23/06/2026
*میت کے گھر وعظ و نصیحت* #
سوال : میت کے گھر تعزیت کے لیے لوگ بیٹھ کر ادھر ادھر کی باتیں کرتے ہیں تو کیا میت کے گھر میں وعظ و نصیحت یا کوئی درس دیا جاسکتا ہے۔لوگ اس وقت نرم دل کی وجہ سے بات غور سے سنتے ہیں ؟
اسی طرح اکثر لوگ دعا کروا نے کو
کہتے ہیں ان کو کیا کہیں؟
جواب: میت کے گھر وعظ و نصیحت کی جاسکتی ہے۔
علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم بقیع غرقد میں ایک جنازہ کے ساتھ تھے۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور بیٹھ گئے۔ ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد بیٹھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چھڑی تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین کریدنے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی ایسا نہیں یا کوئی جان ایسی نہیں جس کا ٹھکانا جنت اور دوزخ دونوں جگہ نہ لکھا گیا ہو اور یہ بھی کہ وہ نیک بخت ہو گی یا بدبخت۔ اس پر ایک صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر کیوں نہ ہم اپنی تقدیر پر بھروسہ کر لیں اور عمل چھوڑ دیں کیونکہ جس کا نام نیک دفتر میں لکھا ہے وہ ضرور نیک کام کی طرف رجوع ہو گا اور جس کا نام بدبختوں میں لکھا ہے وہ ضرور بدی کی طرف جائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بات یہ ہے کہ جن کا نام نیک بختوں میں ہے ان کو اچھے کام کرنے میں ہی آسانی معلوم ہوتی ہے اور بدبختوں کو برے کاموں میں آسانی نظر آتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «فأما من أعطى واتقى» الآية۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1362]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
اسی طرح کی کئی اور احادیث ملتی ہیں جن سے کسی کی وفات کے بعد وعظ و نصیحت کے دلائل ثابت ہیں۔
*نوٹ* :
▪️میت کے لیے انفرادی طور پر دعا مغفرت کریں۔
▪️اجتماعی دعا سنت سے ثابت نہیں۔
▪️وعظ و نصیحت کے لیے دنوں کو مخصوص نہ کریں۔کہ پہلے دوسرے یا تیسرے دن لگاتار درس کروایا جائے۔کسی بھی دن کروالیں۔
▪️گھر والوں یا کسی کی درخواست پر درس کے آخر میں دعا کروائی جاسکتی ہے۔لیکن اس کو رسم نہ بنایا جائے۔
▪️وعظ و نصیحت کے بعد کھانا پر سب کو مدعو کرنا بدعت ہے۔
واللہ اعلم بالصواب