Govt. Gordon College Rawalpindi

Govt. Gordon College Rawalpindi

History

Established in 1893, At the time Gordon College was built, it was outside the city area but with increasing population, this college is now surrounded by commercial and official buildings. It is a mix of old and new style buildings and has lost some of its academic acclaim in its years since it became a state institution. It has a long history and one professor and principal who best repr

esents that history, Dr Ralph Randles Stewart, joined the Gordon College, Rawalpindi in 1911 to teach elementary Botany and Zoology to pre-medical students. He served as Professor in Botany (1917–1960) and Principal of Gordon College, Rawalpindi from 1934-1954.

07/10/2023

گورڈن کالج میں داخلہ لینے والے تمام نئے طلبہ کو خوش آمدید۔
آپ وہ خوش نصیب لوگ ہیں جن کے حصے میں گورڈونین بننے کا خواب , قدرتی، خالص اور گرومنگ کے لیے بہترین جامعہ کا طالب علم بننے کا اعزاز آیا ہے۔
بطور گروپ ایڈمن اور سنئیر گورڈونین کے میں یہ اعتماد سے کہ سکتا ہوں کہ جس بھی طالب علم نے 50% خلوص سے اس جامعہ سے استفادہ کیا وہ ڈگری کے بعد بھوکا نہیں رہا۔ یہ کالج ایک ایسے دریا کی مانند ہے جس میں ہزاروں تیراک موجود ہوں جس کا دل کرے اپنی کمپنی کے ساتھ پار کرجائے اور جو بھٹک جائے وہ غرق ہوجائے۔
آپ کو خود کو سنوارنے کا بہترین موقع ملا ہے اپنے ان چار سالوں میں اپنی چھپی صلاحیتوں کا سامنے لائیں۔ یہ متوسط طبقے کا کالج ہے یہاں ہم بھی جب شروع میں آئے تو بہت سی مشکلات کا سامنا تھا ، فیس کے لیے پیسوں کی کمی سمیت کئ بڑے بڑے چیلنج ہمارے سامنے تھے مگر وقت لگا ہم سنبھلے اور ایسے سنبھلے کہ مُڑ کے نہ دیکھا اور اس کالج نے ہمیں سہارا دیا۔ آپ ان خوش نصیبوں میں ہیں جو صبح سے لے کر شام تک ہر رنگ اور ہر علاقے کا بندہ دیکھیں گے۔ یہاں آپ کو کئ چیلجنز بھی آئیں گے مگر وہ جو ٹھہر گئے جنھوں نے حالات کا مقابلہ کیا وہ منزل پاگئے۔ اس آفیشل پیج اور گروپ میں آپ کو سینکڑوں CSPs, بزنس میں، پروفیسرز، ایجوکییشنسٹ، سمندر پار گورڈونین سمیت ہر شعبے کا سنئیر گورڈونین ملے گا جو آپ کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ ہمت کریں اور جب ڈگری کرکے گھر جائیں تو آپ کی ماں آپ کا ماتھا چوم کے کہے کہ میرے بیٹے نے میرا خواب پورا کیا اور آپ کا باپ علاقے بھر میں اپنے بیٹی یا بیٹے کی کامیابی کے گُن گاتا پھرے بس یہی آپ کا پہلا اور آخری سبق ہونا چاہیے۔
ہمت کوشش اور نیک دلی سے ہر منزل پائی جاسکتی ہے اور راستہ عبور کیا جاسکتا ہے اور ہر گرہ کھولی جاسکتی ہے۔
Good luck everyone ☺
My greetings

Dr. Asim Hussain
Assistant Professor
Mathematics Department

First Merit List of BS
23/09/2023

First Merit List of BS

05/09/2023
31/05/2023

ماہ جون میں مارچ کے مزے

جون کے مہینے میں مارچ کا موسم ہر گز خوشگوار نہیں ہے آخر کار اس موسم کی فصلوں کو سورج کی مطلوبہ حدت درکار ہوتی ہے۔ پاکستان میں موسم کی تبدیلی سنگین نوعیت کی حامل ہے کیونکہ پاکستان کا شمار دنیا کے ان آٹھ معمالک میں ہے جہاں موسمی تبدیلی کے باعث بہت سے مساہل پیش آ سکتے ہیں

موسم کی اس تبدیلی کا باعث ایک بڑی حد تک ہم خود بھی ہیں کیونکہ ہم سیمنٹ و کنکڑیٹ سے تمام زمینیں بڑھتے جا رہے ہیں کیا ریتلے علاقے، جنگل و بیابان حتہ کہ زرعی زمینوں کو بھی ہاوسنگ سوساہٹیوں میں بدل رہے ہیں۔ اس حوالے سے قومی سوچ و فکر کی کمی کے ساتھ ساتھ کوئ قانون بھی نہیں ہے اور نہ ہی اسے مرتب کیے جانے کے کوئ آثار دکھائ دیتے ہیں۔ جس وقت پاکستان وجود میں آیا تو قریب پاکستان کا ۳۵ فیصد رقبہ جنگل پر مشتمل تھا اور آج ۳.۵ فیصد ۔

آخر میں عرض ہے کہ دعا کریں کہ پاکستان ان اثرات سے محفوظ رہے باقی بات جہاں تک دوا کی ہے تو امید کا دامن بھی مت چھوڑیں۔

‏‎فیض صاحب کی بیٹی منیزہ ہاشمی فرماتی ہیں ایک مرتبہ میرے بیٹے نے مجھ سے پوچھا کہ شہرت کا کیا جملہ بناؤں۔ ‎ تو میں نے کہا...
18/01/2023

‏‎فیض صاحب کی بیٹی منیزہ ہاشمی فرماتی ہیں ایک مرتبہ میرے بیٹے نے مجھ سے پوچھا کہ شہرت کا کیا جملہ بناؤں۔ ‎ تو میں نے کہا کہ یہ لکھ دو کہ میرے نانا کی بہت شہرت ہے۔ تو اس نے کہا کہ واقعی ہمارے نانا کی بہت شہرت ہے؟

‏‎ مگر جب میں چھوٹی تھی تو میں بھی یہی سمجھتی تھی- ایک دفعہ ابّا اِنڈیا گۓ تو انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ تمہارے لۓ وہاں سے کیا لاؤں- ان دنوں دلیپ کمار کا بہت دور دورہ تھا- میں نے کہا کہ میرے لۓ دلیپ کمار سے آٹوگراف لے آئیں۔

جب ابّا واپس آئے تو آٹوگراف کے ضمن میں بالکل چُپ رہے۔ جب میں نے پوچھا ابّا آپ دلیپ کمار کی آٹوگراف لاۓ۔ تو کہنے لگے نہیں۔ میں نے کہا کیا آپ کو دلیپ کمار نہیں ملا۔ تو بولے ملا تھا۔ میں نے کہا آپ نے دلیپ کمارکی آٹوگراف کیوں نہیں لی تو کھسیانے سے بولے، بیٹا دراصل بات یہ ہے کہ وہ تو مجھ سے آٹوگراف مانگ رہا تھا-
‏‎ تو میں نے حیران ہو کر کہا " ابّا کیا دلیپ کمار آپ کو جانتا تھا۔” تو اس وقت میں بھی نہیں جانتی تھی میرے ابّا اتنے مشہور ہیں۔

07/12/2022

سنا ہے کہ گورڈن کالج مشن کے حوالے کیا جا رہا ہے بہت اچنبھے کی بات لگی، آج سے کافی برس پہلے بذات خود کچھ ایسے احتجاج کی قیادت ایک گورڈنین کے ناطے کر چکا ہوں جہاں ہم مختلف تقاریر کرتے، اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتے اور پاس میں موجود پریس کلب بھی جایا کرتے تھے مختصر یہ کہ بھرپور احتجاج کرتے اور خلوص نیت سے کرتے کیونکہ ہم جانتے تھے کہ مشن کو کالج کی واپسی ہزاروں طلبہ پر گراں گزرے گی اور غریب و متوسط طبقہ کے طالب علم اسکے انتہائ متاثر ہوں گے۔ والدین کیسے پڑھا پاہیں گے اپنی اولاد کو یہاں، اتنی بڑی بڑی فیسیں کون بڑھے گا۔
ایف سی کالج لاہور بھی اسی دور میں مشن کو واپس کیا گیا تھا اور مجھے علم تھا فیس کی بڑھوتری کا، دل مضطرب تھا خیر کچھ اساتذہ حضرات بھی پیش پیش تھے ذیادہ تر بیچاروں کو اپنی روزگار کا غم کہ ہاے خدا جانے پنجاب کے کس کوچے ہمیں ٹرانسفر کر دیا جاۓ گا بہر حال اس دور میں بھی اکثر اساتذہ خلوص نیت کے ساتھ احتجاج کر رہے تھے جن میں اکثر و بیشتر گورڈنین ہی تھے اور اب بھی کچھ ہیں۔

مختصر یہ کہ کوی چار پانچ روز پہلے احتجاج میں موجود ایک(استاد) عہدے دار کو سنا وہ موصوف کوئ صلیبیوں کی بات کر رہے تھے مذہبی رنگ دے رہے تھے کہ ایسا ہو جاۓ گا ویسا ہو جاے گا بڑا حیران ہوا کہ آج سے پہلے تو کسی کو ایسا کہتے نہ سنا نہ دیکھا۔

کچھ روز پہلے کالج کے انٹر کے امتحان کا نتیجہ دس فیصد سے بھی کم رہا یقین مانے کہ پریشان سا ہو گیا کہ بھائ کیا ہو گیا ہے اس عظیم درسگاہ کو، اغل بغل میں عجیب شغل ہو رہے ہیں۔ کافی دیر سوچنے کے بعد، اپنے ہم عصر و رفقہا کے ساتھ کالج کیمپس میں مدتوں سے جو وقتا فوقتا حالات و واقعات وقوع پذیر ہو رہے ہیں۔ ان سب باتوں کو ملحوظ خاطر رکھ کر کہ اس عظیم درسگاہ گورڈن کالج کے وقار کو مزید ٹھیس نہ پہنچے، میرا اور رفقہا کا خیال ہے کہ یہ ایک درست فیصلہ ہے اور شاید اسکا اطلاق کچھ برس پہلے ہو جاتا خیر دیر آید درست آید۔

اس کالج اور اسکی فضا سے محبت کا تقاضہ یہی ہے کہ گورڈن کالج و کیمپس خوب پھلے پھولے اور اپنی اصل حالت میں واپس آۓ تاکہ کالج کو مزید وسیع کیا جاۓ

22/02/2022

Need a moderatore for our page, only eligiblity is a Gordonian. If you want to be a moderator kindly in box.

22/09/2021

Kindly wear masks at collge and do sanitize your hands. This is the only way we can stop this deadly virus

16/05/2021

UNO security council is a fail institution, only usa itself vote for it's own resolution. What a disgrace to world that all others member just failed to pass the resolution which is rejected by only member, who basically owns the oppressors(israel) of this modern time.

19/02/2021

معاشرے کا ایک اہم ستون طلبہ ہوتے ہیں جو دراصل کسی بھی قوم کا مستقبل ھیں۔ اپنی ذمہ داری پوری کریں اور پتنگ بازی کرنے اور اس غیر قانونی و جان لیوا شوق کے خلاف اپنی کمر کس لیں اور لوگوں کو اسکے نقصانات سے آگاہ کریں۔

Address

Liaqat Road
Rawalpindi
46300

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Govt. Gordon College Rawalpindi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share