19/05/2022
پاکستان اشرافیہ کی خدمتگار ریاست ھے۔ سب سے بڑی اشرافیہ ریٹائرڈ فوجی افسران ہیں۔ جن کو جنرل ایوب خان کے زمانے سے جاگیریں الاٹ ھوتی رہی ہیں۔ جنرل ضیاء کے زمانے سے فیکٹریوں اور کارخانوں کے پرمٹ بھی ملتے رھے ہیں اور مشرف کے زمانے میں تو یہ وزارتوں ، یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر ، مالی مفاد والے محکموں کے سربراہ رھے ہیں۔۔ برطانوی سامراج کے پیدا کیئے ھوئے جاگیردار اور ملئی نیشنل کمپنیوں کے سیلز مین سرمایہ دار فوجی اشرافیہ کے جونیئر پارٹنر ہیں۔ ایسی ریاست کے پاس آئی ایم ایف سے قرضہ لے کر ملک چلانے کے سوا کوئی متبادل معاشی آپشن نہیں ھوتا اور آئی ایم ایف عالمی سطح پر اشرافیہ کی خدمتگار ریاستوں کا ادارہ ھے۔ آئی ایم ایف کو اپنی ریکوری کیلئے ایسی ریاستوں کے ریکوری افیسر وزیراعظم چاہیئے ھوتے ہیں۔ متبادل معیشت کے طور پر زرمبادلہ ک نکاس کرنے والی چاکلیٹ،دودھ اور کتوں کی پیک خوراک وغیرہ کی درآمد روکی جا سکتی ھے۔ اپنی زمینیں لاکھ روپیہ فی ایکڑ ٹھیکہ پر چڑھا کر خود بڑے شہروں میں رہ کر پر تعیش زندگی گزارنے والوں پر ٹیکس لگایا جا سکتا ھے۔ اگر اسٹبلشمنٹ نیوٹرل ھو گئی ھے تو فوجی کاروباروں پر ٹیکس لگایا جا سکتا ھے۔ دفاعی پیداوار کے کارخانوں کی 98 ارب کی سبسڈی ختم کی جاسکتی ھے بجائے آٹا، گھی اور چینی کی سبسڈی ختم کرنے کے۔۔ لیکن یہ سب کچھ elitist state کو عوام کی خدمت گار ریاست میں تبدیل کیئے بغیر ممکن نہیں۔۔
مسعود خالد