Unaiza Islamic Center ( Urdu )

Unaiza Islamic Center ( Urdu ) Visit: www.Jalyat.com
Subscribe: www.youtube.com/igcOnaizaUr قسم اللغة الأردية

04/09/2026

سجدہ قرب الٰہی کی آخری شکل

04/09/2026
04/09/2026

اللہ کے لئے سجدہ کرو
پہلا خطبہ
الحمدُ للهِ جَعلَ الصَّلاةَ رَاحةَ قُلُوبِ الأَخْيَارِ، أَشهدُ ألَّا إلهَ إلَّا اللهُ وحدَهُ لا شَريكَ لَهُ، ذُو العزَّةِ والاقْتِدَارِ، وَأَشْهَدُ أَنَّ نَبِيَّنَا محمدًا عبدُ الله ورسولُهُ، الْمُصطفى الْمُختارُ، صلَّى اللهُ وَسلَّمَ وَبَاركَ عَليهِ وَعلَى آلِهِ وأَصحَابِهِ الأَطْهَارِ
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے نماز کو نیک لوگوں کے دلوں کا سکون بنایا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، وہ عزت اور قدرت والا ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، جو چنے ہوئے اور منتخب کردہ ہیں۔ اللہ ان پر، ان کی آل پر اور ان کے پاکیزہ صحابہ پر درود، سلام اور برکتیں نازل فرمائے۔

بعد ازاں: اے اللہ کے بندو! اپنے رب سے ڈرو، اپنے فرائض ادا کرو تاکہ اپنے رب کی مغفرت حاصل کر کے کامیاب ہو جاؤ: (وَتَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ. الَّذِي يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ. وَتَقَلُّبَكَ فِي السَّاجِدِينَ) (ترجمہ: اور اس زبردست اور رحم کرنے والے پر بھروسہ رکھو، جو تمہیں دیکھتا ہے جب تم کھڑے ہوتے ہو، اور سجدہ کرنے والوں میں تمہاری نقل و حرکت کو بھی دیکھتا ہے)۔

اے ایمان والو! ہم میں سے ہر شخص جنت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفقت اور ساتھ چاہتا ہے! کیا تم اس کا راستہ جاننا چاہتے ہو؟ ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ کو سنیں جو فرماتے ہیں: "میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات گزارتا تھا، میں آپ کے پاس وضو کا پانی اور ضرورت کی چیزیں لایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: «سَلْ» (مانگو!)۔ میں نے عرض کیا: «أَسْأَلُكَ مُرَافَقَتَكَ في الْجَنَّةِ» (میں آپ سے جنت میں آپ کی رفقت مانگتا ہوں)۔ آپ نے فرمایا: «أَوَ غَيْرَ ذَلِكَ» (یا اس کے علاوہ کچھ؟)۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بس یہی چاہیے۔ آپ نے فرمایا: «فَأَعِنِّى عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ» (ترجمہ: تو کثرتِ سجود سے اپنے لیے میری مدد کرو)۔" (رواہ مسلم)۔

اللہ اکبر! تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، ان کی کتنی بڑی امید اور خواہش تھی— رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ساتھ اور رفاقت!
اللہ کے بندو! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام عبادات میں سے سجدے ہی کو خاص کیوں فرمایا؟ اور اس کا سب سے بڑا راز کیا ہے؟ کیونکہ جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (أَقْرَبُ مَا يَكُونُ العَبْدُ مِنْ رَبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ فَأْكْثِرُوا الدُّعَاءَ) (ترجمہ: بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہوتا ہے، لہٰذا [سجدے میں] کثرت سے دعا کیا کرو)۔
اے اللہ کی حفاظت میں رہنے والو! کیا تم نہیں جانتے کہ سجدے کی فضیلت اور عظمت میں سے ایک یہ بھی ہے کہ تمام مخلوقات اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہوتی ہیں؟ جیسا کہ ہمارے رب عزوجل نے فرمایا:
(أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَسْجُدُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوُابُّ وَكَثِيرٌ مِنَ النَّاس) (ترجمہ: کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں، اور سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، درخت، جانور اور انسانوں میں سے بہت سے لوگ)۔
صحیح مسلم میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "إِذَا قَرَأَ ابْنُ آدَمَ السَّجْدَةَ فَسَجَدَ اعْتَزَلَ الشَّيْطَانُ يَبْكِي يَقُولُ: يَا وَيْلَهُ أُمِرَ ابْنُ آدَمَ بِالسُّجُودِ فَسَجَدَ فَلَهُ الْجَنَّةُ، وَأُمِرْتُ بِالسُّجُودِ فَأَبَيْتُ فَلِيَ النَّارُ" (ترجمہ: جب ابنِ آدم سجدے کی آیت پڑھتا ہے اور سجدہ کرتا ہے، تو شیطان روتا ہوا الگ ہو جاتا ہے اور کہتا ہے: ہائے میری بربادی! ابنِ آدم کو سجدے کا حکم دیا گیا تو اس نے سجدہ کیا اور اس کے لیے جنت ہے، اور مجھے سجدے کا حکم دیا گیا تو میں نے انکار کیا لہٰذا میرے لیے آگ ہے)۔ امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابلیس کا یہ رونا اللہ کی نافرمانی پر ندامت کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ بنی آدم علیہ السلام میں سے کسی کے جنت میں داخل ہونے کے حسد اور تکلیف کی وجہ سے ہے!
ایمان والے بھائیو! اللہ تعالیٰ کے لیے سجدہ کرنا بہترین تقربات میں سے ہے، کیونکہ یہ اللہ کے سامنے مکمل الخلوص، عاجزی اور بندگی کی بہترین صورت ہے۔ اسی لیے مومنین کے چہروں پر سجدے کے اثرات کی علامت ہوتی ہے، اور اس کا مطلب ہے: عمدہ سیرت، خشوع اور عاجزی۔
اللہ کے بندو! اپنے دلوں میں سجدے کی تعظیم پیدا کرو، اور یہ تعظیم تمہارے اعضا پر بھی ظاہر ہونی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ سجدہ انبیاء، ہدایت یافتہ لوگوں اور اصلاح کرنے والوں کی صفت ہے: (إِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُ الرَّحْمَنِ خَرُّوا سُجَّدًا وَبُكِيًّا) (ترجمہ: جب ان پر رحمن کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ روتے ہوئے سجدے میں گر پڑتے ہیں)۔ جبکہ گنہگار اور غفلت کرنے والے: انہوں نے نماز کو ضائع کیا اور خواہشات کی پیروی کی، تو عنقریب وہ گمراہی سے ملیں گے!
اللہ کے بندو! محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی آل و اصحاب کی خصوصیات میں سے ہے کہ تم انہیں ہر مقام پر دیکھو گے: (تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا) (ترجمہ: تم انہیں رکوع اور سجدے میں اللہ کا فضل اور اس کی رضا تلاش کرتے ہوئے دیکھو گے)۔ خوشی کے وقت تم انہیں اللہ کے شکر کا سجدہ کرتے دیکھو گے، اور جب کوئی پریشانی یا اہم معاملہ پیش آئے تو وہ نماز اور سجدے کی طرف بھاگتے ہیں! تم انہیں صحرا، سمندر اور ہوا میں دیکھو گے کہ وہ اپنی نماز نہیں چھوڑتے اور اپنے رب کے سامنے سجدہ کرنے سے نہیں گھبراتے۔ کیونکہ بعض کمزور دل لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عوامی مقامات پر دینی شعائر کا قیام عام اخلاقیات کے خلاف ہے! اور اللہ عظیم نے سچ فرمایا: (وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَفَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُنْ مِنَ السَّاجِدِينَوَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ) (ترجمہ: اور ہم جانتے ہیں کہ ان کی باتوں سے تمہارا دل تنگ ہوتا ہے، پس اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرو اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہو جاؤ، اور اپنے رب کی عبادت کرو یہاں تک کہ تمہیں یقین (موت) آ جائے)۔
اے مومنو! تمہارے شرف کے لیے یہی کافی ہے کہ تم اللہ کی اس طرح عبادت کرتے ہو جیسے مکرم فرشتے کرتے ہیں، آسمان میں چار انگلیوں کی جگہ بھی ایسی نہیں ہے جہاں کوئی فرشتہ اللہ کے سامنے سجدے میں اپنی پیشانی نہ رکھے ہوئے ہو۔
پس اے مومن! جب تمہارے گناہ تم پر بھاری ہو جائیں، خطائیں گھیر لیں اور غم مفلوج کر دیں، تو اللہ تعالیٰ کے سامنے کثرت سے سجدہ کرو۔ ثوبان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جس کی وجہ سے اللہ مجھے جنت میں داخل فرمائے؟ آپ نے فرمایا: «عَلَيْكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ لِلَّهِ، فَإِنَّكَ لَا تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً، إِلَّا رَفَعَكَ اللهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً» (ترجمہ: تم اللہ کے لیے کثرت سے سجدہ کیا کرو، کیونکہ تم اللہ کے لیے جو بھی سجدہ کرو گے، اللہ اس کے بدلے تمہارا ایک درجہ بلند کرے گا اور تمہاری ایک خطا مٹا دے گا)۔
اللہ کے بندو! سجدہ کرنے والے اگر (اللہ نہ کرے) جہنم میں بھی داخل کیے گئے، تو آگ ان کے سجدے کے اعضا کو نہیں چھوئے گی! صحیح بخاری میں اپنی سند کے ساتھ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إِذَا فَرَغَ اللَّهُ مِنَ القَضَاءِ بَيْنَ العِبَادِ، وَأَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ بِرَحْمَتِهِ مَنْ أَرَادَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، أَمَرَ الْمَلاَئِكَةَ أَنْ يُخْرِجُوا مِنَ النَّارِ، مَنْ كَانَ لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، مِمَّنْ أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَرْحَمَهُ، مِمَّنْ يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَيَعْرِفُونَهُمْ فِي النَّارِ بِأَثَرِ السُّجُودِ، تَأْكُلُ النَّارُ ابْنَ آدَمَ إِلَّا أَثَرَ السُّجُودِ، حَرَّمَ اللَّهُ عَلَى النَّارِ أَنْ تَأْكُلَ أَثَرَ السُّجُودِ» (ترجمہ: جب اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ فرمائے گا اور اپنی رحمت سے جن دوزخیوں کو نکالنا چاہے گا تو فرشتوں کو حکم دے گا کہ جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے اور لا الہ الا اللہ کی گواہی دیتے تھے، انہیں جہنم سے نکالیں۔ فرشتے انہیں جہنم میں سجدے کے نشانات سے پہچان لیں گے، آگ ابنِ آدم کے تمام جسم کو کھا جائے گی سوائے سجدے کے نشانات کے، اللہ نے آگ پر سجدے کے نشانات کو کھانا حرام کر دیا ہے)۔
اللہ اکبر! اے مومنو! یہ سجدہ ہے جو نماز کا راز اور اس کا سب سے بڑا رکن ہے۔ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا، سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلائِكَةِ وَالرُّوحِ۔ اللہ سے استغفار کرو، بیشک وہ غفور و رحیم ہے۔
دوسرا خطبہ
الحمدُ للهِ الْمطَّلعِ على أسرارِ القُلوبِ، أَشهَدُ أن لا إله إلا الله وحده لا شريكَ لهُ علاَّمُ الغُيُوبِ، وأشهدُ أنَّ مُحمَّداً عبدُ اللهِ ورَسُولُهُ جُعِلَتْ قُرَّةُ عَينِهِ في الصَّلاةِ. صلَّى اللهُ وَسَلَّمَ وبارَكَ عليهِ، وعلى آلِهِ وأصحَابِهِ ومَنْ تَبِعَهم بِإحسَانٍ إلى يومِ الْمَمَاتِ.
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو دلوں کے بھیدوں سے واقف ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، وہ غیب کا جاننے والا ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں، جن کی آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں بنائی گئی۔ اللہ ان پر، ان کی آل اور اصحاب پر اور قیامت تک ان کی اچھے طریقے سے پیروی کرنے والوں پر سلامتی اور برکتیں نازل فرمائے۔
بعد ازاں: اے اللہ کے بندے! اللہ سے ڈرو، سجدہ کرنے والوں میں شامل ہو جاؤ اور ہلاک ہونے والوں کے راستے سے بچو، جن سے جب کہا جاتا ہے کہ رحمن کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں: رحمن کیا ہے؟ کیا ہم اس کو سجدہ کریں جس کا تو ہمیں حکم دیتا ہے؟ اور اس سے ان کی نفرت اور بڑھ جاتی ہے! یا اللہ کی پناہ ان لوگوں سے کہ جب ان پر قرآن پڑھا جائے تو سجدہ نہیں کرتے! پس کامیاب سجدہ کرنے والوں میں سے بنو: (فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا) (ترجمہ: پس اللہ ہی کے آگے سجدہ کرو اور اسی کی عبادت کرو)۔
اے مومنو، جان لو: اللہ کے لیے ہمارا سجدہ بلندی، غیرت اور عزت کی علامت ہے! سجدہ کرنے والا اپنے سب سے محترم عضو کو اپنے ربِ اعلیٰ کے سامنے عاجزی اور تواضع کے لیے سب سے نیچے رکھتا ہے! اسی لیے کفار اور منافقین اللہ کے سجدہ کرنے والوں سے جلتے ہیں! کیا تم فرعون کے جادوگروں کو نہیں دیکھتے کہ جیسے ہی ان پر حق واضح ہوا، وہ سجدے میں گر پڑے اور کہا: ہم رب العالمین پر ایمان لائے! تو فرعون ان کے سجدے پر غضبناک ہوا اور انہیں قتل، سولی اور دردناک عذاب کی دھمکی دی! یہاں تک کہ قریش کے کفار بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدے سے جلتے اور کڑھتے تھے جبکہ وہ خود پتھروں، بتوں اور مٹی کو سجدہ کرتے تھے! انہوں نے ابو جہل سے شکایت کی تو اس نے کہا: کیا محمد تمہاری موجودگی میں اپنا چہرہ مٹی میں ملاتا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ تو اس نے کہا: لات اور عزى کی قسم! اگر میں نے اسے ایسا کرتے دیکھا تو اس کی گردن روند دوں گا! دیکھا تم نے سجدہ کرنے والوں کا منظر دشمنوں کو کیسے جلاتا ہے! چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جب آپ نماز پڑھ رہے تھے تاکہ گردن پر پاؤں رکھے۔ لیکن جیسے ہی قریب ہوا، الٹے قدموں بھاگا اور اپنے ہاتھوں سے اپنا دفاع کرنے لگا۔ اس سے پوچھا گیا کہ کیا ہوا؟ اس نے کہا: میرے اور اس کے درمیان آگ کی خندق، ہولناکی اور پر (فرشتے) تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لَوْ دَنَا مِنِّى لاَخْتَطَفَتْهُ الْمَلاَئِكَةُ عُضْوًا عُضوًا» (ترجمہ: اگر وہ میرے قریب آتا تو فرشتے اس کے ایک ایک عضو کو اچک لیتے)۔
مبارک ہو اے مومن! اس دن پر جب تو نے صرف اللہ کے لیے سجدہ کیا، جبکہ عیسائی صلیبوں کو، دوسرے آگ کو، اور کچھ قومیں گائے، پتھروں، درختوں اور چوہوں کو سجدہ کرتی ہیں، اور تمہارے مالک نے تمہیں یہ عزت دی کہ تم نے رحمن و رحیم کو سجدہ کیا!
اے مومن! اب جب کہ تم نے سجدے کی فضیلت اور حکمتیں جان لیں، تو اس کے احکام بھی سیکھو، تاکہ تمہارا سجدہ روح اور دل کی عبادت بنے، نہ کہ محض عادت اور تقلید۔
احکام میں سے:
• سجدہ سات اعضا پر کرنا واجب ہے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا: «أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ الْجَبْهَةِ وَأَشَارَ بِيَدِهِ عَلَى أَنْفِهِ وَالْيَدَيْنِ وَالرِّجْلَيْنِ وَأَطْرَافِ الْقَدَمَيْنِ وَلاَ نَكْفِتَ الثِّيَابَ وَلاَ الشَّعْرَ» (ترجمہ: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات ہڈیوں پر سجدہ کروں: پیشانی—اور آپ نے ہاتھ سے ناک کی طرف اشارہ فرمایا—، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے، اور دونوں پاؤں کی انگلیاں، اور ہم کپڑوں اور بالوں کو نہ سمیٹیں)۔
• سجدے کے کمال اور واجبات میں سے ہے کہ جسم کا ہر عضو عاجزی اور اطمینان کا اپنا حصہ لے، نمازی اپنا پیٹ رانوں سے اور رانیں پنڈلیوں سے الگ رکھے، اور اپنے بازوؤں کو پہلوؤں سے دور رکھے اور زمین پر نہ بچھائے۔
• ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کا رخ قبلہ کی طرف رکھے، اور سجدے کی حالت میں اپنا کوئی عضو نہ اٹھائے— نہ ہاتھ، نہ پاؤں، نہ ناک اور نہ پیشانی، جیسے کوئی ایک پاؤں دوسرے پر رکھ لیتا ہے۔ اگر اس نے پورے سجدے میں ایسا کیا تو اس کا سجدہ صحیح نہیں ہوگا، کیونکہ اس کا ایک عضو کم ہو گیا جس پر سجدہ ہونا چاہیے تھا!
احکام میں سے یہ بھی ہے:
• رکوع یا سجدے کی حالت میں قرآن پڑھنا حرام ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے: «إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا» (ترجمہ: مجھے رکوع یا سجدے کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے)۔
• سجدے میں اپنے دونوں بازوؤں کو کتوں کی طرح زمین پر بچھانا حرام ہے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اعْتَدِلُوا في السُّجُودِ وَلاَ يَبْسُطْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ انْبِسَاطَ الْكَلْبِ» (ترجمہ: سجدے میں اعتدال اختیار کرو اور تم میں سے کوئی اپنے بازوؤں کو کتے کی طرح نہ بچھائے)۔
اے ایماندارو! اللہ کے لیے کثرت سے سجدہ کرنا ایک عظیم خزانے کی چابی ہے، اور جنت میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی رفقت کا ذریعہ ہے، لہٰذا اس سے محروم نہ رہو اور اسے ضائع نہ کرو۔ سجدوں کی کثرت دنیا میں ہتھیار اور آخرت کے لیے زادِ راہ ہے۔ جب بھی معامت دشوار ہوں، سجدے کی طرف بھاگواور جب تمہیں کسی خوشخبری سے نوازا جائے تو اللہ کا سجدہ کرو، «رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی کوئی خوش کن خبر ملتی، تو اللہ کے لیے سجدے میں گر پڑتے تھے»۔ اور اگر تمہاری موت اس حال میں آئے کہ تم سجدہ کرنے والوں میں سے ہو، تو تمہارا دل مطمئن ہو گا، تم پر خوشی غالب ہو گی اور تمہارے لیے کثیر خیر کی امید کی جائے گی! اور اعمال کا دارومدار تو خاتمے پر ہے۔
اے اللہ! ہمیں اور ہماری اولاد کو نماز قائم کرنے والا بنا، اے ہمارے رب! ہماری دعا قبول فرما۔ اے اللہ! ہمارے دلوں اور اعمال کی اصلاح فرما، ہمارے ظاہری و باطنی کی اصلاح فرما، اور ہمیں اپنے مخلص اور چنے ہوئے بندوں میں سے بنا۔ اے اللہ! ہمیں اپنے دین اور صراطِ مستقیم پر ثابت قدم رکھ۔ اے اللہ! ہمارے حال کی اصلاح فرما اور ہمارے انجام کو اچھا بنا، ہمیں عاجزی کرنے والے دل، ذکر کرنے والی زبانیں اور مقبول عمل عطا فرما۔ اے اللہ! ہم ریا کاری، نفاق اور برے اخلاق سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔ اور ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والا بنا۔ ہمیں، ہمارے والدین کو اور تمام مسلمانوں کو بخش دے۔ اے اللہ! ہر جگہ اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما، اس ملک کو اور تمام مسلمان ممالک کو امن و اطمینان کا گہوارہ بنا۔ اے اللہ! خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ان کے ولی عہد محمد بن سلمان کو ان کاموں کی توفیق دے جن سے تو راضی ہو، اور ان کی نیکی و تقویٰ پر مدد فرما، اور انہیں اسلام و مسلمین کی خدمت پر بہترین جزا عطا فرما۔ ہمارے مجاہدین کی نصرت فرما، ہماری سرحدوں کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! ہمارے شہدا کو نیک بندوں میں قبول فرما۔ اور ہمیں، ہمارے والدین اور تمام مسلمانوں کو بخش دے۔
رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ وَأَقِمِ الصَّلَاةَ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَلَذِكْرُ الله أَكْبَرُ والله يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ.

04/09/2026

کائنات میں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں پے در پے ظاہر ہوتی رہتی ہیں تاکہ متکبر نفوس کو ان کی غفلت سے بیدار کریں اور انسان میں طاقت کے غرور اور مادی تہذیب کے تکبر کو توڑ دیں۔
26 اگست 2026ء کو نیپال کے بعض علاقوں میں جو کچھ ہوا وہ ایک ہولناک تباہی تھی۔ ہمالیہ کے بلند پہاڑوں سے برفانی اور چٹانی تودوں کا عظیم طوفان اٹھا، جس کے نتیجے میں پانی، مٹی کی لہروں، چٹانوں اور ملبے کے ایک تباہ کن سیلاب نے دیہاتوں کو نگل لیا، عمارتوں کو ڈھایا، پلوں کو توڑ دیا اور بڑی تعداد میں ہلاک و لاپتہ افراد کو پیچھے چھوڑ دیا۔
ہمالیہ کے پہاڑ—جو دنیا کا سب سے بڑا پہاڑی سلسلہ اور انسانوں کی نظر میں سب سے زیادہ مضبوط ہیں—چند لمحوں میں خوف اور تباہی کا ذریعہ بن گئے؛ جہاں چٹانیں، برف اور مٹی مل کر ایک ساتھ بہہ نکلے۔
اللہ تعالئ فرماتے ہیں
﴿وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَكِنْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فَمَا أَغْنَتْ عَنْهُمْ آلِهَتُهُمُ الَّتِي يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ لَمَّا جَاءَ أَمْرُ رَبِّكَ وَمَا زَادُوهُمْ غَيْرَ تَتْبِيبٍ (101) وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ (102) إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِمَنْ خَافَ عَذَابَ الْآخِرَةِ ذَلِكَ يَوْمٌ مَجْمُوعٌ لَهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَشْهُودٌ (103)﴾ [هود: 101-103]
اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا اور لیکن انھوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا، پھر ان کے وہ معبود ان کے کچھ کام نہ آئے جنھیں وہ اللہ کے سوا پکارتے تھے، جب تیرے رب کا حکم آگیا اور انھوں نے ہلاک کرنے کے سوا انھیں کچھ زیادہ نہ دیا۔
اور تیرے رب کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے، جب وہ بستیوں کو پکڑتا ہے، اس حال میں کہ وہ ظلم کرنے والی ہوتی ہیں، بے شک اس کی پکڑ بڑی دردناک، بہت سخت ہے۔بے شک اس میں اس شخص کے لیے یقیناً ایک نشانی ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرے، یہ وہ دن ہے جس کے لیے (سب) لوگ جمع کیے جانے والے ہیں اور یہ وہ دن ہے جس میں حاضری ہوگی۔
یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو انسانی عقل کو صرف ایک ہی حقیقت کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے: اللہ کے سوا کوئی جائے پناہ ہے اور نہ نجات کا ذریعہ، اور اس کے سوا جن کی بھی عبادت کی جاتی ہے وہ باطل ہیں، جو نہ اپنے لیے اور نہ کسی دوسرے کے لیے کسی نفع یا نقصان کے مالک ہیں۔
یہ وہ لمحے ہیں جن میں انسان اپنی عاجزی اور کمزوری کی حقیقت پر غور کرتا ہے؛ وہ طاقت، علم اور ٹیکنالوجی کے چاہے کسی بھی مقام پر پہنچ جائے، اللہ کی قدرت کے سامنے ایک عاجز اور بے بس ہی رہتا ہے۔
ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَمَا نُرْسِلُ بِالْآيَاتِ إِلَّا تَخْوِيفًا﴾ [الإسراء: 59]. ہم تو لوگوں کو دھمکانے کے لئے ہی نشانی بھیجتے ہیں۔
عقدی نقطہ نظر: اسباب اور حکمتوں کے درمیان فرق
نیپال اور دنیا کے دیگر ممالک میں آنے والے زلزلے، سیلاب اور دیگر قدرتی آفتیں سب اللہ تعالیٰ کی مشیت، قدر اور اذن سے ہی واقع ہوتی ہیں۔
ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿أَفَلَمْ يَرَوْا إِلَى مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِنْ نَشَأْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْأَرْضَ أَوْ نُسْقِطْ عَلَيْهِمْ كِسَفًا مِنَ السَّمَاءِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِكُلِّ عَبْدٍ مُنِيبٍ﴾ [سبأ: 9].
کیا پس وہ اپنے آگے پیچھے آسمان و زمین کو دیکھ نہیں رہے ہیں؟ اگر ہم چاہیں تو انھیں زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں یقیناً اس میں پوری دلیل ہے ہر اس بندے کے لئے جو (دل سے) متوجہ ہو
اس باب میں ایک اہم دعوتی فائدہ یہ ہے کہ کائناتی مظاہر کے بارے میں محض مادی نظریے کی اصلاح کی جائے۔ جدید دور کے بہت سے تجزیے صرف ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکت، جیولوجیکل دراڑوں اور زمین کے زلزلوں تک ہی اپنے نظر کو محدود رکھتے ہیں۔
اگرچہ یہ دنیاوی اور قدرتی اسباب ہیں جنہیں اللہ نے اپنی مخلوق میں رکھا ہے، لیکن داعی پر لازم ہے کہ وہ یہ واضح کرے کہ مادی سبب کا وجود اس کے پیچھے موجود حکمتِ الٰہی کی نفی نہیں کرتا۔
شرعی حکمت یہ ہے کہ یہ آفتیں ایسی نشانیاں ہیں جن کے ذریعے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے تاکہ وہ گناہوں کو چھوڑ دیں اور توبہ و رجوع الی اللہ کی طرف مائل ہوں؛ جیسا کہ فرمایا: ﴿وَمَا نُرْسِلُ بِالْآيَاتِ إِلَّا تَخْوِيفًا﴾ [الإسراء: 59] ہم تو لوگوں کو دھمکانے کے لئے ہی نشانی بھیجتے ہیں۔
اور یہاں دعاة کی ذمہ داری دلوں کو محض مجرد قدرتی اسباب کی بجائے مسبب الاسباب (اللہ تعالیٰ) سے جوڑنا ہے۔
ربوبیت کی عظمت اور انسان کی کمزوری کا ادراک:
نیپال کی تباہی، زلزلوں، سیلابوں اور آفتوں سے پیدا ہونے والے ہولناک مناظر ربوبیت کے غلبے و قہر اور عبودیت کی ذلت و عاجزی کو ظاہر کرتے ہیں۔
﴿وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ﴾ [الزمر: 67].
اور ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالیٰ کی کرنی چاہیے تھی نہیں کی ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے (١) وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک بنائیں
انسان خواہ سائنسی اور ٹیکنالوجی کی ترقی اور مادی طاقت کے کتنے ہی اعلیٰ مقام پر پہنچ جائے، وہ چند سیکنڈ کے ایسے زلزلے کے سامنے خود کو عاجز اور کمزور پاتا ہے جو شہروں اور دیہاتوں کو تباہ کر دیتا ہے اور مال و جان کو بہا لے جاتا ہے۔ یہ چیز اللہ کے لیے اخلاص اور اس کے سامنے مکمل محتاجی کا اعتراف کرنے کی دعوت دیتی ہے: ﴿إِنَّ فِي ذَلِكَ لَعِبْرَةً لِأُولِي الْأَبْصَارِ﴾ [النور: 44].
📜 بندگی کی حقیقت اور اللہ جل جلالہ کی طرف مکمل محتاجی
آفتوں اور مصائب کے اوقات میں وہ عظیم حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے جس کا بیان وحیِ معصوم نے کیا ہے؛ یعنی تمام مخلوقات—خواہ وہ بادشاہ ہوں، علماء ہوں یا طاقتور لوگ—ذاتی طور پر اللہ تعالیٰ کی محتاج ہیں، وہ اپنے لیے کسی نفع یا نقصان کو دور کرنے کے مالک نہیں۔
﴿وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِيرٍ (13) إِنْ تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ (14) ✷ يَاأَيُّهَا النَّاسُ أَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ (15) إِنْ يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ (16) وَمَا ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ بِعَزِيزٍ (17)﴾ [فاطر: 13-17].
اور جن لوگوں کو تم اس کے سوا پکارتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی تو (کسی چیز کے) مالک نہیں اگر تم ان کو پکارو تو وہ تمہاری پکار نہ سنیں اور اگر سن بھی لیں تو تمہاری بات کو قبول نہ کرسکیں۔ اور قیامت کے دن تمہارے شرک سے انکار کردیں گے۔ اور (خدائے) باخبر کی طرح تم کو کوئی خبر نہیں دے گالوگو تم (سب) خدا کے محتاج ہو اور خدا بےپروا سزاوار (حمد وثنا) ہے ر چاہے تو تم کو نابود کردے اور نئی مخلوقات لا آباد کرےاور یہ خدا کو کچھ مشکل نہیں
اسی طرح اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے یہ طے فرمایا ہے کہ مصیبت کے وقت زاری و تضرع کرنا ہی نشانیوں کے بھیجنے کا اعلیٰ تربیتی مقصد ہے:
﴿وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَى أُمَمٍ مِنْ قَبْلِكَ فَأَخَذْنَاهُمْ بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُونَ﴾ [الأنعام: 42]. اور ہم نے اور امتوں کی طرف بھی جو کہ آپ سے پہلے گزر چکی ہیں پیغمبر بھیجے تھے، سو ہم نے ان کو تنگدستی اور بیماری سے پکڑا، تاکہ وہ اظہار عجز کرسکیں۔
آخرت اور قیامت کے زلزلے کی یاد دہانی:
وہ گھر جو کل تک اپنے رہنے والوں کا مسکن تھا، وہ راستہ جو لوگوں سے بھرا ہوا تھا، اور وہ پل جو گاڑیوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھا، چند لمحوں میں ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔
دنیا کا حال یہی ہے؛ یہ جتنی بھی طویل ہو جائے، آخرکار زوال پذیر ہے۔
ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ (26) وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ﴾ [الرحمن: 26-27].
زمین پر جو ہیں سب فنا ہونے والے ہیں۔صرف تیرے رب کی ذات جو عظمت اور عزت والی ہے باقی رہ جائے گی۔
اے دنیا میں مشغول ہونے والے! اے توبہ میں تاخیر کرنے والے! اور اے یہ کہنے والے کہ "میں کل توبہ کروں گا"! تمہارے پاس اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ تم کل تک پہنچ بھی سکو گے؟
یہ آفتیں مومن کو یاد دلاتی ہیں کہ دنیا دائمی امن کی جگہ ہے اور نہ ہمیشہ رہنے کا مقام، اور انسان اپنے ارد گرد موجود چیزوں سے کتنا ہی مطمئن کیوں نہ ہو جائے، اس پر ایسے واقعات آ سکتے ہیں جو اس کے گمان میں بھی نہ ہوں۔
دنیا جو زمین کی دراڑیں، عمارتوں کا گرنا، لوگوں کا ڈوبنا اور مخلوق کا سراسیمہ ہونا دیکھ رہی ہے، وہ قیامت کے زلزلے اور اس کے ہولناک خوف کی ایک عملی اور معمولی یاد دہانی ہے۔ ارشادِ باری تعالی ہے:
﴿يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ ززلَزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ (1) يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ﴾ [الحج: 1-2].
لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو! بلاشبہ قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔جس دن تم اسے دیکھ لو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور تمام حمل والیوں کے حمل گر جائیں گے اور تو دیکھے گا کہ لوگ مد ہوش، دکھائی دیں گیں، حالانکہ درحقیقت وہ متوالے نہ ہونگے لیکن اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے
الله کی طرف رجوع اور گناہوں سے تنبیہ:
گناہ، معاصی اور کھلے عام برائیوں کا ارتکاب سزاؤں کے نازل ہونے اور مصائب کے آنے کے اسباب میں سے ہیں۔ اللہ عزوجل نے فرمایا:
﴿ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ (41)﴾ [الروم: 41].
خشکی اور تری میں لوگوں کی بد اعمالیوں کے باعث فساد پھیل گیا۔ اس لئے کہ انھیں ان کے بعض کرتوتوں کا پھل اللہ تعالیٰ چکھا دے (بہت) ممکن ہے کہ وہ باز آجائیں
زلزلوں اور نشانیوں کا ظاہر ہونا اہل زمین کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک وعید (ڈرانے کی بات) ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا نُرْسِلُ بِالْآيَاتِ إِلَّا تَخْوِيفًا﴾۔ اور ان نشانیوں سے ڈرانا اور وعید اسی وقت ہوتی ہے جب کھلم کھلا گناہ کیے جائیں۔ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے دور میں جب مدینہ میں زلزلہ آیا تو انہوں نے فرمایا: "اے مدینہ والو! تم نے کتنی جلدی گناہ شروع کر دیے، خدا کی قسم اگر یہ دوبارہ آیا تو میں تمہارے درمیان سے نکل جاؤں گا!" انہیں خوف تھا کہ ان کے ساتھ سزا انہیں بھی نہ آ گھیرے؛ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: (کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے حالانکہ ہم میں نیک لوگ موجود ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، جب خباثت اور برائی بڑھ جائے، اور اللہ نیک لوگوں کو ان کی نیتوں پر اٹھائے گا)۔ [عمدة القاري شرح صحيح البخاري (7/ 57)]
🛠️ آفتوں کے وقت عملی رہنمائی اور ایمانی ردعمل
خبریں اور حادثات دیکھنے کا مقصد صرف دیکھنا نہیں ہے، بلکہ ایمانی واجب یہ تقاضا کرتا ہے کہ دلوں کو متحرک کیا جائے اور مکمل بندگی کا اظہار کیا جائے۔
آفتوں اور خوفناک نشانیوں کے نزول کے وقت امت کے نمایاں ترین واجبات میں سے یہ ہے کہ طاعات کی طرف لپکا جائے اور زمین و آسمان کے رب کے سامنے عاجزی کی جائے؛ توبہ میں جلدی کی جائے، استغفار، دعا اور صدقہ کی کثرت کی جائے، اور نماز کی طرف رجوع کیا جائے۔ نیز سخت دلی اور غفلت سے بچا جائے جس کی مذمت اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں فرمائی ہے: ﴿فَلَوْلَا إِذْ جَاءَهُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُوا وَلَكِنْ قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ [الأنعام: 43].
اور ہم نے اور امتوں کی طرف بھی جو کہ آپ سے پہلے گزر چکی ہیں پیغمبر بھیجے تھے، سو ہم نے ان کو تنگدستی اور بیماری سے پکڑا، تاکہ وہ اظہار عجز کرسکیں۔
👈 شرک سے بیزاری، اللہ کے سامنے تضرع، اور باطل معبودوں کی عاجزی کو بیان کرنا۔
👈 سچی توبہ، گناہوں سے فوری گریز اور استغفار۔
خاتمہ: تدبر اور عمل کی دعوت
اے مبارک مسلمان!
نیپال میں ریزہ ریزہ ہو جانے والے سرکش پہاڑ، اور معبدوں اور محلوں کو غرق کر دینے والا بپھرا ہوا پانی، تمہیں چیخ چیخ کر پکار رہا ہے: اللہ کے سوا بھاگ کر جانے کی جگہ کہاں ہے؟
قدرتی آفتوں کو صرف "جغرافیائی واقعات" یا مجرد "موسمی تبدیلیوں" کی نظر سے نہ دیکھو؛ بلکہ یہ ربانی پیغامات ہیں جو تمہیں تمہاری کمزوری یاد دلاتے ہیں، اور تمہیں اپنے مولا کے لیے خالص توحید اختیار کرنے اور توبہ و استغفار کے ساتھ اس کی طرف بھاگنے کی دعوت دیتے ہیں۔
اپنے دل کو اللہ کی محتاجی سے آباد کرو، اپنے گھر اور فکر کو اس کے سوا کسی اور سے وابستہ ہونے سے پاک کرو، اور اس نصیحت کو اپنے گھر والوں اور بھائیوں کے ساتھ شیئر کرو؛ کیونکہ قوموں کی آفتوں سے دی گئی نصیحت بسا اوقات کسی غافل دل کو بیدار کر دیتی ہے اور اللہ کے سیدھے راستے پر قدموں کو ثابت قدم کر دیتی ہے۔
وصلى اللهم وسلم وبارك على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين.

04/09/2026

🍃 *بسم الله الرحمن الرحيم*
📚 *ہر دن ایک حدیث کے ساتھ*
٢٢ ربیع الاول ١٤٤٨ هـ خليجى ممالك
٢١ ربيع الاول ايشيائى ممالك
4 ستمبر 2026 جمعہ

*متفرق اذکار کے فضائل*
*Virtues of Various Forms of Dhikr*

*حاکم کے حملے کے خوف کے وقت کی دعا*
*Supplication to Recite When Fearing an Attack from a Ruler*

🍃 عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِذَا أَتَيْتَ سُلْطَانًا مُهَيْبًا، تَخَافُ أَنْ يَسْطُوَ بِكَ، فَقُلْ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَعَزُّ مِنْ خَلْقِهِ جَمِيعًا، اللَّهُ أَعَزُّ مِمَّا أَخَافُ وَأَحْذَرُ، أَعُوذُ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ، الْمُمْسِكِ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ أَنْ يَقَعْنَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ، مِنْ شَرِّ عَبْدِكَ فُلَانٍ، وَجُنُودِهِ وَأَتْبَاعِهِ وَأَشْيَاعِهِ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ. اللَّهُمَّ كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّهِمْ، جَلَّ ثَنَاؤُكَ، وَعَزَّ جَارُكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَلَا إِلٰهَ غَيْرُكَ. ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. [صحیح الأدب المفرد:549]

🍃 ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب تم کسی ایسے باہیبت بادشاہ کے پاس جاؤ جس سے تمہیں خوف ہو کہ وہ تم پر حملہ کرے گا، تو یہ دعا تین مرتبہ پڑھو:
• *اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَعَزُّ مِنْ خَلْقِهِ جَمِيعًا، اللَّهُ أَعَزُّ مِمَّا أَخَافُ وَأَحْذَرُ، أَعُوذُ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ، الْمُمْسِكِ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ أَنْ يَقَعْنَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ، مِنْ شَرِّ عَبْدِكَ فُلَانٍ، وَجُنُودِهِ وَأَتْبَاعِهِ وَأَشْيَاعِهِ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ. اللَّهُمَّ كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّهِمْ، جَلَّ ثَنَاؤُكَ، وَعَزَّ جَارُكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَلَا إِلٰهَ غَيْرُكَ*
اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ اپنی تمام مخلوق سے زیادہ طاقتور اور غالب ہے۔ اللہ اس چیز سے بھی زیادہ طاقتور ہے جس سے میں ڈرتا اور خوف کھاتا ہوں۔ میں اس اللہ کی پناہ چاہتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں، جو ساتوں آسمانوں کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ زمین پر نہ گر پڑیں مگر اس کی اجازت سے۔ میں تیرے فلاں بندے کے شر سے، اس کی فوجوں، اس کے پیروکاروں اور جنوں اور انسانوں میں سے اس کے ساتھیوں کے شر سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔ اے اللہ! تو ان کے شر کے مقابلے میں میرا محافظ اور پناہ دینے والا بن جا۔ تیری تعریف بہت بلند ہے، تیری پناہ بہت مضبوط ہے، تیرا نام بابرکت ہے، اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں.

🍃 Ibn ‘Abbas (رضی اللہ عنہما) said: When you go before a powerful and awe-inspiring king, and you fear that he may attack you, then recite the following supplication three times:

اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَعَزُّ مِنْ خَلْقِهِ جَمِيعًا، اللَّهُ أَعَزُّ مِمَّا أَخَافُ وَأَحْذَرُ، أَعُوذُ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ، الْمُمْسِكِ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ أَنْ يَقَعْنَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ، مِنْ شَرِّ عَبْدِكَ فُلَانٍ، وَجُنُودِهِ وَأَتْبَاعِهِ وَأَشْيَاعِهِ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ. اللَّهُمَّ كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّهِمْ، جَلَّ ثَنَاؤُكَ، وَعَزَّ جَارُكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَلَا إِلٰهَ غَيْرُكَ
*Allahu Akbar, Allahu a‘azzu min khalqihi jami‘an, Allahu a‘azzu mimma akhafu wa ahdhar. A‘udhu billahil-ladhi la ilaha illa Huwa, al-mumsikis-samawatis-sab‘i an yaqa‘na ‘alal-ardi illa bi-idhnih, min sharri ‘abdika fulanin, wa junudihi wa atba‘ihi wa ashya‘ihi minal-jinni wal-ins. Allahumma kun li jaran min sharrihim, jalla thana’uka, wa ‘azza jaruka, wa tabarakasmuka, wa la ilaha ghayruk*
*Allah is the Greatest. Allah is mightier and more powerful than all of His creation. Allah is mightier than that which I fear and beware of. I seek refuge in Allah, besides Whom there is no deity worthy of worship, Who holds the seven heavens from falling upon the earth except by His permission, from the evil of Your servant so-and-so, his armies, his followers, and his allies among the jinn and mankind. O Allah, be my Protector and Grant me Your protection from their evil. Exalted is Your praise, mighty is Your protection, blessed is Your Name, and there is no deity worthy of worship besides You.*

Address

Unaizah

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Unaiza Islamic Center ( Urdu ) posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The University

Send a message to Unaiza Islamic Center ( Urdu ):

Shortcuts

Share