Being Ismaili Muslim

Being Ismaili Muslim Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Being Ismaili Muslim, 2323 Allen Pkwy, Houston, TX.

الحمدُ لله، أنا شيعي إمامي نزّاري إسماعيلي.

أؤمن بالله الواحد، وأشهد أن سيدنا محمداً ﷺ خاتم الأنبياء، وأؤمن بالقرآن الكريم، وأنا عاشقٌ لأهل البيت عليهم السلام.

وعقيدتي أن وجود الإمام ضروريٌ إلى يوم القيامة، وأنه يكون من أهل البيت.

وسيّدنا مولانا شاه

05/31/2026

امام
یا مولا ﷻعلیﷻ
مددمن كنت مولاه فهذا عليٌ مولاه

Get Ready Germany 🥰🥰 The Divine Favor ✨️ 🙌 coming soon ✨️ 🙌 Moulla Shah Rahim Al Hussaini, the Ismaili Imam, will visit ...
05/30/2026

Get Ready Germany 🥰🥰 The Divine Favor ✨️ 🙌 coming soon ✨️ 🙌
Moulla Shah Rahim Al Hussaini, the Ismaili Imam, will visit Germany in July 2026.
He’ll meet German officials + hold a didar - a blessed audience - for Ismaili Muslims in Germany.

میدان عرفات میں حضرت محمدﷺ کا خطبگرم ریت تھی…خاموش پہاڑ تھے…اور میدانِ عرفات انسانوں کے سمندر سے بھرا ہوا تھا…ہر طرف ایک...
05/30/2026

میدان عرفات میں حضرت محمدﷺ کا خطب
گرم ریت تھی…
خاموش پہاڑ تھے…
اور میدانِ عرفات انسانوں کے سمندر سے بھرا ہوا تھا…
ہر طرف ایک عجیب سکوت تھا…
دل بے چین تھے…
آنکھیں اپنے نبی ﷺ کو دیکھ رہی تھیں…
اور پھر…
حضرت محمد ﷺ کھڑے ہوئے…
وہ لمحہ عام نہیں تھا…
یہ انسانیت کے لیے آخری نصیحتوں کا لمحہ تھا…
رحمتِ عالم ﷺ اپنی امت کو آخری بار زندگی کا راستہ سمجھا رہے تھے…
آپ ﷺ نے فرمایا…
“لوگو! میری بات غور سے سنو…”
مجمع ساکت ہو گیا…
ہوا بھی جیسے رک گئی…
“ممکن ہے…
اس سال کے بعد…
میں تمہارے درمیان موجود نہ رہوں…”
یہ الفاظ سن کر دل کانپ اٹھے…
چہرے اتر گئے…
آنکھیں نم ہو گئیں…
پھر آپ ﷺ نے انسان کی عزت کا اعلان کیا…
“جس طرح یہ دن مقدس ہے…
یہ مہینہ مقدس ہے…
یہ شہر مقدس ہے…
اسی طرح ایک مسلمان کی جان… مال… اور عزت بھی مقدس ہے…”
یعنی…
کسی کا دل مت توڑو…
کسی کا حق مت چھینو…
کسی پر ظلم مت کرو…
پھر آپ ﷺ نے فرمایا…
“لوگوں کی امانتیں واپس کرو…”
خیانت سے بچو…
دھوکہ مت دو…
کسی کا مال ناجائز طریقے سے مت کھاؤ…
پھر ایک سخت تنبیہ فرمائی…
“کسی پر ظلم نہ کرو…
کسی کو تکلیف نہ دو…”
کیونکہ ظلم…
انسان کو دنیا میں بھی برباد کرتا ہے…
اور آخرت میں بھی۔
پھر آپ ﷺ نے لوگوں کو آخرت یاد دلائی…
“تمہیں اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے…”
یہ سن کر کئی دل لرز گئے…
کیونکہ اس دن نہ طاقت کام آئے گی…
نہ دولت…
نہ عہدہ…
صرف اعمال ساتھ ہوں گے…
پھر آپ ﷺ نے سود کے خلاف اعلان فرمایا…
“آج سے ہر قسم کا سود ختم…”
وہ سود…
جس نے غریبوں کو کچلا…
کمزوروں کو توڑا…
معاشروں کو تباہ کیا…
اسلام نے اسے جڑ سے ختم کر دیا۔
پھر آپ ﷺ عورتوں کی طرف متوجہ ہوئے…
“عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو…”
کتنی عظیم بات تھی…
ایک ایسا معاشرہ…
جہاں عورتوں کو حقیر سمجھا جاتا تھا…
وہاں نبیِ رحمت ﷺ نے عورت کو عزت دی…
فرمایا…
“تمہارے ان پر حقوق ہیں…
اور ان کے تم پر حقوق ہیں…”
یعنی…
عورت صرف ذمہ داری نہیں…
زندگی کی ساتھی ہے…
اس کے ساتھ نرمی کرو…
اس کی عزت کرو…
اس کا دل مت دکھاؤ…
پھر آپ ﷺ نے پاکیزگی کی تعلیم دی…
“زنا کے قریب بھی مت جانا…”
یعنی…
وہ راستے بھی چھوڑ دو…
جو انسان کو گناہ تک لے جاتے ہیں۔
پھر آپ ﷺ نے بندگی کا راستہ واضح کیا…
“صرف اللہ کی عبادت کرو…”
نماز قائم کرو…
روزے رکھو…
زکوٰۃ ادا کرو…
اور اگر استطاعت ہو تو حج کرو…
پھر اچانک…
وہ اعلان ہوا…
جس نے قیامت تک کے لیے نسل پرستی کو دفن کر دیا…
“کسی عربی کو عجمی پر فضیلت نہیں…”
“کسی گورے کو کالے پر فضیلت نہیں…”
“فضیلت صرف تقویٰ میں ہے…”
یعنی…
اللہ کے نزدیک بڑا وہ نہیں…
جس کا رنگ خوبصورت ہو…
جس کی زبان بڑی ہو…
جس کی قوم طاقتور ہو…
بلکہ بڑا وہ ہے…
جس کا دل پاک ہو…
پھر آپ ﷺ نے فرمایا…
“میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا…”
دین مکمل ہو چکا تھا…
ہدایت کا راستہ واضح ہو چکا تھا…
پھر امت کو دو عظیم خزانے دیے گئے…
“میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں…”
“قرآن…”
اور…
“میری سنت…”
اگر انہیں مضبوطی سے تھام لوگے…
تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے…
پھر آپ ﷺ نے فرمایا…
“جو لوگ یہاں موجود ہیں…
وہ یہ پیغام دوسروں تک پہنچائیں…”
کیونکہ یہ پیغام صرف عرب کے لیے نہیں تھا…
یہ پوری انسانیت کے لیے تھا…
پھر وہ لمحہ آیا…
جسے سوچ کر آج بھی آنکھیں بھر آتی ہیں…
آپ ﷺ نے آسمان کی طرف چہرہ اٹھایا…
اور فرمایا…
“اے اللہ…
گواہ رہنا…”
“میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا…”
فضا “اللّٰہم نعم” کی آوازوں سے گونج اٹھی…
صحابہؓ رو رہے تھے…
دل ٹوٹ رہے تھے…
کیونکہ انہیں محسوس ہو چکا تھا…
کہ ان کے محبوب ﷺ رخصتی کے قریب ہیں…
مگر آج…
صدیاں گزرنے کے بعد بھی…
وہ الفاظ زندہ ہیں…
آج بھی وہ خطبہ انسان کو انسانیت سکھاتا ہے…
عدل سکھاتا ہے…
رحمت سکھاتا ہے…
اخلاق سکھاتا ہے…
اور یاد دلاتا ہے…
کہ کامیاب وہی ہے…
جو قرآن اور سنت کو مضبوطی سے تھام لے

05/30/2026

ر دور میں اللّہ کے ولی ہوئے ہیں اور اِن شاءاللّہ قیامت تک یہ سِلسِلہ جاری رہے گا۔اولیاء کرام رحمتہ اللّہ علیہم کے مُختلف مراتب و طبقات ہیں۔ان میں سے بعض مراتب و اَقسام کو یہاں اِختصار کے ساتھ بیان کِیا جاتا ہے۔

۱۔ اقطاب:

یہ قُطب کی جمع ہے اور قُطب اللّہ سبحان و تعالیٰ کے ایسے عظیم الشان ولی کو کہتے ہیں جو ایک زمانہ اور ایک وقت میں ایک ہی ہوتا ہے۔اسے غوث بھی کہتے ہیں۔قُطب اللّہ تعالیٰ کا نہایت مُقرّب اور اپنے زمانے کے تمام اولیاء کرام رحمہم اللّہ کا آقا ہوتا ہے۔ان میں سے بعض کو باطنی خلافت کے ساتھ حُکمِ ظاہر اور ظاہری خلافت بھی مِلتی ہے۔جیسے چاروں خلفائے راشدین،سیّدُنا امام حَسن،سیّدُنا امیر معاویہ،سیّدُنا عمر بِن عبدالعزیز رضوان اللّہ عنہُم اجمعین،اور بعض کو صرف باطنی خلافت مِلتی ہے۔جیسے سیّدُنا ابویزید بسطامی رحمتہ اللّہ وغیرہ۔قُطب کا صِفاتی نام عبداللّہ ہے۔

۲۔ اَئِمّہ:

ہر دور میں صرف دو ہوتے ہیں۔ایک کا صِفاتی نام عبدالرب اور دوسرے کا صِفاتی نام عبدالملک ہوتا ہے۔یہ دونوں قُطب کے وزیر ہوتے ہیں اور یہی اس کے اِنتقال کے بعد اس کے خلیفہ ہوتے ہیں۔ایک عالمِ مَلکوت ( فرشتوں کی دنیا ) اور دوسرا عالمِ مُلک تک محدود رہتا ہے۔

۳۔ اوتاد:

یہ ہر دور میں صرف چار حضرات ہی ہوتے ہیں۔اللّہ تعالیٰ ان چاروں کے ذریعے چاروں جِہات یعنی مشرق،مغرب،شِمال اور جنُوب حِفاظت فرماتا ہے۔ان میں ہر ایک کی ولایت ایک جِہت میں ہوتی ہے۔ان کے صِفاتی نام یہ ہیں:
'' عبدالحئى،عبدالعلیم،عبدالقادر اور عبدالمرید۔ ''

٤۔ ابدال:

یہ ہر دور میں سات ہوتے ہیں۔ان کے ذریعے اللّہ تعالیٰ سات زمینوں کی حِفاظت فرماتا ہے۔ان میں سے ہر ایک کے لیے ایک زمین ہوتی ہے جہاں اس کی ولایت ہوتی ہے۔یہ ساتوں بالترتیب ان سات انبیاء کرام علیہم السّلام کے قدم پر ہوتے ہیں:
'' حضرت اِبراہیم خلیل اللّہ،حضرت موسیٰ کلیم اللّہ،حضرت ہارون،حضرت ادریس،حضرت یوسف،حضرت عیسیٰ رُوح اللّہ اور حضرت آدم صفی اللّہ علیہم السّلام۔ ''
حضرت معاذ بِن اشرص رحمتہ اللّہ علیہ اسی قِسم کے اولیاء سے تھے۔ان سے عرض کی گئی:
'' یہ مرتبہ کس عمل کے ذریعے مِلتا ہے؟ ''
آپ رحمتہ اللّہ علیہ نے فرمایا:
'' چار باتوں کے ذریعے! بُھوک،بیداری،خاموشی اور تنہائی۔ ''

۵۔ نُقباء:

یہ ہر دور میں صرف بارہ ہوتے ہیں۔ان میں سے ہر نقیب آسمان کے بارہ بُرجوں میں سے ایک ایک بُرج کی خاصیتوں کا عالم ہوتا ہے۔اللّہ تعالیٰ ان نُقباء کو آسمانی اَحکام کے علوم سے نوازتا ہے۔نفس میں چُھپی اشیاء اور آفات کا عِلم رکھتے ہیں اور اس کے مکر و فریب کو نِکالنے پر قادر ہوتے ہیں۔شیطان ان سے چُھپ نہیں سکتا۔یہ اس کے ان پوشیدہ معاملات کو بھی جانتے ہیں جن کو شیطان خود نہیں جانتا۔ان کو اللّہ تعالیٰ نے یہ شان عطا فرمائی ہے کہ:
'' کسی شخص کے زمین پر لگے پاؤں کے نقش ہی کو دیکھ کر انہیں اس کے شقی ( یعنی بدبخت ) اور سعید ( یعنی خوش بخت ) ہونے کا عِلم ہو جاتا ہے۔ ''

٦۔ نُجباء:

ہر دور میں آٹھ سے کم یا زیادہ نہیں ہوتے۔ان حضرات کے احوال سے ہی قبولیت کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔حال ( یعنی کیفیت ) کا ان پر غلبہ ہوتا ہے جس کو صرف وہ الیاء عُظام پہچان سکتے ہیں جو مرتبہ میں ان سے اوپر ہوتے ہیں۔

۷۔ رَجبِی:

یہ ہر دور میں چالیس ہوتے ہیں۔یہ ایسے بندّے ہیں جن کا حال اللّہ تعالیٰ کی عظمت کے ساتھ قائم ہے۔حقیقت میں یہ ( اولیاء کی ایک قِسم ) '' اَفراد '' میں سے ہوتے ہیں۔انہیں رَجبِی اِس لیے کہا جاتا ہے کہ:
'' اس مقام کا حال صرف ماہِ رجب کی پہلی تاریخ سے آخری تک طاری ہوتا ہے۔البتہ! بعضوں پر اس کیفیت کا کچھ اثر پورے سال رہتا ہے۔یہ مُختلف شہروں میں پھیلے ہوئے ہوتے ہیں۔ ''

۸۔ قلبِ آدم علیہ السّلام کے مُطابق:

یہ ہر زمانے میں تین سو ہوتے ہیں۔ان کے بارے میں خود حضور نبی اکرم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا:
'' یہ قلبِ آدم علیہ السّلام پر ہیں۔ ''
اِس فرمانِ عالی کا معنی یہ ہے کہ معارف اِلٰہِیّہ میں غور و فِکر کرنے میں ان کے دِل اُن کے دِل کی طرح ہیں۔چونکہ علومِ اِلٰہِیّہ دِل پر وارد ہوتے ہیں تو جس طرح یہ علوم و معارف اَکابر کے دِلوں پر نازل ہوتے ہیں اسی طرح ان حضرات کے دِلوں پر وارد ہوتے ہیں۔ان میں سے ہر ایک کو تین سو اِخلاقِ خداوندی عطا ہوتے ہیں۔اگر کسی بندّے کو ان میں سے صرف خُلق مِل جائے تو وہ سعادت یافتہ ہو جاتا ہے۔

۹۔ قلبِ نوح علیہ السّلام کے مُطابق:

یہ ہر دور میں چالیس ہوتے ہیں۔ان کے بارے میں بھی فرمانِ مُصطفیٰ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم ہے کہ:
'' میری اُمّت میں ہمیشہ چالیس آدمی قلبِ نوح علیہ السّلام پر ہوں گے۔ ''
ان کا مقام غیرتِ دینِیّہ کا مقام ہے جس تک پہنچنا بہت دُشوار و کٹھن ہے۔ان چالیس میں جو کمالات جُدا جُدا پائے جاتے ہیں وہ تمام حضرت نُوح علیہ السلام کی ذاتِ مُقدّسہ میں ایک ساتھ موجود ہیں۔

دل کی آنکھ کے سفر کا تیسرا حصہ سب سے زیادہ خاموش مگر سب سے زیادہ طاقتور مرحلہ ہوتا ہے یہاں انسان صرف روشنی کو محسوس نہیں...
05/29/2026

دل کی آنکھ کے سفر کا تیسرا حصہ سب سے زیادہ خاموش مگر سب سے زیادہ طاقتور مرحلہ ہوتا ہے یہاں انسان صرف روشنی کو محسوس نہیں کرتا بلکہ اس روشنی کے ساتھ جینا سیکھنے لگتا ہے یہ وہ مقام ہے جہاں باطن کی بیداری انسان کے خیالات احساسات فیصلوں اور تعلقات سب پر اثر ڈالنا شروع کر دیتی ہے
اس مرحلے میں سب سے پہلی بڑی تبدیلی یہ آتی ہے کہ انسان ردعمل دینے سے پہلے رکنا سیکھ جاتا ہے پہلے جو بات فوراً غصہ پیدا کر دیتی تھی اب وہ دل کے اندر سے گزر کر سمجھی جاتی ہے پہلے جو لفظ فوراً جواب مانگتے تھے اب ان کے پیچھے چھپی کیفیت بھی محسوس ہونے لگتی ہے یہ خاموش توقف دراصل دل کی پختگی کی علامت ہوتا ہے
آہستہ آہستہ انسان کو معلوم ہونے لگتا ہے کہ ہر دکھ صرف تکلیف نہیں لاتا بعض دکھ دروازے بھی کھولتے ہیں کچھ جدائیاں دل کو توڑنے کے لیے نہیں بلکہ اس کے اندر نئی وسعت پیدا کرنے کے لیے آتی ہیں کچھ محرومیاں انسان کو خالی نہیں کرتیں بلکہ اس کے اندر اصل ضرورت کو واضح کرتی ہیں یہ سمجھ پیدا ہو جانا دل کی آنکھ کی گہری بیداری ہے
اس درجے پر انسان اپنے خوف کو بھی نئے انداز سے دیکھنے لگتا ہے وہ جان لیتا ہے کہ بہت سے خوف حقیقت سے زیادہ خیال کی طاقت سے بنتے ہیں جب دل کے اندر یقین بڑھتا ہے تو وہی حالات جو پہلے پہاڑ لگتے تھے اب راستے کا حصہ محسوس ہونے لگتے ہیں مشکل ختم نہ بھی ہو تو اس کا بوجھ بدل جاتا ہے
دل کی آنکھ کے اس مرحلے میں ایک اور پراسرار تبدیلی یہ آتی ہے کہ انسان کو بعض ملاقاتیں عام نہیں لگتیں کچھ لوگ زندگی میں ایسے داخل ہوتے ہیں جیسے وہ صرف بات کرنے نہیں بلکہ کچھ جگانے آئے ہوں ان کی ایک نصیحت ایک جملہ یا صرف ایک رویہ دل کے اندر دیر تک رہتا ہے جیسے وقت نے ان کو کسی خاص لمحے کے لیے بھیجا ہو
پھر ایک وقت آتا ہے جب انسان اپنی خامیوں سے لڑنے کے بجائے انہیں سمجھنا شروع کرتا ہے وہ دیکھتا ہے کہ اس کے اندر حسد کیوں پیدا ہوتا ہے غصہ کس کمی سے جنم لیتا ہے بے صبری کس خوف سے نکلتی ہے جب انسان اپنی کمزوریوں کی جڑ تک پہنچنے لگتا ہے تو تبدیلی زیادہ سچی ہو جاتی ہے کیونکہ اب وہ صرف رویہ نہیں بدل رہا بلکہ اندر کے سبب کو پہچان رہا ہے
اس مرحلے میں عبادت کی مٹھاس بھی اور بڑھ جاتی ہے کچھ لمحے ایسے آتے ہیں جب دعا کرتے ہوئے الفاظ کم پڑ جاتے ہیں مگر دل بھرا ہوا ہوتا ہے آنکھوں میں نمی آ جاتی ہے اور انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کے اندر جو کچھ ہے وہ سب جانا جا رہا ہے یہی وہ قرب ہے جسے زبان پوری طرح بیان نہیں کر سکتی
دل کی آنکھ کی گہرائی کا ایک نشان یہ بھی ہے کہ انسان دوسروں کے فیصلے کم کرنے لگتا ہے وہ جان لیتا ہے کہ ہر چہرہ اپنی مکمل کہانی ظاہر نہیں کرتا جو شخص ہنستا نظر آ رہا ہے ممکن ہے اندر سے ٹوٹا ہوا ہو اور جو خاموش ہے ممکن ہے اپنے اندر بہت بڑی جنگ لڑ رہا ہو یہ احساس انسان کے دل میں رحم پیدا کرتا ہے
پھر ایک نہایت باریک مقام آتا ہے جہاں انسان اپنی خوشیوں کو بھی نئے انداز سے محسوس کرتا ہے پہلے خوشی بڑی چیزوں سے وابستہ تھی اب ایک پرسکون صبح ایک سچی دعا ایک نرم لہجہ یا دل کا ہلکا ہو جانا بھی نعمت محسوس ہونے لگتا ہے گویا دل کو اصل دولت کا ذائقہ ملنے لگتا ہے
مگر اسی مرحلے میں آزمائش بھی بہت نازک ہوتی ہے کیونکہ جب انسان اندرونی سکون پانے لگتا ہے تو اسے یہ گمان ہو سکتا ہے کہ وہ منزل تک پہنچ گیا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ روحانی سفر میں ٹھہر جانا بھی ایک پردہ بن سکتا ہے اس لیے عاجزی یہاں بھی ضروری ہے بلکہ پہلے سے زیادہ ضروری ہے
آخر میں دل کی آنکھ کے اس تیسرے حصے کا حاصل یہ ہے کہ انسان زندگی کو دشمن نہیں سمجھتا بلکہ استاد سمجھنے لگتا ہے ہر واقعہ اسے کچھ سکھاتا ہے ہر انتظار اسے مضبوط کرتا ہے ہر آزمائش اسے صاف کرتی ہے اور ہر سچی دعا اس کے اندر ایک نیا چراغ جلا دیتی ہے
پھر آہستہ آہستہ وہ اس مقام کے قریب پہنچتا ہے جہاں اندھیرے ختم نہیں ہوتے مگر ان سے ڈر ختم ہو جاتا ہے کیونکہ اب اس کے اندر ایک ایسی روشنی جاگ چکی ہوتی ہے جو راستہ کم از کم اگلے قدم تک ضرور دکھا دیتی ہے۔۔۔۔
゚viralシ

موت کے بعد بھی درد ختم نہیں ہوتا یہ سوال ہمیشہ سے لوگوں کے دلوں میں گونجتا رہا ہے کیا قبر میں عذاب جسم کو ہوتا ہے یا روح...
05/29/2026

موت کے بعد بھی درد ختم نہیں ہوتا

یہ سوال ہمیشہ سے لوگوں کے دلوں میں گونجتا رہا ہے کیا قبر میں عذاب جسم کو ہوتا ہے یا روح کو؟ یہ صرف ایک سوال نہیں ... ایمان کو جھنجھوڑ دینے والا راز ہے۔

جب انسان مر جاتا ہے، تو دنیا والے کہتے ہیں وہ چلا گیا مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ کہیں گیا نہیں ۔ اس کی دنیا بدل گئی ہے۔

قبر میں زندگی ختم نہیں ہوتی بس ایک نیا مرحلہ شروع ہوتا ہے ۔ جسے عالم برزخ کہا جاتا ہے۔

قرآن و حدیث سے حقیقت کا رسول اکرم ﷺ نے فرمایا

" قبر یا تو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے

یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔ (ترمذی)

علماء فرماتے ہیں

عذاب روح پر ہوتا ہے، مگر چونکہ روح کا تعلق جسم سے باقی رہتا ہے

اس لیے جسم بھی اس درد کو محسوس کرتا ہے۔یعنی قبر میں انسان کا نہ جسم مکمل آزاد ہوتا ہے، نہ روح تنها عذاب پاتی ہے۔

دونوں کے درمیان ایک ایسا تعلق رہتا ہے جو دنیا کے علم سے ماورا ہے۔

جب فرشتے سوال کرتے ہیں

من ربك ؟ ما دينك ؟ من نبيك ؟

تو جواب جسم نہیں دیتا - روح دیتی ہے۔

مگر جب عذاب یا رحمت آتی ہے

تو اس کے اثرات قبر میں موجود جسم پر بھی ظاہر ہوتے ہیں۔

یہ عذاب کیوں ہوتا ہے ؟

کیونکہ دنیا میں ہم نے قرآن سنا، مگر عمل نہیں کیا۔

ہم نے نبی ﷺ کی سنت دیکھی، مگر بدلا نہیں۔

قبر ہمیں یاد نہیں رہی

اور اب قبر ہمیں یاد دلانے کے لیے جاگتی ہے۔سوچ کر دیکھو

آج ہم زمین پر آرام سے سوتے ہیں

کل یہی زمین ہمارا بستر ہوگی

فرق بس اتنا ہوگا

آج نرم بستر ہے، کل اعمال کا بستر ہوگا۔

دل کو جھنجھوڑ دینے والی حقیقت قبر کا عذاب روح کو ہوتا ہے

مگر درد جسم بھی محسوس کرتا ہے۔

اسی لیے نبی ﷺ نماز کے بعد دعا کرتے تھے

"اے اللہ ! مجھے قبر کے عذاب سے بچا لے۔"

اگر آج ہم اپنے گناہوں سے توبہ کر لیں

نماز، سچائی اور نرمی کو زندگی میں لے آئیں

تو قبر بھی جنت کا دروازہ بن سکتی ہے۔

ایک دن ہم سب اس سوال کا جواب خود دینے والے ہیں...

بہتر ہے، آج ہی تیاری کر لیں۔آپ کا ایک فالو اور ایک شئیر آپ کے لیے صدقہ جاریہ بن سکتا ہے شکریہ
ﷲپاک ہمارےدلوں کو ایمان کے نور سے منور فرمائیں اورقبرکی تیاری کرنے کی توفیق عطاکریں 🤲

*خاموشی کا بوجھ*اور گلیوں پر چھا گئی خاموشی ایک عجیب بوجھ بن گئی،  اور دیواروں سے ٹپکنے لگی...ایک کمرے کے اندر،  ایک آدم...
05/29/2026

*خاموشی کا بوجھ*

اور گلیوں پر چھا گئی خاموشی ایک عجیب بوجھ بن گئی،
اور دیواروں سے ٹپکنے لگی...

ایک کمرے کے اندر،
ایک آدمی اپنے نرم بستر پر لیٹا ہے...
باہر سے دیکھنے پر وہ بالکل سکون میں لگتا ہے۔
مگر اندر شور ہے...

خیالوں کا شور...
خودپسندی کا شور...
اور ایک عجیب سا احساس:
"میرے بغیر، سب کچھ ختم ہو جائے گا۔"

وہ سوچتا ہے:
اگر میں نہ کروں تو گھر تباہ ہو جائے گا۔
اگر میں نہ کروں تو کاروبار رک جائے گا...
اگر میں نہ کروں تو لوگ بکھر جائیں گے...
شاید دنیا ہی...

مگر وہ سچ بھول جاتا ہے۔
زمین پر لوگوں کی کمی نہیں۔
وہ لوگ جو کبھی خود کو لازمی سمجھتے تھے...

جو جدوجہد کے درمیان تھے...
جو لوگوں کے ذہن بدلنے کی کوش کر رہے تھے۔
جنہوں نے دروازے کھولے۔
اور وہ جو ڈرا کرتے تھے۔

آج ان کی قبروں میں صرف مٹی ہے...
کچھ گھاس اُگ آئی ہے...
ان کے نام دھندلے ہو گئے ہیں۔

اور دنیا؟
دنیا آج بھی ویسے ہی چل رہی ہے...

سورج اسی طرح نکلتا ہے...
رات اسی طرح آتی ہے...
بازار ویسا ہی لگتا ہے...
لوگ ہنستے ہیں، روتے ہیں، اور بھول جاتے ہیں۔

کچھ دن پہلے وہ کسی کی زندگی کا مرکز تھا...
آج اس کا کمرہ کوئی اور استعمال کر رہا ہے...
اس کے کپڑے کسی اور کو دے دیے گئے۔
اس کی کرسی کسی اور نے سنبھال لی۔
اور اس کا موبائل؟
وہ اب کسی اور کے ہاتھ میں ہے...

اور سب سے زیادہ دردناک بات یہ ہے کہ
وہ نمبر جن پر کبھی کالیں آتی تھیں...
کچھ مہینوں بعد وہ نمبر "غیر فعال" ہو جاتا ہے...
پھر صرف یادیں رہ جاتی ہیں...

انسان عجیب ہے...
وہ چند لمحوں کی طاقت کو ہمیشہ کی حقیقت سمجھ بیٹھتا ہے...
وہ اپنی سانس کی عارضی امانت کو بھول جاتا ہے...

حقیقت یہ ہے کہ
وہ صرف ایک کمزور چراغ ہے۔
جسے تھوڑی سی ہوا بھی بجھا سکتی ہے...

وہ بھول جاتا ہے کہ
وہ دن آئے گا جب اس کی آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائے گی۔
وہ آنکھیں جن سے وہ دنیا دیکھتا ہے،
پتھر بن جائیں گی...
اور جن کے درمیان آج وہ خود کو مرکز سمجھتا ہے...
انہیں ایک خاموش قبر میں اتار کر لوگ اپنی زندگی میں لوٹ جائیں گے۔

پھر وقت گزرتا رہے گا...
راتیں آتی جائیں گی، جاتی جائیں گی...
لوگ کھائیں گے...
لوگ ہنسیں گے...
بچے کھیلیں گے...
بازار قائم رہے گا...

اور دنیا...
دنیا ویسے ہی چلتی رہے گی۔
جیسے اس کے آنے سے پہلے چل رہی تھی...

یہ غرور کیسا؟
یہ تکبر کیسا؟
یہ "میں...میں" کا شور کیسا؟

اگر سب کچھ تمہارے بغیر چل سکتا ہے،
تو تمہاری حیثیت ہی کیا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ
انسان انہی میں سے ہے
جسے چند دن دیے گئے ہیں...

جب پردہ گر جائے گا...
نہ نام ساتھ جائے گا...
نہ حکومت...
نہ طاقت...
کچھ نہیں...

صرف اعمال رہ جائیں گے...

اس دن انسان پہلی بار حقیقت جانے گا۔
وہ دنیا میں کبھی اتنا بڑا نہیں تھا،
جتنا بڑا وہ خود کو سمجھتا تھا۔

آج کا سوالات  بہت ہی لطیف گہرے رازوں پر مشتمل اور ہر سالک ہر عاشق ہر اللہ والے دل کی آواز ہے۔سوال یہ ہے کہ: کبھی دل بہت ...
05/29/2026

آج کا سوالات بہت ہی لطیف گہرے رازوں پر مشتمل اور ہر سالک ہر عاشق ہر اللہ والے دل کی آواز ہے۔
سوال یہ ہے کہ:
کبھی دل بہت مضبوط ہوتا ہے کبھی کمزور… کبھی سکون ہوتا ہے کبھی بے سکونی… کبھی اللہ بہت قریب لگتا ہے کبھی بہت دور… کبھی دنیا اچھی لگتی ہے کبھی سب فضول… آخر ایسا کیوں ہوتا ہے۔۔۔؟؟

آئیے میں آپ کو سمجھاتا ہوں ، معرفت، تصوف، قرآن، حدیث اور عشقِ الٰہی کی روشنی میں۔🌺🌸😊🙏🏼

یہ سب "کیفیات" ہیں...

اللہ رب العزت جب اپنے کسی بندے کو اپنی طرف بلانا چاہتا ہے تو سب سے پہلے اس کے دل میں طلب پیدا کرتا ہے۔
یہ طلب کبھی "کیف" کی صورت میں آتی ہے کبھی
"بے کیف" ہو جاتی ہے۔
حالتِ بسط و قبض" یہی دو روحانی کیفیتیں ہیں جن سے ہر سالک گزرتا ہے۔اور لازمی گزرنا پڑتا ہے۔
بسط (وسعت) کیا ہے؟

جب دل خوش ہو، اللہ کی یاد میں آنکھیں نم ہوں، سکون ہو، مزا آ رہا ہو، عبادت میں لذت ہو، دل کرے کہ قرآن پڑھیں، تسبیح کریں، نفل پڑھیں، سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے صرف اللہ سے بات کریں۔کوئی کلام سن رہا ہو تو وجد طاری ہو جائے انکھیں نم ہو جائیں۔۔
یہ سب اللہ کی طرف سے عطا کردہ کیفیت ہوتی ہے۔ یہ اللہ کا انعام ہے تاکہ بندہ ذائقہ لے راستہ دیکھے، اور اس کی طرف لپکے۔
"اللہ جب کسی کو اپنی طرف بلانا چاہتا ہے تو پہلے اس کا دل میٹھا کرتا ہے۔"

قبض (تنگی) کیا ہے؟

لیکن پھر کبھی اچانک دل گھٹتا ہے، کچھ اچھا نہیں لگتا، ذکر کا دل نہیں کرتا، نماز بوجھ لگتی ہے اللہ بہت دور محسوس ہوتا ہے عجیب سا اندھیرا سا چھا جاتا ہے۔
یہ بھی اللہ کی طرف سے ایک آزمائش ہے، اور یہ اصل میں "مقامِ قرب" کی علامت ہوتی ہے!
حدیثِ قدسی:
بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ پھر میں اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے.. میں کان بن جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے۔ میں زبان بن جاتا ہوں جس سے وہ بولتا ہے۔میں ٹانگیں بن جاتا ہوں جن سے چلتا ہے۔
(صحیح بخاری)
لیکن یہ محبت بغیر آزمائش کے نہیں ملتی۔
اللہ کبھی قرب دے کر، کبھی دوری دکھا کر دیکھتا ہے کہ:
یہ بندہ میری کیفیت کا طالب ہے یا میرا؟
اگر میں کیفیت نہ دوں تب بھی یہ میری یاد میں بیٹھتا ہے یا نہیں؟"
💔 اصل قرب تب ہوتا ہے...
جب دل نہ چاہ رہا ہو
نہ رونا آ رہا ہو
نہ سکون ہے
پھر بھی انسان اٹھ کے وضو کرےسجدے میں جائےذکر کرے
تسبیح کرےتو یہ اللہ کی نظر میں سب سے محبوب عبادت ہوتی ہے۔
"جس دن دل نہیں چاہتا، پھر بھی بندہ اللہ کو یاد کرتا ہے… وہ دن سب سے قیمتی ہوتا ہے۔"🌺🌸🙏🏼
📖 قرآن کی دلیل:
ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے خوف سے بھوک سے، مال و جان اور پھلوں کی کمی سے، اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو۔"
(سورہ بقرہ: 155)
🔥 نفس کا جال:
کبھی جب انسان خود کو کامل سمجھنے لگے۔۔۔
دل کرتا ہے "میں پہنچ گیا ہوں"
تو اللہ وہ کیفیت چھین لیتا ہے تاکہ بندہ نفس کے جال میں نہ پھنسے۔
اصل اللہ والا وہ ہے جو کیفیت ہو یا نہ ہو، صرف اللہ چاہے۔
مثال سے سمجھو:
ایک ماں اپنے بچے کو کبھی گود میں لیتی ہے کبھی زمین پر بٹھا دیتی ہے۔جب بچہ گود میں ہو مزے میں ہوتا ہے
جب نیچے ہو وہ روتا ہے پھر دوڑ کے ماں سے لپٹ جاتا ہے۔
یہی حال اللہ اور بندے کا ہے۔
اللہ کبھی قرب دیتا ہے کبھی دوری… تاکہ بندہ بھاگ کے اسی کے پاس آئے۔
میرے بھائیو!
اللہ کا راستہ کیفیتوں سے خالی نہیں لیکن منزل کیفیت نہیں اللہ کی رضا ہے۔اس لیے جب دل خوش ہو اللہ کا شکر ادا کرو
اور جب دل تنگ ہو تب صبر سے آنکھیں نم کر کے اللہ کی طرف رخ کرو۔
💖 کیونکہ اصل عشق وہی ہے جو بےلذت، بےکیف، بےسکون، تب بھی "اللہ ہی اللہ" کہتا ہے۔

🤲 آخر میں بس اتنا کہنا ہے...
🕊️ اللہ کیفیت دے یا نہ دے…
سکون دے یا بےچینی…
ہمیں نہ کیفیت چاہیے، نہ لذت…
ہمیں صرف اللہ چاہیے…!
اللہ ہم سب کو اپنے ساتھ ایسا تعلق نصیب فرمائے جو حالتِ بسط ہو یا قبض کیفیت ہو یا بےکیفی ہم صرف اسی کے ہو جائیں…
آمین یا رب العالمین!😊♥️

بالطبع 🌸  هذا النص مُترجم إلى العربية مع الحفاظ على روحه وأسلوبه:---*إنّ العدوّ الأكبر للإنسان ليس في الخارج، بل في داخل...
05/29/2026

بالطبع 🌸
هذا النص مُترجم إلى العربية مع الحفاظ على روحه وأسلوبه:

---

*إنّ العدوّ الأكبر للإنسان ليس في الخارج، بل في داخله.*
ذلك العدو الذي نحمله معنا كل يوم،
اسمه: *النّفس*.

النّفس هي التي:
تُجمّل المعصية
وتجعل الش**ة حاجة
وتُصوّر الغرور حقًّا

قال الله تعالى:
*"إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ"*
[سورة يوسف: 53]

🔥 *لماذا يبدو كبح النفس صعبًا جدًا؟*
لأننا:
نُطعم النفس
ونترك الروح جائعة
نُلبّي كل ش**ة للجسد
ولا نُصغي لصرخة واحدة من القلب.

النفس تقول:
«استمتع الآن، وتب لاحقًا»
والروح تقول:
«توقّف الآن، فقد لا يأتي الغد»

🌱 *أسهل قاعدة لكبح النفس*
*«لا تُلبِّ كل رغبة»*
جملة واحدة فقط…
إذا دخلت حياتك، تغيّرتَ بالكامل.

ليس كل حلالٍ في كل وقت،
ولا كل رغبةٍ ضرورية.

وبداية كبح النفس تكون بتضحية صغيرة:
إذا جاءك الغضب فاصمت
إذا هاجت الش**ة فاغض بصرك
إذا أُثني عليك فتواضع
إذا ملكت القوة فاعفُ

🕊️ *وصية لقمان الحكيم التي تُحرّك القلب*
ذكر الله تعالى لقمان الحكيم في القرآن،
لا لأنه كان نبيًّا،
بل لأنه كان حكيمًا.

🌙 قال لقمان:
*_«يا بُنيّ، إنّ الدنيا بحرٌ عميق، قد غرق فيه خلقٌ كثير،
فإن كنتَ لا بُدّ راكبه، فاجعل تقوى الله سفينتك»__

هذه الوصية سمٌّ للنفس، وشفاءٌ للروح.

🧠 *قاعدة ذهبية من لقمان الحكيم عن النفس*
*«من عرف نفسه، عرف ربّه»*

ومعرفة النفس تعني:
أن تعترف بضعفك
وتُقرّ بخطئك
وتكسر أنانيتك

🌸 *5 طرق روحانية لكبح النفس – سهلة لكنها قوية*
1️⃣ *تعلّم الصمت*
ليس من العقل أن تردّ على كل كلمة
فأحيانًا يكون الصمت أعظم انتصار

2️⃣ *اذكر الله حتى في خلوتك*
الظهور بمظهر الصالح أمام الناس سهل
لكن الامتحان الحقي في الخلوة

3️⃣ *اقرأ من القرآن كل يوم قليلًا*
ليس كثيرًا…
فقط ما يُحي قلبك

4️⃣ *اكسر عناد النفس*
حتى وإن اشتهى قلبك، افعل أحيانًا:
كُل أقل
تكلّم أقل
نَم أقل

5️⃣ *اذكر الموت*
من ذكر الموت كل يوم
لم يجرؤ على المعصية

💔 *أشدّ وصايا لقمان الحكيم إيلامًا*
__«يا بُنيّ، لا تستصغر الذنب
لا تنظر إلى صغر الذنب
وانظر إلى عظمة من تعصيه»__

هذه الجملة تكسر عنق النفس.

🌺 *النهاية – هل تكون عبدًا لنفسك أم عبدًا لله؟*
السؤال في النهاية ليس:
ماذا سيقول الناس؟
بل السؤال الحقي هو:
ماذا يرى الله؟

من كبح نفسه
لا يصير ملَكًا
لكنه يصير عبدًا محبوبًا عند الله.

قال الله تعالى:
*"وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى ۝ فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَى"*
[سورة النازعات: 40-41]

__اللهم لا تجعل أنفسنا عدوًّا علينا،
واجعلها طائعةً لك،
وهب لنا قلبًا يخشاك_* 🤍

حين يغفو العالم ليلاً ويبقى الإنسان وحده، ينهض في داخله سؤالٌ بطيء:  من أنا؟هل الإنسان مجرد اسم للحم والعظم والنفس؟  هل ...
05/29/2026

حين يغفو العالم ليلاً ويبقى الإنسان وحده، ينهض في داخله سؤالٌ بطيء:
من أنا؟

هل الإنسان مجرد اسم للحم والعظم والنفس؟
هل هذا الوجه حقي؟
أم أن هناك أحداً آخر يسكن هذا الجسد؟

من يتكلم في الصمت؟
من يستيقظ بعد أن تُغلق عينيك؟
من يستمتع بكل ما في الدنيا؟

ذلك هو السر.
اسمه "الروح".

الإنسان ليس جسداً فقط.
هذا الجسد…
الذي هو فتيّ اليوم،
سيكون غداً في التراب.

وهاتان العينان…
اللتان تبصران الدنيا اليوم،
ستُغلقان يوماً ما.

وهذا اللسان…
الذي يتكلم الآن،
سيصمت.

لكن الإنسان لن ينتهي.
لأن "الروح" الحقيقية للإنسان لا تفنى.
الجسد مجرد ثوب،
والإنسان الحقي هو المختبئ داخل هذا الثوب.

القرآن لم يذكر أن الإنسان مجرد تراب.
بل إن الله نفخ فيه من روحه.
فإذا دخلت الروح في الجسد،
بدأ التراب يتكلم،
ويبصر،
ويحب،
ويشتاق،
ويطلب ربه.

🌙 *ماذا تريد الروح؟*
الروح لا تريد الدنيا.
الروح لا تهدأ
لا بالمال،
ولا بالشهرة،
ولا بمدح الناس.

الروح لا تريد إلا ربها.
ولهذا لا يجد الإنسان سعادةً كاملة أبداً.
في داخله فراغ،
قلق،
وحزن،
لا يملأه إلا القرب من الله.

يحاول بعض الناس ملأه بالدنيا،
لكن الروح لا تمتلئ بالدنيا.
الروح لا تحيا إلا بالذكر.
"يا رب، قد سمعتُك."
"ألا بذكر الله تطمئن القلوب."

🌌 *أربعة عوالم داخل الإنسان:*
جعل الله في الإنسان أربعة أشياء:

1. *الجسد*: جزء من الدنيا. يحب الطعام، والنوم، والراحة، والشهوات.
2. *النفس*: تقود الإنسان إلى المعصية. تريد أن يُطيعها في هواها فقط.
تقول النفس: اغضب، وانتقم، واقضِ شهوتك، واجمع الدنيا.
3. *القلب*: هو باب الله.
إذا كان القلب نقياً، رأى الإنسان الله في كل شيء.
وإذا أظلم القلب، وقع الإنسان في الذنب.
4. *الروح*: أطهر ما في الإنسان.
ضيف من السماء، سُجن في الدنيا، ويشتاق للرجوع إلى موطنه الأصلي.

✨ *الحرب الحقيقية للإنسان:*
أكبر حرب في الدنيا ليست مع الناس…
بل مع النفس.

في جهةٍ الروح… تنادي إلى الله.
وفي الجهة الأخرى النفس… تجذب إلى الدنيا.
هذه هي "الحرب الأكبر".

حين يعصي الإنسان… تضعف الروح.
وحين يصلي، ويذكر، ويتوب، وتبكي عيناه… تقوى الروح.

🌙 *لماذا بعض الناس حزينون دائماً؟*
لأن روحهم جائعة.
كما أن للجسد جوعاً للخبز…
فإن للروح جوعاً:
بالذكر،
بالقرآن،
بالسجود،
بالتهجد،
وبحب الله.

اليوم يملك الإنسان كل شيء…
لكن ليس عنده سكينة.
لأنه اعتنى بالجسد…
ونسي الروح.

🌌 *لماذا جاء الإنسان إلى الدنيا؟*
هذه الدنيا ليست مكاناً للخلود.
إنها سفر…
وامتحان…
وطريق…
والإنسان سالكٌ فيه.

بعضهم دخل الدنيا فصار للدنيا…
وبعضهم في الدنيا كان لله.
يعرفهم الله،
قلوبهم لينة،
وعيونهم سريعة الدمع،
يذكرون الله وحده.
الدنيا في أيديهم، لا في قلوبهم.

✨ *نداء الروح:*
في داخل كل إنسان صوت.
يأتي أحياناً في جوف الليل،
وأحياناً في سجدة،
وأحياناً بعد مصيبة.

يقول الصوت:
"أنت لست للدنيا.
أنت لربك."

هذا هو نداء الروح.
واليوم الذي يسمع فيه الإنسان هذا النداء،
تبدأ رحلته الروحية.

🌙 *نهاية الفصل:*
يا إنسان!
أنت لست تراباً فقط،
ولست جسداً فقط.

فيك سرّ،
ونور،
وروح،
تبحث عن ربها.

الدنيا ستتعبك،
والناس سيكسرونك،
والش**ة ستحرقك…
إلا إذا رجعت إلى ربك.
حينها تنتعش روحك.

لعل هذه هي المعرفة الحقيقية للإنسان.

Address

2323 Allen Pkwy
Houston, TX
77019

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Being Ismaili Muslim posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share