نے انہیں خدمت کرتے دیکھا اور خدمت کرنا سیکھ گئے۔ جنہوں نے گستاخیاں کیں‘ والدین کو نظر انداز کیا‘ ان کی اولاد نے گستاخی کرنا اور نظر انداز کرنا سیکھ لیا۔ جَو کاشت کرنے سے گندم نہیں حاصل ہوتی۔ تحقیق کر کے دیکھ لیجیے۔ جو اولاد کے ظلم کا رونا روتے ہیں‘ انہوں نے اپنے والدین کے ساتھ غالباً یہی کچھ کیا ہو گا۔
دوسرا گناہ جس کی سزا‘ اکثر وبیشتر دنیا میں بھی ملتی ہے‘ ناجائز آمدنی کا حصول ہے۔ امام غزالی نے لکھا ہے کہ ناجائز مال حاصل کرنا اور اس سے زندگی بسر کرنا ایسا گناہ ہے ‘ اور ایسا روگ! جس کا تدارک کوئی نہیں!! میں ایک شخص کو جانتا ہوں اور بہت قریب سے جانتا ہوں جس کا باپ اس کے لیے بہت کچھ چھوڑ کر مرا۔ ہر بڑے شہر میں جائداد اور پلاٹ!! جس شعبے میں مرحوم کام کرتے تھے وہاں جائداد کی کثرت ذرا بھی باعثِ تعجب نہ تھی۔ ایک دن وہ بندۂ خدا مجھے کہنے لگا ''یار! میرا باپ کتنا بے وقوف تھا کہ پلاٹ دے گیا یہ سوچے بغیر کہ میں بناؤں گا کیسے؟‘‘۔ یہ سُن کر مجھے یوں لگا جیسے ایک دھماکا ہوا ہے اور میں ریزہ ریزہ ہو گیا ہوں۔ ناجائز آمدنی پر پلی ہوئی اولاد ایسے ہی لفظوں سے باپ کو یاد کرے گی۔ میں جس خاندان میں پیدا ہوا اور پھر جس طرح تعلیم کا آغاز ہی فارسی ادب سے ہوا‘ اس کا لامحالہ نتیجہ یہ نکلا کہ ذہن میں Cause and Effect Theory راسخ ہو گئی۔ یعنی سبب اور نتیجے کا نظریہ! ہر کام کا یا ہر واقعہ کا ایک نتیجہ نکلتا ہے۔ عام زندگی کی مثالوں سے آپ اس نظریے کو سمجھ سکتے ہیں۔ آپ دیر تک سوئے رہے۔ یہ سبب ہے۔ نتیجہ یہ کہ آپ کی ٹرین نکل گئی۔ سردی شدید پڑی۔ یہ سبب ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پانی جم گیا۔ بارش نہیں ہوئی۔ یہ سبب ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ گندم کی فصل کمزور رہی۔ گھر میں حرام رزق آیا۔ یہ سبب ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اولاد غلط کار نکلی۔ فارسی ادب اخلاقیات کا منبع ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ بزرگ کہا کرتے تھے اگر کوئی رذیل آپ سے بُرا پیش آتا ہے تو اسے معاف کر دیجیے۔ اس نے کون سا فارسی ادب پڑھا ہے! سعدی گلستان میں کہتے ہیں:
عاقبت گرگ زادہ گرگ شود
گرچہ با آدمی بزرگ شود
بھیڑیا انسانوں میں رہ کر بھی بھیڑیا ہی رہتا ہے۔ مری میں سیب زیادہ ہوتے ہیں۔ میں نے مری کے ایک عقلمند آدمی سے یہ محاورہ سنا کہ ''سیبوں کے سیب ہوتے ہیں‘‘ یعنی سیب کے درخت پر سیب ہی لگیں گے۔ نیک شخص چونکہ اکل حلال پر قناعت کرتا ہے‘ اس لیے اس کی اولاد نیک ہوتی ہے۔ حرام کھانے اور کھلانے والے کی اولاد والدین کی شکرگزار تو کیا ہو گی‘ الٹا طعنہ دے گی کہ باپ نے ہمارے لیے کیا ہی کیا ہے! وہ جو حلال کھاتے ہیں ان کے بعد ان کے بچے باہم دست وگریباں نہیں ہوتے اور ماں باپ کے بعد ان کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہے کہ بڑے بڑے سرمایہ دار اور کاروباری افراد مرتے ہیں تو ان کے بعد سب کچھ تتر بتر ہو جاتا ہے۔ ہر بیٹا اپنا کاروبار الگ کر لیتا ہے اور سب کچھ دھڑام سے زمین پر آ گرتا ہے۔ ہم قطعاً یہ نہیں کہہ رہے کہ ہر امیر اور مقتدر شخص کا مال ناجائز ہوتا ہے مگر سچ یہ ہے کہ کھرب پتی بننے والے اکثر افراد جرم کی سیڑھی پر ہی اوپر چڑھتے ہیں۔ انگریزی کا مشہور محاورہ ہے کہ Behind every great fortune there is a crime کہ ڈھیروں دولت کے پیچھے کوئی نہ کوئی جرم ضرور ہوتا ہے۔ یہ محاورہ‘ ماریو پوزو کے شہرہ آفاق ناول ''گاڈ فادر‘‘ سے منسوب ہے مگر اصل میں یہ بات فرانسیسی ادیب بالزاک نے اپنے مشہور ناول Père Goriot میں کہی تھی جو 1834ء میں شائع ہوا تھا۔ بالزاک نے یہ بات یوں کہی تھی ''جب بہت بڑی کامیابی (دولت) کی منی ٹریل نہ دی جا سکے تو اس کی وجہ ایسا جرم ہوتا ہے جو کبھی سامنے ہی نہیں آیا اس لیے کہ جرم بہت سوچ سمجھ کر کیا گیا تھا‘‘۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ناجائز رزق سے پلی ہوئی اولاد باعثِ ننگ کیسے ثابت ہوتی ہے؟ جو امارت‘ دولت‘ جائداد اسے ورثے میں ملتی ہے‘ لازم نہیں کہ وہ اس سے چھن جائے۔ اس کی دنیاوی حیثیت میں کمی نہیں ہوتی۔ بزنس‘ اقتدار‘ وزارت‘ نشست سب کچھ مل جاتا ہے مگر وہ ایسا کچھ نہ کچھ ضرور کر گزرتا ہے جس سے بدنامی اسے اور پورے خاندان کو رسوا کر دیتی ہے۔ باپ یہی کہے گا کہ ''وہ آزاد ہے۔ بالغ ہے۔ میں اس کے اعمال کا ذمہ دار نہیں‘‘۔ قانونی طور پر وہ درست کہہ رہا ہے۔ قتل بیٹے نے کیا ہے‘ اس نے نہیں۔ قمار بازی میں یا آبرو ریزی میں یا کسی بھی جرم میں اس کا باپ نہیں پکڑا جا سکتا۔ مگر اندازہ لگائیے جب بیٹا یا پوتا جرم میں ملوث ہوتا ہے تو باپ کے پلّے کیا رہ جاتا ہے؟ اس کی بقیہ زندگی لوگوں کی نظروں سے بچنے میں یا صفائی پیش کرنے میں گزر جاتی ہے۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ ناجائز آمدنی رشوت کی ہو یا ملاوٹ والے خراب مال کی فروخت سے حاصل ہوئی ہو‘ یا کسی کی زمین ہتھیانے سے آئی ہو یا کسی کی جائداد پر ناجائز قبضہ سے گھر میں آئی ہو‘ ناجائز آمدنی اس طرح بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے کہ انسان اسے ناجائز سمجھتا ہی نہیں! ملازمت پر حق کسی اور کا تھا‘ آپ نے اس کا حق مار کر اپنے بیٹے‘ بھانجے‘ بھتیجے کو ملازمت دلوا دی۔ اس ملازمت سے حاصل ہونے والی آمدنی مشکوک ہو گی اور یہ چوگ بچوں کے منہ میں جائے گی تو خرابی پیدا کرے گی۔ اقتدار میں آکر ناجائز آمدنی سے بچنا آسان نہیں۔ اسی لیے عقلمند لوگ اقتدار سے بھاگتے ہیں۔ بااختیار لوگ‘ انٹرویو لیتے وقت‘ ملازمتیں دیتے وقت‘ جن کی جیبیں پرچیوں سے بھری ہوتی ہیں‘ آگ سے کھیل رہے ہوتے ہیں۔ (جاری)

Address

Al-Hajj Khalid Plaza Opp Friends CNG Pump, Chakri Road
Rawalpindi
46000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Indus College Chakri Rd posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Indus College Chakri Rd:

Shortcuts

Share