06/06/2026
آئمہ ال محمد صلعم اور اولاد علیہ السلام کے فرامین کے مطابق آیت کی تاویل
هُوَ الَّذِي أَنزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُّحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ ۖ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ ۗ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ ۗ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا ۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ
ترجمہ:
«وہی ہے جس نے آپ پر کتاب نازل کی جس میں سے کچھ آیتیں محکم ہیں وہی کتاب کی اصل ہیں اور دوسری متشابہ ہیں۔ پس جن کے دلوں میں کجی ہے وہ فتنہ کی غرض سے اور اس کی تاویل کی غرض سے متشابہ کے پیچھے پڑ جاتے ہیں، حالانکہ اس کی تاویل اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور علم میں راسخ لوگ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، سب ہمارے رب کی طرف سے ہے۔ اور نصیحت صرف عقل والے ہی قبول کرتے ہیں»
تاویل الدعائم، قاضی نعمان، ج 1، ص 34-36
امام عزیز باللہ علیہ السلام فرماتے ہیں:
«إنَّ المحکماتِ ھي التي لا تَحتَمِلُ إلا وجھاً واحداً، و ھي في ظاھرِھا و باطنِھا سواءٌ، مثلُ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ}. و المتشابھاتُ ھي التي تَحتَمِلُ وجوھاً، و ظاھرُھا خلافُ باطنِھا، مثلُ {الرَّحْمَٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَىٰ}. و {الرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ} ھم الأئمۃُ من آلِ محمدٍ صلی اللہ علیہ و آلہ، و حدودُھم من الأبوابِ و الحججِ. و لیس المرادُ أنَّ اللہَ وحدَہ یَعلمُ التأویلَ، بل المعنیٰ: لا یَعلمُ تأویلَہ إلا اللہُ، و یُعلِّمُہ الراسخینَ في العلمِ، و ھم نحنُ أھلَ البیتِ»
اردو ترجمہ:
«بے شک محکمات وہ ہیں جو صرف ایک ہی معنی رکھتی ہیں، اور وہ اپنے ظاہر و باطن میں برابر ہیں، جیسے {کہو وہ اللہ ایک ہے}۔ اور متشابہات وہ ہیں جو کئی معنی رکھتی ہیں، اور ان کا ظاہر ان کے باطن کے خلاف ہے، جیسے {رحمان عرش پر مستوی ہوا}۔ اور {علم میں راسخ لوگ} آلِ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ میں سے ائمہ ہیں، اور ان کے حدود باب و حجتوں میں سے۔ اور مراد یہ نہیں کہ اللہ ہی تاویل جانتا ہے، بلکہ معنی یہ ہے: اس کی تاویل اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور وہ علم میں راسخ لوگوں کو سکھاتا ہے، اور وہ ہم اہل بیت ھیں
فصولِ اربعہ، حسن بن صباح قدس اللہ روحہ
«و اعلَم أنَّ التنزیلَ للناطقِ، و التأویلَ للوصيِّ و الإمامِ من بعدِہ. فمَن طَلَبَ التأویلَ من غیرِ الإمامِ فقد ضَلَّ و أضَلَّ. و {الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ} ھم الذین یَترُکونَ الإمامَ و یَتَّبِعونَ أھلَ الظاھرِ و أھلَ الرأيِ و القیاسِ، فیتَّبِعونَ المتشابہَ بغیرِ علمٍ. و مَن رَدَّ علی الإمامِ في تأویلِ آیۃٍ فقد کَفَرَ، لأنہ رَدَّ علی اللہِ. و {أُمُّ الْكِتَابِ} ھو الإمامُ، لأنہ أصلُ العلمِ کلِّہ»
اردو ترجمہ:
«اور جان لو کہ تنزیل ناطق کے لیے ہے، اور تاویل وصی اور اس کے بعد امام کے لیے ہے۔ پس جس نے امام کے سوا تاویل طلب کی وہ گمراہ ہوا اور گمراہ کیا۔ اور {جن کے دلوں میں کجی ہے} وہ ہیں جو امام کو چھوڑ کر اہلِ ظاہر اور اہلِ رائے و قیاس کی پیروی کرتے ہیں، پس بغیر علم کے متشابہ کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ اور جس نے ایک آیت کی تاویل میں امام کو رد کیا وہ کافر ہوا، کیونکہ اس نے اللہ کو رد کیا۔ اور {ام الکتاب} امام ہے، کیونکہ وہ سارے علم کی اصل ہے»
ہفت بابِ بابا سیدنا، باب 2
«و قولُہ {فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ} ھم الذین یَتَوَلَّونَ عن البابِ و الحجۃِ و الداعي، و یَقولونَ: نأخُذُ القرآنَ بأنفسِنا، لا حاجۃَ لنا إلی الإمامِ. فھؤلاءِ ھم أھلُ الفتنۃِ، و مأواھم جھنمُ. لأنَّ المتشابہَ لا یُعرَفُ إلا بتوقیفِ الإمامِ و تعلیمِ حدودِہ. فمَن تَرَکَ الحدودَ و اتَّبَعَ المتشابہَ برأیہِ فقد {ابْتَغَى الْفِتْنَةَ} و صارَ من أھلِ النارِ»
اردو ترجمہ:
«اور اس کا قول {پس جن کے دلوں میں کجی ہے وہ متشابہ کے پیچھے پڑ جاتے ہیں} وہ ہیں جو باب و حجت و داعی سے منہ موڑتے ہیں، اور کہتے ہیں: ہم قرآن خود لے لیں گے، ہمیں امام کی حاجت نہیں۔ پس یہی اہلِ فتنہ ہیں، اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ کیونکہ متشابہ امام کی توقیف اور اس کے حدود کی تعلیم کے بغیر نہیں پہچانا جاتا۔ پس جس نے حدود کو چھوڑا اور اپنی رائے سے متشابہ کی پیروی کی اس نے {فتنہ چاہا} اور وہ اہلِ نار میں سے ہو گیا»
- عیون الاخبار، ج 3، ص 98، داعی ادریس
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
«نحنُ الراسخونَ في العلمِ، و نحنُ نَعلمُ تأویلَہ. و لیس ھو کما یَقولُ الجھالُ: لا یَعلمُ تأویلَہ إلا اللہُ. بل نحنُ نَعلمُہ و نُعلِّمُہ شیعتَنا. فمَن لم یَأخُذہ عنا فھو من {الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ}. و مَن فَسَّرَ القرآنَ برأیہِ فقد کَفَرَ»
اردو ترجمہ:
«ہم علم میں راسخ ہیں، اور ہم اس کی تاویل جانتے ہیں۔ اور یہ ایسا نہیں جیسا جاہل کہتے ہیں: اس کی تاویل اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ بلکہ ہم اسے جانتے ہیں اور اپنے شیعوں کو سکھاتے ہیں۔ پس جس نے اسے ہم سے نہ لیا وہ {جن کے دلوں میں کجی ہے} میں سے ہے۔ اور جس نے قرآن کی اپنی رائے سے تفسیر کی وہ کا۔۔۔۔ھوا
- اساس التاویل، قاضی نعمان، ص 67-70