The universty of poonch rawalakot

The universty of poonch rawalakot University of Poonch is a public university located in The Pearl Valley, Rawalakot, Azad Jammu & Kas

13/02/2026

فروری 2026 کے عام انتخابات نے بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ یہ انتخاب کئی حوالوں سے غیر معمولی تھا، خصوصاً اس لیے کہ ملک کی روایتی حکمران جماعت Awami League انتخابی میدان میں موجود نہیں تھی۔ اس بدلے ہوئے سیاسی منظرنامے میں جہاں بڑی جماعتوں کے درمیان طاقت کی نئی صف بندی ہو رہی تھی، وہیں Bangladesh Jamaat-e-Islami نے اپنی ثابت قدمی اور تنظیمی قوت کے ذریعے ایک حیران کن واپسی کی داستان رقم کی۔
چند برس قبل تک جماعت اسلامی کو شدید قانونی اور سیاسی دباؤ کا سامنا تھا۔ اس کی رجسٹریشن منسوخ ہوئی، قیادت کو مقدمات کا سامنا کرنا پڑا اور ناقدین نے یہ تاثر دیا کہ جماعت عملی سیاست سے باہر ہو چکی ہے۔ لیکن سیاسی جماعتوں کی اصل طاقت وقتی اقتدار نہیں بلکہ نظریاتی وابستگی اور تنظیمی استحکام ہوتا ہے۔ جماعت اسلامی نے اسی بنیاد کو مضبوط رکھا۔ اس نے کارکنوں کا نیٹ ورک منتشر نہیں ہونے دیا، سماجی و تعلیمی میدان میں اپنی موجودگی برقرار رکھی اور خاموشی سے سیاسی فضا کے بدلنے کا انتظار کیا۔
فروری 2026 کے انتخابات میں جب نتائج سامنے آئے تو اندازہ ہوا کہ جماعت اسلامی اور اس کے حمایت یافتہ امیدواروں نے تقریباً ستر کے قریب نشستیں حاصل کر کے پارلیمنٹ میں ایک مضبوط بلاک کی صورت اختیار کر لی ہے۔ یہ صرف عددی اضافہ نہیں بلکہ سیاسی احیاء ہے۔ یہ کامیابی اس امر کی علامت ہے کہ جماعت کا ووٹر بیس محض جذباتی نہیں بلکہ منظم اور مستقل مزاج ہے۔ ایسے ماحول میں جب سیاسی خلا پیدا ہوا، جماعت نے اسے پُر کرنے کی اہلیت دکھائی۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جماعت اسلامی اب محض ایک نظریاتی جماعت نہیں رہی بلکہ بنگلہ دیش کی بڑی سیاسی قوتوں میں شمار ہونے لگی ہے۔ پارلیمنٹ میں اس کی موجودگی اسے قانون سازی، احتساب اور پالیسی مباحث میں اثر انداز ہونے کا موقع دے گی۔ اگر مستقبل میں مخلوط حکومت یا اتحاد سازی کی سیاست کو فروغ ملتا ہے تو جماعت کا کردار فیصلہ کن ہو سکتا ہے۔ سیاسی وزن کا یہ اضافہ اسے محض اپوزیشن نہیں بلکہ ممکنہ پالیسی ساز قوت بنا رہا ہے۔
مستقبل کے امکانات بھی خاصے روشن دکھائی دیتے ہیں۔ بنگلہ دیش کی نوجوان آبادی تبدیلی کی خواہاں ہے، اور اگر جماعت اسلامی معاشی اصلاحات، روزگار، شفاف حکمرانی اور سماجی انصاف کے عملی پروگرام کو واضح انداز میں پیش کرتی ہے تو وہ اپنی سیاسی ترقی کو مزید وسعت دے سکتی ہے۔ موجودہ پلیٹ فارم اسے آئندہ انتخابات میں مزید نشستیں حاصل کرنے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اگر تنظیمی نظم و ضبط برقرار رہا اور سیاسی حکمتِ عملی حقیقت پسندانہ رہی تو جماعت نہ صرف اپنی قوت دوگنی کر سکتی ہے بلکہ حکومت سازی میں بھی مرکزی کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں آ سکتی ہے۔
کیا جماعت اسلامی نظام بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟ اس سوال کا جواب صرف نشستوں کی تعداد میں نہیں بلکہ عوامی اعتماد، نظریاتی استقامت اور سیاسی تدبر میں پوشیدہ ہے۔ جماعت نے ماضی کی سختیوں میں اپنے وجود کو برقرار رکھ کر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ محض وقتی سیاسی لہر نہیں بلکہ ایک منظم تحریک ہے۔ اگر وہ پارلیمانی عمل میں تعمیری کردار ادا کرتی ہے اور قومی مفاد کو ترجیح دیتی ہے تو اس کے پاس نظامی اصلاحات میں مؤثر کردار ادا کرنے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔
فروری 2026 کا انتخاب اس حقیقت کا گواہ ہے کہ آزمائشیں ہمیشہ زوال کا پیش خیمہ نہیں ہوتیں؛ بعض اوقات وہ نئی طاقت کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ جماعت اسلامی کی حالیہ کامیابی اسی اصول کی عملی مثال ہے۔ اب نظریں اس پر مرکوز ہیں کہ یہ جماعت اس سیاسی سرمایہ کو کس حد تک قومی تعمیر اور پائیدار تبدیلی میں ڈھال پاتی ہے۔

11/10/2023

ترکی کے اردگان نے غزہ پر اسرائیلی محاصرے اور بمباری کو ’قتل عام‘ قرار دے دیا
ترک رہنما کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی ناکہ بندی اور غزہ پر مسلسل حملے حماس کے حملے کا غیر متناسب جواب ہیں۔ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی ناکہ بندی اور بمباری کی مذمت کرتے ہوئے اسے "قتل عام" قرار دیا ہے۔بدھ کو پارلیمنٹ میں اپنی حکمران اے کے پارٹی کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے اردگان نے کہا کہ جنگ کی بھی ایک "اخلاقیات" ہوتی ہے
انہوں نے اسرائیل کی جانب سے غزہ کی بجلی اور پانی کی بندش اور انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا۔۔"لوگوں کو ان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے روکنا اور گھروں پر بمباری کرنا جہاں عام شہری رہتے ہیں - مختصر یہ کہ ہر طرح کے شرمناک طریقے کو استعمال کرتے ہوئے ایک تنازعہ چلانا - جنگ نہیں ہے، یہ ایک قتل عام ہے،"

28/08/2023

لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ كِتٰبًا فِيْهِ ذِكْرُكُمْ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ
۔ ( اب ) ہم نے تمہارے پاس ایک ایسی کتاب اتاری ہے جس میں تمہارے لیے نصیحت ہے ۔ کیا پھر بھی تم نہیں سمجھتے؟

اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اس کی قدر ومنزلت پر رغبت دلانے کے لئے فرماتا ہے کہ ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف اتاری ہے جس میں تمہاری بزرگی ہے ، تمہارا دین ، تمہاری شریعت اور تمہاری باتیں ہیں ۔ پھر تعجب ہے کہ تم اس اہم نعمت کی قدر نہیں کرتے؟ اور اس اتنی بڑی شرافت والی کتاب سے غفلت برت رہے ہو؟ جیسے اور آیت میں ہے ( وَاِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ ۚ وَسَوْفَ تُسْـَٔــلُوْنَ 44؀ ) 43- الزخرف:44 ) تیرے لئے اور تیری قوم کے لئے یہ نصیحت ہے اور تم اس کے بارے میں ابھی ابھی سوال کئے جاؤگے ۔ پھر فرماتا ہے ہم نے بہت سی بستیوں کے ظالموں کو پیس کر رکھ دیا ہے ۔ اور آیت میں ہے ہم نے نوح علیہ السلام کے بعد بھی بہت سی بستیاں ہلاک کردیں ۔ اور آیت میں ہے کتنی ایک بستیاں ہیں جو پہلے بہت عروج پر اور انتہائی رونق پر تھیں لیکن پھر وہاں کے لوگوں کے ظلم کی بنا پر ہم نے ان کا چورا کردیا ، بھس اڑا دیا ، آبادی ویرانی سے اور رونق سنسان سناٹے میں بدل گئی ۔ ان کے ہلاکت کے بعد اور لوگوں کو ان کا جانشین بنا دیا ایک قوم کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری یونہی آتی رہیں ۔ جب ان لوگوں نے عذابوں کو آتا دیکھ لیا یقین ہو گیا کہ اللہ کے نبی علیہ السلام کے فرمان کے مطابق اللہ کے عذاب آگئے ۔ تو اس وقت گھبرا کر راہ فرار ڈھونڈنے لگے ۔ لگے ادھر ادھر دوڑ دھوپ کرنے ۔ اب بھاگو دوڑو نہیں بلکہ اپنے محلات میں اور عیش وعشرت کے سامانوں میں پھر آجاؤ تاکہ تم سے سوال جواب تو ہو جائے کہ تم نے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا بھی کیا یا نہیں؟ یہ فرمان بطور ڈانٹ ڈپٹ کے اور انہیں ذلیل وحقیر کرنے کے ہوگا ۔ اس وقت یہ اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے صاف کہیں گے کہ بیشک ہم ظالم تھے لیکن اس وقت کا اقرار بالکل بےنفع ہے ۔ پھر تو یہ اقراری ہی رہیں گے یہاں تک کہ ان کا ناس ہوجائے اور ان کی آواز دبا دی جائے اور یہ مسل دیئے جائیں ۔ ان کا چلنا پھرنا آنا جانا بولنا چالنا سب ایک قلم بند ہوجائے ۔

26/06/2017

Tamam Bhenu or Bhaiyu ko Dil ki atha gheriaon sy "Eid-UL-Fitr" mubarik

17/06/2017

(میری بیٹی میرا غرور ہے )
کچھ دن پہلے اسکے موبائل پر انجانے نمبر سے کال آنے لگی. اس نے یہ سوچ کر کہ کسی دوست یا جاننے والی کی کال ہوگی, کال ریسیو کرلی. مگر دوسری طرف سے مردانہ آواز سنتے ہی رانگ نمبر کہہ کر کال منقطع کردی. بس وہ دن ہے اور آج کا دن میسجز اور کالز کا ایسا تانتا بندھا جو رکنے کا نام ہی نہ لیتا.
کال تو اس نے کوئی رسیو نہ کی مگر میسجز پڑھتی رہی. نام پوچھا جاتا، فون اٹھانے پر اصرار کیا جاتا اور اسکی آواز کی خوب تعریف کی جاتی، اپنے بارے میں بتایا جاتا،
جواب نہ دینے کے باوجود میسجز اور کالز کا سلسلہ مستقل مزاجی سے جاری تھا.
#عِفّت کے لیے یہ سب نیا تھا، چھوٹی سی عمر کا ایک انجانا سا احساس تھا جسے وہ خود سمجھنے سے قاصر تھی.
کیا ہوا اگر میں بھی ایک میسج کردوں یہی پوچھ لیتی ہوں کہ کون ہو اور کیوں مجھے تنگ کررہے ہو، اس لمحے اسکے دماغ میں خیال آیا. رات کے تین بج رہے تھے. کتنی ہی بار اس نے میسج لکھ کر مٹایا, عجیب شش و پنج کا شکار تھی. کوئی اس سے بات کرنے کے لیۓ بےچین تھا، یہ خیال اسے نہ جانے کیوں ایک انجانی سی خوشی دے رہا تھا.
بالآخر سوچ بچار کے بعد اس نے ایک میسج ٹائپ کرلیا. جس میں اس نے لکھا کہ وہ کون ہے اور رات کے اس پہر اسے کیوں تنگ کررہا ہے. ہاں کوئی بات نہیں ایک میسج ہی تو ہے اور پوچھ لینے میں قباحت ہی کیا ہے, اس نے خود کو تسلی دی.
بٹن دبانے ہی لگی تھی کہ اچانک اک چہرہ اسکی دماغ کی اسکرین پر ابھرا.
"میری بیٹی تو میرا مان ہے"
یہ جملہ جو اسکے بابا اس کا ماتھا چومتے ہوۓ اکثر دہرایا کرتے تھے. اس کے حلق میں کانٹے چبھنے لگے.
"بیٹیاں جب معاشرے میں سر جھکا کر چلتی ہیں تب ہی اس کےبھائی اور باپ سر اٹھا کر چلنے کے قابل ہوتے ہیں"
شفقت و محبت سے کہا گیا بابا کا ایک اور جملہ دل کی تار چھیڑ گیا.
جب کبھی امی جی بابا کو اسے سر چڑھانے کا طعنہ دیتیں تو بابا کی طرف سے ایک مخصوص جواب آتا کہ
"عِفّت تو اپنے بابا کا غرور ہے"
اور ہمیشہ ہی اسے یہ جملہ سرشار کر دیتا.
اسے اپنا سارا وجود سن ہوتا ہوا محسوس ہوا، بڑی مشکل سے بستر سے اٹھی. پسینے سے شرابور لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ بالکونی میں جا کھڑی ہوئی.
"میری بیٹی تو میرا غرور ہے"
"میری بیٹی تو میرا مان ہے"
"میری بیٹی بہت بہادر ہے"
کانوں میں گونجتی بابا کی آواز اب تک سنائی دے رہی تھیں.
جی بابا جانی میں کمزور نہیں ہوں, آپکی عِفّت آپکا غرور نہیں توڑے گی ان شاءاللہ.
آپکا سر کبھی جھکنے نہیں دے گی، آپکا یہ مان ہمیشہ قائم رکھے گی. آپ کی دی گئی محبت کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھاۓ گی.
وہ سرگوشی میں بولتی گئی، آنسو اسکے گالوں کو بھگو رہے تھے.
اس نے جلدی سے اس نمبر کو بلاک کیا. سکون کے احساس کے ساتھ اس نے گہرا سانس لیا اور آسمان کی جانب دیکھنے لگی رات کی آخری پہر تھی کچھ دیر میں سحر ہونے کو تھی.
نیچے صحن کی طرف دیکھا تو بابا تہجد پڑھنے کے بعد اللہ رب العزت کے سامنے ہاتھ پھیلاۓ دعا مانگنے میں مصروف نظر آۓ.
باپ اللہ سے اسکی عزت و آبرو کی دعا مانگیں اور اللہ پاک اسے گناہوں کی دلدل سے نہ بچائیں ایسا کیسے ہوسکتا تھا.
اسے اس لمحے اپنے بابا پر بےحد پیار آیا. انکی صحت و سلامتی کی دعا کرتی وہ وضو کے لیۓ اٹھ کھڑی ہوئی.
انجان نمبروں کے ذریعے پھینکا ہوا یہ شیطان کا جال ہوتا ہے جو وہ صنف نازک پر پھینکتا ہے, ایک جگہ سے نشانہ چھوٹ جاۓ تو دوسری جگہ آزماتا ہے اور جہاں نشانہ لگ گیا رسوائی و پچھتاوا لڑکی کے حصے میں ہی آتی ہے.
قابل تعریف ہیں وہ لڑکیاں جو ان جالوں سے اپنی اور اپنے سے وابستہ رشتوں کی ناموس کو بچالیتی ہیں اور اپنے والدین کا مان ٹوٹنے نہیں دیتیں.
اللّٰہ پاک تمام بہن بیٹیوں کی حفاظت فرمائے آمین۔
حیا ادیب
Copied...

12/06/2017

Girls WithOut Hijab are HOt,
And
Girls With Hijab are Beautiful,
That's Why Hell Is HOt And ParaDise Is Beautiful"
Always Remember This,
"If ExpOsing Of A BOdy Is MOdernism,
Than
The Animals are MOre MOdern Than Humans."

25/12/2016

میری بہنو !
آج میں نے سوچا کہ آپ سے سوشل میڈیا کے ذریعے ہی بات کرلوں، آپ بھی اس کا استعمال کرتی ہو تو بات آپ تک پہنچانا آسان ہے۔۔۔۔
بات فی الحال ایک ہی ہے اور وہ آپکا لباس اور حلیہ ہے۔۔۔۔
آپکی ایک مضبوط دلیل ہے کہ آپکے ابو منع نہیں کرتے تو باقیوں کو کیا اعتراض ہے؟؟؟
میری بہن ! ابو منع نہیں کرتے لیکن میرے آپکے نبی کریم ﷺ تو منع کرتے ہیں نا، آپ ہی بتاؤ، کس کی بات ماننا زیادہ ضروری ہے۔۔۔۔۔
پھر آپ ایک اور دلیل دیتی ہو کہ پردہ دل کا ہونا چاہیے یعنی دل صاف ہے تو سب ٹھیک ہے۔۔۔۔۔
آپ اپنے دل پر تو یہ بات کرتی ہو اور مجھے پتہ ہے کہ میری بہن کا دل صاٖف ہے لیکن دوسروں کی کیا گارنٹی ہے اور سب سے بڑی بات کہ دل کی پاکیزگی کوترویج دینے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنی بھی حفاظت کرو، آپ اس کائنات کی سب سے قیمتی اور نازک تخلیق ہو، کیوں سب پراپنا یہ انمول پن اور نزاکت ظاہر کرتی ہو۔۔۔۔۔۔
پھر آپ کہتی ہو کہ زمانے کے ساتھ چلنا ضروری ہے، میری پیاری بہن! اس طرح چلنے کی کوئی حد نہیں، اسی لیے اللہ نے ہمیں حدود بتا دی تاکہ ہر زمانے میں آپکی حفاظت ہوسکے۔۔۔۔
لباس انسان کا ذاتی معاملہ نہیں میری بہن، یہ جینز کے اوپر لانگ شرٹ صرف دل کی تسلی ہے، یہ سکن ٹائٹ لباس، یہ دوپٹے سے بے پرواہ لباس، یہ ٹائٹ عبایا۔۔۔۔۔
نہیں میری پیاری بہن ! ایسے نہیں، خود کو نمایاں کرو گی تو بہت واہ واہ ہوگی لیکن یہ بھیڑیوں کی واہ واہ ہے، ان کی نظریں آپ نہیں بھانپ سکتی ،ان کے الفاظ آپ نہیں سمجھ سکتی۔۔۔۔۔
بچالو، آپ معصوم ہو، خوبصورت ہو، نازک ہو۔۔۔۔۔
یہ آپکو فیشن کی لائن پرلگا کر، ماڈرن ازم کی راہ دکھا کر آپ سے یہ سب کچھ چھین لینا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔
وہ بھی صرف ایک مخصوص عمر تک،اس کے بعد ان کی نظریں بدل جایا کرتی ہیں۔۔۔۔۔
بچ جاؤ، میری بہن، بچ جاؤ۔۔۔۔۔۔
سمیٹ لو،سمٹ جاؤ۔۔۔۔۔۔۔
نبی کریم ﷺ کی محبت کی لاج رکھ لو۔۔۔۔۔۔
تم دخترِ امت ہو، دخترِ مغرب نہیں۔۔۔۔۔۔
میری بہنوں میری بات کا برا نہ منانا
شاید کہ آپ کے دل میں یہ بات اتر جائے.....
اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہر بيٹی کی ہر بہن کی عزت کی حفاظت فرمائے
اور اپنا مقام سمجھنے کی توفيق عطا فرمائے
ہماری سب ماؤں بہنوں کو اللہ پاک پردہ کرنے کی توفیق عطاء فرمائے اور دین اسلام کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے
آمین یا اللہ آمین

06/11/2016

ﺳﻨﻮ ﻟﮍﮐﯽ ......... ﺑﭽﺎﺅ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ........ ﯾﮧ ﻧﺮﻡ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ....... ﺗﻢ ﺳﮯ
ﮐﻮﺋﯽ ........ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ....... ﮐﮭﯿﻞ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ........ﺗﻢ ﺳﻤﺠﮭﺘﯽ
ﮨﻮ ..... ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ........ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ........ ﻭﺍﺭ ﮐﺮﺗﮯ
ﮨﯿﮟ ...... ﯾﮧ ﻣﯿﭩﮭﮯ ﺑﻮﻝ ﺑﻮﻟﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﮐﺜﺮ ....... ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﺽ ﺭﮐﮭﺘﮯ
ﮨﯿﮟ .......ﺳﻨﻮ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﺁﻧﺎ ......... ﻧﮧ ﻟﮩﺠﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﺷﯿﺮﯾﮟ
ﮐﺮﻧﺎ ....... ﺭﻭﯾﮧ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﺎ ........ ﺑﻠﮑﻞ ﺍﯾﮏ ﺳﺎ ﺭﮐﮭﻨﺎ ....... ﯾﮩﺎﮞ
ﻧﺮﻣﯽ ﺫﺭﺍ ﺳﯽ ﺩﮐﮭﻼﺋﯽ ...... ﻭﮨﺎﮞ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺧﯿﺎﻝ ﺁﯾﺎ ...... ﯾﮧ ﺗﻮﭘﮕﮭﻞ
ﮔﺌﯽ ﺟﻠﺪﯼ ........ ﯾﻌﻨﯽ ﭘﮩﻼ ﺯﻭﺍﻝ ﺁﯾﺎ ......ﻣﺤﺎﺭﻡ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ......ﮐﻮﺋﯽ
ﺍﭘﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ....... ﺍﺩﺍﺋﯿﮟ ﺩﮐﮭﺎﺅ ﮔﯽ ........ ﭘﯿﺎﺭ ﭼﮭﻠﮑﺎﺅ
ﮔﯽ ....... ﮨﺮ ﮨﺮ ﺑﺎﺕ ﮐﮩﮧ ﺟﺎﺅ ﮔﯽ .......ﻣﻮﻗﻊ ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﺩﮮ ﺟﺎﺅ
ﮔﯽ ......ﻣﮑﮭﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﮭﭙﭩﯿﮟ ﮔﮯ ...... ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻟﭙﭩﯿﮟ
ﮔﮯ .......ﮨﻨﺴﯽ ﻣﺬﺍﻕ ﺳﮯ ﮔﺮﺩ ﺳﻤﭩﯿﮟ ﮔﮯ ....... ﺑﭻ ﻧﮧ ﭘﺎﺅ
ﮔﯽ ...... ﮔﮭﻞ ﻣﻞ ﺟﺎﺅ ﮔﯽ ......ﻣﻘﺎﻡ ﺍﭘﻨﺎ ﮔﻨﻮﺍﺅ ﮔﯽ ..... ﺑﺮﺍﺋﯽ ﺗﮏ ﻧﮧ
ﺳﻤﺠﮭﻮ ﮔﯽ ...... ﮐﮧ ﯾﮧ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﯿﮟ ...... ﮐﺘﻨﮯ ﺳﭽﮯ ﻣﺨﻠﺺ
ﮨﯿﮟ ....... ﺩﮬﻮﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﺟﺎﺅ ﮔﯽ ...... ﻣﻘﺼﺪ ﮐﻮ ﺑﮭﻼﺅ ﮔﯽ ...... ﮔﮭﯿﺮﮮ
ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﺁﻧﺎ ..... ﺧﺪﺍ ﮐﻮ ﯾﺎﺩ ﺗﻢ ﮐﺮﻧﺎ ..... ﻗﺮﺁﻥ ﮐﻮ ﺫﺭﺍ ﭘﮍﮬﻨﺎ ...... ﺭﺏ
ﮐﮩﺘﺎ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﺳﻨﻨﺎ ....... ﺳﻮﺭﻩ ﺍﻻﺣﺰﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ...... ﻟﮩﺠﮧ
ﻧﺮﻡ ﻧﮧ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﺮﻧﺎ ........” ﺑﺎﺕ ﻣﺨﺘﺼﺮ ﺑﺎﻣﻘﺼﺪ ﺿﺮﻭﺭﯼ
ﮐﺮﻧﺎ ....... ﻭﺭﻧﮧ ﻣﺮﺩ ﮐﺎ ﻣﺮﺽ ﮨﮯ ﺑﮍﮬﻨﺎ ...... ﯾﮧ ﻣﻨﮧ ﺑﻮﻟﮯ ﺭﺷﺘﮯ ﮐﻮﺋﯽ
ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻧﮩﯿﮟ ..... ﺍﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺍﮎ ﺣﺠﺎﺏ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ....... ﻣﮕﺮ
ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺠﺎﺏ ﺑﺎﻗﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ .......ﺧﻄﺎ ﮨﮯ ﻓﻄﺮﺕ
ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ .....ﺗﻮﺑﮧ ﮨﮯ ﺷﯿﻮۂ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﯽ ........ ﺟﻮ ﺟﺐ ﭘﻠﭩﮯ ﺭﺏ ﮈﮬﺎﻧﭗ
ﻟﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ....... ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﻠﺪ ﺑﮭﺎﻧﭗ ﻟﮯ ﺍﺳﮑﻮ.....

08/08/2016

گرل فرینڈ یا جدید دور کی "لونڈی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل زمانہ قدیم میں عورت کے دو سٹیٹس چلے آ رہے تھے:ایک:باعزت ، خاندانی خاتون جس کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے کے لئے باقاعدہ نکاح کیا جاتا تھا
دوسری:منڈیوں میں بکنے والی ، قابل خرید و فروخت عورت جس کو "لونڈی" کہا جاتا تھا،
لونڈی کا سٹیٹس یہ تھا کہ جو بھی اس کا ریٹ لگا کر اس کو خرید لیتا وہ اسی کی ہوتی اور اس کے ساتھ اس کا مالک بغیر نکاح کے جنسی تعلقات قائم کر سکتا تھا ،
اسے تقریبا قانونی حیثیت حاصل تھی۔
اسلام نے غلامی کے تصور کی حوصلہ شکنی کی اور غلاموں اور لونڈیوں کو آزاد کروا دیا
لیکن
آج پھر کچھ لڑکیاں اپنے آپ کو باعزت ، خاندانی اور نکاح کے ذریعے گھر کیمالکن کے مرتبے سے گرا کر وہی لونڈی کے درجے پر لے آئی ہیںاور اس "جدید دور کی لونڈی" کا نام ہے
"گرل فرینڈ"جس کے بارے ابن آدم کا دعوی ہے کہ وہ اس کو گھٹیا سے گفٹ اور چند بار کی شاپنگ کے عوض "خرید" لیتا ہےسوچنا عورت کو چاہیئے کہ وہ نکاح کر کے گھر بسانا چاہتی ہے یا "گرل فرینڈ" بن کر کسی کے لئے "ٹائم پاس"

Address

Rawalakot
Rawlakot
12350

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The universty of poonch rawalakot posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to The universty of poonch rawalakot:

Share