13/02/2026
فروری 2026 کے عام انتخابات نے بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ یہ انتخاب کئی حوالوں سے غیر معمولی تھا، خصوصاً اس لیے کہ ملک کی روایتی حکمران جماعت Awami League انتخابی میدان میں موجود نہیں تھی۔ اس بدلے ہوئے سیاسی منظرنامے میں جہاں بڑی جماعتوں کے درمیان طاقت کی نئی صف بندی ہو رہی تھی، وہیں Bangladesh Jamaat-e-Islami نے اپنی ثابت قدمی اور تنظیمی قوت کے ذریعے ایک حیران کن واپسی کی داستان رقم کی۔
چند برس قبل تک جماعت اسلامی کو شدید قانونی اور سیاسی دباؤ کا سامنا تھا۔ اس کی رجسٹریشن منسوخ ہوئی، قیادت کو مقدمات کا سامنا کرنا پڑا اور ناقدین نے یہ تاثر دیا کہ جماعت عملی سیاست سے باہر ہو چکی ہے۔ لیکن سیاسی جماعتوں کی اصل طاقت وقتی اقتدار نہیں بلکہ نظریاتی وابستگی اور تنظیمی استحکام ہوتا ہے۔ جماعت اسلامی نے اسی بنیاد کو مضبوط رکھا۔ اس نے کارکنوں کا نیٹ ورک منتشر نہیں ہونے دیا، سماجی و تعلیمی میدان میں اپنی موجودگی برقرار رکھی اور خاموشی سے سیاسی فضا کے بدلنے کا انتظار کیا۔
فروری 2026 کے انتخابات میں جب نتائج سامنے آئے تو اندازہ ہوا کہ جماعت اسلامی اور اس کے حمایت یافتہ امیدواروں نے تقریباً ستر کے قریب نشستیں حاصل کر کے پارلیمنٹ میں ایک مضبوط بلاک کی صورت اختیار کر لی ہے۔ یہ صرف عددی اضافہ نہیں بلکہ سیاسی احیاء ہے۔ یہ کامیابی اس امر کی علامت ہے کہ جماعت کا ووٹر بیس محض جذباتی نہیں بلکہ منظم اور مستقل مزاج ہے۔ ایسے ماحول میں جب سیاسی خلا پیدا ہوا، جماعت نے اسے پُر کرنے کی اہلیت دکھائی۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جماعت اسلامی اب محض ایک نظریاتی جماعت نہیں رہی بلکہ بنگلہ دیش کی بڑی سیاسی قوتوں میں شمار ہونے لگی ہے۔ پارلیمنٹ میں اس کی موجودگی اسے قانون سازی، احتساب اور پالیسی مباحث میں اثر انداز ہونے کا موقع دے گی۔ اگر مستقبل میں مخلوط حکومت یا اتحاد سازی کی سیاست کو فروغ ملتا ہے تو جماعت کا کردار فیصلہ کن ہو سکتا ہے۔ سیاسی وزن کا یہ اضافہ اسے محض اپوزیشن نہیں بلکہ ممکنہ پالیسی ساز قوت بنا رہا ہے۔
مستقبل کے امکانات بھی خاصے روشن دکھائی دیتے ہیں۔ بنگلہ دیش کی نوجوان آبادی تبدیلی کی خواہاں ہے، اور اگر جماعت اسلامی معاشی اصلاحات، روزگار، شفاف حکمرانی اور سماجی انصاف کے عملی پروگرام کو واضح انداز میں پیش کرتی ہے تو وہ اپنی سیاسی ترقی کو مزید وسعت دے سکتی ہے۔ موجودہ پلیٹ فارم اسے آئندہ انتخابات میں مزید نشستیں حاصل کرنے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اگر تنظیمی نظم و ضبط برقرار رہا اور سیاسی حکمتِ عملی حقیقت پسندانہ رہی تو جماعت نہ صرف اپنی قوت دوگنی کر سکتی ہے بلکہ حکومت سازی میں بھی مرکزی کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں آ سکتی ہے۔
کیا جماعت اسلامی نظام بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟ اس سوال کا جواب صرف نشستوں کی تعداد میں نہیں بلکہ عوامی اعتماد، نظریاتی استقامت اور سیاسی تدبر میں پوشیدہ ہے۔ جماعت نے ماضی کی سختیوں میں اپنے وجود کو برقرار رکھ کر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ محض وقتی سیاسی لہر نہیں بلکہ ایک منظم تحریک ہے۔ اگر وہ پارلیمانی عمل میں تعمیری کردار ادا کرتی ہے اور قومی مفاد کو ترجیح دیتی ہے تو اس کے پاس نظامی اصلاحات میں مؤثر کردار ادا کرنے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔
فروری 2026 کا انتخاب اس حقیقت کا گواہ ہے کہ آزمائشیں ہمیشہ زوال کا پیش خیمہ نہیں ہوتیں؛ بعض اوقات وہ نئی طاقت کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ جماعت اسلامی کی حالیہ کامیابی اسی اصول کی عملی مثال ہے۔ اب نظریں اس پر مرکوز ہیں کہ یہ جماعت اس سیاسی سرمایہ کو کس حد تک قومی تعمیر اور پائیدار تبدیلی میں ڈھال پاتی ہے۔